جلدی جلدی میں بھی کتابیں سمیٹ کر باہر کی طرف چل دیتا. کہنے کو تو اسے دروازہ ہی کہتے تھے مگر وہ جگہ جگہ سے پھٹا ایک کپڑے کا ٹکرا تھا جو ایک طرف کیل کے ساتھ اور ایک طرف اینٹ کے کونے سے اٹکایا گیا تھا. میں بھاگتا ہوا باہر نکلتا اور ادھر ادھر دیکھنے لگتا. کبھی تو ساتھی انتظار کرتے مل جاتے اور کبھی دور جاتے نظر آتے. میں بھاگ کر ان میں شامل ہو جاتا. کب تک کوئی انتظار کرتا ہے اور جب آگے ڈنڈا انتظار کر رہا ہو لیٹ آنے پر. ویسے بھی جو وقت پر تیار ہوا ہے وہ دیر سے آنے والے کا انتظار کیوں کرے. تفصیل سے پڑھیے
دیر سے آنے والے کا تو تقدیر بھی انتظار نہیں کرتی. سکول کی طرف جانا ایسے ہی تھا جیسے کانٹوں میں سے چادر چھڑانی ہو، ایک جگہ سے نکالو تو دوسری جگہ اٹک جاے. صبح کا مسلہ بڑا گھمبیر ہوتا تھا. رات کو سونے کی نہ ستھری جگہ نہ ہی کوئی مناسب جگہ. سات فٹ لمبے چوڑے کمرے میں چھ لوگ کہاں کوئی سوے اور کہاں مرے. صبح تازہ دم ہو کر اٹھنا کس سہانے خواب کا تجربہ ہے کس کو معلوم. اٹھ کے منہ دھونا. کپڑے نیے نہ ہوں خود کے ماپ کے بھی نہ ہوں مگر ایسے تو ہوں کہ کسی کے ساتھ چلا یا بٹھا جا سکے. ایسا بھی نہ تھا. ناشتہ صبح کے کھانے کو کہتے ہیں جو ہر انسان صبح کھاے تو دن کو بھگتنے کے لئے تیار ہوتا ہے. مگر گھر میں کچھ کھانے کو ہو تو. اس لئے میں بھی اٹھ کر آنکھیں ملتا ہوا چل دیتا تھا، خود کے شوق سے جب سب سوے ہوتے تھے. کوئی کہنے والا نہ تھا. سکول آ گیا نہ چھت نہ دروازہ. کرسی نہ کتاب. گھنے درخت کے نیچے سب بچے بیٹھ گئے. الف بے شروع ہو گئی. پتھریلی زمین پہ ادھر سے پتھر چبھے تو ادھر ہو گئے. گھنا درخت پت جھڑ میں ننگا ہو گیا تو ایسے ہی سہی. آندھی ہو یا بارش ، دھوپ ہو یا بادل یہ سکول ہے. شکر ہے کہ ہے. دن گزرتے گئے ایسے ہی چلتے چلتے آٹھ جماعتیں ہو گئیں. آگے نہ کسی اور ہم جماعتی نے پڑھنا چاہا اور نہ ہی استاذ صاحب کو پڑھانا آتا تھا. کہا گیا کافی ہے اب کرو مزدوری اور گھر والوں کا پیٹ پالو. جانا ہے تو شہر جاؤ اور جو جی میں آے کرو. یہ آخری دن سکول سے گھر آنا بوجھ لگا. قدم اٹھتےنہ تھے. سامنے اندھیرا جو تھا. کسی سے بات کروں تو کیا. میں نے شہر جا کے نوکری کا سوچ لیا. مگر کس کے ساتھ کس کے پاس. اس سوالیہ نشان کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا. گھر آ کے خود کا فیصلہ سنا دیا کہ چند بچے شہر پڑھنے جا رہے ہیں. میں بھی جاوں گا. ہنگامہ ہو گیا. رونا پٹنا ہوا. قصہ مختصر میں چلا گیا. آگے کچھ فلمی کہانی ہے. پہلے ہی گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اور پناہ مل گئی. جذبہ تھا. دل لگا کہ جو سمجھایا جاتا میں کرتا. کام بھی کچھ سخت نہ تھا. کوئی تین مہینے گزرے تو مالکن جن کو میں بھی امی جی کہنے لگا تھا میں نے بولا کہ میں پڑھنا چاہتا ہوں. آٹھ پڑھا ہوں، اس لئے شہر آیا تھا. ان نے اجازت دے دی. میں صبح سکول جاتا جو بازو ہی میں تھا. شام میں گھر کا کام بھی کرتا اور پڑھتا بھی. کب دس ہو گئیں معلوم ہی نہیں پڑا. نہ گھر کی یاد ائی نہ ان نے ہی یاد کیا.میں پیسے ان کو بھیج دیتا تھا سو وہ خوش تھے. مجھے اس شہر کے لوگ بہت ہی اچھے ملے. میری پڑھائی کا مجھ پہ کوئی مالی بوجھ نہ تھا. الله کی مرضی. امی جی مجھے کالج جانا ہے. میں نے کہ ہی دیا. وہ مان گئیں. میں روز کالج جانے لگا. چُپ کے سے جاتا اور واپس آ کے گھر کا کام بھی کرتا اور پڑھائی بھی. میں سائکل پہ جاتے روز یونیورسٹی کے سامنے سے گزرتا اور خود کو اس کے دروازے سے اندر جاتا تصور کرتا. ایسے ہی سال گزر گیا. نیا سال چڑھا. ابھی تک سب اچھے سے تھا. ہمیشہ کی طرح مہمان آتے جاتے. سب مجھ سے خوش تھے. یہ دن اتوار کا ہی زیادہ ہوتا اور میں بھی فارغ ہوتا تھا. ذکر کرتے میری آنکھ میں آج بھی وہ منظر ہے جس نے میری زندگی زمین کی زمین پر ہی رہنے دی. امی جی کا بھانجہ آیا مہمان. میرے لئے قہر بن کر. وہ کچھ سودے وغیرہ لینے آیا تھا فیصل آباد سے. پہلے بھی آتا جاتا رہتا تھا. کچھ بہت سیدھا شخص نہ تھا. مگر جی گھر کا فرد تھا. مجھے بھی یہاں چار سال ہو چلے تھے. میں خود کو گھر کا فرد ہی گردانتا تھا. سبھا میں اندر آیا، کالج جانے اور جلدی سے کام نبٹانے. اندر تو طوفان کھڑا تھا. بیس لاکھ روپیہ غائب تھا. گھر میں امی جی کامی بھائی اور میرے علاوہ کوئی تھا ہی نہیں. دونو بھائی اور ابا کراچی کام سے گئے تھے. باجی اور آپی کالج سے ہی ممانی کی طرف رات رہنے چلی گئی تھیں ان کی بیٹی کے ساتھ. گھر میں ہم تین تھے. مجھے آج ذرا در ہو گئی اندر آتے.اب تک میرے ہی وارنٹ نکالے جا چکے تھے. مجھ پہ شک کیا جا رہا تھا. کمی بھائی کہ رہا تھا دیکھا خالہ آپ گھسا لیا کرو ہر کو. ابھی تک نہیں آیا نہ آپ کا لاڈلا. لے گیا میرے بیس لاکھ. میں اندر داخل ہوا تو آج گھر کا نقشہ ہی کچھ اور کا اور تھا. کیا دیکھتا ہوں کہ امی جی کی بھی نظریں بدلی ہیں. میرا حوصلہ ہی نہ ہوا کے پوچھوں کہ کیا ہوا. میں آتے آتے سن ہی چکا تھا. کہاں کا ناشتہ اور کہاں کا کالج. میں تو کٹہرے میں کھڑا تھا. کمی بھائی تو خیر آگ پھینک رہے تھے ہی. امی جی بھی تیوری چڑھائی بیٹھی تھیں. حق پر ہی تھیں. گھر میں کوئی اور نہ تھا. میں رات ہی کام کاج سمیٹتے کہ رہا تھا کامی بھائی میں یونیورسٹی جاوں گا اور آپ کی طرح بڑا آدمی بنوں گا. خود کے خاندان کو بھی شہر لے آؤں گا. ہنسی مذاق کرتے کرتے کام مکمل ہوا اور میں سونے چلا گیا. آج پڑھائی نہ ہوئی تھی سو پڑھتے دیر ہو گئی تھی،اس لئے آنکھ دیر سے کھلی آج. قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا. تیور بدلے دیکھ کر مجھے شدید دکھ ہوا. میرا خیال تھا کم از کم امی جی مجھ کو پہچانتی تھیں. مگر میں ان کے گھر کا فرد نہ تھا. رقم بھی بہت زیادہ تھی. امی جی حوصلہ دے رہی تھیں. کمی بھائی مطمئن تھا. معلوم نہیں اس نے یہ کیا کھیل کھیلا تھا. میرا کسی نے ساتھ نہ دیا. مارا پیتا گیا. مجھے دس سال جیل ہو گئی. زندگی فنا ہو گئی. سب دہرا کا دہرا رہ گیا. خواب خواب بھی نہ رہے. ہاں یونیورسٹی کا گیٹ میری قسمت میں ضرور تھا. آج میں اس گیٹ کے بلکل سامنے ایک کتابوں کی دکان میں ملازم ہوں. میری پانچ سال سزا معاف ہو گئی تھی. میں نے جیل میں لوگوں کو پڑھایا بھی. جیل کے لوگ میرے سے خوش تھے. پہلے پہل پوچھتے تھے کہ پیسے کہاں ہیں. اب ان کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ سب ڈرامہ تھا الزام ہی تھا. وہ بڑے لوگ تھے. میرا کیا تھا. معلوم نہیں ان پانچ سال میں میرے گھر والوں کا کیا ہوا. میں باہر آیا اور پھر نوکری پہ کھڑا ہو کے ان کو پیسے بھیجنے لگا. کتابوں کی دکان میں، کاغذ کو ہاتھ لگا کہ بچوں کو پنسلیں بیچ کے ٹھرک پوری کر لیتا ہوں کیونکہ غریب آدمی کو کتابوں سے زیادہ آٹے کی ضرورت ہوتی ہے

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers