2000ء کی بات ہے، چودہ سالہ امریکی لڑکا ڈیوڈ ہولز کمپیوٹروں میں ازحد دلچسپی لینے لگا۔ دراصل ریاضی اس کا پسندیدہ مضمون تھا لہٰذا وہ خودبخود پیچیدہ ریاضیاتی مسئلے حل کرنے میں کمپیوٹر سے مدد لینے لگا۔ جلد ہی اسے احساس ہو گیا کہ یہ علم سکھانے والا بڑا طاقتور آلہ ہے۔ چناں چہ وہ کمپیوٹر پر من پسند اشیا کے تھری ڈی ڈیزائن بنانے لگا۔
لیکن رفتہ رفتہ اسے محسوس ہوا کہ کمپیوٹر کا دائرہ کار لامحدود نہیں… بلکہ بعض اوقات وہ کام میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس ضمن میں ڈیوڈ بتاتا ہے ’’میں مٹی سے چند منٹ میں کوئی شے تیار کر لیتا۔ لیکن وہ شے کمپیوٹر میں تخلیق کرتے اکثر گھنٹے لگ جاتے۔ اسی بنا پر میں سوچنے لگا کہ مسئلہ کیا ہے؟ کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں کس جگہ خرابی ہے؟‘‘
ڈیوڈ ہولز (David holz) سوچنے لگا کہ کمپیوٹر پر مٹی کی ورچوئل شے بنانے کا بہتر طریق کار ہونا چاہیے۔ غوروفکر سے اسے احساس ہوا کہ اگر کمپیوٹر مائوس و کی بورڈ کے بجائے صرف انگلیوں کے اشاروں سے چلایا جائے، تو یقینا کام تیزی سے ہو گا۔ یہ خیال چودہ سالہ ڈیوڈ کے ذہن سے چپک کر رہ گیا۔ تفصیل سے پڑھیے

اسکول کی تعلیم مکمل ہوئی، تو ڈیوڈ نے کالج اور پھر یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ وہ اطلاقی (اپلائیڈ) ریاضی میں پی ایچ ڈی کرنا چاہتا تھا۔ تاہم اکثر اسے یہی خیال آتا… ایسا کوئی آلہ ایجاد کیا جائے جس کی مدد سے اشاروں کے ذریعے کمپیوٹر چلایا جا سکے۔
آخر 2010ء میں یہ تصور ڈیوڈ پر اتنا حاوی ہوا کہ اس نے تعلیم ادھوری چھوڑی اور لیپ موشن (Leap Motion) نامی کمپنی کھول لی۔ وہ پھر ایسا آلہ بنانے پر تحقیق و تجربے کرنے لگا جو انگلیوں یا کسی شے (مثلاً قلم) کے اشارے سمجھ کر کمپیوٹر میں کام کروا سکے۔
لیپ موشن کی ایجاد
آخر 2012ء میں ڈیوڈ اوراس کے ساتھیوں کی محنت رنگ لائی اور وہ ایسا سینسری (Sensory) آلہ ایجاد کرنے میں کامیاب رہے جو انگلیوں یا قلم کی انتہائی معمولی حرکت (0.01 ملی میٹر) بھی ’’دیکھ‘‘ کر حکم کمپیوٹر تک پہنچا سکتا ہے۔ اس آلے کو ’’لیپ موشن‘‘ کا نام دیا گیا۔
لیپ موشن دراصل ایک یو ایس بی آلہ ہے جو ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر میں لگتا ہے۔ اس میں دو ننھے انفراریڈ کیمرے اور تین انفراریڈ ایل ای ڈیز (LEDs) نصب ہیں۔ جب لیپ موشن کمپیوٹر کے ساتھ لگایا جائے، تو اس کے کیمرے ایک میٹر (تین فٹ) تک انگلیوں کے اشارے دیکھ سکتے ہیں۔
سب سے پہلے ایل ای ڈیز انفراریڈ روشنی کے نکتوں (Dots) کا تھری ڈی نمونہ (Pattren) تخلیق کرتے ہیں۔ پھر کیمرے اس ڈیٹا کی تصاویر اتارتے (فی سیکنڈ تین سو تصویریں) اور اسے کمپیوٹر کی طرف بھجواتے ہیں۔
کمپیوٹر میں لیپ موشن کا سافٹ وئیر اس ڈیٹا کو ’’پیچیدہ ریاضیاتی فارمولے‘‘ کے ذریعے ایسی زبان میں ڈھالتا ہے جسے آپریٹنگ سسٹم مثلاً ونڈوز 7 سمجھ سکے۔ یوں آپریٹنگ سسٹم انگلیوں کے اشاروں کے احکامات پر ناچنے لگتا ہے۔
یہ حیرت انگیز ایجاد جولائی 2013ء میں برائے فروخت پیش ہوئی۔ فی الوقت امریکا میں لیپ موشن کی قیمت 80 ڈالر (8480 روپے) ہے۔ استعمال کنندگان کا کہنا ہے کہ یہ آلہ ابھی خام حالت میں ہے، اسی لیے توقعات پر پورا نہیں اتر سکا۔ بہرکیف لیپ موشن کمپنی شکایات دور کرنے کی خاطر اپنی ایجاد کو بہتر بنانے کے لیے تحقیق و تجربات میں مصروف ہے۔
مستقبل کی جھلک
یہ حقیقت ہے کہ ہر نئی ایجاد شروع میں خامیاں زیادہ رکھتی ہے اور خوبیاں کم! لیکن رفتہ رفتہ خامیاں دور ہونے سے وہ مقبول ہوتی چلی جاتی ہے۔ مثلاً کمپیوٹر ہی کو لیجیے۔ او یس کمپیوٹر اتنے دیوہیکل تھے کہ ایک کمرے میں سماتے۔ آج ان سے کہیں زیادہ طاقتور کمپیوٹر ہاتھوں سے بھی چھوٹے موبائل فونز میں سما چکے۔
مستقبل میں لیپ موشن دنیائے کمپیوٹر ہی نہیں انسانی زندگی کے کئی شعبوں میں تبدیلی کا نقیب ثابت ہو سکتا ہے۔جب بھی یہ ٹیکنالوجی خامیوں سے پاک ہوئی، تو ایسا حیرت انگیز ڈیجیٹل دور جنم لے گا جس میں لوگ انگلیوں اور ہاتھوں کے اشاروں سے مشین چلائیں گے۔ تب مشینیں اس قابل ہو جائیں گی کہ اشاروں کی نوعیت جان کر متعلقہ کام کر سکیں۔
مثال کے طور پر ایسے روبوٹ ایجاد ہو چکے جن کی مدد سے ڈاکٹر آپریشن کرتے ہیں۔ اگر لیپ موشن ٹیکنالوجی ان پر اپنائی گئی، تو یہ ممکن ہو جائے گا کہ روبوٹ ڈاکٹر کے محض اشارے سمجھ کر آپریشن کرنے لگیں۔
ڈیوڈ ہولز کی خواہش یہ ہے کہ کمپیوٹر (مشین) اور انسان کے مابین تال میل رکھنا آسان ہو جائے۔ اسی خواہش سے لیپ موشن نے جنم لیا اور اب یہ ایجاد رفتہ رفتہ مغرب میں مقبولیت عام پا رہی ہے۔
حال ہی میں کمپیوٹر ہارڈ وئیر بنانے والی مشہور امریکی کمپنی ایچ پی (HP) نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’’انیوئے (Envy) 17 لیپ موشن اسپیشل ایڈیشن‘‘ نامی لیپ ٹاپ مارکیٹ میں لا رہی ہے۔ اس لیپ ٹاپ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں لیپ موشن (USB) کارخانے ہی میں فٹ ہو گی۔ لہٰذا اسے علیحدہ خریدنے کی ضرورت نہ ہو گی۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers