بغداد کی تاتاریوں کے ہاتھوں بربادی مسلمانوں کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ کا سب سے المناک واقعہ ہے، اس تباہی پر شاعروں نے برسوں دلدوز مرثیے لکھے اور آج تک یہ ماتم جاری ہے۔ 
سعدی شیرازی نے کہا:
’’آسمان را حق یُوَد گر خوں ببارد برزمیں‘‘ (اس واقعہ پر اگر آسمان سے خون کی بارش ہو تو یہ ٹھیک بات ہوگی۔)
لیکن بہرحال نہ کوئی بھونچال آیا، نہ آسمان رویا۔ واقعہ ہی ایسا خونچکاں تھا کہ بہت سے مسلمان مورّخین نے تفصیلات بیان کی ہیں۔’’تاریخ و صاف‘‘ کے مصنف نے سیاق و سباق کے ساتھ حالات بیان کیے ہیں۔ تفصیل سے پڑھیے

یہ1880ء کی بات ہے، کینیڈا کے سرمایہ داروں نے فیصلہ کیا کہ ایک کرکٹ ٹیم بنا کر برطانیہ بھجوائی جائے۔ اس زمانے میں کرکٹ برطانیہ کے علاوہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں خاصا مقبول ہو چکا تھا۔ اب کینیڈا میں بھی اس کا چرچا ہونے لگا جہاں برطانیہ سے آئے انگریزوں کی خاصی تعداد بستی تھی۔   تفصیل سے پڑھیے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
حضرت عمرؓ نے مدائن کے لیے نئے امیر کا تقرر فرما کر اُنھیں مدائن کی طرف روانہ فرمایا،تواہل شہرنئے امیر کی آمد کی خبر سن کر اُن کے استقبال کے لیے گروہوں کی شکل میں باہر نکل آئے۔ اُن کا شوق و رغبت انھیں اس صحابی جلیل کی ملاقات کے لیے کشاں کشاں لیے جا رہا تھا جس کے زہد وورع کے بارے میں انھوں نے بہت کچھ سن رکھا تھا۔ انھوں نے فتوحاتِ عراق میں ان کی شجاعت و طاقت کے قصے بھی سن رکھے تھے۔   تفصیل سے پڑھیے
سوچتی ہوں اللہ میاں…! آج آپ کو خط لکھوں! اپنی زیست کا سب سے انوکھا، سب سے سچا اور سب سے قیمتی خط! زندگی میں ڈھیروں خط لکھے، کچھ آپ کے لیے کچھ دوسروں کے لیے، یقین ہے کچھ خطوط لکھتا پا کر آپ کو مجھ پر ڈھیروں پیار آیا ہو گا اور کچھ راکھ کے مانند بے وزن کہ ایک گہری سانس بھی انھیں بے ٹھکانے کر دے۔ تفصیل سے پڑھیے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

سمارٹ فون بنانے والے جنوبی کوریائی ادارے سام سنگ نے ہیلتھ کیئر میں ایک نئی تکنیک متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔ نئی تکنیک کے استعمال سے حرکت قلب اور بلڈ پریشر کا تعین ہو سکے گا۔
امریکی شہر سان فرانسسکو میں جنوبی کوریا کے سمارٹ فونز، الیکٹرانکس اور کمپیوٹر ساز ادارے سام سنگ نے ہیلتھ کیئر کے حوالے سے ایک نئی ڈیجیٹل تکنیک متعارف کروائی ہے۔ ادارے کا خیال ہے کہ ہیلتھ ٹیکنالوجی پلیٹ فارم سے ہیلتھ کیئر کا ایک نیا مؤثر اور فعال پہلو پیدا ہو گا - تفصیل سے پڑھیے

جرمنی کے دو مصنوعی سیارے ہماری زمین کے تمام حصوں کی مختلف زایوں سے تصاویر بنانے میں مصروف ہیں۔ یہ تصاویر دراصل زمین کا ایک سہ جہتی یا تھری ڈی نقشہ بنانے کے منصوبے کا حصہ ہیں۔
خلائی تحقیق کے جرمن ادارے (DLR) نے ان سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والی تصاویر کے ذریعے دنیا کے دو مقامات کے انتہائی تفصیلی تھری ڈی ماڈل تیار کیے ہیں جو انٹرنیٹ پر عام لوگوں کے لیے بھی دستیاب ہیں۔ تفصیل سے پڑھیے

انٹرنیٹ کمپنی گُوگل نے یورپی عدالت برائے انصاف کے ایک فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے جس کے تحت اسے اپنے یورپی صارفین کو یہ حق دینا ہو گا کہ وہ خود کو ’بھلا دینے‘ کی درخواست کر سکیں۔
گُوگل نے اس عدالتی فیصلے پر جمعرات سے عمل درآمد کا آغاز کر دیا ہے۔ گزشتہ دِنوں سامنے آنے والے یورپی عدالت برائے انصاف کے فیصلے کے مطابق یورپی شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر کی گئی سرچ میں اپنی معلومات سے متعلق لِنکس کو ختم کرنے کی درخواست کر سکیں۔ تفصیل سے پڑھیے
عظیم تر اسرائیل یا پھر گریٹر اسرائیل کے جملے سے تو دنیا آشنا ہے، لیکن اس بارے میں شاید اکثریت اس بات سے آشنا نہیں ہے کہ آخر یہ گریٹر اسرائیل کیا ہے؟ گریٹر اسرائیل کہاں سے شروع ہے او ر کہاں پر ختم ، شاید کوئی نہیں جانتا لیکن دنیا کے با شعور اور سیاست دان اور حکومت دان اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ آخر یہ گریٹر اسرائیل کا ماجرا کیا ہے؟اور اس کے پیچھے کیا منطق کارفرما ہے۔تفصیل سے پڑھیے
جلدی جلدی میں بھی کتابیں سمیٹ کر باہر کی طرف چل دیتا. کہنے کو تو اسے دروازہ ہی کہتے تھے مگر وہ جگہ جگہ سے پھٹا ایک کپڑے کا ٹکرا تھا جو ایک طرف کیل کے ساتھ اور ایک طرف اینٹ کے کونے سے اٹکایا گیا تھا. میں بھاگتا ہوا باہر نکلتا اور ادھر ادھر دیکھنے لگتا. کبھی تو ساتھی انتظار کرتے مل جاتے اور کبھی دور جاتے نظر آتے. میں بھاگ کر ان میں شامل ہو جاتا. کب تک کوئی انتظار کرتا ہے اور جب آگے ڈنڈا انتظار کر رہا ہو لیٹ آنے پر. ویسے بھی جو وقت پر تیار ہوا ہے وہ دیر سے آنے والے کا انتظار کیوں کرے. تفصیل سے پڑھیے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ہم پنجاب میں رہتے تھے. کراچی جانا نہ ہونے کے برابر تھا. کوئی رہتا جو نہ تھا وہاں. کتابوں میں سمندر کے متعلق پڑھتے تھے تو ایک تصویر سی بن جاتی تھی اور پھر روندی صورت میں آ کر یہ تصویر بکھر جاتی تھی. بابا کو ایک تو چھٹی نہ ملتی تھی اور پھر اگر رہنے کی جگہ بھی نہ ہو تو اتنے ڈھیر سارے بچوں کو لے کر اتنی دور کون جاے.اتنے پیسے کہاں سے آئیں. ابا تو شائد ہماری باتوں میں آ جاتے- تفصیل سے پڑھیے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
کوئی زیادہ دور کی بات تو نہیں ہے مگر جتنی تبدیلی آ گئی ہے. مجھے آج بات کرتے ایسے ہی لگ رہا ہے کہ پریوں کی وہ کہانی جو نانیاں دادیاں سنایا کرتی تھیں میرے زمانے کی بات ہی نہیں. کسی ایسے زمانے کی بات ہے جو ہم سے بہت پہلے کا تھا. ہمارے تو کوئی نانی دادی تھی نہیں، ہاں جب کہ میں چھوٹا تھا اور آتش جوان.ہماری اماں ہم کو خود کے قصے سناتی تھی. انڈیا سے وہ لوگ کیسے آے اور راستے میں کیا کیا ان کو بھگتنا پڑا. ہم صبح سے ہی رات کا انتظار کرتے کہ آگے کیا ہوا ہو گا. اب پتا پڑتا ہے کہ جہاں وہ جو بھی بتاتی ہم یقین کر لیتے. سبق بھی ہوتا اس میں اور آفاقی باتیں بھی. تصور کرتے کرتے ہم خوابوں کی دنیا میں چلے جاتے. تفصیل سے پڑھیے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ہم جو ایسے ہی انگڑائی لیتے لیتے بستر پر اٹھ بیٹھتے ہیں. کچھ انگڑائیاں لیتے ہیں اور پھر بستر سے اتر جاتے ہیں، کوئی چائے کی طرف بھاگتا ہے کوئی لسی کی طرف. چند گھونٹ گلے میں ُانڈیل کے، جیسے کہ ہوش آنے لگتا ہے. کوئی فکر تھوڑا ہی نہ ہے کہ نماز نکل گئی. یہ کوئی نئی بات تھوڑا ہی نا ہے جو آج ادھر دھیان جاۓ. ابھی تو بس یہ معلوم ہے کہ رات دیر ہو گئی تھی اور ابھی تک تھکان ہے. تفصیل سے پڑھیے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
کچھ بھی لکھنے سے پہلے میں مالک ِ کائنات، خدائے برحق و لایقِ عبادت، اللہ عزوجل کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردُود سے جو ازل سے ابد تک میرے جدِّامجد اور میرا کھلادُشمن ٹھہرا۔ پانچ اُنگلیاں برابر نہیں ہوتیں لیکن پاکستان کی اکثریت(حکمران اور عوام) ایک ہی کشتی پر سوار ہیں جو تُندوتیز موجوں میں گھری ہوئی ہے۔ گویا کشتی پہ سوار رہنا ہے ہی باعث ہلاکت اور کشتی سے راہِ فرار اختیار کرنے کا مطلب دردناک موت۔ بہتوں نے کشتی کو پار لگانے کی کوشش کی لیکن نتیجہ بے سُود۔ ایسے حالات میں کس کو پُکارا جائے؟  تفصیل سے پڑھیے
اگر آپ کسی کی گرل فرینڈ ہیں تو آپ خوش قسمت ہیں اور اگر نہیں تو پھر وہ خوش قسمت ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ گرل فرینڈ بنانے کے بڑے فائدے ہیں۔ بندہ بے شک ساری زندگی گھر میں کدو گوشت - کھاتا رہے لیکن جیسے ہی اس کی کوئی گرل فرینڈ بنتی ہے،تفصیل سے پڑھیے
ایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا ، طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے ،  تفصیل سے پڑھیے
پاگل آنکھوں والی لڑکی 
اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو
تھک جاؤ گی
کانچ سے نازک خواب تمہارے
ٹوٹ گئے تو پچھتاؤ گی
تم کیا جانو
خواب__سفر کی دھوپ
خواب__ادھوری رات کی دوزخ
خواب__خیالوں کا پچھتاوا
خوابوں کا حاصل تنہائی
مہنگے خواب خریدنے ہوں تو
رشتے بھولنا پڑتے ہیں
خوابوں کے اوٹ سراب نہ دیکھو
پیاس نہ دیکھو
اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو
تھک جاؤ گی................                                    تفصیل سے پڑھیے

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ گئے تھے۔ پاکستان میں پہلی بار وہ مشین منگوائ گئ جس کی مدد سے کسی انسان سے جھوٹ سچ کا پتا چلایا جاسکتا تھا۔
سامنے کرسی پر علی بیٹھا تھا اس کی آنکھوں کے سامنے "لینز" تھا، ہاتھوں میں بہت سی تاریں بیوست ہوچکی تھیں جو خون کے بہاءو کے مطابق دل کی دھڑکن کو جان سکیں گی ۔۔ تفصیل سے پڑھیے

اگر دیکھا جائے تو خوف ایک فطری احساس ہے۔ خوف اگر حد سے بڑھ جائے تو شخصیت میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
انسان کسی چیز سے نہیں ڈرتا بلکہ وہ اپنی لاشعوری خواہشوں سے خوف محسوس کرتا ہے۔ وہ جن خواہشوں یا ان کے خوف سے مقابلہ نہیں کر سکتا، ان کو خارجی دنیا کی کسی بھی چیز میں منتقل کر کے اس سے ڈرنے لگتا ہے۔ بعض اوقات جن چیزوں سے خوف آتا ہے اور ذہن میں وہ بار بار دہرائی جاتی ہیں تو وہ حقیقت بھی بن جاتی ہیں۔ تفصیل سے پڑھیے

بوائے فرینڈز بڑے اعلیٰ قسم کے لوگ ہوتے ہیں یہ جس لڑکی سے سچے پیار کی قسمیں کھاتے ہیں شام کو اسی کی تصویر موبائل پر دوستوں کو دکھا کر فخر سے کہتے ہیں " بچی چیک کر " انہوں نے ہر لڑکی کا نام گڑیا رکھا ہوتا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی جذباتی کفیت میں کسی اور لڑکی کا نام منہ سے نہ نکل جائے ۔ تفصیل سے پڑھیے
قومی سلامتی کے مسائل کا احاطہ کرنے سے پہلے ہمیں قومی طاقت (National Power) کے حقیقی سرچشموں کا جائزہ لینا ہو گا۔ ہم جب اِن سرچشموں کی دیکھ بھال نہیں کرتے ٗ تو بتدریج ضعف اور اضحلال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہر ملک اپنے مخصوص حالات اور دستیاب وسائل کے مطابق اپنا وجود قائم رکھتا اور عالمی برادری میں ایک مقام بنانے کے لیے تگ و دو کرتا رہتا ہے۔ عام طور پر قومی طاقت کے بڑے بڑے عناصر آبادی کا حجم ٗ رقبے کی وسعت ٗ صحت مند ٗ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افرادی قوت ٗ جغرافیائی محلِ وقوع ٗ مضبوط معیشت ٗ عسکری قوت ٗ آئیڈیالوجی ٗ سیاسی استحکام اور قابلِ اعتماد قانونی اور عدالتی نظام سرِفہرست ہیں۔   تفصیل سے پڑھیے
1965ءکی جنگ میں پاکستان کی برتری کو ایک معجزہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسلحہ اور افرادی قوت کی شدید کمی کے باوجود اپنے سے تین گنا بڑے اور بعض مواقع پر دس گنا دشمن کو شکست فاش سے دوچار کر نا اگرچہ اعلیٰ فوجی حکمت عملی کہی جا سکتی ہے، لیکن اس جنگ میں عوام نے جس یکجہتی اور ولولے کا ثبوت دے کر مادر وطن کی حفاظت کی وہ آج کے حالات میں دیکھیں، تو وہ بھی ایک معجزہ ہی تھا۔ اگر ہماری فوج اور عوام میں اتحاد اور جذبوں کا فقدان ہوتا، تو دشمن حقیقت میں لاہور جم خانہ میں جام فتح پینے میں کامیاب ہو سکتا تھا،لیکن اس کے تمام مذموم ارادے اور منصوبے ہماری جری فوج کے انمٹ لازوال جذبوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔   تفصیل سے پڑھیے
ہر چھوٹے بڑے سرکاری ملازم کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے کے Entitlementمطابق رہائش ملے۔ چودھری غلام رسول جب نان گزیٹڈ افسر تھے، تو گلی کے اس آخری ڈی ٹائپ کوارٹر میں رہائش پذیر ہوئے لیکن اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر ترقی پانے کے باوجود اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔ دراصل وہ یہاں اپنی دیہاتی زندگی کا لطف اُٹھا رہے تھے۔ تین اطراف سے کھلے کوارٹر کے اردگرد وسیع گرین بیلٹ کے بڑے حصے پر انہوں نے باغیچہ لگا رکھا تھا جس میں پھول اور سبزیاں کاشت کیا کرتے۔ دیسی مرغیوں کے علاوہ دو بھینسیں بھی پال رکھی تھیں۔ نام ہی کے چودھری تھے‘ آبائی زمین کچھ زیادہ نہیں تھی۔    تفصیل سے پڑھیے
خوبصورت زندگی کا دوسرا نام اعتدال ہے۔ میرے پاس بہت سے مریض آتے ہیں، ایک دو ماہ میں سارا وزن ختم کرنے کا ٹارگٹ لے کر۔ 
میری طرف سے ایک معذرت ہے میں آپ کی زندگی سنوارنے میں مدد دے سکتی ہوں، لیکن صحت بگاڑنے میں نہیں۔
مطلوبہ صحت و وزن پانے کے سفر میں باقاعدگی، صبر اور پُراُمید رہنا آپ کو کامیابی دلاتا ہے۔ آپ کے لیے وزن کم کرنے کے دوران جو چیزیں منع ہیں یاد رکھیے وہ آیندہ بھی اتنی ہی مضر ہوں گی جتنی کہ وزن کم کرنےWeight reduction کرنے کے دوران۔اِس لیے آیندہ بھی آپ ان چیزوں کے استعمال سے بچیںگے۔ ورزش صرف چند ماہ نہیں مستقل کرتے رہیں۔بہتر ہے صحت مند طرز زندگی کے لیے سارے خاندان کو سیر کی عادت ڈالیں۔  تفصیل سے پڑھیے

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
انھوں نے سیتھ ہیوبرڈ کو اس جگہ تلاش کر لیا جہاں اس نے وعدہ کیا تھا اگرچہ اس کی حالت نہایت غیرمتوقع تھی۔ وہ زمین سے چھے فٹ کی بلندی پر رسے کے سرے پر لٹکا ہوا تھا۔ سامنے سے بارش آ رہی تھی اس لیے جب انھوں نے سیتھ کو دیکھا وہ بھیگا ہوا تھا۔ یہ کوئی اہم بات نہ تھی۔ کوئی کہہ سکتا تھا کہ اس کے جوتوں پر کیچڑ نہیں اور نیچے زمین پر بھی کوئی نشان نہیں،اس لیے جب بارش شروع ہوئی تو وہ غالباً لٹکا ہوا تھا اور مر چکا تھا۔ کیا یہ بات اہم تھی؟ آخر میں اس کی بھی کوئی اہمیت ثابت نہ ہوئی۔    تفصیل سے پڑھیے
شادی  وہ پھل ہے جسے کھانے والا بھی پچھتاتا ہے اور نہ کھانے والا بھی پچھتاتا ہے۔ لیکن بھلائی اسی میں ہے کہ کھا کر ہی پچھتایا جائے۔ منگنی ہوتے ہی انسان کا دماغ خواہ مخواہ خراب ہو جاتا ہے ایسے لگتا ہے جیسے منگنی نہ ہوئی ہو بلکہ امریکا کی صدارت مل گئی ہو حالانکہ ساری دنیا کو علم ہے کہ امریکی صدر کو بھی اپنی قوم سے معافی مانگنا پڑی۔ تفصیل سے پڑھیے
بسم اللہ الرحمن الرحیم آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح اکٹھا لکھنے سے انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔ تفصیل سے پڑھیے
عجیب سی بات ابھی دماغ میں ائی ، اور آتی ہی جا رہی ہے . ویسے کوئی منطق ہے تو نہیں مگر آ رہی ہے تو اس پر بات بھی کر لیتے ہیں اور کھول بھی لیتے ہیں . کوئی گھمبیر سمسیہ تو ہے نہیں. الف سے الله ہے، الف سے اسلام، الف سے احمدص، الف سے انسان. القران میں پہلی سورہ کا پہلا حرف الف سے الحمد. کیا اس پہ سب کا اتفاق ہے؟ ہو سکتا ہے، نہیں بھی ہو سکتا. الف کو لوگوں نے سوچا بھی بہت، اس پہ لکھا بھی بہت. مسلمانوں نے ہی نہیں سب نے بہت بہت دھیان اس حرف پر لگایا. اس کی کیا وجہ ہے. کسی اور حرف پر اتنی توجہ نہیں دی گئی. علما ہوں یا صوفیا سب نے اس حرف کو معمہ بتا دیا ہے. جو اٹھتا ہے، اور ہی ماورائی باتیں کرنے لگتا ہے.  تفصیل سے پڑھیے
سیاہ کار جمہوریت لاچار دستور ، بدکردار جمہوریت ذلیل و خوار جمہور ، بے کار سیاست لوٹ مار منشور یہ ہے پاکستان میں چونسٹھ برسوں کا منظر نامہ اور وجہ ہے قبضہ مافیا ۔
ہم نے اکثر ٹی وی پر ایک بلڈوزر کو نیم تعمیر شدہ عمارتوں ، نام نہاد دیواروں کو ڈھاتے دیکھا ہوگا ۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ کچھ کمزور خواتین اور بچے واویلا کرتے ہیں ۔  تفصیل سے پڑھیے

دنیا الله نے میرے لئے بنائی ہے. اتنی رنگین بنائی کہ بچ نکلنا مشکل نہیں نا ممکن ہے. الله پاک خود ہی فرماتا ہے کہ میری دنیا کے کناروں سے نکل سکو تو نکل کے دکھاؤ. اسی لئے شائد میں نے تو تہیہ کر لیا ہے نکل کے جانا ہی نہیں ہے. جب میں نے چھوڑ کر جانا ہی نہیں تو مجھے پوری تیاری کرنی ہے کہ ایسا ہو جو کے مستقل ہو. بھرپور ہو. میں بڑا سا گهر بناؤں گا. بڑی گاڑی. زیادہ سارے پیسے سب میرے لئے ہی تو ہیں. جانا جو نہیں ہے. ہمیش کی زندگی ہے. میں یہ کہتا تو نہیں ہوں مگر کہ میرے کرتوت تو یہی بیان کرتے ہیں. "اساں مرنا ناہی، گور پیا کوئی ہور .  تفصیل سے پڑھیے
اپنی اصلاح دنیا کا مشکل ترین کام ہےاگر دوسروں کو کسی کام سے روکنا چاہتے ہو تو اسکی ابتداء اپنے آپ سے کرو۔............ ان باتوں کو سمجھنے کے لئے میں آپکو ایک کہانی سناتا ہوں.....شاید کہ اتر جائے آپکے دل میں بات میری...........؟؟؟
كسان كى بيوى نے جو مكهن كسان كو تيار كر كے ديا تها وه اسے ليكر فروخت كرنے كيلئے اپنے گاؤں سے شہر كى طرف روانہ ہو گيا،    تفصیل سے پڑھیے

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہم نے بہت بار سنا بھی ہے اور اس جملہ کو پڑھتے بھی ہیں کہ "بیٹا اللہ کی نعمت اور بیٹی اللہ کی رحمت ہوتی ہے " پہلا جملہ تو سچ ثابت ہوتا ہے لیکن دوسرا جملہ شائد اتنا سچا نہیں لگتا کیونکہ بعض طبقہ کے نزدیک آج بھی بیٹی اللہ کی رحمت نہیں بلکہ زحمت سمجھی جاتی ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے-  تفصیل سے پڑھیے

کاکروچوں کے پروں میں سیلولوز جیسا ایک مادّہ بھی پایا جاتا ہے جو دواؤں اور کاسمیٹکس کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ 
 چین میں کاکروچ  پالنے  کا کاروبار ( کاکروچ فارمنگ) تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔
43 سالہ وینگ فیومنگ چین میں (  اور غالباً  دنیا بھر میں) کاکروچوں کا سب سے بڑابیوپاری ہے۔ وینگ نے چھے فارم ان حشرات کے لیے مختص کر رکھے  ہیں جن میں ایک اندازے کے مطابق  ایک کروڑ کاکروچ موجود ہیں۔ تفصیل سے پڑھیے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
علامہ اقبالؒ ایک دینی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اقبال کے والد عبادت گزار اورصوفی منش آدمی تھے۔ ان پر تصوف کا رنگ غالب تھا۔ اقبال بچپن ہی سے گھر میں صوفیانہ گفتگو سنتے رہے تھے۔ اس لیے ان کا اپنا میلان بھی تصوف کی طرف تھا۔وہ اپنی اس خاندانی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے بیٹے جاوید اقبال سے یوں مخاطب ہوتے ہیں:
جس گھر کا مگر چراغ تو ہے
ہے اس کا مذاق عارفانہ-   تفصیل سے پڑھیے

اے اللہ میں تیری بے حد شکر گزار ہوں کہ تُونے مجھے یہ توفیق بخشی کہ میں تیرے سامنے تیرے لیے اپنی محبتوں، چاہتوں، آرزئووں، تمنائوں کا اظہار کرسکوں۔ اے خدا تو سب سے بلند، سب سے عالی شان بہت مہربان اور رحیم ہے اور سب تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔ اے اللہ، میرے دل میں تیرے لیے بہت کچھ ہے، مگر جو کچھ بھی ہے وہ تیرے شایانِ شان نہیں۔ اے خدا میں چاہتی ہوں کہ میں تجھ سے وہ پیار کروں جس کے تو لائق ہے، میں تیری ذات میں گم ہوجانا چاہتی ہوں کہ خود کو بھول جائوں اور تجھے یادرکھوں۔    تفصیل سے پڑھیے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
چندروز قبل نظروں سے ایک رپورٹ گزری۔ اس میں درج تھا کہ اسلام آباد میں 20ایکٹر کے رقبے پر پھیلے ایوان صدر کے سالانہ اخراجات چالیس تا پچاس کروڑ روپے ہیں۔ ظاہر ہے، یہ رقم قومی خزانے سے ادا ہوتی ہے جو قوم کی امانت ہے۔
رپورٹ کی رو سے صدر کے پروٹوکول پر 46 گاڑیاں مامور ہیں۔ نیز ایوان صدر کا روزانہ خرچ تقریباً تین لاکھ روپے ہے۔ اس ادارے پر سالانہ جتنا خرچ اٹھتا ہے، اس سے ہر سال ڈیڑھ لاکھ بچے تعلیم پا سکتے ہیں۔ نیز ہر سال 250 بستروں پر مشتمل ایک نیا ہسپتال کھل سکتا ہے۔   تفصیل سے پڑھیے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت ایسی غیر معمولی کشش رکھتی ہے کہ بے تعصب غیر مسلم بھی آپ سے متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکتے۔سکھ شاعرر کنور مہندر سنگھ بیدی سحر نے کہا:

عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں -    تفصیل سے پڑھیے

اب تو یوں ہے کہ یہی رنگ تماشا ٹھہرے …………….
کوئی کہتا ہے کہ غریب طبقہ کو بچے پیدا کرنے کے علاوہ کوئی کام ہے ہی نہیں!صحیح ہے، نہیں ہے کام، ہم نے کوئی کام ان کے لئے چھوڑا ہی کہاں ہے، نفری بڑھانے اور خود کی قسمت پہ رونے کے سوا، ان کو کوئی یہ تو بتائے کہ زندگی کیا ہے، زندہ رہنے کا مطلب کیا ہے، اور زندگی سے کیا چاہنا چاہئے. زندگی چولہا چوکا کا نام ہی نہیں ہے، نہ ہی اس کا نام ہے کہ خود کو کمی کمین جان کر آرام سے ہر ظلم اور دکھ برداشت کیا جاے.   تفصیل سے پڑھیے

زندگی کا سفر شروع ہوتا تو سادہ سا ہی ہے . بس ماں کا پتہ ہوتا ہے، نیند کا اور بھوک کا، اور کچھ کا نہیں. مگر جیسے جیسے عمر آگے نکلتی جاتی ہے، دنیا کی سمجھ آتی جاتی ہے. ویسے نہیں آتی جیسے کہ آنی چاہئے، مگر کہ ویسے جیسے کہ دنیا دکھا رہی ہے یا میں دیکھنا چاہتا ہوں. چالاکی اور آگاہی اور پھنساونے اور خالی، خیالی پلاؤ، کہیں ٹھرنے ہی نہیں دیتے. معصومیت ایسے ُاڑ جاتی ہے- تفصیل سے پڑھیے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
پاکستان مذہب کے ٹھیکیداروں کی آماجگاہ ہے ، خراج تحسین پیش کرنا ہوگا جناب جنرل ضیا الحق صاحب کو جنہوں نے اس ٹھیکیداری کی داغ بیل رکھی جس کے بعد آنے والوں نے اس ٹھیکیداری کو اپنا اولین مقصد سمجھتے ہوئے جاری رکھا ۔دنیا بھر میں کوئی بھی واقعہ رونما ہو مذہبی ٹھیکیدار اپنا ردعمل ظاہر کرنے میں معمولی سی بھی تاخیر برداشت نہیں کرتے۔ تفصیل سے پڑھیے
خاموشی کا مطلب خاموش بھی نہیں جانتا اور تو کوئی کیا ہی جانے گا. جو کسی کی خاموشی نہیں پڑھ سکتا وہ اس کی یا کسی کی گفتگو سے ایسے نہیں مستفید ہو سکتا جیسے کے ہونے کا حق ہے . تو پہلے خاموشی کو ہی لے لیتے ہیں . خاموشی چُپ ہونا نہیں ہے بلکہ خود کے ساتھ ہونا ہے . خود آگاہی کی راہ پر گامزن . ایک آتا ہے اس کے آنے سے کئی لمحہ پہلے اس کے آنے کا معلوم پڑجانا کسی کے جانے کے بعد دیر تک اس کے ہونے کو محسوس کرنا کیا ہے؟اس کی خاموشیوں سے آپ کی خاموشیوں کی ملاقات. آج اس کو کئی نام دیے جا رہے ہیں، ماورائی قوت، سائنسی تجربات، الگ الگ سے نام ، مگر کیا ہے، فطری سی بات ہے، ٹھہراؤ ہو گا تو خود سے ملاقات بھی ہو گی ۔   تفصیل سے پڑھیے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
طالبان اور القاعدہ کو "مردان حُر" کا خطاب دینے والے اور بن لادن کو مسلمانوں کا ہیرو قرار دینے والے یہی پاکستانی صحافی تھے
دو پڑوسنیں آپس میں لڑرہی تھیں۔ آستینیں چڑھی ہوئی تھیں، منہہ سے جھاگ نکل رہا تھا اور ہاتھ نچا نچا کے ایک دوسرے کو کوسنے دے رہی تھیں۔ "ارے میں کوئی اندھی بہری نہیں۔ مجھے پتہ ہے کہ دودھ والے کے ساتھ تمھارا کیا چکر چل رہا ہے"؟
ایک نے دوسرے کے راز سے پردہ اُٹھاتے ہوئے کہا۔ "تو تم کونسی دودھ کی دُھلی ہو۔ سبزی والا تمھیں روز سبزیاں ایسے ہی مفت میں تو نہیں دیتا"    تفصیل سے پڑھیے
حضرت  ابو دردؓ اسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اہلِ جہنم پر بھوک مسلط کر دی جائے گی اور وہ (بھوک کی شدت) اس عذاب کے برابر ہوگی جس میں وہ مبتلا ہوں گے۔ وہ مدد مانگیں گے، تو انھیں سوکھی ہوئی خاردار جھاڑ (جیسی چیز) دی جائے گی جس سے نہ ان میں فربہی پیدا ہوگی نہ بھوک مٹے گی۔ پھروہ کھانا مانگیں گے، تو انھیں حلق میں اٹکنے والا کھانا دیا جائے گا۔ تب انھیں یاد آئے گا کہ وہ دُنیا میں (حلق میں اٹکی ہوئی چیز) پینے کی چیز(پیٹ میں) میں اتارا کرتے تھے۔      تفصیل سے پڑھیے
میونخ  کے بارے میں سمرسٹ ماہم نے کہا تھا کہ یہ وہ شہر ہے جہاں سانس لیں تو ادب آپ کی رُوح میں سما جاتا ہے۔ یہی حال اُن دنوں منٹگمری کا تھا جسے بعد میں ساہیوال کا نام دیا گیا۔ شاہد سلیم جعفری، سجاد میر، فہیم جوزی، قیوم صبا، حفیظ الرحمن، پیر جی اقبال نقوی، منظور اعجاز، امین اویس، ریاض پوسوال، راقم الحروف اور سینئرز میں علامہ عطاء اللہ جنوں، عظامی صاحب، اکرم خاں قمر، گوہر ہوشیار پوری، جعفر شیرازی، منیر نیازی، حکیم محمود رضوی، محمود علی محمود، مراتب اختر، ناصر شہزاد، اشرف قدسی، بشیر احمد بشیر جنھوں نے کہا تھا:- تفصیل سے پڑھیے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
اُردو  شاعری کے سر سے ایک ولی کا سایہ اُٹھ گیا۔ مجید امجد کی علالت اور کمزور صحت سے اچھی طرح واقف ہونے کے باوجود یقین نہ آتا تھا کہ موت ان پر اتنی آسانی سے فتح پا لے گی۔ میرا اَب بھی ایمان ہے مجید امجد موت کے ہاتھوں شکست نہیں کھاسکتے۔ البتہ گزشتہ چار پانچ ماہ سے کچھ ایسی باتیں ضرور ہوئیں کہ گمان گزرتا تھا کہ اب مجید امجد اور ہماری ظاہر بین نگاہوں کے درمیان حجاب پڑنے والا ہے، وہ ہم سے بہت دُور، بہت دُور جانے والے ہیں، اتنی دُور کہ ہمیں ان ہی کی زبان میں کہنا پڑے:-    تفصیل سے پڑھیے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
میں  نے اُس کو دیکھا ہے اجلی اجلی سڑکوں پراِک گرد بھری حیرانی میں کون ہے جو بَل کھاتے ضمیروں کے پرُپیچ دھندلکوں میں  رُوحوں کے عفریت کدوں کے زہر اندوز محلکوں میں  لے آیا ہے یوں بِن پوچھے، اپنے آپ  عینک کے برفیلے شیشوں سے چھنتی نظروں کی چاپ یہ سطور مجید امجد کی ایک نظم سے اقتباس کی گئی ہیں جو انھوں نے منٹو پر لکھی ہے۔ میں نے چوں کہ منٹو کو نہیں دیکھا اور مجید امجد کو دیکھا ہے اس لیے ’گرد بھری حیرانی‘، ’ضمیروں کے پر پیچ دھندلکوں‘ اور ’عینک کے برفیلے شیشوں سے چھنتی نظروں کی چاپ ’کا ذکر آتا ہے تو میرے ذہن میں معاً ایک کہنہ سال عینک کے سفید شیشوں کے پسِ منظر میں مجید امجد کی اپنی شبیہ اُبھر آتی ہے جس میں دُور دیس سے آئے ہوئے ایک اجنبی ہنس کی سی خوفزدہ معصومیت کا تاثّر ملتا تھا۔    تفصیل سے پڑھیے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
تو  بات محض اتنی سی ہے کہ جب بلندو حقّہ گڑگڑاتے اس کی ’’نے‘‘ کو باری پہ آگے کرتا سکّہ برابر بلغم چٹاخ سے نیچے تھوکتا اور دائیں بائیں کندھوں پہ جھولتے پوتے پوتیوں کو ایک ہی جھلارے میں نیچے گراتے ہوئے کہتا۔
’’جُھک گئے سو لادے گئے‘‘  تو حقّے پہ دائرہ باندھے محلے ٹولے کے بے مصرف بڈھے اُسے بلندو کا تکیہ کلام جان کر سر سے گزر جانے دیتے اور چوکے  ی بانہوں میں نئے سِرے سے اُپلے سلگاتی ’’بنتو‘‘ نظریں ہی نہیں بدن تک چرا کے یوں جھک جاتی جیسے کِسی نادیدہ بوجھ تلے دبی جاتی ہو۔  اور اگر ایسے میں کبھی دونوں کی نگاہیں چار ہوتیں، تو بنتو کی آنکھوں میں لرزتے اندیشے بلندو کی نظروں میں ڈولتے دلاسوں سے پسپا ہو ہوجاتے۔ بستی والے کہتے تھے۔ بلندو نے بنتو کو گود کے بچے کی طرح پالا ہے توکچھ نرالا نہیں کیا۔ آخر اس نے بھی تو بلندو کو اس وقت ہرا بھرا کر دیا جب اس کے پٹوں میں سفیدی چمکنے لگی تھی اور بھوسلی بھنویں آنکھوں پہ جھک آئی تھیں۔    تفصیل سے پڑھیے
نیچے  استقبالیہ پہ بیٹھے شخص نے بتایا کہ میڈم سیمی کی کلاس اوپر کی منزل میں ہوتی ہے۔ ناہید، زری کا ہاتھ تھامے کلچرل انسٹیٹیوٹ کی گول، پرانی طرز کی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔  یہ پارسی ڈانس ٹیچر کوئی معمولی ڈانس ٹیچر نہیں تھی۔ اپنے زمانے کی مشہور فلمی رقّاصہ رہ چکی تھی اور بہت غضب کاکلاسیکی ناچ جانتی تھی۔ ابھی کچھ ہی روز پہلے ٹی وی پہ ایک پرانی فلم چل رہی تھی جس میں میڈم سیمی کا رقص موجود تھا مگر سنسر کی وجہ سے دکھایا نہ جا سکا۔ اس کمی کو ناظرین نے بہت شدت سے محسوس کیا تھا۔     تفصیل سے پڑھیے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
میں نے کسی کتاب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے منسوب ایک واقعہ پڑھا‘ یہ واقعہ غیر مصدقہ ہے مگر یہ اس کے باوجود حیران کن بھی ہے اور دماغ کو گرفت میں بھی لے لیتا ہے‘
لکھنے والے نے لکھا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا ’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگے تو کیا مانگے؟‘‘
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ صحت‘‘۔
میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘تفصیل سے پڑھیے

چارلی چپلن کا شو دیکھ کر لوگ بہت زیادہ ہنستے تھے، مگر خود چارلی چپلن اندر سے غمگین رہتا تھا، تمام مادّی ساز و سامان کے باوجود اُسکو اپنی زندگی میں خوشی حاصل نہیں ہوئی۔
کہا جاتا ہے کہ ایک بار ایک نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس ایک شخص آیا، اُس نے کہا کہ میں بہت زیادہ افسُردہ رہتا ہوں، آپ مُجھے کوئ ایسی تدبیر بتائیے کہ میں خوش رہ سکُوں، ڈاکٹر نے اُس سے کہا کہ تُم چارلی چپلن کا شو دیکھا کرو،
آنے والے نے کہا کہ میں ہی تو چارلی چپلن ہوں!، میں دوسروں کو ھنساتا ھوں لیکن میرا دِل اندر سے روتا ہے۔
چارلی چپلن ایک کامیڈین تھا، مگر جب موت کا وقت قریب آیا تو وہ اپنی نفسیات کے اعتبار سے ایک ٹریجیڈین بن چُکا تھا، وہ شخص جو دوسروں کو ھنساتا تھا،
اُس نے اپنی حالت پر ایک بار ان الفاظ میں تبصرہ کیا کہ ' میں بارش میں چلنا پسند کرتا ہوں تاکہ کوئی میرے بہتے ہوئے آنسوؤں کو نہ دیکھ سکے:
‘I always like to walk in the rain, so that no one can see me crying’
یہی اس دُنیا میں ہر عورت اور ہر مرد کی کہانی ہے، لوگ مصنوعی طور پر ھنستے ہیں لیکن اندر سے انہیں کوئی خوشی نہیں حاصل ہوتی، لوگ مصنوعی طور پر اپنی کامیابی کے قصّے بیان کرتے ہیں، لیکن اندر سے وہ شِکست خوردہ نفسیات میں مبتلا رہتے ہیں،
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دُنیا میں کسی کے لئے بھی خوشی اور راحت نہیں،
""خوشی اور راحت صرف آخرت میں ہے""، جو موت کے بعد آنے والے دورِ حیات میں صرف خُدا پرست عورتوں اور مردوں کو حاصل ہوگی، بنانے والے نے موجودہ دنیا کو عمل کے لئے بنایا ہے، یہاں پر صرف عمل برائے مُسرّت ممکن ہے، نہ کہ خود مُسرّت کا حُصول
کنیڈا سے تربیت مکمل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹے تو کسی اہم کام کی تکمیل کے لئے انہیں خصوصی طور پر لاہور بھیجا گیا۔ ان کے پاس بے حد خفیہ دستاویزات تھیں جو انہیں لاہور ہیڈکوارٹر پہنچانی تھیں۔     تفصیل سے پڑھیے
'معلومات جو دنیا کی سیر کرائے'
25 رجــب 1435 ہـجـری
25 مــئی 2014 بروز اتـــوار
---
تاریک کے جھروکوں میں جھانکنے کاموقع دینے والی دلچسپ داستان
----
سال کے ۳۶۵ دن ۱۲؍ مہینے رکھتے ہیں۔ ان میں کوئی ۳۰، کوئی ۳۱ اور کوئی ۲۸یا ۲۹ دن کا ہوتا ہے۔
ان مہینوں کے نام کس طرح رکھے گئے، یہ داستان دلچسپ پس منظر رکھتی ہے۔    تفصیل سے پڑھیے
اکاسی ، بیاسی ، تراسی ، چوراسی
پچاسی ، چھاسی ، ستاسی ، اٹھاسی
ریاضی پڑھانے کی کوشش نہ کرنا
نہ بابا یہ میری سمجھ میں نہ آسی
اگر شوق سے علم حاصل کرے گا
خدا تجھ کو بندے کا پتر بناسی
اب اک دوسرے کو نصیحت نہ کرئیے
نہ تُو میرا ماما، نہ میں تیری ماسی
زباں خامشی کی ہی کام آگئی ہے
نہ سننا پڑا تھا نہ دسنا پیاسی
وزارت میں اس کو فلو ہو گیا تو
وہ سرکاری خرچے پہ امریکہ جاسی
گرانی اگر یونہی بڑھتی رہے گی
تو خود سوچ پھر قوم کھسماں تو کھاسی؟
اگر تو گیا کوچہء دلبراں میں
تو دلبر کے "ویروں" سے پاسے پھنیاسی
یہی سوچ کر میں بھی سونے لگی ہوں
۔"خراٹا" میرا قوم کو اب جگاسی
چلو " ناز " مقطع ہی اب عرض کردو
غزل سننے والوں کی ہووے خلاصی
"
"ایک  شـــعر
اس کی نگاہ میں اتنا اسار تھا ، 
ایک نظر میں گرا دیا سموسہ میرا !
معراج کے دو حصےہیں، پہلے حصے کو اسراء اور دوسرے حصے کو معراج کہا جاتا ہے۔ لیکن عرفِ عام میں دونوں ہی کو معراج سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اسراء کا ذکر سورة بنی اسرئیل کے آغاز میں ہے، یعنی مسجدِ حرام سے مسجد اقصٰی (بیت المقدس ) تک کا سفر، ارشادِ باری تعالٰی ہے۔   تفصیل سے پڑھیے

حرف کی کیا حقیقت ہے اور الفاظ کی کیا. جملوں کی کیا حقیت اور معنی ہیں. حقیقت کی کیا حقیقت ہے. کوئی شے کچھ معنی نہیں رکھتی جب تک اس میں معنی ڈالے نہ جائیں. لفظ مردہ رہتے ہیں. باتیں لاش. کہانیاں سرد خانوں میں پڑے لاوارث جسم. ہم نے لکھ لکھ کہ ڈھیر لگا دیے ہیں. کبھی تو مال کے لئے، کبھی نام کے لئے. کبھی لکھنے کے شوق کے لئے. سنوارنے کے لئے کب لکھا؟ کبھی نہیں. دل کو دماغ کو، وجود کو لگی ہو تب نا. مگر کہاں. درد کے مارے اور ہیں. لکھنے پڑھنے والے اور. لکھنے سے ویسے بھی کچھ نہیں ہونے والا بھائی. لفظ نہیں ناچیں گے. نا ہی کسی، تیرے میرے کا ہاتھ ہی پکڑیں گے.کہا نا " نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل"   تفصیل سے پڑھیے
مشرقوں اور مغربوں کا مالک خالق وہی ہے میں مجبور لاچار کہتا یہی ہوں کہ ................ وہی خدا ہے سمجھتا خود کو ہوں ،اور یہ میری خودی ہے میں بے خود بے سدھ کیوں نہ ہو گیا یہ سب تیرا کرم ہے الحاکم { اے حاکموں کے حاکم } دیکھنے والا تو خدا ہے ہر ساعت پہ نظر رکھے ہے مگر میں بھی ہوں نہ ہر انے جانے پہ نظر رکھنے والا کچھوے کو بھی اندے سے سٹکنے والے اچھے کو بھی گردن سے پکڑنے والے اک یہی کام میں نے بھی روا رکھا ہے -  تفصیل سے پڑھیے
بچپن، سے میرے رب نے میری آنکھ کھول دی دی گویا کہ میرے دل کو آواز بھی دی تھی میرا کہنا کہ الگ ہوں الگ رہنے دو کسی کو راس نہ آیا پر اب کہنے دو............... لرکھپں آیا لو میں حاضر تھا حضوری گا رنگ گویا غالب تھا کوئی کہے اکھڑ کوئی مغرور کہے کوئی خود سر کوئی مجذوب کہے جوانی سے ان آنکھو نے کیا کیا نہیں دیکھا دیکھا، دیکھا اور دیکھنے والے کو بھی دیکھا دیکھتے رہنے والے کو بھی محسوس کیا- تفصیل سے پڑھیے
زندگی کیسی بھی ہو ، کہیں سے بھی چلی ہو، آپ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوے ہوں. مٹی کے تیل کا چولہ استعمال کرتے. عام انسان ہوں یا بادشاہ ہوں. اپنے اپنے طریقے میں زندگی سب کو ایک سی ہی ملتی ہے. "جن کے رتبے ہیں سیوا ان کو سیوا مشکل ہے" لگتا تھا کسی نے صحیح کہا، جب ہم چھوٹے تھے اور آتش جوان تھا. مگر ہمارے تو نہ رتبے ہیں نہ ہی رقبے ہیں. جس سمت نظر اٹھاو کچھ سیدھا دکھائی نہیں دیتا ،سب ظلم میرے ساتھ ہی ہو رہا ہے، یہ آج کی عام سوچ ہے. یہ باہر دیکھنے والوں کی سوچ ہے. کیا کوئی اندر دیکھنے والوں کی بھی سوچ ہے؟  تفصیل سے پڑھیے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers