اچھی خاصی گزر رہی تھی، کہ ہم شادی کی عمر کو آن پہنچے۔ ہم تہیہ کیے بیٹھے ہیں کہ کوئی بڑا کام کریں گے، شادی جیسے فروعی معاملات میں نہیں الجھیں گے،ویسے بھی کسی شخص کا عمر بھر کا ساتھ پاؤں میں پڑی زنجیر کے مترادف ہے۔............تفصیل سے پڑھیے
کوئی اونچی منزل حاصل کرنے کے لیے ذہنی یک سوئی کی ضرورت ہوتی ہے، جو بیوی کے ہوتے کم از کم نہیں ہو سکتی۔ایک طویل عرصے تک آنے بہانے اس افتاد کو ٹالتے رہے، لیکن اب کی بار صورت حال کہیں گھمبیر دکھائی دیتی ہے۔
ویسے توہم خاصے نالائق واقع ہوئے ہیں،عمر رواں کی کئی بہاریں تو حصول علم میں گزار دیں۔جو اماں ابا کی توجہ ہماری گزرتی عمر کی طرف دلاتا، وہ اسے شرمندگی اور ہمیں غصے سے دیکھ کر کہتے ’’ ابھی تو اس کی پڑھائی ہی مکمل نہیں ہوئی۔‘‘
یہ جملہ سننے کے بعد ہمیں شرمندگی ہوتی اور سوال کرنے والے کو غصہ آجاتا۔پوچھاجاتا، ’’آخر اور کتنا پڑھائیں گے اسے؟‘‘
ہنوز دلّی دور است، ہم دل ہی دل میں سوچتے اور اپنی غیر شادی شدہ زندگی میں مگن ہو جاتے۔ پھر وہ وقت آیا کہ ہمارے والدین کے صبر کا پیمانہ لبریزہوا، او ریونیورسٹی والوں کے صبر کا پیمانہ چھلک گیا۔ ہمیں کامیابی کا پروانہ تھما کر زندگانی کی جانب دھکیل دیاگیا۔ یہ وہ وقت تھا، جب نظریں ہم سے باتیں کرنے لگیں، کچھ نظریں کہتیں ’’بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی‘‘ کچھ کہتیں ’’ اب آیا نا اونٹ پہاڑ کے نیچے‘‘ اور کچھ نظریں سوالیہ ہوتیں ’’اب نہیں تو کب؟‘‘
عزیزوں رشتہ داروں کی گفتگو میں شاید ہمدردی ہی ہوتی ہے، لیکن ان کی باتیں نشتر بن کر ہمارے والدین کا جگر چھلنی کر دیتی ہیں۔منہ پھاڑ کر اکثر کیا جانے والا یہ سوال ملاحظہ فرمائیں ’’آپ کا بیٹا بوڑھا ہو گیا،آخر کب کریں گے اس کی شادی؟‘‘ کہنے والا تو یہ بات مزے سے کہہ کر چلتا بنتا ہے، اور ہمارے والدین گھر آ کر تادیر ایک دوسرے پر الزام و دشنام کی بارش کرتے ہیں۔
ہر کوئی دوسرے کو اس تاخیر کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ لڑائی طول پکڑتی ہے توکئی ایسے مردے بھی اکھاڑ لیے جاتے ہیں جنہیں بہت پہلے باہمی مشاورت سے دفنایا گیا تھا۔ ایک دوسرے کو نئے سرے سے الٹی میٹم دیے جاتے ہیں اور بلڈ پریشر معمول پر رکھنے والی گولیاں کھائی جاتی ہیں۔اور ہمیں ’’آر یا پار‘‘ والی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔
تو جناب اب ہم ہمہ وقت لرزہ بر اندام رہتے ہیں۔کوئی وقت گزرتا ہے کہ یہ طوق ہمیں پہنا دیا جائے گا۔ جب جب ہمارے دوستوں کے موبائل پر اس نوعیت کا پیغام آتا ہے ’’گھر آتے ہوئے دہی لیتے آنا!‘‘ توہم ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ کبھی کبھی استہزائیہ سا قہقہہ بھی نکل جاتا ہے، جس پر دوست ناک بھوں چڑھاتے ہیں، ہمیں حسرت سے اور خوں آشام نظروں سے دیکھتے ہیں، دانت بھی پیستے ہیں ،جب کچھ بن نہیں پڑتا تو دھمکی آمیز لہجے میں کہتے ہیں ’’ کوئی بات نہیں بچوُّ! تم پر بھی یہ وقت آئے گا ہی۔‘‘
ایک دوست جب ملتے ہیں، کہتے ہیں ’’بھئی آپ کی شادی کے چاول کھانے کی حسرت ہے۔‘‘ ہم بہتیرا کہتے رہیں شادی کے چاول چھوڑیے، ابھی کسی اچھے سے ہوٹل چلتے ہیں اور چاول کھائے لیتے ہیں، لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ایک ہی گردان الاپتے رہتے ہیں۔ایک اور دوست ہمیں ہر دوسرے روز ایک ڈیڈ لائن دے دیتے ہیں کہ اس کے بعد ہم انہیں غیرشادی شدہ نظرنہ آئیں۔ایک بٹ صاحب دوستی کے پردے میں کھوجنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ کہیں ہم میں کوئی تکنیکی خامی تو نہیں۔
جب ہم شادی کی انسپائریشن لینے کے لیے اپنے شادی شدہ دوستوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہر کوئی بدحال ہی نظر آتا ہے۔ جب ملتا ہے اخراجات کا رونا روتا ہے، بیوی کی شکایتیں کرتا ہے،اسکول کی بڑھتی فیسوں اور بچوں کے حوائج ضروریہ سے متعلق اشیاء کی گرانی کا فسانہ کہتا ہے۔
جب سنتے ہیں کہ ایک درمیانے درجے کے اسکول میں نرسری سے بھی نچلے درجے کی کلاسوں میں بچے کی فیس پانچ ہزار روپیہ ماہانہ ہے تو اوسان دیر تک خطا رہتے ہیں۔ ہمارے پڑوس میں ایک بچے کی پیدائش ہوئی، جب موصوف رات گئے راگ الاپتے تو ہم ہڑبڑا کر نیند سے اٹھ بیٹھتے اور دیر تک شادی سے توبہ کرتے۔
ہمارے کچھ دوست اپنے والدین ہونے کی فضیلت بیان کرتے رہتے ہیں۔ ایک جملہ یکساں ہوتا ہے، ’’جب دفتر سے گھر پہنچتا ہوں تو چھوٹو کو دیکھتے ہی ساری تھکن اتر جاتی ہے۔‘‘ لیکن انہی دوستوں کو ہم نے مختلف تقریبات میں بچوں کے ہاتھوں ہراساں پایا۔
ایسے میں وہ ہمیں دیکھتے ہی اپنے بچے ہمیں تھما دیتے ہیں اور راحت کے کچھ پل چراتے ہیں۔ ہمیں بھی بچے پسند ہیں لیکن یہ پسند صرف پندرہ منٹ تک محدود رہتی ہے۔ جلد ہی وہ بچے اپنے والدین کی طرف واپس جانے کی ضد کررہے ہوتے ہیں اور والدین دامن چھڑاتے ہوئے کہہ رہے ہوتے ہیں ’’یہ بڑے اچھے چاچو ہیں، یہ تمہیں باہر لے کر جائیں گے‘‘ ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی مجبوراً تائید میں سر ہلانا پڑتا ہے۔
اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی میں، اور اپنے عزیزواقارب میں ہمیں جن خواتین سے واسطہ رہا،یااپنے شادی شدہ دوستوں کے توسط سے خواتین کے بارے میں جو باتیں سنیں، ان کے بارے میں کوئی اچھی رائے قائم کرنے میں ناکام ہی رہے۔ایک دوست کی اہلیہ اتنی سی بات پر مہینا بھر روٹھی رہیں کہ ہمارے دوست کو ٹریفک کے رش کی وجہ سے گھر آنے میں پندرہ منٹ کی تاخیر ہو گئی تھی۔
ایک دوست کی اہلیہ نے ان سے چھٹی لے کر میکے چلنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن دفتر سے چھٹی نہ ملی، تو وہ موصوفہ کتنے ہی دن منہ سجائے بیٹھی رہیں۔اور شک کرنا تو ان خواتین کی جیسے گھٹی میں پڑا ہے۔ خوش گمانی چھو کر بھی نہیں گزرتی۔ شوہر پرفیوم لگا کر دفتر جا رہا ہے تو یقینا کوئی چکر ہو گا، واپس آنے کا معمول گڑبڑ ہوا تو یقینا کسی عشوہ طراز کے گیسوؤں میں الجھا ہو گا، نئی شرٹ پہنی ہے تو کسی کو امپریس کرنے کا ارادہ ہو گا۔۔۔
ایک صاحب کی اپنی اہلیہ سے تادیر بحث چلتی رہی، دونوں جانب سے کف اڑتے رہے، برتن چلتے رہے، آخر صاحب نے کہا ’’ہم تو وہ کہہ ہی نہیں رہے جس پر آپ برہم ہو رہی ہیں۔‘‘ جواب آیا، ’’لیکن آپ کا مطلب تو وہی ہے نا۔‘‘
ہمیں توہول اٹھتے رہتے ہیں کہ شریک حیات مزاجوں والی نکلیں تو ہمارا کیا بنے گا۔ اور اگر ہتھ چھٹ بھی واقع ہوئیں، پھر تو ہمارے ولیمے کے چاول کھانے کی خواہش رکھنے والے دوست فاتحہ کے چاول بھی کھائیں گے۔
چلیں جی، ہماری جان گئی اور ان کی خوراک ٹھہری۔۔۔
اوپر سے ہم نے ایک تحقیق پڑھ لی کہ شادی انسان کو موٹا کر دیتی ہے۔ تفصیل یوں ہے کہ شادی کے بعد اگر آپ مطمئن رہیں تو موٹے ہو جاتے ہیں۔ تب سے اس فکر میں غلطاں ہیں کہ ہماری شادی کامیاب ہو گئی تو کیا ہو گا۔ یعنی ہم پہلے ہی فربہی کی جانب اچھے خاصے مائل ہیں شادی کے بعد تو پھول کر کُپا بن جائیں گے۔
تو ہم اس مضمون کے ذریعے اپنے تمام بہی خواہوں کو عرض کیے دیتے ہیں، کہ ہم اپنی موجودہ زندگی سے ازحد خوش ہیں۔ معمولات احسن انداز میں چل رہے ہیں، گھر میں مطلوبہ خاموشی میسر ہے جو ہمیں بہت عزیز ہے، جب جی چاہتا ہے موٹرسائیکل کو کک مارتے ہیںاور کہیں بھی نکل کھڑے ہوتے ہیں۔
’’کہاں جا رہے ہو، واپس کب آؤ گے، مجھے بھی ساتھ لے چلو، مجھے امی کے گھر ڈراپ کر دینا، مجھے باہر کھانا کھلانے لے چلو،آج کل تم کچھ زیادہ ہی باہر نہیں جانے لگے، کون سی ماں سے ملنے جا رہے ہو‘‘ قسم کے سوالات اور فرمائشیں ہم سے کوئی نہیں کرتا۔ بھئی اگر شادی کے بعد یہ حال ہونا ہے تو ہم کہیں بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔ اپنی مرضی کا کھاتے ہیں، اپنی مرضی کے وقت پر سوتے ہیں، اور بستر سے اپنی مرضی کی سائیڈ سے اترتے ہیں۔
لہذا!!! کیوں کراتے ہو میری شادی؟

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers