بچپن، سے میرے رب نے میری آنکھ کھول دی دی گویا کہ میرے دل کو آواز بھی دی تھی میرا کہنا کہ الگ ہوں الگ رہنے دو کسی کو راس نہ آیا پر اب کہنے دو............... لرکھپں آیا لو میں حاضر تھا حضوری گا رنگ گویا غالب تھا کوئی کہے اکھڑ کوئی مغرور کہے کوئی خود سر کوئی مجذوب کہے جوانی سے ان آنکھو نے کیا کیا نہیں دیکھا دیکھا، دیکھا اور دیکھنے والے کو بھی دیکھا دیکھتے رہنے والے کو بھی محسوس کیا- تفصیل سے پڑھیے
ایسے جیسے کہ کوئی چھو کہ گزر گیا ہو مجھ سے میں نے ان گزرے لمحوں کو بھی محسوس کیا ہے ایسے جیسے برستے بادل ہوں کندھے پہ آنچل ہو آنچل میں دل دھڑکتا ہو سر پر چھت نہ ہو، دھڑکن ہو اور تسلسل سے دھڑکن محسوس ہوتی چلی جاے بال دھل جائیں باچھیں کھل جائیں وقت تھم بھی جاے اور گزر بھی جاے گزرا تو دھکہ سا لگے بلکہ جھٹکہ سا لگے لگا تو لگتا چلا ہی گیا سہتےسہتے آج پریشانی سی ائی ہے میرے ہر پور نے جب انگلی اٹھائی ہے ماتھے کی شکن چہرے کی جھریاں سفید لٹیں حسین آنکھیں سب کے ہی ان گنت سوال میں تو جی چراتا ہی آیا تھا کئی برسوں سے قلم نہ اٹھاؤں کہوں ، کہوں نہ ہی کہوں آج لگا وقت ہوا چاہتا ہے ایسا نہ ہو کہ گزر جاے میری زبان میرا سر بھی اتر جاے اور مجھ سا کوئی کہ نہ سکے مجھ کو معلوم ہے میری فکروں کی حقیقت لیکن حرفوں کا لفظوں کا جملوں کا چناؤ آج بھی ضروری ہے کوئی تو سنے کوئی پڑھے کوئی پرکھے، کبھی سوچے تو یہی میری مجبوری ہے لکھ رہا ہوں کانپتے ہاتھوں سے حقیقتیں کیا کیا انگلیاں آج ہر لفظ پہ روک جاتی ہیں دل سے ہلاتا ہوں ہاتھ اور جملے بناتا ہوں اسی مٹی میں کئی سوتے ہیں بہت آج بھی سر دھنتے ہیں، زبان کھوتے ہیں میں مگر مرنا نہیں چاہتا کو بیڑا اٹھایا ہے ڈبونا نہیں چاہتا ڈوبنا ابھرنا ہے کبھی ہنسنا کبھی رونا ہے کام جو سونپا ہے وہی کرنا ہے آج لگا کوئی رکا تو ہے میری بات پہ کوئی کان کھڑا ہے کوئی دل دھڑکا ہے ایک ہی کو کہہ جاوں ایک کو بتا جاوں میری دنیا ادنی سے اعلی ہو جاے

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers