میرے  لڑکپن کا قصہ ہے، بھائی نے ایک بلی پالی۔ جب پہلے دن امی نے بلی کے من موہنے اور خوب صورت بچے کو دودھ دینا چاہا، تو بھائی بولا ’’امی! دودھ میں چینی ڈال دی؟ ٹامی پھیکا دودھ نہیں پیے گا۔‘‘
یہ سن کر امی ہنس کر کہنے لگیں ’’ارے بلی نمکین اور میٹھے میں تمیز نہیں کرسکتی۔ اُسے بس پیٹ بھرنے کے لیے دودھ چاہیے۔‘‘  بھائی نے دریافت کیا ’’آپ کو کیسے معلوم؟‘‘  تفصیل سے پڑھیے
امی بولیں ’’بھئی میں اتنا جانتی ہوں کہ بلی کو شہد جیسا میٹھا دودھ دو یا بالکل پھیکا، اُسے بھوک لگی ہو، تو وہ غٹاغٹ پی جاتی ہے۔‘‘
دراصل میری والدہ اس سائنس سے نابلد تھیں کہ تمام بلیاں مٹھاس کو شناخت کیوں نہیں کر سکتیں؟ ویسے بھی یہ معلومات کچھ عرصہ قبل ہی سائنس دانوں کو معلوم ہوئی ہیں۔ دراصل ساری بلیاں صرف گوشت کھانے میں دلچسپی رکھتی ہیں کیونکہ اسی سے انھیں پروٹین ملتی ہے۔ اگر بلیوں کو چند دن اپنی توانائی کا منبع، پروٹین نہ ملے، تو وہ اللہ کو پیاری ہوجاتی ہیں۔
انسانی زبان میں پائے جانے والے آخذے پانچ چھے ذائقے مثلاً کھٹا، میٹھا، نمکین، مرچیلا، تلخ اور چربیلا محسوس کر سکتے ہیں۔ ذائقہ پہچاننے والا ہر آخذہ دو پروٹین خلیے رکھتا ہے۔ یہ دونوں خلیے دو خاص جین … تاس 1آر2(Tas 1 r 2) اور تاس 1آر 3پیدا کرتے ہیں۔  درج بالا دونوں جین جب کسی جانور کی زبان میں دہرا پروٹین مادہ جنم دیں، تبھی ذائقہ محسوس کرنے والا ایک آخذہ جنم لیتا ہے۔ جب کوئی میٹھی شے منہ میں داخل ہو، تو یہ آخذے فوراً اس کی خبر دماغ تک پہنچاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مٹھاس عموماً نشاستے (کاربوہائیڈریٹ)کی علامت ہوتی ہے اور تاریخی طور پر نشاستہ انسانوں سمیت کئی جانوروں کے لیے اہم غذائی عنصر رہا ہے۔
لیکن تمام بلیاں… شیر، تیندوا اور گھریلو بلی وغیرہ جانوروں کے گوشت خور خاندان (Carnivora) سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کی غذا بنیادی طور پر گوشت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں برس کے ارتقائی عمل نے ان میں امائنو تیزابوں کے وہ بنیادی جوڑے (Base Pairs)ختم کر دیے جو تاس 1آر2جین پیدا کرتے ہیں۔ اس جین کی عدم موجودگی کے باعث بلیوں کی زبان میں مٹھاس محسوس کرنے والے پروٹینی آخذے جنم نہیں لیتے۔
تاہم دیکھا گیا ہے کہ بعض گھریلو بلیاں آئس کریم اور دیگر انتہائی میٹھی اشیا بصد شوق کھاتی ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ اس سلسلے میں ماہرین کا خیال ہے کہ بعض بلیاں اپنے اکلوتے جین (تاس1آر3)کی مدد سے ایسی اشیا میں مٹھاس دریافت کر لیتی ہیں جن میں چینی زیادہ ہو۔ مگر فی الوقت یہ مفروضہ ہے۔ سائنس ابھی اس بات کو ثابت نہیں کرسکی۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ گوشت خور جانوروں میں جین تاس 1آر20صرف بلیوں ہی میں عنقا ہے۔ ورنہ وہ گیدڑ اور نیولے تک کی زبانوں میں پایا جاتا ہے۔ مزیدبرآں بلیاں اپنے بدن میں وہ خامرے (انزائم) بھی نہیں رکھتیں جو شکریں اور نشاستے ہضم کرتے ہیں۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers