آپ پہلی حقیقت ملاحظہ کیجیے۔
ملک میں18 فروری 2008ء کو الیکشن ہوئے‘ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف نے مل کر حکومت بنائی‘ عوام نے دل کھول کر اس اتحاد کی تعریف کی‘ عدلیہ کی بحالی پر زرداری صاحب اور میاں صاحب کے درمیان اختلاف پیدا ہوا‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری دبئی میں جیو ٹیلی ویژن کے پروگرام ’’میرے مطابق‘‘ میں شریک ہوئے‘ یہ پروگرام اس وقت ڈاکٹر شاہد مسعود کرتے تھے‘ پروگرام میں آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف کے ساتھ عدلیہ کی بحالی کے معاہدے کو سیاسی وعدہ قرار دے دیا۔ تفصیل سے پڑھیے
یہ سات لفظوں کا فقرہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کا جنازہ ثابت ہوا‘ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کا اتحاد ٹوٹ گیا‘ اتحاد ٹوٹتے ہی جیو ٹیلی ویژن نے آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کی ملاقاتوں کے مختلف کلپ لیے اور ان پر ’’کیا ہوا تیرا وعدہ‘‘ کا گانا چلانا شروع کردیا تھا‘ یہ جمہوری لیڈروں کی تذلیل کا نقطہ آغاز تھا‘ جیو ٹی وی پاکستان میں میڈیا کا لیڈر تھا‘ یہ جو کرتا تھا باقی چینل اس کی پیروی کو اپنا فریضہ سمجھتے تھے چنانچہ ملک کے دوسرے چینلز نے بھی لیڈروں کا مذاق اڑانا شروع کردیا‘ ٹیلی ویژن اسکرین پر گانے بھی چلے‘ کارٹون بھی بنے اور ان کے پرانے کلپ بھی نئے کانٹیسٹ میں دکھائے گئے‘ آصف علی زرداری صدر بنے تو جیو نے این آر او کا ایشو اٹھایا۔
سوئس اکائونٹس کا پنڈورا باکس کھولا ‘ ججز کی بحالی کی تحریک بھی چلائی‘ جمہوری حکومت کے تمام تر دبائو‘ منتوں اور ترغیبات کے باوجود یہ تحریک جاری رہی‘ یہاں تک کہ حکومت میڈیا‘ وکلاء‘ اپوزیشن اور سول سوسائٹی کے سامنے سرنگوں ہوگئی‘ یوسف رضا گیلانی ملک کے پہلے متفقہ وزیر اعظم تھے۔ ’’جیو‘‘ نے درجنوں مرتبہ ان پر گانے چلائے‘ ان کی ڈمی بنا کر دکھائی گئی‘ سیاسی مزاح پر پروگرام بنائے اور دکھائے‘ بریکنگ نیوز کا سیلاب آیا اور یہ سیلاب ہر بار حکومت کا کوئی نہ کوئی ادارہ بہا کر لے گیا‘ حج سکینڈل آیا‘ ایفی ڈرین سکینڈل آیا‘ ای او بی آئی سکینڈل آیا‘ میمو سکینڈل آیا اور رینٹل پاور پلانٹس کا ایشو آیا۔
میڈیا کی مہم جوئی کی وجہ سے اس دوران سپریم کورٹ نے ایک وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو فارغ کردیا جب کہ دوسرے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی نااہلی کے احکامات جاری ہونے لگے‘ یہ سیاسی تذلیل کا پانچ سالہ دور تھا جس میں آصف علی زرداری اور ان کے ساتھی بھی نشانہ بنے‘ میاں نواز شریف بھی اور چاروں صوبوں کی سیاسی حکومتیں بھی۔ ’’ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی‘‘ یہ شاہکار اسی دور کی مہربانی تھا‘ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت تھی سیاسی قیادتیں 2008ء سے لے کر 2013ء تک میڈیا سے تنگ تھیں‘ یہ میڈیا کو پابند کرنا چاہتی تھیں۔
یہ میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق بھی بنانا چاہتی تھیں اور یہ ’’ریڈ لائین‘‘ پر قدم رکھنے والے اینکرز اور صحافیوں پر بھی پابندی لگانا چاہتی تھیں لیکن یہ لوگ شدید ترین خواہش کے باوجود جیو کے خلاف اپنی ہی وزارت اطلاعات کے ماتحت ادارے ’’ پیمرا‘‘ میں ایک درخواست تک جمع نہیں کرا سکے‘ یہ کیبل آپریٹرز کو کسی میڈیا گروپ کے خلاف استعمال نہیں کر سکے‘ صدر آصف علی زرداری کے بعد میاں نواز شریف کی حکومت آ گئی۔
اقتدار کی اس تبدیلی کے دوران تذلیل اور مذاق کا تاج میاں نواز شریف کے سر پر آ گیا‘ میاں نواز شریف کے کلپس اور ان کلپس پر گانے چلتے رہے‘ میاں صاحب کی حکومت کو ایک سال گزر گیا‘ یہ بھی میڈیا کو ضابطہ اخلاق کا پابند کرنا چاہتے تھے مگر یہ بھی میڈیا کو اخلاق کے دائرے میں نہ لا سکے‘ یہ خواہش کے باوجود میڈیا کو پسپا ہونے پر مجبور نہ کر سکے‘ میاں صاحب نے زیادہ سے زیادہ یہ کیا‘ یہ بھی پیپلز پارٹی کی طرح ناپسندیدہ چینلز اور اینکرز کا بائی کاٹ کر کے بیٹھ گئے اور بس۔
آپ اب دوسری حقیقت ملاحظہ کیجیے‘ ملک کے مشہور اینکر پرسن حامد میر پر 19 اپریل 2014ء کو کراچی میں حملہ ہوا‘ یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ تھا۔ ’’جیو‘‘ نے خصوصی ٹرانسمیشن شروع کی‘ ٹرانسمیشن کے دوران حامد میر پر حملے کو آئی ایس آئی کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ ’’جیو‘‘ کے دو سینئر کارکنوں نے آئی ایس آئی کے چیف جنرل ظہیر الاسلام سے استعفیٰ مانگ لیا‘ چینل نے جنرل ظہیر الاسلام کی تصویر اسکرین پر لگائی اور ساڑھے آٹھ گھنٹے تک یہ تصویر اسکرین پر ’’چسپاں‘‘ رہی۔
فوج اور آئی ایس آئی کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا مگر جنگ گروپ اپنی غلطی پر اڑ گیا‘ شروع میں اپنی غلطی کو ذمے دارانہ صحافت قرار دیتا رہا‘ جب حکومت کو محسوس ہوا جنگ گروپ غلطی پر ہے تو وزارت دفاع نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے دستخطوں کے ساتھ ’’پیمرا‘‘ میں ’’جیو‘‘ کی بندش کی درخواست دائر کر دی‘ میڈیا جیو کی بندش پر تقسیم ہوا‘ پرائیویٹ چینلز کی اکثریت نے ’’جیو‘‘ کے خلاف خبریں چلانا شروع کر دیں‘ سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھی تقسیم ہوئیں‘ یہ بھی ’’جیو‘‘ کے خلاف سڑکوں پر آ گئیں‘ پاکستان پیپلز پارٹی ’’جیو‘‘ کی محتاط مخالفت کرنے لگی جب کہ ایم کیو ایم اور پاکستان تحریک انصاف نے جیو کے خلاف ’’بولڈ‘‘ اسٹینڈ لے لیا‘ عمران خان نے جیو‘ جنگ اور میر شکیل الرحمن کو للکارنا شروع کر دیا۔
’’جیو‘‘ کی بندش شروع ہوگئی‘ چھائونیوں‘ ڈی ایچ ایز‘ سرکاری اداروں اور عام گھروں میں چینل بند ہوگیا‘ یہ سلسلہ پچھلے 28 دنوں سے جاری ہے لیکن جنگ گروپ نے ابھی تک اپنی غلطی تسلیم نہیں کی‘ یہ آج بھی 19 اپریل کی کوریج کو ذمے دارانہ صحافت قرار دے رہا ہے‘ یہ آج بھی اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے‘ اس دوران ملک ریاض کی مداخلت سے جیو اور فوج کے درمیان صلح کا امکان پیدا ہوا۔
جنگ گروپ افواج پاکستان سے تحریری معذرت کیلیے تیار ہو گیا لیکن پھر جنگ گروپ کی انتظامیہ نے سوچا ہم اپنے اس کارکن کو کیا منہ دکھائیں گے جو ادارے کی وجہ سے سڑکوں‘ پریس کلبوں اور دوسرے ٹیلی ویژن چینلز پر لڑائی کر رہا ہے چنانچہ انھوں نے حتمی صلح سے قبل معذرت سے انکار کردیا‘ آپ ملاحظہ کیجیے‘ یہ میڈیا گروپ اپنی غلطی کے باوجود پاکستان کے اس منظم ترین اور مضبوط ترین ادارے کے سامنے ڈٹ گیا جو آج تک درجنوں حکومتوں کو گھر بھجوا چکا ہے‘ جس کے سامنے کسی سیاسی جماعت کو دم تک مارنے کی ہمت نہیں ہوتی۔
اور آپ اب تیسری حقیقت بھی ملاحظہ کیجیے‘ شائستہ واحدی ستمبر 2010ء  سے جیو ٹیلی ویژن پر مارننگ شو کر رہی ہیں‘ یہ مارننگ شو پروگرام کم اور سماجی کامیڈی زیادہ ہوتا ہے‘ اس میں بس لائیو طلاقوں‘ لائیو خود کشیوں اور لائیو آبرو ریزیوں کی کمی ہے جب کہ باقی تقریباً تمام کارنامے سرانجام پا چکے ہیں‘ ملک کے زیادہ تر شو غیر سنجیدگی‘ بے ترتیبی اور بے ہودگی کا عظیم شاہکار ہوتے ہیں لیکن شائستہ واحدی اکثر اوقات پہلی پوزیشن حاصل کرلیتی ہیں‘ شائستہ واحدی نے 14 مئی کے شو میں وینا ملک اور ان کے شوہر اسد بشیر خٹک کو (نعوذ باللہ) حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت علی ؓ سے تشبیح دے ڈالی‘ یہ ناقابل برداشت توہین تھی‘ یہ خبر جوں ہی سوشل میڈیا پر آئی لوگوں کے جذبات بھڑک اٹھے۔
سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے اس گستاخی کے خلاف 15 مئی کو پریس کانفرنس کی اور جیو کو دیکھنا حرام قرار دے دیا‘ یہ فتویٰ آنے کی دیر تھی ’’جیو‘‘ نے فوراً شائستہ واحدی اور اس کی پوری ٹیم کو معطل کردیا‘ چینل کو سب سے زیادہ منافع دینے والا مارننگ شو بند کردیا اور قوم سے معافی کا طلب گار ہوگیا‘ جنگ گروپ پچھلے چار دنوں سے روزنامہ جنگ‘ دی نیوز اور جیو کے تینوں ٹیلی ویژن چینلز کے ذریعے قوم سے معافی مانگ رہا ہے‘ یہ ہر پندرہ منٹ بعد اسکرین پر حدیث مبارکہ دکھاتا ہے اور ساتھ ہی معافی مانگتا ہے‘ اشتہارات بھی دیئے جا رہے ہیں‘ علماء کرام سے معافی کی فضیلت کے بارے میں فتوے بھی لیے جا رہے ہیں اور ملک کے مقبول ترین اینکر پرسن عامر لیاقت حسین کے ذریعے احد کے میدان سے قوم سے درگزر کی درخواست بھی کی جا رہی ہے‘ آپ ملاحظہ کیجیے۔
جیو کو دو جمہوری اور منتخب حکومتیں لیڈروں کی تصویروں پر گانے چلانے‘ ان کے سکینڈل بنانے اور سپریم کورٹ کو ’’ایکٹو‘‘ کرنے سے نہیں روک سکیں یہاں تک کہ انھوں نے ایک وزیر اعظم قربان کر دیا اور دوسرے کے سر پرمعطلی کی تلوار تاننے کی اجازت دے دی‘ فوج جیسا مضبوط ادارہ بھی جیو اور جنگ سے معذرت نہیں کروا سکا مگر یہ ادارہ صرف ایک فتوے کے سامنے اس قدر ڈھیر ہو گیا کہ یہ معافی مانگتے ہوئے نہیں تھک رہا‘ یہ معافی کے بدلے ہر قسم کا ہرجانہ تک ادا کرنے کیلیے تیار ہے۔
آج اگر میر شکیل الرحمان سے کہا جائے آپ اعلان کر دیں‘ آپ روزانہ ہزار بکروں کی قربانی دیں گے اور یہ قربانی دس سال تک جاری رہے گی تو مجھے یقین ہے میر صاحب یہ شرط تسلیم کرتے ہوئے پانچ منٹ لگائیں گے‘ یہ فتوئوں سے بچنے کیلیے اپنے گروپ کے تمام لوگوں کو عمرہ اور حج تک کروا دیں گے چنانچہ پھر آپ خود فیصلہ کر لیجیے‘ اس ملک کے اصل حکمران کون ہیں‘ ملک کی اصل طاقت کس کے ہاتھ میں ہے اور آپ جب تک اس بات کا فیصلہ نہیں کریں گے آپ اس وقت تک ملک کی سمت درست نہیں کر سکیں گے‘ آپ اپنا مستقبل کاشت نہیں کر سکیں گے۔

بشکریہ - جاوید چودھری
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers