۱۸۵۷ء کی سیاسی بغاوت کے بعد، میرٹھ سے فوجی دہلی پہنچے اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیاگیا۔ جس کی پاداش میں بہادر شاہ ظفر کو میانمار کے مانڈلے میں نظر بند کردیا گیا۔ جہاں انھیں اپنے آخری ایام کسمپرسی کی حالت میں بسر کرنے پڑے۔ نظر بندی کے اس دور کی تفاصیل ان کے خطوط میں عیاں ہیں۔ ان خطوط کی روشنی میں بہادر شاہ ظفر ؔ کی ذہنی شکست وریخت کا اندازہ بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
کلثوم زمانی ، بہادر شاہ ظفرؔ کی بڑی بیٹی تھی اور وہ بھی انگریزوں کی قید میں تھی۔ خط وکتابت پر پابندی کے باوجود وہ اپنے والد کو ایک خط بھیجنے میں کامیاب ہوسکی۔ جس کے جواب میں بہادر شاہ ظفر ؔ نے مندرجہ ذیل مراسلہ تحریر کیا ۔
قید خانہ رنگون ، ۱۸ مئی ۱۸۶۰ء...............تفصیل سے پڑھیے


پیاری بیٹی !
تم نے اپنے قیدی والد کو خط بھیجا ۔خط کیا تھا ، میری جان اور آنسوؤں کے نام تھا۔ جواں بخت (بیٹا) نے پڑھ کر سنایا۔ ایک دفعہ سنا تو جی نہیں بھرا، پھر کہا ، بیٹاپھر سنانا، پھر سنا وہ بھی رویا میری آنکھیں بھی آنسوؤں سے بھیگ گئیں۔ کہا ، بابا ایک دفعہ اور پڑھو۔ کیا لکھواؤں بیٹی کہ مجھ پر تمہارے خط کا کیا اثر پڑا۔ تین دفعہ سننے کے بعد بھی دل کو قرار نہیں آیا۔ سچ کہتی ہو میری جان ! دہلی والے مجھ کو روتے ہوں گے تو کیا یہ نہیں جانتے کہ میں بھی ان کو روتا ہوں۔ میں تو زندہ بیٹھا ہوں وہ تو بغیر آئی موت مر گئے۔ کتنوں کے و الد، کتنوں کے بیٹے ، کتنوں کے بھائی پھانسیوں پر چڑھ گئے۔ کتنے بچے یتیم ہوگئے ، کتنی عورتیں بیوہ ہوگئیں ،گھر لُٹ گئے، نہیں بلکہ کھد گئے اور ان پر گدھوں کے ہل چل گئے ۔ دہلی میں جب میرا مقدمہ ہورہا تھا ، اسی زمانے میں تباہی اور بربادی کے قصے سنے تھے۔ میرے یہاں آجانے کے بعد خبرنہیں اور کیا کیا آفت شہروالوں پر بپا ہوئی ہو گی۔ یہ سب میرے اعمال کی شومئی تھی۔ سپاہیوں نے بھی غضب کیا تھا۔ بھلا عورتوں اور بچوں کو مارنا کس مذہب میں آتا ہے؟ اب روئے یا ہنسے ، کوئی فائدہ نہیں۔
ایک دفعہ میں نے کہا : یہاں بارش بہت ہوتی ہے ، ٹپکتا ہے ، بوچھاڑیں آتی ہیں ۔ کوئی اور مکان ہونا چاہیے تو جواب ملا : کیاتمہارے واسطے لال قلعہ منگوایا جائے ، یہاں تو لکڑی کے ایسے ہی مکان ملتے ہیں۔ اس سے اچھا کوئی مکان نہیں ہے۔ جواب سن کر اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ ملکہ نے کہا کہ جواب دینا چاہیے کہ یہاں لکڑی کے مکان بھی اس مکان سے دس درجے اچھے ہیں۔ مگر میرا دل زخمی ہوگیا ہے ٹھیس لگی ، آنکھوں میں آنسو آگئے اور خاموش ہوگیا ۔ ایک دفعہ بنگال کے کوئی زمیندار ملنے آئے۔ میرا کلام مانگا ۔ میں نے ایک غزل جواں بخت سے لکھوا کر دے دی۔ وہ باہر گئے تو ان کی تلاشی ہوئی اور مجھ پر الزام عائد کیا گیا کہ غزل دینے کا آخر مقصد کیا تھا۔ قیدیوں کو کوئی تحریر دینے کی اجازت نہیں ہے۔ ملکہ کو پھر غصہ آیا مگر میں نے کہا کہ ناحق خفا ہوتی ہو۔ خدا نے قیدی بنایا تو سب کچھ سہنا ہوگا۔ ایک دفعہ عید کے دن کچھ مسلمان چند تحفے لے کر آئے۔ میں نے کہا: بھائی یہ تحفے تو میں نہیں لے سکتا۔ انھوں نے اصرار کیا تو میں نے مجبوراً لے لیا اور اس کے بدلے ملکہ کا ایک ہار ان کو دے دیا۔ دوسرے دن حکم آیا کہ ان کے پاس جواہرات بہت زیادہ ہیں،ا ن کو جو خرچ دیا جاتاہے ، آج سے نصف کردیا جائے اور ایسا ہی ہوا۔ بیٹی ایک بات ہو تو لکھواؤں ۔ روزانہ ایسی ہی باتیں ہوتی ہیں۔ اب تو کلیجہ پتھر کا ہوگیا ہے۔ بہت پہلے اثر ہوتا تھا ، کئی کئی وقت رنج اور صدمے کے سبب کھانا نہیں کھاتا تھا مگر اب عادت سی ہوگئی ہے۔ بھوک تو دہلی میں ہی کم ہوگئی تھی، یہاں کی فضا ایسی ہے کہ کئی کئی دن کچھ نہیں کھاتا۔ شاعری میں اشکِ غم پینا اور لختِ دل کو کھانا سنا تھا۔ یہ روز مرہ کا کام ہے۔ اچھا بیٹی ! اب زیادہ لکھوایا نہیں جاتا۔ خدا اگر تمہیں یہاں لایا اور تم میری زندگی تک یہاں آگئی تو دل کی بات کہوں گا اور دل وجگر میں جہاں جہاں زخم ہے دکھاؤں گا ۔ کیا خبر یہ خط تم کو ملے گا بھی یا نہیں ؟ بس بیٹی! اللہ بس باقی ہوس خط تمہارے قیدی باپ نے لکھوایا۔

بہادر شاہ کی مشہو غزل

لگتا نہیں ہے جی مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں

بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید تھی لکھی فصل بہار میں
عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers