نام ونمود کی خواہش حد اعتدال میں رہے تو کچھ اتنی بُری نہیں، کیونکہ دنیا میں آج تک جتنے بڑے کام ہوئے ہیں ان کے پس پردہ یہ جذبہ بھی کافی حد تک کام کرتا رہا ہے، لیکن بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ اس جذبے کو Infection ہو جاتی ہے۔اخبار میں کام کرنے والے لوگوں کو غالباً حشر کے دن خدا کے سامنے اس لیے بھی جواب دہ ہونا پڑے گا کہ ان کی بدولت یہ ’’انفیکشن‘‘ بہت بڑھ گئی ہے۔ مثلاً اگر کسی گھر میں چوری ہو گئی ہے تو سنسنی خیز قسم کے فیچر کے ساتھ اولاً اس گھرکی تصویر شائع ہو گی، جہاں چوری ہوئی، پھر اس دروازے کی تصویر لی جائے گی جدھر سے چور داخل ہوا۔ صاحب خانہ کی تصویر کی اشاعت بھی لازمی ہے۔ اس کے بیوی بچوں کی تصاویر چھپنے کے امکانات بھی کافی روشن ہوتے ہیں۔ اگر اہل محلہ میں سے کسی نے یہ کہہ دیا کہ اس نے رات کو کچھ کھڑاک بھی سنا تھا اور کتوں کے بھونکنے کی آواز بھی سنی تھی تو اس اہل محلہ کی تصویر بھی لازماً شائع ہو گی، بلکہ اگر کوئی فوٹو گرافر زیادہ مستعد ہے، تو ممکن ہے وہ ان
کتوں کی تصویر بھی اپنے اخبار کو مہیا کر دے جو رات کو چوری کے وقت بھونکے تھے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یار لوگ اخبار میں اپنا نام اور تصویر شائع کرانے کے لیے کسی چھوٹے موٹے حادثے کی دعا مانگتے رہتے ہیں۔ ممکن ہے بعض ایک دو چار سو روپے کی چوری کا بندوبست بھی خود ہی کر ڈالتے ہوں اور جو لوگ اتنے صاحب حیثیت نہ ہوں کہ یہ ڈَزسہ سکیںوہ تمام رات، بلکہ تمام راتیں جاگ کر کسی دوسرے گھر میں چور کی آمد کا انتظار کرتے ہوں، تاکہ وہ آئے اور یہ کھڑاک سنیں اور پھر اگلے روز ان کا نام اور تصویر اس کیپشن کے ساتھ اخبار میں شائع ہو ’’محمد حسین جنھوں نے کھڑاک سنا۔‘‘     تفصیل سے پڑھیے
نام و نمود کی یہ ’’انفیکشن‘‘ خواص و عام ہر دو طبقوں میں موجود ہے۔ طبقہ خواص میں سے حزبِ اقتدار کے راہنمایان کی کیفیت کچھ یوں ہے کہ جس روز وزیرِ اعظم لاہورمیں ہوں اور اس روز اخبارات کے دفاتر میں ان رہنمائوں کے ٹیلی فون اور بیانات خاصی کثرت سے پہنچتے ہیں۔ بیانات شائع ہونے کے لیے ہوتے ہیں اور
ٹیلی فون تاکید کی خاطر کیے جاتے ہیں جس میں یہ درخواست بھی شامل ہوتی ہے آج اس کے ساتھ تصویر ضرور شائع ہونی چاہیے۔ بعض ایک تو اس خواہش کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ٹوپی یا اچکن یا ڈبل بریسٹ والی تصویر شائع کی جائے۔ سوشل ورک کرنے والی بیگمات کے اپنے مطالبات ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک طبقہ اور بھی ہے جو ذرا سی ’’سمپاتھیٹک‘‘ صورت حال کو ایکسپلائٹ کر کے اخبار میں اپنا نام شائع کرا جاتا ہے اور اس کی ’’ٹائمنگ‘‘ میں وہ کمال مہارت کا ثبوت دیتا
ہے۔ مثلاً گزشتہ روز ایک صاحب اپنے کسی صحافی دوست کے ساتھ کار میں جا رہے تھے کہ ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ صحافی کو تو بالکل معمولی چوٹیں آئیں، البتہ ان کے دوست جھٹکا لگنے سے کار سے باہر جا گرے۔ وہ کراہتے ہوئے بمشکل اپنے قدموں پر کھڑے ہوئے اور جب انھیں مرہم پٹی کے لیے ہسپتال لے جایا جا رہا تھا، تو انھوں نے نیم مردہ آواز میں اپنے صحافی دوست سے کہا ’’خبر لگوا دینا، احباب کو اطلاع ہو جائے گی۔‘‘ ایک شاعر ہمارے پاس آئے اور بتایا کہ ان کے بڑے بھائی
کا انتقال ہو گیا ہے، ذرا خبر لگا دیں۔ ہم نے کہا لکھ دیجیے۔ انھوں نے کاغذ قلم سنبھالا اور لکھا’’ بر صغیر پاک و ہند کے ممتاز شاعر جناب انور راٹھوروی کے بڑے بھائی انتقال کر گئے‘‘۔ہم نے عرض کی ’’کہ اے برصغیرپاک و ہند کے ممتاز شاعر! آپ کا نام اس خبر میں بجا، مگر اس سے یوں لگتا ہے جیسے آپ فوت ہو گئے ہیں۔ لہٰذا اس مظلوم کا نام بھی لکھ دیں جو فوت ہوا ہے۔‘‘ دروغ برگردن راوی۔ ایک صاحب نے ایک صحافی دوست سے پوری سنجیدگی سے کہا ’’میں پاگل ہوگیا ہوں، ذرا خبر لگا دینا۔‘‘
سو اس معاملے میں اب ہم اتنے ہراساں ہو گئے ہیں کہ جب ہم کسی فوٹو گرافر کو کسی میت کی تصویر اتارتے دیکھتے ہیں، تو اس تصور سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے کہ کہیں مرحوم بہتر پوز دینے کے لیے اٹھ کر نہ بیٹھ جائیں اور مسکرانا شروع کر دیں کہ آخر یہ تصویر صبح اخبار میں شائع ہونی ہے۔٭٭٭
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers