ایک صاحب تقریر سے جی چراتے تھے (جی ہاں، آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں)۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات کچھ ہی کیوں نہ ہوں وہ تقریر کے بغیر کام چلا سکتے ہیں۔ ان کے دوستوں نے ان سے ایک ہزار روپے کی شرط لگائی کہ وہ انھیں تقریر کرنے پر مجبور کر دیں گے۔چناںچہ ایک جلسۂ عام کا اہتمام کیا گیا اور ان صاحب کو اس کا صدر بنا دیا گیا۔ جلسے کی کارروائی شروع ہوئی۔ پہلے چند مقررین نے اپنی اپنی حسرت نکالی۔ پھر جلسے کے ناظم اعلیٰ نے صدر کی شان میں خطبۂ استقبالیہ پیش کیا اور انھیں خطاب کی دعوت دی۔ تفصیل سے پڑھیے
کم گو صاحب بڑی شان کے ساتھ مائک پر تشریف لائے اور مجمع پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر کہا ’’خواتین و حضرات! آج کل کے جو سیاسی، سماجی، معاشی اور اخلاقی حالات ہیں وہ تو آپ سب کو معلوم ہی ہیں۔‘‘ سامعین نے رسماً ہاں میں سر ہلا دیا۔ اس پر انھوں نے کہا ’’پھر میرے بولنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ اس مختصر تبصرے کے بعد وہ اپنی نشست پر آ کر بیٹھ گئے اور جلسہ برخاست ہو گیا۔ ان کے دوست شرط ہار چکے تھے۔ تقریر وہ فن ہے جو خاص مہارت، ذہانت، حاضر دماغی اور بعض اوقات شعبدہ بازی کا متقاضی ہے۔ اچھا مقرر جلسہ کی بوجھل اور بے جان فضا میں زندگی کی روح پھونک سکتا ہے۔ تاریخ عالم جوشیلے مقررین کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔
ماضی قریب میں برصغیر پاک و ہند کے زعما میں نواب بہادر یار جنگ، مولانا محمد علی جوہر، عطااللہ شاہ بخاری اور علامہ مشرقی وغیرہ فن تقریر کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ مغرب میں چرچل، ہٹلر اور خروشیف کی آواز پر دنیا لرز اٹھتی تھی۔ ’’ماسکو سے علیحدگی‘‘ نامی کتاب میں اپنے دور کے مشہور روسی منحرف ارا کاری شیف چینکو نے خروشیف کی شعلہ بیانی کا ایک واقعہ درج کیا ہے جس کے باعث ایک بار اقوام متحدہ میں ہلچل مچ گئی تھی۔ جنرل اسمبلی کے ایک اجلاس کے دوران سابق سوویت یونین کے آنجہانی وزیراعظم خروشیف نے اسپین کے صدر جنرل فرانکو پر کڑی نکتہ چینی کی۔ اسپین کے وزیر خارجہ فرنانڈو کاسٹیلا نے جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے نہ صرف جنرل فرانکو کا دفاع کیا بلکہ خروشیف اور سوویت یونین کو بھی ہدف تنقید بنایا۔
خروشیف سے یہ برداشت نہ ہو سکا۔ انھوں نے اپنی نشست سے اٹھ کر کاسٹیلا کو ڈانٹنا شروع کر دیا۔ وہ پوری قوت کے ساتھ چیخ رہے تھے اور غصے سے بے قابو ہوئے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ انھوں نے اپنا جوتا نکال کر اسے ڈیسک پر دھم دھم مارنا شروع کر دیا۔ اسمبلی میں موجود لوگ ان کی اس حرکت پر دم سادھے بیٹھے ہوئے تھے۔
خروشیف نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی کرسی سے اچھل کر باہر آ گئے اور باکسروں والے انداز میں اسپینی وزیر خارجہ کی ٹھکائی کرنے کے لیے اس کی طرف بڑھے۔ دبلا پتلا اور پستہ قد فرنانڈو کاسٹیلا جس نے اس سے پہلے صرف زبانی حملوں کے مظاہرے دیکھے تھے اس غیر متوقع جسمانی حملے سے بچائو کے لیے اپنی ڈیسک کے نیچے دبک گیا۔ خروشیف نے جو بنکارتے جارہے تھے اسے وہیں جا دبوچا۔ اسی اثنا میں سیکیورٹی گارڈز لپک کر آئے اور انھوں نے کاسٹیلا کو خروشیف کی گرفت سے آزاد کیا۔
روسی وفد کے ارکان جب اس ہنگامے کے بعد اپنی قیام گاہ پر واپس آئے، تو ان کے ہوش اڑے ہوئے تھے۔ وفد میں آندرے گرومیکو بھی شامل تھے جو آگے چل کر سوویت یونین کے صدر بنے۔ وہ انتہائی مضبوط اعصاب اور سخت گیر طبیعت کے مالک تھے۔ ایک بار ایک مغربی اخباری نمایندے نے ان سے سوال کیا ’’کیا آپ کے چہرے پر کبھی مسکراہٹ نہیں آ سکتی؟‘‘ گرومیکو نے اسے یہ مختصر جواب دیا تھا ’’آ سکتی ہے، مگر وہ مصنوعی ہو گی۔‘‘ لیکن اس روز گرومیکو کا چہرہ بھی سفید ہو رہا تھا۔
ہر شخص کو یہ فکر دامن گیر تھی کہ اتنے خراب موڈ کے ساتھ خروشیف کا رویہ اس کے ساتھ کیسا ہو گا۔ لیکن سب یہ دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے کہ خروشیف بالکل نارمل حالت میں تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ وہ اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ لطیفے بازی کر رہے تھے اور زور دار قہقہے لگا رہے تھے۔ ایک ذاتی معتمد کے پوچھنے پر خروشیف نے بتایا’’اس وقت ایوان پر مردنی چھائی ہوئی تھی۔ میں نے جان بوجھ کر ماحول میں زندگی پیدا کرنے کے لیے یہ چال چلی تھی۔‘‘ یہ کہہ کر انھوں نے ایک اور قہقہہ لگایا۔
اس قسم کی ڈرامے بازی سے بعض مقررین اپنے پروگرام یا دلیل کے لیے حمایت حاصل کر لیتے تھے۔ ہم نے ایک لیبر لیڈر کو دیکھا۔ وہ تقریر کا آغاز بڑھے دھیمے سُروں میں کرتے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ ان کی آواز اونچی ہوتی جاتی، چہرے کے عضلات سکڑتے، ناک کے نتھنے پھولتے، آنکھیں قہر آلود ہوتیں اور وہ ہوا میں مکے لہرا لہرا کر فل گیئر میں چنگھاڑنے لگتے۔ ہر چھوٹے بڑے کی حسب استطاعت خبر لینے کے بعد ان کی تقریر اس وقت نقطۂ عروج پر پہنچتی جب وہ غیظ و غضب کے عالم میں اپنی قمیص کا گریبان چاک کرتے۔ بقول شاعر
؎ اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے
دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں
اس کے ساتھ ہی وہ اپنا چشمہ چہرے پر سے کھینچ کر اسے جوتوں سے اِس طرح کچلتے جیسے کسی بچھو کو صفحۂ ہستی سے مٹا رہے ہوں۔ اس وقت تک مجمع کے جذبات اپنی انتہا کو پہنچ چکتے۔ ایسے نازک مرحلے پر موصوف ایک جملے میں وہ بات کہتے جس پر تائید درکار ہوتی تھی۔ جواباً ’’زندہ باد‘‘ اور ’’آوے ای آوے‘‘ کی فلک شگاف صدائیں بلند ہوتیں۔ جذبات سے معمور اس فضا میں سامعین کو مرغ نیم بسمل کی طرح تڑپتا چھوڑ کے وہ اپنی کار میں (جو ان کی ہدایت کے بمو جب پہلے سے اسٹارٹ ہوتی تھی) بیٹھ کر یہ جا، وہ جا۔ گاڑی میں عموماً ان کے دو ایک مصاحبین اور محافظین بھی موجود ہوتے جن کے ساتھ وہ خوش گپیاں کرتے ہوئے جاتے تھے۔ ایسی ہی کیفیت کے لیے شاعرؔ نے کہا ہے (ہماری مراد حمایت علی شاعر سے ہے کہ
؎ جب بھی چاہیں اک نئی صورت بنا لیتے ہیں لوگ
ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں لوگ
ایک مرتبہ تخلیے میں انھوں نے ہمیں بتایا کہ جس دن انھیں یہ ڈراما رچانا ہوتا ہے وہ اپنی کوئی بوسیدہ قمیص پہن کر آتے ہیں اور کھوڑی گارڈن سے ایک پرانا چشمہ منگواتے ہیں (آخر مزدور رہنما کا حلیہ بھی تو بنانا ہوتا تھا) ان کے اصلی چشمے کے فریم کی قیمت ڈیڑھ ہزار روپے بتائی جاتی تھی۔
یہ تھے ہمارے بھٹو صاحب
ہمارے ایک سابق وزیر اعظم بھی فن تقریر کے بادشاہ تھے۔ اپنی کتاب ’’دیدہ ور‘‘ میں مولانا کوثر نیازی نے (جو خود بھی گفتار کے غازی تھے) ان کی اس خصوصیت (اور دیگر بے شمار خصوصیات) کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ مذکورہ وزیر اعظم جب چاہتے تھے اپنے زور بیان کی بدولت حساس سے حساس مسائل پر عوام سے ’’منظور ہے، منظور ہے‘‘ کے نعرے لگوا لیا کرتے تھے۔ وہ عوام کے مزاج کو سمجھتے تھے۔ ان کے دور حکمرانی میں یہ فقرہ بہت مشہور ہوا تھا کہ پاکستانی عوام کے مزاج کو یا تو انھوں نے سمجھا ہے یا فلم اسٹار رنگیلا نے۔
ہوا یوں کہ ان کی حکومت نے بلوچستان سے سرداری نظام کے خاتمے کا فیصلہ کیا جس کے اعلان کے لیے کوئٹہ میں ایک بہت بڑا جلسۂ عام منعقد کیا گیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم صاحب نے اپنے مخصوص انداز میںپہلے لوگوں کے جذبات کو ابھارا اور انھیں اپنے ’’انقلابی اقدام‘‘ کی پذیرائی کے لیے تیار کیا۔ جب انھوں نے اپنے طور پر اندازہ لگا لیا کہ لوہے پر چوٹ لگانے کا وقت آ گیا ہے، تو پورے جوش اور ولولے کے ساتھ بلند آواز میں کہا ’’آج سے سرداری نظام ختم۔‘‘ ان کا خیال تھا کہ لوگ پوری طرح گرمائے جا چکے ہیں لیکن شاید ایک آنچ کی کسر رہ گئی تھی۔ تمام حاضرین لاتعلق سے بیٹھے رہے۔
اس پر وزیراعظم نے مجمع کے دوسری جانب منہ کر کے زیادہ گرج دار صدا لگائی ’’صدیوں سے قائم سرداری نظام کا آج خاتمہ ہو گیا ہے۔‘‘ یہ کہہ انھوں نے ایک بار پھر حاضرین جلسہ کا جائزہ لیا جو یا تو اس اعلان کے دور رس نتائج سے بے خبر تھے یا اس کی صداقت کے بارے میںشکوک رکھتے تھے لہٰذا بے حس و حرکت بیٹھے تھے۔ لیکن ہمارا لیڈر بھی ہتھیار ڈالنے والا نہیں تھا۔ اس نے فوراً پینترا بدلا اور اگلے ہی سانس میں اعلان کیا ’’کل پورے بلوچستان میں چھٹی ہو گی۔‘‘ یہ سننا تھا کہ لوگ دیوانہ وار رقص کرنے لگے اور فضا ’’زندہ باد‘‘ اور ’’جیوے جیوے‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھی۔ یہ سب تماشا بمشکل چند سیکنڈ میں وقوع پذیر ہو گیا۔
ہم نے اپنے بزرگوں سے قائداعظم کے جلسوں کے بارے میںسنا ہے۔ اکثر وہ انگریزی میں تقریر کرتے تھے۔ عوام ان کی بات نہیں سمجھتے تھے لیکن پوری توجہ سے سنتے اور مطلوبہ ردعمل کا مظاہرہ کرتے تھے۔ یہیں سے ابلاغیات کے مشہور ماہر ایس آئی ہایا کاوا کے اس قول کے تصدیق ہوتی ہے کہ ’’الفاظ کے معنی الفاظ میں نہیں، خود ہم میں پوشیدہ ہوتے ہیں۔ کوئی شخص ایک لفظ کا ابلاغ نہیںکر سکتا، پوری شخصیت اس کے ساتھ منتقل ہوتی ہے۔‘

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers