اب تو یوں ہے کہ یہی رنگ تماشا ٹھہرے …………….
کوئی کہتا ہے کہ غریب طبقہ کو بچے پیدا کرنے کے علاوہ کوئی کام ہے ہی نہیں!صحیح ہے، نہیں ہے کام، ہم نے کوئی کام ان کے لئے چھوڑا ہی کہاں ہے، نفری بڑھانے اور خود کی قسمت پہ رونے کے سوا، ان کو کوئی یہ تو بتائے کہ زندگی کیا ہے، زندہ رہنے کا مطلب کیا ہے، اور زندگی سے کیا چاہنا چاہئے. زندگی چولہا چوکا کا نام ہی نہیں ہے، نہ ہی اس کا نام ہے کہ خود کو کمی کمین جان کر آرام سے ہر ظلم اور دکھ برداشت کیا جاے.   تفصیل سے پڑھیے

بس یا قسمت یا نصیب کہہ کر منہ بسور کر دل میں ہی گھٹ کر مرا جاے. وافر پیسہ نہ ہونا ایک طبقہ کی پہچان بن گیا ہے. ان کی شکل عقل سب نام پہچان کی نظر ہو گئے ہیں، کوئی جتنا ہی اچھا کام کرے یا کرنا چاہے کوئی سراہتا نہیں، کوئی بڑھاوا نہیں دیتا. غربت کا طوق ایسا گلے میں ڈلا ہے کہ سب سوجھ بوجھ اس پہچان کے پیچھے گل سڑ جاتی ہے اور غریب انسان بھی سر پیر کے بغیر رہ جاتا ہے. پس افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس کو معلوم ہی نہیں پڑتا اور وہ اس پہ غمزدہ بھی نہیں ہوتا .
ان کو کیا معلوم کہ جینا کس صبح کا نام ہے. چڑھتا سورج بھی نوید ہے کہ تم بقید حیات ہو، اور یہ شکر کا لمحہ ہے،خود کے هونے پہ خوش ہونا. نئی صبح کے انتظار میں ہونا اور صبح ہوتے ہی اچھل پڑنا کہ میں ہوں. میں کیا ہوں اس سے آگے کی داستان ہے. اس مسکراہٹ پہ غریب کیسے کھڑا ہو جس کی آنکھ اس آواز سے کھلے کہ "مرگئے،کام پہ نہیں جانا، اٹھو دفع ہو جاؤ." اور بغیر ناشتہ، چاے، نہاے یا کپڑے بدلے، یا کچھ اور، کئے بغیر دنیا کی بھیڑ میں گم ہونا پڑے. تین سال کی عمر سے کبھی بچپن کا احساس ہی نہ ہوا ہو، ماں نے سر میں پیار سے کنگی نہ کی ہو یا سکھ کا نوالہ ہی منہ میں ڈالا ہو. اس کو کہتے ہو،اس کو کوئی کام نہیں ہے. کہاں سے آے کام یہ کام کی پہچان یہ کام کا دھیان کہ کچھ کرنا چاہئے. پیار چاہئے جینے کے لئے، خود نہ ملا ہو تو پیار کی پہچان کیسے ہو گی اور بانٹا کیسے جاے گا. خود کے پاس ہو گا تو دیا بھی جاے گا. فقدان کے کٹہرے میں کھڑا کیا ہی بانٹے گا
! آگاہی کی سوچ، آگاہی کے تقاضے، خود کی عزت، خود کے باطن کی حفاظت، عزت نفس ہر کا حق ہے بھلے وہ امیر ہے یہ غریب، کالا ہے یہ گورا جاہل ہے یہ عقلمند. ایماندار ہے یا بے ایمان، مسلمان ہے یا کسی اور مذھب کا. انسان ہونے کے ناطے سب ایک سے انسان ہیں بھلے کہیں بھی اور کیسے بھی رہتے ہوں. حقوق کے لحاظ سے سب برابر ہیں. اور ہم کسی بھی لحاظ سے کسی کو اس بنا پہ نہیں دھتکار سکتے کہ وہ نہ ہی سیکھ سکتا ہے سو اس کو موقع نہیں دینا چاہئے. موقع پانا اس کا حق ہے جو آپ کے ذمہ ہے، اس کا اوپر جا کہ حساب ہو گا. آپ کے حواس کو جب زبان ملے گی تو بتائیں گے اپ نے کس کس کو کہاں کہاں اور کب کب نظر انداز کیا اور کب حقیر جانا. سرخرو ہو کر جانا ہے. کوئی آپ کی وجہ سے غربت کے کٹہرے میں نہ کھڑا رہے. کوئی آپ کی وجہ سے نہ دھتکارا جاے.
گیلی مٹی کی سونگھ بھی خوشی دے سکتی ہے. صبح سویرے پرندوں کی بولیاں آنکھ کھلنے سے پہلے ہی چہرے پہ مسکراہٹ لے آتی ہیں. الله کا شکر ہے کہ اس نے مجھ کو انسان بنایا، گدھا یا مچھر یا درخت یا پتھر نہیں. اور اس کے چند تقاضے بھی ہیں. وہ تقاضے کسی نے نہیں بتانے یا مجھ سے چھیننے. مجھے خود ہی تلاش کرنے اور پورے کرنے ہیں. غریب کو معلوم ہے کہ یہ سب امیر شخص کے لینے کے مزے ہیں. کہاں میں اور کہاں الله کی خوبصورت کائنات، یہ تو عقل والوں،پیسے والوں، یعنی بڑے لوگوں کے لئے ہے. اب یہ بڑے لوگ کون ہیں؟ انسان ہیں یا جن اور فرشتے؟ یا بڑے لوگوں کے سینگ ہوتے ہیں؟ یا وہ بخشے ہوئے ہوتے ہیں؟ ان کو کیا لگا ہے جو مجھ سے الگ ہے؟ یہ سوچ غصہ تو دلاتی ہے مگر مثبت سوچنے نہیں دیتی. سب مثبت سوچیں کیا پیسے بانٹنے والا کیا ہی ہاتھ پھیلانے والا.
پیسہ اچھا کھلا پلا سکتا ہے. اچھا پہنا سکتا ہے. الله کا یہی نظام ہے.اس نے کسی کو کیسا دیا کسی کو کیسا، مگر کل انسان کو اس نے سوچ دی،مثبت سمجھ دی. آگے بڑھنے کی استطاعت دی. اور یہ حق کسی کا نہیں کہ کس کے پاس پیسے نہیں اس کو کہا جاے کہ وہ بیوقوف ہے، پیدل ہے. ہم جب کسی بھی طبقہ کو ایک ادنی مقام میں بند کر دیتے ہیں تو نتیجہ نکلتا ہے کہ ان کا دھیان خود کے اندر ہی گھومتا رہتا ہے.
بچے ہماری دولت ہیں، زیادہ بچے ہمارا سرمایا ہیں، زیادہ بچے ہماری طاقت ہیں یہ سب بند ذہن اور فارغ ذھن اور کنوے کے مینڈک ہونے کی نشانی ہے. یہ شائد لکھنا یا پڑھنا مناسب نہ ہی لگے مگر کہ سچ ہے. جس کے پاس وسائل نہیں اس کو بچوں کے اکٹھ کےعلاوہ کوئی سرمایا نظر بھی نہیں آتا. حکمرانوں اور امرا نے عوام کو بتا رکھا ہے کہ تم کو سوچنے کا کوئی حق نہیں ہے.اڑنے کا بھی نہیں اور خواب دیکھنے کا بھی نہیں. اب جو بدلاؤ آ رہا ہے وہ بھی خوفناک ہے.بدلاو تو آ رہا ہے مگر غصہ سے، بغض سے، بدلہ لینے کی شدت سے. ختم کر دینے کی لگن سے. یہ سب اتنا ہی خوفناک ہے جتنا کہ ابھی کا زمانہ. اس بدلاؤ کا کوئی فائدہ تو هونے والا نہیں ہے. اس لئے کہ بدقسمت عوام کا خیال ہے کہ ہماری بدقسمتی کا راز امراء کے ہاتھ میں ہے، اگر یہ چاہیں تو ہم صاف پانی پی لیں، یہ چاہیں تو ہم بھی تازہ ہوا کو محسوس کر لیں. ہماری حس اس قدر نفیس کہاں کہ الله کی قدرت کو پہچان سکے، یہ تو دماغ کے لوگوں کا کام ہے.ہمارا کام تو ہے ان کی فرمانبرداری اور ان کا الله کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونا. اس سوچ پہ کھڑا بھلا کیا ہی بدلاو لے گا. اس کے ہاں کیسے کوئی حوصلہ ہمت جوش جذبہ پیدا کرے گا.
ان کے ذمہ دیکھنے سوچنے محسوس کرنے کا کام لگا دو، دھیان نفری سے ہٹا دو. بہت پرچار ہوا کہ یہ ہے وہ ہے، سب غلط ہے. اب آؤ سب کو بتائیں ان کو خود کو کہ کرنا کیا ہے اور سب ٹھیک ہو جاۓ گا ان شاء اللہ
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers