اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے نائجیریا میں سرگرم اسلامی شدت پسند تنظیم بوکوحرام پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس دہشت گرد تنظیم کو اسلحے کی ترسیل کی بندش اور اس کے اثاثے منجمد کرنے جیسے عالمی اقدامات کا سامنا کرنا ہو گا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بوکوحرام پر یہ پابندیاں ایک ایسے وقت میں نافذ کی گئی ہیں، جب بائجیریا کے دارالحکومت ابوجہ میں ہزاروں افراد نے صدارتی محل کے باہر مظاہرہ کیا.......تفصیل سے پڑھیے
اور ’ہماری لڑکیاں واپس لاؤ‘ جیسے نعرے لگائے۔ یہ مظاہرین گزشہ ماہ سے اغواء شدہ لڑکیوں کی بازیابی کے لیے حکومتی اقدامات کو ناکافی قرار دے رہے تھے۔ واضح رہے کہ بوکوحرام کے قبضے میں ایک اسکول کی دو سو سے زائد طالبات ہیں، جنہیں اس تنظیم نے اپریل میں اغواء کر لیا تھا۔
سلامتی کونسل کی طرف سے بوکرحرام پر عائد کردہ پابندیوں کو امریکا میں خوش آمدید کہا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے بوکوحرام کو اسلحے کی ترسیل پر پابندی کے ساتھ ساتھ اس کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان تو کیا گیا ہے، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ عملی طور پر اس فیصلے کا کوئی اثر بھی پڑے گا یا نہیں۔
نائجیریا میں اس حوالے سے مظاہرے بھی جاری ہیں
واضح رہے کہ سن 2009ء سے بوکوحرام نائجیریا میں کئی دہشت گردانہ حملے کر چکی ہے، جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس تنظیم کا مطالبہ ہے کہ نائجیریا میں ایک اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آنا چاہیے۔
اقوام متحدہ میں القاعدہ کے خلاف پابندیوں کی کیمیٹی کے سربراہ آسٹریلوی سفیر گیری کوئنلین نے کہا، ’بوکوحرام اب اقوام متحدہ کی القاعدہ کے خلاف پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دی گئی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا، ’ہم کوشش کریں گے اور یہ یقینی بنائیں گے بوکوحرام کو ہر طرح کی مادی امداد، سرمایہ اور اسلحہ فراہم کرنے والوں کو روکا جائے۔‘
کوئنلین کا کہنا تھا کہ اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ بوکوحرام کو القاعدہ ان اسلامک مغرب کی طرف سے تربیت دی جا رہی ہے، جس میں خصوصی طور پر بم تیار کرنے میں معاونت شامل ہے۔
ادھر جمعرات کے روز ہزاروں افراد نے نائجیریا کے صدارتی محل کے باہر مظاہرہ کیا۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان مظاہرین کے نمائندوں سے صدر گڈلک جوناتھن نے ملاقات نہیں کی، تاہم صدر کے ایک مشیر کو ان مظاہرین سے خطاب کے لیے بھیجا گیا، جس پر مظاہرین مزید اشتعال میں آ گئے۔
ان افراد کا مطالبہ تھا کہ حکومت ان یرغمالی بچیوں کی بازیابی کے لیے موثر اقدامات کرے، جس میں وہ اب تک ناکام دکھائی دے رہی ہے۔
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers