انجام
فیصل اُس کمرے سے باہر نہیں نکلتا۔ نہ ٹیلی وژن دیکھتا ہے، نہ اخبار پڑھتا ہے۔ کسی کو فون نہیں کرتا، کسی سے رابطہ نہیں رکھتا۔ اُس کی بیوی سلیمہ کو گلا گھونٹ کو مارا گیا تھا۔ سفاکانہ قتل کے بعد فیصل کو اپنا انجام بھی معلوم ہوگیا تھا۔ اُسے پتا ہے، ایک دن اُس کی جان بھی لے لی جائے گی۔ اب وہ اُسی کمرے کے اندر خیالات میں گم رہتا ہے، وہیں سوتا ہے۔ اُس کے لیے کھانا وہیں پہنچا دیا جاتا ہے۔ دن مہینے سال اِسی طرح گزر رہے ہیں۔ اُس کی پھانسی میں ابھی دو سال باقی ہیں۔
الم ناک کہانی
کتنی الم ناک کہانی ہے!
مکیش کا ایک حادثے میں انتقال ہوگیا تھا۔      تفصیل سے پڑھیے

منیشا بھری جوانی میں بیوہ ہوگئی۔ اُن کا کوئی بچہ بھی نہیں تھا۔ دِل کو ڈھارس دینے والی واحد بات یہ تھی کہ مکیش کی جائداد کروڑوں روپے کی تھی۔ منیشا کو اب تنہا کسی بھی طرح اُس دولت کو سنبھالنا تھا، اُسی میں سے خرچ کرنا تھا۔ لیکن سیانے سچ کہتے ہیں، سب کچھ توقع کے مطابق نہیں ہوتا۔ آخری رسومات کے وقت جب پنڈت نے اعلان کیا کہ بیوہ آگے آجائے، تو منیشا نے نوٹ کیا کہ اُس کے ساتھ قطار میں سترہ خواتین تھیں۔
الف لیلہ
سب جانتے ہیں کہ وہ بادشاہ ہر رات شادی کرتا اور صبح بیوی کو قتل کرا دیتا تھا۔ ملکہ شہر زاد نے پہلی رات ایک کہانی سنانے کی اجازت مانگی۔ وعدہ لیا کہ قصہ مکمل ہونے تک اُسے قتل نہیں کرایا جائے گا۔ یہ داستان ہزار راتوں تک چلتی رہی۔
لوگ جھوٹ کہتے ہیں کہ وہ داستان مکمل ہوگئی تھی۔ دراصل ہزار راتوں کے بعد ملک شہریار نے اعلان کرایا تھا… ’’آج شہرزاد کو چپ نہ کرایا تو قیامت تک عورتیں ہر رات اپنے شوہروں کے کان کھاتی رہیں گی۔‘‘
یہ اعلان تاریخ سے مٹا دیا گیا۔ البتہ قول سچا ثابت ہوا۔
قیدی
اُس نے اپنے عقب میں دروازہ بند ہونے کی آواز سنی اور سمجھ آگئی کہ اب وہ قیدی ہے۔ آزادی ہمیشہ کے لیے اُس سے روٹھ چکی تھی۔ اُس کے ذہن میں بہت سے باغیانہ خیالات آئے لیکن بہت دیر ہوچکی تھی۔ اُسے چاروں طرف سے گھیرا جا چکا تھا۔ بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اُس کے ہاتھ بھی رنگے ہوئے تھے۔ ہتھیار ڈالنے کا وقت آگیا ہے، اُسے خیال آیا اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا اختیار وہ کھو چکی تھی۔
آخر اس نے نکاح نامے پر دست خط کر دیے۔
پناہ گزیں
سوزی مجھے اچھی لگتی تھی۔ میں بے گھر تھی۔ اُس نے مجھے اپنے گھر میں رکھا، سب کچھ دیا۔ میں اظہارِ تشکّر کرنا چاہتی تھی لیکن زبان کا مسئلہ آڑے آجاتا۔ ہم ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھتے تھے۔ میں کیسے اُسے بتاتی کہ اُس کا شوہر بے وفا ہے۔ اُس دن بھی وہ کسی کے ساتھ کمرے میں تھا۔ سوزی اچانک گھر آگئی۔ میں نے اُس کی توجہ بٹانے کی کوشش کی لیکن وہ سیدھی وہیں جا رہی تھی۔ آخر میں اُس سے لپٹ گئی لیکن اُس نے مجھے پیار سے جھٹک دیا۔ دروازہ کھولنے سے پہلے بولی…
’’شرارتی بلی۔‘‘
سفید پٹّی
میرے کبوتر کی طبیعت خراب تھی۔ اُسے پرندوں کے ہسپتال لے گیا۔ ڈاکٹر صاحب ایک آپریشن میں مصروف تھے۔ کچھ دیر بعد ایک پنجرہ لے کر باہر نکلے۔ پنجرے میں بڑا سا خوب صورت میکائو طوطا تھا جس کے پیٹ پر سفید پٹّی بندھی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر نے وہ پنجرہ ایک مضطرب نوجوان کے حوالے کر دیا۔ اُس کے بعد ایک چھوٹا پیکٹ دیا جس میں کوئی چیز لپٹی ہوئی تھی۔ ’’کچھ یہ ہضم کر چکا ہے، باقی اِس میں موجود ہے۔‘‘ اُنھوں نے اُسے مطلع کیا۔
اُسی وقت میں نے دیکھا، اُس نوجوان کا انگوٹھا غائب تھا۔ سفید پٹّی بندھی ہوئی تھی۔
ترمیم
سنہ 2047ء سے گھڑ دوڑ مقابلوں کو نیا عروج ملا ہے۔ ہر سال نئے ریکارڈ بنتے ہیں۔ ہر بار زیادہ رقوم لگتی ہیں۔گھوڑے ایسے دوڑتے ہیں جیسے موت پیچھے لگی ہو۔ بالکل سچ!
سنہ 2029ء میں دنیا بھر میں پروٹین کے بحران کے بعدنیا قانون بنایا گیا تھا۔ جیتنے والے گھوڑے پر رقم لگانے والوں کو ہارے ہوئے گھوڑے کا گوشت پیش کیا جاتا تھا۔ اٹھارہ سال تک یہ کھیل بہت مزے سے چلتا رہا۔ اُس کے بعد قانون میں ترمیم ہوئی۔
اب جو حشر گھوڑے کا ہوتا ہے، وہی اُس کے سوار کا ہوتا ہے۔
اطلاع
جیسے ہی حادثہ ہوا، میں سیدھا گھر بھاگا تاکہ اپنی بیوی کو اس کی اطلاع دوں۔ لیکن گھر پہنچ کر میرے مُنہ سے ایک لفظ نہیں نکل سکا۔ میری بیوی بھی اپنے خیالات میں گم تھی۔ وہ بالکونی میں کھڑی تھی۔ سامنے سورج غروب ہو رہا تھا۔ پتا نہیں کیا سوچ رہی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ کیسے بتائوں؟ میری ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔ اُسی وقت فون کی گھنٹی بجی۔
میری بیوی چونکی اور اُس نے کال ریسیو کی۔ پھر فون اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ میرے مرنے کی خبر سن کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
کون
دنیا کا آخری آدمی اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔
آخری آدمی… جس کے پاس سب کچھ تھاا ور کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ پوری دنیا کی دولت کا تنہا مالک تھا اور پوری دنیا میں کوئی اُس کا جوڑی دار نہیں تھا۔ ایک وقت تھا کہ دنیا کی آبادی آٹھ ارب تک پہنچ گئی تھی۔ لیکن پھر ایک الم ناک حادثے نے یہ رنگین دنیا اجاڑ دی۔ سات ارب ننانوے لاکھ ننانوے ہزار نو سو ننانوے افراد فنا ہوگئے۔ بس ایک بچا۔ وہ آخری آدمی اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا ہوا تھا۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔
نظارہ
ٹرین چھک چھک کرتی دوڑتی چلی جا رہی تھی۔ اُس کا خوب صورت انجن غرّاتا جا رہا تھا، چمنی سے دھواں اُگلتا جا رہا تھا۔ پندرہ بوگیوں کی ڈوریں اُس سے بندھی ہوئی تھیں۔ تمام بوگیوں پر رنگین نقش بنے ہوئے تھے۔ دونوں جانب دور تک سبزہ پھیلا ہوا تھا۔ کہیں کہیں پھولوں کے قطعے بچھے تھے۔ نیلے آسمان پر سُرمئی بدلیاں اٹکھیلیاں کر رہی تھیں۔ اُس جنت نظیر وادی سے گزرنے والے مسافروں کا تجربہ خوش گوار رہا ہوگا۔ اُن کے منہ سے تعریفیں نکل رہی ہوں گی اور میرے منہ سے چیخیں نکل رہی تھیں، کیونکہ میں پٹڑی پر بندھا ہوا تھا۔
پُرامن
کوئی اخبار والوں کو جا کر بتائے! آج شہر میں قتل کی ایک بھی واردات نہیں ہوئی۔ کوئی بینک نہیں لوٹا گیا۔ کسی شخص سے موبائل فون نہیں چھینا گیا۔ کوئی بھتا وصول کرنے نہیں آیا۔ کہیں دستی بم نہیں پھینکا گیا۔ ہوائی فائرنگ تک سنائی نہیں دی۔ ایک بار بھی ایمبولینس کا سائرن نہیں گونجا۔ سڑکوں پر کوئی حادثہ نہیں ہوا۔ آخری حادثہ آج سے تین دن پہلے ہوا تھا۔ اُس کی تفصیل تو کسی کو معلوم نہیں…
لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ…
شہر میں قائم ’’پُر امن ایٹمی مرکز‘‘ میں…
پتا نہیں کیسے ایک بم پھٹ گیا تھا!
میائوں
’’مجھے مانو بِلّی چاہیے۔‘‘ میں بچپن میں امی سے ضد کیا کرتا تھا۔ مجھے بِلّیاں اچھی لگتی تھیں۔ امی نے کبھی میری بات نہیں مانی۔ میں نے بِلّیوں کی تصاویر والی بہت سی کتابیں جمع کر لیں۔ اسکول کے زمانے میں ایک بلّی کے بارے میں کہانی بھی لکھی تھی۔ میری پہلی کہانی کا عنوان تھا ’’میائوں۔‘‘ برسوں بعد میری امی اور بہنوں نے میرے لیے ایک لڑکی پسند کی۔ میں نے پوچھا، ’’اُس لڑکی کا نام کیا ہے؟‘‘
’’نام تو تسنیم بانو ہے۔‘‘ ایک بہن نے بتایا۔
’’لیکن بِلّی آنکھوں والی اُس لڑکی کو گھر میں سب ’’مانو‘‘ کہتے ہیں۔‘‘
نیا ڈومین
وہ انٹرنیٹ کمپنی کے دفتر پہنچا اور ڈومین نیم رجسٹر کرانے کی خواہش ظاہر کی۔ ’’آپ کس نام سے رجسٹر کرانا چاہیں گے؟‘‘ بکنگ منیجر نے پوچھا۔ ’’اپنے ہی نام سے۔‘‘ ’’کیا نام ہے آپ کا؟‘‘ ’’رشید خان۔‘‘ ’’رشید خان ڈوٹ پی پی پی دستیاب نہیں ہے۔‘‘
’’ڈوٹ پی پی پی دستیاب نہیں ہے۔‘‘
’’ڈوٹ پی ایم ایل این؟‘‘
’’وہ پہلے سے کسی اور کے پاس ہے۔‘‘
’’ڈوٹ ایم کیو ایم؟‘‘
’’آئی ایم سوری۔‘‘
’’ڈوٹ اے این پی؟‘‘
’’آپ نئے ڈومین کے بارے میں کیوں نہیں سوچ رہے؟‘‘
’’نیا ڈومین؟ مثال کے طور پر؟‘‘
’’رشید خان ڈوٹ ٹی ٹی پی۔‘‘
’’آں! اچھا! ٹھیک ہے۔ کتنے پیسے ہوئے؟‘‘
مہم جُو
مجھے خطروں سے کھیلنے کا شوق ہے۔ 2009ء میں الپس کی چوٹی سر کرتے ہوئے پھسل گیا تھا۔ دس بارہ ہڈیاں ٹوٹیں۔ ایڈونچر کا جذبہ سلامت رہا۔
2010ء میں لندن گراں پری موٹر ریس میں شرکت کی۔ گاڑی میں آگ لگنے سے بُری طرح جھلس گیا۔ ریس ہار گیا لیکن زندگی جیت گیا۔
2012ء میں جنوبی افریقا کے جنگل میں دو شیر شکار کیے، ایک چیتا مارا، خوں خوار ریچھ کے ہاتھوں مرتے مرتے بچا۔ اس سال پاکستان جا رہا ہوں۔
لانڈری
سرکاری افسر کے بیٹے نے تھیلا لانڈری شاپ کے کائونٹر پر رکھ دیا۔ بڑے میاں نے تھیلے میں جھانک کے دیکھا اور اسے نیچے ڈال دیا۔
انھوں نے نوجوان کو کوئی رسید نہیں دی۔ اعتبار بڑی چیز ہوتا ہے۔
’’پرسوں شام پانچ بجے کے بعد آنا۔‘‘
سرکاری افسر کا بیٹا اُس دن شام ساڑھے چھ بجے آیا۔ بڑے میاں نے اُسے گتے کے دو ڈبّے دیے، جو پانچ پانچ ہزار روپے کے نئے نوٹوں سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ ایک قانونی کاروبار کا قانونی منافع تھا، رسیدوں کے ساتھ۔
بہت سے احمق اُس لانڈری میں کپڑے دھلوانے بھی آجاتے ہیں۔
دِل
پہلے میں بہت نرم دِل والا تھا۔ کاروبار سے جتنی آمدنی ہوتی تھی، اُس کا بڑا حصہ غریبوں میں بانٹ دیتا تھا۔ ایک دن میرا بونڈ لگ گیا۔ ساڑھے سات کروڑ روپے کا۔
اتفاق سے اُسی دن کسی نے میرا دِل چوری کر لیا۔
ڈاکٹر نے کہا، ’’اگر پرانا دِل مل بھی گیا، تو نصب ہونا مشکل ہے۔ آپ کو نیا دِل لگوانا پڑے گا۔‘‘
کئی طرح کے دِل دستیاب تھے۔ فوم کے، مٹی کے، سونے کے، ہیرے کے۔ میرے پاس بہت پیسے تھے اس لیے ہیرے کا دِل خرید لیا۔
پتا نہیں کیوں، لوگ اب مجھے سنگ دِل کہتے ہیں!
مقابلہ
ٹیک آف ٹھیک نہیں ہوا تھا، کمپیوٹر نے بتا دیا تھا۔
لیکن ہوائی جہاز میں ریورس گیئر نہیں ہوتا۔
آگے بڑھنے کے سوا کچھ نہیں کیا جاسکتا تھا۔
پرواز ناہموار تھی۔ موسم کا اِرادہ بھی اچھا معلوم نہیں ہورہا تھا۔
اُس نے تشویش سے اسکرین پر جلتی بجھتی بتّیاں دیکھیں۔ پھر ایک دھماکا سنائی دیا اور طیارہ ڈولنے لگا۔ عقب میں نہ جانے کیوں شور ہونے لگا۔ اُس کے ماتھے پر پسینا آگیا، اعصاب جواب دینے لگے۔ وقت کم تھا اور مقابلہ سخت! پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔
کمپیوٹر اسکرین پر لکھا ہوا آگیا، ’’ٹائم آئوٹ، گیم اوور۔‘‘
اَن ہونی
’’وہ کبھی مجھے اپنی بانہوں میں ایسے نہیں لے گا جیسے اِس گٹار کو لیتا ہے۔‘‘ اُس نے مایوسی سے سوچا اور اُس کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
پھر اُسے کوئی خیال آیا۔ اُس نے آنکھیں صاف کیں اور گٹار لے کر بیٹھ گئی۔ پورا دن ان ہونی کو ہونی کرنے میں لگی رہی۔
اُس نے اپنا آپ مٹا ڈالا اور گٹار کے اندر چھپ گئی۔
اُس نے سوچا، اِس طرح وہ ایک بار محبت سے مجھے اپنی بانہوں میں لے گا۔
شام ہوئی اور وہ خوشی سے آوازیں لگاتا ہوا گھر میں داخل ہوا۔ ’’ڈارلنگ، دیکھو میں نیا گٹار خرید لایا ہوں۔‘‘
آخری الفاظ
وہ تیز رفتاری کی ساری حدیں توڑتی ہوئی ہسپتال پہنچی۔ اُس کا شوہر ایک حادثے میں شدید زخمی ہوگیا تھا۔ فون کرنے والے نے کہا تھا کہ جلدی پہنچیں۔ اُسے سمجھ آگئی تھی کہ جلدی پہنچنا کیوں ضروری ہے۔
ڈیوٹی ڈاکٹر اُسے ایمرجنسی وارڈ کے باہر مل گیا۔
’’مجھے بہت افسوس ہے۔‘‘ وہ سچ مچ بہت غم زدہ لگ رہا تھا۔ ’’انھوں نے آپ کو بہت یاد کیا۔ اُن کے آخری الفاظ تھے، مجھے تم سے محبت ہے جمیلہ۔‘‘
اُس کی آنکھیں جلنے لگیں، اُن میں گرم پانی بھر گیا اور پھر شکیلہ تھکے تھکے قدموں سے باہر نکل آئی۔
کیش
شوہر کے مرنے پر انشورنس کے بیس لاکھ اُسے ملنے تھے۔ وہ کبھی ایسا نہ سوچتی۔ اُس بد دماغ آدمی کے ساتھ کسی نہ کسی طرح گزارا کر رہی تھی۔ لیکن مالی مشکلات کا حاصل ضرب بہت سی تلخیاں تھیں۔ اُس نے کریڈٹ کارڈ سے رقم نکالی اور کرائے کے قاتل کو ادا کر دی۔ شوہر کے مرنے کے بعد وکیل نے بتایا، وہی ہر چیز کی وارث تھی۔
’’لیکن انشورنش کے کاغذات نہیں مل رہے۔ کیا وہ آپ کے پاس ہیں؟‘‘
اُس نے پوچھا۔
’’نہیں، انشورنش پالیسی تو انھوں نے مالی مشکلات کے سبب کیش کر والی تھی۔ آپ کو نہیں بتایا؟‘‘
ہمارے جیسا
وہ سیارہ بالکل ہمارے جیسا ہے۔
اپنے ستارے سے انتہائی مناسب فاصلے پر۔
آکسیجن بھی ہے اور پانی بھی۔
پہاڑ اور صحرا بھی، دریا اور جنگل بھی۔
کچھ رینگنے والے، اُڑنے والے اور تیرنے والے جان دار بھی۔
لگتا ہے وہاں کوئی ذہین مخلوق بھی رہتی تھی۔
لیکن اُس کی پوری نسل کسی آفت میں ماری گئی۔
یہ سیارہ ہمارے لیے قدرت کا تحفہ ہے۔
وہ مخلوق زندہ ہوتی تو کیا پتا ہماری دشمن بن جاتی!
سچ کہتا ہوں، وہ سیارہ بالکل ہمارے جیسا ہے۔
ہاں! ایک فرق ہے۔
ہمارے سیارے کے تین چاند ہیں اور اس کا صرف ایک!
خیر مقدم
پندرہ امیر ترین افراد نے ایک ایک ارب ڈالر کا ٹکٹ خریدا تھا۔ خلائی جہاز کی منزل لاکھوںمیل دور تھی۔
اس وسیع کائنات میں صرف دوسرا مقام، جہاں زندگی کا سراغ مل گیا تھا۔ایک بڑے سے سیارے کا چاند، جہاں پانی بھی تھا اور اُسے پینے والے بھی۔
سوال تھا، ’’خلائی مخلوق سے پہلا رابطہ کون کر کے تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا؟‘‘
جواب ملا ’’راکٹ کی تیاری میں مالی تعاون کرنے والے۔‘‘
راکٹ پر لگے ہوئے کیمروں نے سارا منظر زمین والوں کو تقریباً براہِ راست دکھایا۔ خلائی مخلوق صرف پندرہ منٹ میں پندرہ انسانوں کو کھاگئی۔
Labels: , ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers