سن 2010 میں ایک سپر نووا یا پھٹ جانے والے ستارے کی بے پناہ روشنی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اب تک یہ ایک معمہ تھا کہ اس دھماکے سے اس قدر روشنی کس طرح برآمد ہوگئی۔ تاہم اب یہ معمہ حل ہو گیا ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس دھماکے سے برآمد ہونے والی اصل روشنی سے کہیں زیادہ زمین پر اس لیے ریکارڈ کی گئی تھی، کیوں کہ اس سپرنووا اور زمین کے درمیان ایک گریویٹی لینز پایا جاتا ہے۔ تفصیل سے پڑھیے
سن 2010ء میں ایک پہلے سے زیرمطالعہ ستارے کا زبردست دھماکا ریکارڈ کیا گیا۔ سپرنووا پی ایس ون۔ ٹین اے ایف ایکس کے بارے میں ابتدا میں یہ کہا گیا تھا کہ شاید یہ کسی ستارے کی ایک دھماکے سے تباہی کا کوئی نئی طرز کا واقعہ یا کسی نئی طرح کا دھماکا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس دھماکے کے نتیجے میں زمین پر ریکارڈ کی جانے والی روشنی اس روشنی سے کہیں زیادہ تھی، جو اس حجم کے کسی ستارے کے دھماکے سے وجود میں آتی ہے۔ تاہم اب سائنسدانوں کو کہنا ہے کہ اس سپرنووا اور زمین کے درمیان موجود گریویٹیشنل یا کوسمِک لینز کی موجودگی کی وجہ سے اس روشنی کو زمین پر اس کے اصل سے تیس گنا زیادہ محسوس کیا گیا۔ بتایا گیا تھا کہ اس دھماکے سے پیدا ہونے والی روشنی سورج کی روشنی سے ایک سو بلین گنا زیادہ تھی۔
اس نئی تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ اس دھماکے اور زمین کے درمیان ایک اور کہکشاں موجود ہے، جس نے اپنے زمان و مکان پر اثرات کی وجہ سے ایک لینز کا سا کردار ادا کرتے ہوئے اس روشنی کو زمین پر موجود ناظر کے لیے بڑھا دیا تھا۔
محققین کے مطابق یہ سپرنووا پی ایس ون۔ ٹین اے ایف ایکس، ٹائپ ون اے دھماکا تھا، جو زمین سے نو بلین نوری سالوں کے فاصلے پر ہوا۔ اس نئی تحقیق سے سائنسدانوں کو کائنات کے پھیلاؤ کی وضاحت میں بھی مدد ملے گی، کیوں کہ کائنات کس رفتار سے پھیل رہی ہے، یہ خود ایک بہت اہم اور دقیق سوال ہے۔
واضح رہے کہ سپرنووا کسی ستارے کا ایک ایسا دھماکا ہوتا ہے، جو کسی ستارے کی تباہی کے باعث ہوتا ہے۔ ٹائپ ون اے سپرنووا کا نام ان دھماکوں کو دیا جاتا ہے، جو کائناتی فاصلوں کو ناپنے کے لیے مطالعہ کیے جاتے ہیں، تاہم ٹائپ ون اے دھماکے میں عروج پر ہر بار روشنی ایک سطح کی ہوتی ہے۔
سائنسدان حیران تھے کہ پی ایس ون۔ ٹین اے ایف ایکس کے دھماکے میں نظر آنے والے رنگ تو دیگر ٹائپ ون اے سپرنووا جیسے ہی تھے، تاہم زمین پر ریکارڈ کی گئی، روشنی ان سے کہیں زیادہ تھی۔ اس کے بعد بعض محققین نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ ممکنہ طور پر یہ ایک نئی طرز کا دھماکا تھا۔ تاہم اب ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس زیادہ روشنی کی وجہ دھماکے اور زمین کے درمیان موجود گریویٹشنل لینز تھا۔
اس گریویٹیشنل لینز کا سراغ ہوائی میں موجود دوربین کی مدد سے لگایا گیا ہے۔ جب کہ یہ نئی تحقیق جرنل سائنس میں شائع ہوئی ہے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers