دمشق  بلاشبہ بہت پرانا اور خوبصورت شہر ہے۔ ایک دن میں نے اپنے میزبانوں سے کہا: میرا جی پرانے شہر کی سیر کرنے کو چاہتا ہے۔ یہ سردیوں کے دن تھے۔ اس زمانے میں سردی معمول سے کچھ زیادہ پڑتی تھی۔ اندرون دمشق بالکل اندرون لاہور کی طرح ہے۔ اندرون شہر شامی حلویات مٹھائیاںہیں۔ ایک بازار میں اکٹھی چار پانچ دُکانیں ہیں۔ شامیوں نے کیا خوبصورت ڈیکور یشن کی ہوئی تھی۔ بجلی کے قمقموں کی تیز روشنی سے دُکانوں کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ ایک اہم چیز جو قابل ذکر ہے وہ اس ماحول کی صفائی تھی۔ کیا مجال کہ آپ کو وہاں حشرات سمیت کوئی گندگی نظر آجائے۔      تفصیل سے پڑھیے
کاجو، بادام اور چلغوزوں سے بنی ہوئی یہ شامی مٹھائیاں دنیا بھر میں معروف ہیں۔ یاسر جب بھی ریاض آتا، شامی حلویات کے کئی ڈبے ہمراہ لاتا۔ اسی طرح جب میں شام جاتا تو کم از کم سات آٹھ ڈبے میرے سامان میں ضرور رکھوا دیتا۔ میں انھیں دارالسلام کے ا سٹاف میں تقسیم کرتااور مہمان آتے تو انھیں بڑے شوق سے پیش کرتا۔ یاسر اور میں اندرون دمشق کی سیر کرتے کرتے کنافہ کی ایک مشہور دکان پر پہنچ گئے۔ کنافہ کی دُکانیں تو اب ریاض میں بھی کھل گئی ہیں، مگر جو گرما گرم اور مزیدار کنافہ میں نے اندرون دمشق کھایا اس کا مزہ اب بھی یاد ہے۔
یہ میرا بھرپور جوانی کا دور تھا۔ شوگر کی فکر تھی نہ ہی الحمدللہ کوئی دیگر عوارض لاحق تھے۔ ملک شام میں جہاں بھی جاتا، غیر ملکی اور پاکستانی ہونے کے باعث میرے ساتھ عزت وتکریم کا سلوک کیاجاتا۔ مجھے صحیح طور پر علم نہیں کہ کنافہ کیسے بنایا جاتا ہے، مگر اتنا ضرورمعلوم ہے کہ اس میں ’’قشطہ‘‘کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے۔ دودھ میں سے نکالی ہوئی کریم کو اگر مزید گاڑھا بنا لیا جائے تو وہ قشطہ بن جاتا ہے۔یوں سمجھیے کہ یہ دودھ کی ملائی ہے جو مختلف کھانوں میں استعمال ہوتی ہے۔
اب تو یہ قشطہ عام بقالوں (جنرل اسٹور) پر بھی بکتا ہے۔ عرب ممالک میں رہنے والوں کے لیے یہ نام جانا پہچانا ہے۔ شامی لوگ زیتون کا تیل اور زیتون کا پھل بڑی کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ زیتون کے دانے جو بیر کی شکل کے اور سائز میں اس سے ذرا چھوٹے ہوتے ہیں، مختلف رنگوں میں ہوتے ہیں اوراپنے اندر بہت سے فوائد رکھتے ہیں۔ ان کا اپنا ایک مزہ ہے۔ زیتون کا پھل شجرہ مبارکہ سے حاصل ہوتا ہے۔ قدرے تلخ ہوتا ہے، مگر جب اسے زیتون کے تیل میں ڈال دیا جائے تو تلخی ختم ہو جاتی ہے۔ ارض شام پوری کی پوری زیتون کی سرزمین ہے۔ انواع و اقسام کے زیتون صحت کے لیے بڑے مفید ہیں۔ سبز رنگ کا زیتون ہو یا کالے رنگ کا ‘ سبھی یہاں پیدا ہوتے ہیں۔ زیتون کے درخت کی عمر سو سال تک ہوتی ہے۔
اہل شام زعتر بھی بہت کثرت سے استعمال کرتے ہیں ۔ زعتر سونف جیسی ایک نبات ہے۔ شامی اطبا اسے خود بھی استعمال کرتے اورلوگوں کو بھی استعمال کرواتے ہیں۔ فلسطینی ہوں یا شامی سبھی زیتون کے تیل اور زعتر کا استعمال خوب کرتے ہیں۔ ناشتے میں اگر خبز یعنی روٹی کے لقمہ کو پہلے زیتون کے تیل میں ڈبو لیں پھر ’’زعتر ‘‘ اس پر ڈال لیں تو یہ صحت کے لیے بے حد مفید ہے۔ جہاں تک زیتون کے تیل کا تعلق ہے میرے ایک فلسطینی دوست کے مطابق اگر ’’خبز‘ یعنی روٹی کے لقمے کو پہلے زیتون کے تیل میں بھگویا جائے پھر اسے زعترسے بھری پلیٹ کے اوپر رکھ دیں۔ زعتر روٹی کے ٹکڑے کے ساتھ چمٹ جائے تو اسے کھا لیں۔ اس کے ساتھ بغیر دودھ والی چائے ہو توکہنے لگا: ’’یاسلام‘‘ یہ لقمہ نہایت ہی زود ہضم اور صحت کے لیے مفید ہو گا۔
مجھے یاد ہے کہ جب ہم نے آج سے پچیس چھبیس سال پہلے دارالسلام کی بنیاد رکھی تو ہمارا پہلا موظف محمدعوض جربوع فلسطینی تھا۔ ہم رات گئے تک کام کرتے رہتے۔ جب رات کے گیارہ بجے ہم اچھی طرح تھک جاتے تو چائے کی ضرورت محسوس ہوتی۔ جربوع قریبی تنور سے زعتر والی گرما گرم روٹی لے آتا۔ وہ اتنی مزیدار اور نرم ہوتی کہ ہم اسے خوب مزے لے لے کر کھاتے۔ یوں بھی جوانی کا دور تھاہر چیز ہضم ہو جاتی تھی۔ کھانے کے ایک گھنٹے بعد بھوک کا احساس پھر سے شروع ہو جاتا۔ زعتر کے فوائد پر متعدد کتابیں بازار میں ملتی ہیں۔ اس کے فوائد میں موٹی بات یہ ہے کہ اسے استعمال کرنے کے بعد آپ کو انٹی بائیوٹیک دواؤں کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہ معدے کو صاف کرتا ہے، گردوں کے لیے نہایت مفید ہے اور حافظے کو بڑھاتا ہے۔
آج سے پندرہ بیس سال پہلے تک دمشق میں ایک محلہ ’’حارۃ الیہود‘‘ کے نام سے بھی تھا۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاںزیادہ تر یہودی رہتے تھے۔ اس زمانے میں بہت سارے یہودی دمشق کو چھوڑ کر اسرائیل میںآباد ہو رہے تھے۔ پھر بھی دمشق کے بازاروں میں اِکا دُکا یہودی نظر آجاتے تھے جو اپنی مخصوص چھوٹی سی جالی دار ٹوپی پہنے ہوئے ہوتے تھے۔ ممکن ہے ابھی تک بعض یہودی دمشق میں باقی ہوں، یقینا اب وہاںان کی تعداد کافی کم ہو گی۔
دمشق کا قبرستا ن بہت ہی قدیم ہے۔ مجھے ایک مرتبہ اپنی فیملی کے ساتھ اس عظیم قبرستان میں جانے کا بھی اتفاق ہوا ہے۔ یہاں کتنے ہی صحابہ کرامؓ کی قبریں ہیں۔ سیدنا امیر معاویہؓ کی قبر پر مقبرہ بنا ہواہے۔ جب میں وہاں گیا تو دیکھاکہ ان دنوں شیعوں کے ڈر سے اس کی دیواروں کو لوہے کے بڑے سریوں سے محفوظ کیا جا رہا تھا۔ دروازے پرموٹا سا قفل تھا۔ کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ مؤذن رسولﷺسیدنا بلالؓ کی قبر قدرے نشیبی جگہ پر تھی۔ قبرستان شہر کے اندر ہی ہے۔ مجھے ایک شامی کہنے لگا: امیر معاویہؓ کی قبر کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اس قبرستان میں نہیں بلکہ شہر کے اندر ایک گھر میں ہے۔ میری خواہش پر میرے میزبان مجھے اس علاقے میں بھی لے گئے ، مگر ہم اندر نہ جاسکے کیونکہ رات کا وقت ہونے کی وجہ سے وہ مکان بند تھا۔
دمشق سے واپسی کا سفر اختیار کرنے سے پہلے میں ایک مرتبہ بازار ضرور جایا کرتا تھا تاکہ بچوں کے لیے کچھ کپڑوں وغیرہ کی خریداری ہو سکے۔ آج سے کوئی پندرہ یا اٹھارہ سال پہلے جب میں اپنی چھوٹی بیٹی کے لیے بطور خاص کپڑے خریدنے کے لیے بازار کا رخ کرتا تھا تومیرے ساتھ عموماً یاسر کا بھائی عمر یا اسامہ ہوا کرتے۔ خرید و فروخت کرنا میرے جیسے آدمی کے لیے بڑا مشکل کام ہے، مگر اس کے لیے ایک عمدہ طریقہ یہ ہے کہ بازار جانے سے پہلے آپ اپنا بجٹ مقرر کر لیں۔
پھر آپ کو خرید و فروخت کرنے میں آسانی ہوگی۔خریداری سے پہلے بجٹ متعین کرنے کا طریقہ میں نے مدتوں پہلے سنگاپور ائیرپورٹ پر سیکھا تھا۔ غالباً 1985ء کی بات ہے۔ میں سنگا پور سے پہلی مرتبہ ملائشیا جانے کے لیے ائیرپورٹ پر گیا تو ایسے ہی دل میں خیال آیا کہ وہاں کے مناظر بڑے خوبصورت ہیں کیوں نہ ایک کیمرا خرید کر اُن مناظر کو محفوظ کر لیا جائے۔ سنگاپور ائیرپورٹ پر ان دنوں بہت سی دکانوں پر درجنوں اقسام کے کیمرے پڑے ہوئے تھے۔ میں نے جب ان کو دیکھنا شروع کیا تو سیل پر مامور لڑکی نے مجھ سے پوچھا: سر! میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں؟
میں نے کہا: مجھے کیمرا خریدنا ہے۔ کہنے لگی: سر! اگر آپ برا محسوس نہ کریں تو کیا میں آپ کا بجٹ جان سکتی ہوں کہ آپ کیمرے کی خریداری کے لیے کتنا خرچ کر سکتے ہیں؟ کیونکہ ہمارے پاس بہت مہنگے، درمیانی قیمت کے اوربہت سستے کیمرے بھی موجود ہیں۔ میرے لیے آسانی ہو گی کہ میں آپ کے بجٹ کے مطابق آپ کی راہنمائی کر سکوں۔ خیر اب مجھے یہ تو صحیح طور پر یاد نہیں کہ میں نے کیمرا لیا تھا یا نہیں، میرا غالب خیال ہے کہ میں نے نہیں خریداتھا،مگر خرید و فروخت کا طریقہ معلوم ہو گیا کہ بازار جانے سے پہلے آپ اپنے ذہن میں ایک بجٹ رکھ لیں تو آپ کو شاپنگ میں آسانی ہوگی۔
اس دور میں دمشق میں بچیوں کے لیے ایسے ایسے خوبصورت کپڑے ہوتے تھے کہ ان کا انتخاب مشکل ہو جاتا۔ میں عموماً دو سے تین جوڑے خریدتا ۔ فراک کے علاوہ چوڑی دار پاجامہ، سر پر رکھنے کے لیے ہیٹ اور ہاتھوں کے لیے خوبصورت ہینڈ بیگ ہوتا تھا۔ بچیاں یہ کپڑے پہن کر اور بھی پیاری لگتیں۔ عموماً میں ڈیڑھ سے دو سو ڈالرز لے کر جاتا۔ واپس گھر پہنچتا تو بیٹی اپنے تحائف کی منتظر ہوتی اور ان کپڑوں کو پہن کر خوش ہو جاتی۔
ایک دن میں نے یاسر طباع سے کہا: مجھے اموی دور کے کھانوں کی خواہش ہے۔ میں چاہتا ہوں کوئی اس دور کا ریستوان ہو۔ شام تک ایسے ہی ایک ریستوان کے بارے میں معلوم کر لیا گیا جس کے متعلق روایت مشہور تھی کہ یہ قدیم دور سے چلا آ رہا ہے۔ ہم جب ریستوان میں پہنچے تو اسے دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ یہ واقعی قدیم دور کا ہے۔ معمول کا رش تھا۔ اس عمارت کی خوبی یہ نظر آئی کہ چاروں طرف کمرے بنے ہوئے تھے۔ درمیان میں صحن تھا۔ مجھے بتایا گیاکہ پرانے دورکے گھر اسی طرز کے ہوتے تھے۔ ریستوان تین یا چار منزلہ تھا۔ کھانا تو مجھے اتنا پسند نہ آیا جتنا میرا شوق تھا، تاہم مجھے زمانہ قدیم ضرور یاد آگیا۔
دارالسلام کو ان دنوں ’’الرحیق المختوم‘‘ کا انگلش ترجمہ کروانا تھا۔ میرا خیال تھا کہ دمشق یونیورسٹی میں اگر انگلش کا کوئی پروفیسر مل جائے تو وہ اچھا ترجمہ کر سکتا ہے۔ حلبونی میں بازار سے نیچے اتریں تو ایک جگہ ’’مرکز الشام للترجمۃ‘‘ لکھا ہوا تھا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب مجھے ترجمہ کروانے کا بہت زیادہ تجربہ نہ تھا۔ میں نے مرکز الشام کی انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ اِدھر سے اُدھر، دائیں سے بائیں مختلف لوگوں سے رابطہ کرتے کرتے ہم اس کے منیجر ’’ماہرابو ذہب‘‘ تک پہنچ گئے۔ یہ بہت اچھی انگلش جانتا تھا۔ بلکہ انگلش پڑھانے والا استاد تھا۔ بڑا ہی نفیس قسم کا انسان‘ خوبصورت گورا چٹا، عمدہ اور قیمتی لباس پہنے ہوئے تھا۔ اس کا دفتر دمشق کے وسط میں تھا۔
جس علاقے میں اس کا دفتر تھا ہر چند کہ یہ پرانا دمشق تھا گلیاں زیادہ چوڑی نہ تھیں۔ دفتر بھی نچلے فلور یعنی بیسمنٹ میں تھا، مگر تھا بہت خوبصورت اور صاف ستھرا۔ ماہر ابو ذہب بڑی محبت اور خوشی سے ملے۔ چائے کا پوچھا تو میں نے کہا: ہم تو انگلش چائے پیتے ہیں، دودھ پتی پیتے ہیں، خالص پنجابی ہیں۔ میں نے لاہور کا نقشہ کھینچا۔ کہنے لگے: کوئی بات نہیں، ہمارے ہاں اس وقت دودھ پتی تو نہیں مل سکتی، مگر آپ کو ’’زُہور‘‘ پلاتے ہیں۔ مختلف قسم کے خشک پھولوں کو کھولتے پانی میں ڈال کر دم دے دیں تو بڑی نفیس چائے بن جاتی ہے۔ اس کا اپنا ہی مزہ ہے۔ ان پھولوں میں گلاب کا پھول نمایاں ہوتا ہے۔ اس کی خوشبو کے کیا کہنے، تھوڑی سی شکر ملا لیں تو اس کا ذائقہ دُگنا ہو جائے گا۔
ہم نے الرحیق المختوم کا پہلا ترجمہ ماہر ابو ذہب کی معرفت ہی کروایا، مگر یہ تجربہ زیادہ کامیاب نہ تھا۔ اس لیے ہم نے مزید کتب کا ترجمہ دمشق سے نہ کروایا بلکہ اپنا رخ امریکا اوربرطانیہ کے مترجمین کی طرف موڑ دیاکیونکہ اہل زبان کے ترجمے کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ ہماری ماہر ابو ذہب سے دوستی ہو گئی۔ مجھے وقت ملتا تو انھیں بلوا لیتا یا ان کے پاس خود چلا جاتا۔ ان کے حکومتی عہدے داران سے روابط تھے۔ انھوں نے انگلش سکھانے والا انسٹیٹیوٹ قائم کیا تھا۔
بڑے بڑے لوگ ان کے شاگرد تھے۔ اس دور میں ذوالفقار علی بھٹو کے دو صاحبزادے دمشق میں رہتے تھے۔ میرے میزبانوں نے کئی مرتبہ مجھے بتایا کہ جس علاقے سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں، دونوں بھائی یہیں مقیم ہیں۔ میں نے ان سے ملاقات کی کوشش نہیں کی نہ ہی مجھے کوئی خاص شوق تھا۔ اب خیال آتا ہے کہ ملنے ملانے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ ممکن ہے انہیں کوئی اچھا مشورہ ہی دے دیتا۔
مجھے اس علاقے کو دیکھنے کا بڑا شوق تھا جہاں کبھی حدیث پڑھی اور پڑھائی جاتی تھی۔ میں نے ایک مرتبہ خواہش ظاہر کی تو یاسر نے محمد معتز السبینی نامی شخص کو بلوا لیا ۔ اسے تاریخ پر واقعی عبورحاصل تھا۔ وہ ایک مقامی اسکول میں استاد تھا۔ ماشاء اللہ اس کا حافظہ اور حدیث کے ساتھ اس کی محبت، مجھے بارہ چودہ سال گزرنے کے باوجود آج تک یاد ہے۔ بات ایسے خوبصورت انداز میں کرتا کہ دل میں اتر جاتی۔ ہم شہر کے ایک کونے میں واقع اس علاقے میں گئے جو اب کھنڈر بن چکا تھا۔ یہاں چھوٹے چھوٹے کمرے تھے۔ کسی زمانے میں ان حجروں میں محدثین حدیث پڑھایا کرتے تھے۔ دور دور سے طالب علم آتے اور یہاں پر حدیث پڑھتے اور پڑھاتے۔
کئی گھنٹوں پر محیط اس سفر میں امام احمد بن حنبلؒ سے منسوب ایک مسجد میں بھی گئے۔ عصر کا وقت قریب تھا۔ مسجد بطور خاص اونچی جگہ پر واقع تھی۔ اُس کی ہیئت سے عیاں تھا کہ وہ خاصی قدیم ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ مسجد امام احمد بن حنبلؒ کے دور کی بنی ہوئی ہے۔ اس کے صحن میں کھڑے ہو کر میں نے اپنے گائیڈ سے سوال و جواب شروع کر دیے۔ برادرم یاسر نے اشارہ کیا کہ اس جگہ پر کئی آنکھیں ہمیں دیکھ رہی ہیں، لہٰذا یہاں سے کوچ کرنا ہی مناسب ہے۔ دمشق بڑی مبارک اور انبیا کی سرزمین ہے۔ یہاں کا پانی بڑا میٹھا ہے۔ اہل دمشق جس جگہ کا پانی پیتے ہیں اس کا نام ’’عَینُ الفِیجَۃ‘‘ ہے ۔ یہ جگہ دمشق سے مغرب کی طرف کوئی تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
شام پر ایک زمانے میں فرانس کا راج تھا۔ شام کے باشندوں نے ایک طویل جدوجہد اور لاتعداد قربانیوں کے بعد فرانس سے17اپریل1946ء کو آزادی حاصل کی۔ ایک دن میرے میزبان مجھے کہنے لگے: آج ہم آپ کو جنگ آزادی کے ایک ہیرو سے ملانا چاہتے ہیں۔ شہر کے پوش علاقے کے ایک خوبصورت گھر میں جنگ آزادی کے ایک ہیرو سے میری ملاقات کروائی گئی۔ بہت بڑا ہال نما کمرا تھا جس کے ایک طرف ایک باوقار معمر شخصیت تشریف فرما تھی۔ ہم شام کے وقت ان کے ہاں پہنچ گئے۔ ان کی عمر اس وقت ستر سال سے زائد تھی۔ گورے چٹے رنگ کے بڑے میاں کی شکل و صورت سے نظر آ رہا تھا کہ انھوں نے بڑی بھرپور جوانی گزاری ہوگی۔
میرا ان سے تعارف کروایا گیا، بہت خوش ہوئے۔ میں نے سلام کیا تو انھوں نے از راہ محبت و شفقت اپنے ساتھ ہی بٹھا لیا۔ وہ مجھے آہستہ آہستہ جنگ آزادی کی داستان سناتے رہے۔ اس دوران بہت سارے نوجوان اور ادھیڑ عمر لوگ گھر میں داخل ہوتے رہے۔ ان کی شکل و صورت سے نظر آ رہا تھا کہ یہ نہایت پڑھے لکھے‘ مختلف اداروں میں اعلیٰ افسران اور کاروباری لوگ ہیں۔ اکثر و بیشتر کے ہاتھوں میں کباب‘ شاورما اور دیگر اشیا کے بیگ تھے۔ ہال میں بڑا سا دستر خوان بچھا دیا گیا۔ آنے والا پہلے تو خاموشی سے اپنا شاپنگ بیگ دستر خوان پر رکھتا پھر سیدھا شیخ کے پاس آتا، ان کے سر کو چومتا، بعض ہاتھوں کو بوسہ دیتے اور دیواروں کے ساتھ لگے ہوئے صوفوں پر بیٹھتے چلے جاتے۔
معلوم ہوا کہ یہ ہر ہفتے کا معمول ہے۔ صاحب حیثیت لوگ ہر ہفتے آتے ہیں اپنے اس قومی ہیرو کو سلام کرتے ہیں۔ ان کے پاس بیٹھتے ہیں، تبادلہ خیالات کرتے ہیں۔ اپنے سوالوں کے جوابات پاتے ہیں۔ مجھے نہایت افسوس ہے کہ میں ان کا نام یاد نہیں رکھ سکا، مگر ان کی شکل و صورت سے نظر آ رہا تھا کہ وہ اپنے دور کی عظیم شخصیت تھے۔ انھوں نے ہاتھ کا اشارہ کیا تو دسترخوان چن دیا گیا، یا بالفاظ دیگر کھانے کے پیکٹ کھول دیے گئے۔
ہم سب نے زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا۔ مجھے ان نوجوانوں اور ملنے والے شامیوں کا یہ انداز بڑا عمدہ لگا کہ جو بھی آیا خالی ہاتھ نہیں آیا۔آپ کسی بڑے رشتہ دار ‘ عالم دین یا کسی محترم ومحبوب شخصیت سے ملنے جا رہے ہیں تو اپنے ہمراہ کباب یا کوئی ہلکی پھلکی ڈش بنوا کر لے جائیں۔ اس میں حرج والی کوئی بات نہیں بلکہ وہ بزرگ، بوڑھے والدین‘ دادا‘ دادی یا دیگر اقارب ہمیں دعائیں ہی دیں گے اور اس عمل سے آپ کی عزت میں اضافہ ہی ہو گا۔ میں اس رات ان کے ہاں سے محبتیں سمیٹتے ہوئے واپس آیااور اس عادت کو بھی اپنایا۔
دمشق بھی کیا شہر ہے جب بھی اس کے بارے میں سوچا یادوں کے کئی دریچے کھل گئے۔ ہر دریچہ ہی روشن اور مبارک ہے۔
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers