دوسرا سینگ
ساون بھادوں کا وہی مینہ برس رہا تھا جو بھینسے کا ایک سینگ خشک چھوڑ دیتا ہے تو دوسرا پانی سے شرابور کردیتا ہے۔ سڑک کے ایک طرف تڑاکے کی بارش تھی تو دوسری جانب بالکل خشک سماں تھا۔ میں نے موٹر بائیک ایک بوڑھے اور تناور درخت کے نیچے کھڑی کرکے پناہ لے رکھی تھی۔ مجھے اس علاقے میں جانا تھا، جدھر بارش نے جل تھل کردیا تھا۔
بادل بھی بڑے مصروف تھے، قدرت نے ان دنوں ان کے فرائض میں نجانے کون کون سے خطے شامل کر رکھے تھے کہ وہ جلد ہی تیز ہوا کے دوش پر سوار ہونے لگے۔ شاید کہیں اور برسنے جارہے تھے، شاید پانی پینے جارہے تھے۔ شدید بارش تھم گئی۔ میں نے موٹر بائیک کا انجن چالو کیا اور سڑک پر آگیا۔ سڑک کے عین بیچ میں ایک حدِفاصل بن گئی تھی۔ آدھی سڑک خشک اور آدھی پانی پانی تھی۔ میں سڑک کے خشک حصے پر موٹر بائیک چلانے لگا کہ وہاں دور دور تک ٹریفک نام کی کوئی شے نہیں تھی۔ تفصیل سے پڑھیے

مجھے لالا کیفی کے ڈیرے پر جانا تھا۔ میں اپنے چچا کی بتائی ہوئی ساری نشانیاں دہرارہا تھا۔ آم کا پیڑ جس کے نیچے بہت موٹا نلکا لگا ہوا ہے……برگد کا درخت جس کی جٹائیں زمین کو چھوتی ہیں ……شکستہ حال ویران ڈیرا…… بھٹّاخشت کی باقیات…… اب دائیں مڑتی ہوئی سڑک۔ وہ رہا سامنے ڈیرا جہاں کتے لوٹنیاں لگاتے پھر رہے تھے۔ آم کے پیڑ کے بعد سڑک چونکہ جل تھل میں داخل ہوگئی تھی، لہٰذا میں بھی دھیمی رفتار سے چل رہا تھا۔ تیز رفتار ہوا میرے کپڑے اُڑارہی تھی۔ پھر میں لا لا کیفی کے ڈیرے کی طرف مڑگیا۔
کُتے مجھے دیکھ کر دور ہی سے بھونکنے لگے……گویا کہہ رہے ہوں کہ عافیت چاہتے ہو تو جہاں سے آئے، وہیں لوٹ جاؤ۔ میں ڈیرے کے اور قریب پہنچا تو کتے ڈیرے سے باہر آنے لگے، پھر کسی کی ڈانٹ پر واپس چلے گئے۔  میں نے موٹر بائیک ڈیرے میں داخل کر دی۔ یہ ایک وسیع و عریض ڈیرا تھا۔ عمارت کے برآمدے میں ایک ضعیف اور عمر رسیدہ شخص ایک لاچار گھوڑی کا زخم صاف کررہا تھا۔ اس نے بنیان پہن کر چادر باندھ رکھی تھی۔  ”مجھے لالا کیفی صاحب سے ملنا ہے۔“علیک سلیک کے بعد میں نے کہا۔
جواب ملا”بندہ حاضر ہے، حکم کریں۔“  میں نے ذرا فرصت اور توجہ کی درخواست کی تو انھوں نے مجھے چارپائی پر بٹھایا۔ وہ گھوڑی کا زخم دوا سے صاف کرچکے تھے۔ پھر انھوں نے اس پر پائیوڈین الٹ دی۔ لالا نے گھوڑی کو تھپکی دی تو اس نے مڑ کر انھیں دیکھا اور اپنی کنوتیاں ہلاتے ہوئے ہنہنانے کی ناکام سی کوشش کی۔ لالا نے ہاتھ دھوئے اور قمیص پہنی۔ پھر انھوں نے مجھے ایسی لذیذ چھاچھ پلائی کہ امریکا اور افریقا سے دَر آئے ہوئے تمام شہری ریستوران میرے نگاہوں کے سامنے بجھ گئے، جن کے فرش پر بندے پھسلتے ہیں اور ان کے باہر رنگ و روغن پر قمقمے جگ مگ جگ مگ کرتے ہیں۔ اس بہشتی مشروب کا ایک بڑا پیالہ پی کر پیٹ میں اور گنجائش باقی نہ رہی۔
”اور پیو جوان آدمی ہو۔“ لالا نے میری طرف ایک اور پیالہ بڑھایا۔ ”نوازش……میں سیر ہوچکا، آپ پی لیں۔“
انھوں نے چھاچھ پی اور مجھ سے بڑھ کر پی۔ اسی وقت میری نظر اس لاچار گھوڑی پر پڑی جو اب ڈیرے کی کگر پر اُگی گھاس چر رہی تھی۔
”لالا صاحب! اس بے چاری گھوڑی پر کیا بیتی ہے؟“
”خدا جانے کیا بیتی ہے۔“ وہ بولے: میں تو یہ جانتا ہوں کہ اس کے مالک نے اسے بوڑھا اور کمزور ہونے پر دھتکار دیا ہے۔ اب یہ زندگی کے دن یہاں پورے کررہی ہے۔“
پھر میں نے انھیں بتایا کہ مجھے کیا شوق چرایا ہے۔ میں وہاں ان سے ”دم“ سیکھنے گیا تھا۔ میرے خالو جنگ
میں زخمی ہوئے تھے تو ان کی ٹانگ کا گھاؤ مندمل نہیں ہوتا تھا۔ ملٹری ہسپتال کے قابل سرجنز آخرکار ان کی ٹانگ کاٹنے پر مصر تھے۔ خالو کے ایک دوست کو کسی نے لالا کیفی کے متعلق بتایا کہ جنگ میں اور سرحد پر زخمی ہوجانے والوں کے لیے ان کے پاس ایک تِیر بہدف دم تھا۔ لالا نے پانی پڑھ دیا۔ وہ پانی خالو کو پلاتے رہے۔ زخم بھرتا چلا گیا اور دیس پر دیس کے پڑھے ہوئے ماہرین دم بخود رہ گئے۔ پھر اسی طرح ہمارا ہم سایہ”سلامت بھی چند سال پہلے سرحد پر گولی کا شکار بنا تھا۔ یہ واقعہ صحرا میں پیش آیا تھا۔ رینجرز کے حکام نے موسم سرما میں اسے چار ماہ کے لیے صحرا میں تعینات کردیا تھا۔ وہ رات کو اونٹ پر سوار ہوکر سرحد کے ساتھ ساتھ راؤنڈ لگا رہا تھا کہ اچانک اندھیرے میں اندھی گولی اُس کے ایک پٹھے میں گھسگئی۔ یہ گولی دوسرے ملک کے اسمگلر نے چلائی تھی کہ راستہ صاف ہو۔ اونٹ سے اترکر وہ ریت پر گر پڑا۔ وہاں ریت گندی تھی، زخم میں تعفن پھیل گیا۔  ڈاکٹر مایوس ہونے لگے۔ کسی نے لالاکیفی سے دم کیا ہوا پانی لا دیا۔ مالک نے شفا دی۔ اللہ الطبیب۔
اسی طرح جنگ میں میرے دوست کے والد نے جنگل میں دشمن کی گولی کھائی۔ ساتھی نے چراغ کی لو پر خنجر گرم کرکے اس کے جراثیم ختم کیے اور گولی نکال دی۔ فضا میں بارود اُڑ رہا تھا۔ ایک مچھر جو بارود آلود تھا، شفایاب ہونے پر فوجی کی آنکھ میں گھس گیا۔ آنکھ میں السر ہوگیا۔ ماہرین امراض ِ چشم نے چند دن کا وقت دے دیا کہ اگرزخم درست نہ ہوا تو پھر مجبوری میں آنکھ باہر نکال دیں گے تاکہ زخم دوسری آنکھ کی نور کی ڈوری متاثر نہ کرے۔فوجی کے بھائی نے لالا کیفی کا بتایا تو فوجی بہت ناراض ہوا۔ وہ ان تمام باتوں کو ڈھکوسلے قرار دیتا تھا۔ پھر بھی چوری چوری فوجی کو دم کیا ہوا پانی پلایا گیا تو مالک نے شفا دی۔ اور فوجی آخر کار اپنے نظریات و عقاید پر نظرثانی کے لیے مجبور ہوگیا۔
میں نے لالا کو دل کا مدعا بتایا کہ میں اب عملیات سیکھ رہا ہوں۔ میں یہ عمل سیکھنے کا شائق ہو۔
لالا سوچ میں پڑگئے”کس راہ پر چل نکلے ہو؟“
”بس جی ……سیکھنے کا شوق ہے، طلب گار ہوں، مہربانی کریں۔“
”اوکھے پینڈے نیں۔“ لالا نے کہا۔
”میں تیار ہوں۔ چلہ کشی، وظائف واوراد، پھر پرہیز جمالی اور جلالی۔“
”بابو!تم نے بہت دیر کردی۔“ لالا بولے۔
میرا دل دھک سے رہ گیا۔ میں نے سوچا، یہ عمل بھی کسی خاص ساعت میں سیکھا اور سکھلایا جاتا ہوگا، شاید دیر ہوچکی تھی……ہو نہ ہو سکھانے کی عمر ہی بیت گئی ہوگی۔
لالا نے مجھے سمجھایا”میرا عمل سیکھ کر اب کیا کرو گے؟ میرا دم کیا ہوا پانی دشمن کے دیے ہوئے زخم مندمل کرتا ہے۔ دشمن سے اب کھل کر لڑائی ہماری ہوتی نہیں۔ اب ہمارے اپنے ہی ہمارے دشمن ہیں۔ ملک میں مسلسل خانہ جنگی ہورہی ہے۔ گھر کے لوگ ہی ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہیں۔ میرا دم کیا ہوا پانی اپنوں کے دیے ہوئے گھاؤ مندمل نہیں کرسکتا کیوں کہ اپنوں کے دیے ہوئے گھاؤ بہت گہرے ہوتے ہیں، روح تک گہرے۔“
اسی وقت بادل گرجا اور بجلی کوندی۔ میں سمجھا کہ شاید ساون بھادوں کا مینہ اب بھینسے کا دوسرا سینگ بھگورہا تھا……مگر ایسا نہیں تھا۔
بھینسے کا دوسرا سینگ خشک تھا۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers