"میں نے تمہاری لڑکیوں کو اغوا کیا ہے، اور خدا کی قسم، میں انہیں بازار میں بیچوں گا- انسانوں کے خریدار موجود ہیں، عورتیں لونڈیاں ہیں- میں اپنے مسلمان بھائیوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ کہتا ہے کہ اسلام میں غلاموں کی اجازت ہے -- ابو بکر شیخو، بوکو حرام
14 اپریل کی رات کو بوکو حرام نامی نفرت انگیز تنظیم نے چیبوک کے ایک اسکول پر حملہ کیا جو نائیجیریا میں بورنو کے شمال- مشرق میں واقع ہے- انھوں نے اسکولوں میں پڑھنے والی تقریباً 300 لڑکیوں کا اغوا کیا جن میں سے کچھ لڑکیاں بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئیں-    تفصیل سے پڑھیے
افریقہ کا یہ سب سے بڑا ملک -----آبادی اور معیشت کے حجم دونوں ہی لحاظ سے----- جو ورلڈ اکنامک فورم کی میزبانی کر رہا ہے جہاں علاقائی قیادت کے علاوہ چین کے وزیر اعظم اس براعظم کی ترقی کی حکمت عملیوں پر غور و فکر کرینگے-
ہم بجا طور پر سمجھ سکتے ہیں کہ پچھلے تین ہفتوں سے اسملک کے دل و دماغ پر جو مسئلہ چھایا ہوا ہے، ابوجا میں منعقد ہونیوالے اس بین الاقوامی اجتماع کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہوگا-
14 اپریل کی رات کو بوکو حرام نامی نفرت انگیز تنظیم نے چیبوک کے ایک اسکول پر حملہ کیا جو نائیجیریا میں بورنو کے شمال- مشرق میں واقع ہے- انھوں نے اسکولوں میں پڑھنے والی تقریباً 300 لڑکیوں کا اغوا کیا جن میں سے کچھ لڑکیاں بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئیں-
بورنو کو عموماً بوکو حرام کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہاں طویل عرصے سے ہنگامی صورتحال جاری ہے- یہاں پر بہت سے اسکول اس لئے بند ہیں کہ ان پر ملیشیا مسلح حملے کرتی ہے- اس تنظیم کا نام Hausa زبان میں بوکو حرام ہے جس کا کم و بیش ترجمہ ہے 'مغربی تعلیم حرام ہے'- بوکو حرام پہلے بھی بورنو میں اور پڑوسی ریاستوں میں درجنوں اسکول کے بچوں کو ہلاک کرچکی ہے-
فوج نے ابتدا میں تو چیبوک کے حملے کے خلاف ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 100 لڑکیاں اغوا ہوئی ہیں، جن میں سے زیادہ تر بھاگنے میں کامیاب ہوگئی ہیں- بعد میں اسے اس غلط خبر کو واپس لینا پڑا لیکن اس ہفتہ تک تعداد کے بارے میں غیر یقینی صورت حال برقرار رہی اور تازہ تریں رپورٹوں کے مطابق 276 لڑکیاں اب بھی غائب ہیں-
گزشتہ اتوار، اس شرمناک جرم کے بارے میں صدر گڈلک جوناتھن کے پہلے سرکاری بیان کے فوراً بعد ایک وڈیو منظر عام پر آئی جس میں بوکو حرام کے سرغنہ، ابوبکر شیہو نے یہ رونگٹے کھڑا دینے والا بیان دیا:
"میں نے تمہاری لڑکیوں کو اغوا کیا ہے، اور خدا کی قسم، میں انھیں بازار میں بیچوں گا- میں انھیں بیچوں گا اور ان کی شادیاں کرواؤں گا-"
"انسانوں کے خریدار موجود ہیں- عورتیں لونڈیاں ہیں- میں اپنے مسلمان بھائیوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ آللہ کہتا ہے کہ اسلام میں غلاموں کی اجازت ہے"
یہ خبریں آنے لگیں تھیں کہ لڑکیوں کو بیچا جارہاتھا یا ان کی زبردستی شادیاں کی جارہی تھیں، جنسی مال کے طور پر-
نائیجیریا کے شہروں اور دیہاتوں میں مظاہرے ہورہے ہیں اور یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان لڑکیوں کو بازیاب کیا جائے، جن کے بارے میں شروع شروع میں یہ علم تھا کہ انھیں کہاں رکھا گیا ہے- ان مظاہروں میں اضافہ ہوگا کیونکہ شیہو نے ڈھٹائی سے اسکی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ جوناتھن کا قوم سے خطاب مایوس کن تھا جس میں انھوں نے کئی ایک چیزوں کے بارے میں اپنی لاعلمی کا اظہار کیا اور دکھانے کے لئے یہ کہا: لڑکیوں کو بازیاب کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی-
چلیں ٹھیک ہے----لیکن سوال یہ ہے، یہ کوششیں اب تک کیوں نہیں کی گئیں؟ نائجیریا، بہرحال ایک ایسا ملک ہے جہاں 1960 کی آزادی کے بعد سے سیویلین حکومت کے بجائے زیادہ تر فوجی حکومت رہی ہے-اس کا فوجی ادارہ خصوصاً کمزور نہیں ہے- جیسا کہ دنیا بھر میں فوجی کرتے رہتے ہیں، جب وہ بوکو حرام جیسی تنظیموں کے خلاف کاروائی کرتے ہیں تو ان کا تشدد بلا تفریق ہوتا ہے، اور اسطرح وہ شہریوں کو اپنا مخالف بنالیتے ہیں جبکہ انھیں ان کی مدد کرنا چاہیئے-
تاہم۔ اس سے اس بات کی وضاحت نہیں ہوتی کہ فوج نے اس معاملے میں اپنی ذمہ داری کیوں نہیں پوری کی- لیکن شائد اس سے بھی زیادہ عجیب بات ہے ایوان صدر میں سوچ کی سطح، جس کا انکشاف خاتون اول، پیشنس جوناتھن نے کارکنوں سے بات چیت کے بعد کیا جو اغوا ہونیوالی لڑکیوں کی جانب سے حکومت سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کررہے تھے- کہا یہ جاتا ہے کہ انھوں نے مبینہ طور پر کہا کہ یہ لڑکیاں خود بوکو حرام کی نمائندہ ہیں اور ان کا خیال یہ ہے کہ اغوا کی کہانی جھوٹ ہے جس کا مقصد اگلے سال ان کے شوہر کے دوبارہ انتخاب میں رخنہ ڈالنا ہے-
اس ملاقات کے بعد پولیس نے ان کارکنوں کو تفتیش کی غرض سے اپنی حراست میں لے لیا-
بوکو حرام حالیہ برسوں میں جس تیزی سے کینسر کی طرح پھیل رہی ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نائجیریا کی ریاست اسے روکنے میں نمایاں طور پر ناکام رہی ہے-
اتوار کے دن اپنے خطاب میں گڈلک جوناتھن نے دعویٰ کیا کہ ریاست سرکشی کو روکنے میں کامیاب ہورہی ہے- چند سال پہلے انھوں نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے بتایا تھا کہ حکومت کی صفوں میں بوکو حرام کے ہمدرد شامل ہوگئے ہیں- یہ خیال بھی عام ہے کہ یہ جماعت فوج میں بھی در آئی ہے-
بوکو حرام اور طالبان میں بیشمار مماثلتیں موجود ہیں، خاص طور پر ان کی تنگ نظر ذہنیت اور ان کی مسلسل کارروائیوں کے جواب میں حکومت کا لنگڑا لولا رد عمل- اگرچہ کہ نواز شریف کے برعکس جوناتھن نے مذاکرات کو مسترد کردیا ہے- گو کہ اس کا متبادل راستہ-----جس کی تجویز نائیجیریا کے نرم خو نوبل انعام یافتہ وولے سوینکا برسوں سے پیش کر رہے ہیں----ابھی تک عمل کی منتظر ہے-
حالیہ دنوں میں ناقابل بیان ظلم و ستم کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی تحریک کے نتیجے میں تھوڑی بہت امید پیدا ہوئی ہے کہ ریاست اس ناسور کا خاتمہ کرنے کے لئے بلآخر کوئی کارروائی کرےگی- ظاہر ہے کہ مغوی لڑکیوں کی زندگیوں اور ان کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دیجانی چاہیئے- اب سے چند سال بعد ہمارے لئے یہ بات باعث طمانیت ہوگی جب ہم یہ کہہ سکیں گے کہ بوکو حرام نے حد سے آگے بڑھ کر خود اپنی قسمت پر مہر لگالی ہے-

Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers