قننہ انتظامیہ اورعدلیہ کے بعد میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دینے والے پڑھے لکھے بابو ہوں، پچیس، تیس، چالیس اور پچاس لاکھ ماہانہ کی ہوشربا تنخواہ کےعین رزق حلال سے جدید ترین بی ایم ڈبلیو و مرسڈیزگاڑیوں میں گھومنے والے میڈیا پرسن ہوں یا واپڈا کے گودام کا ان پڑھ چوکیدار،اوپر سے نیچے تک سب لوگ جانتے ہیں کہ ان کے اداروں سمیت ہر چھوٹے بڑے ادارے میں ہر دو طرح کےاچھے برے، نیک و بد، ایماندار و جعلساز لوگ پائے جاتے ہیں۔ چرندوں پرندوں اور درندوں کی دنیا ہو یا اشرف المخلوقات کی، ہر دو مخلوق میں ان کی عادات واطواراورطریق واردات مختلف ہوتے ہیں۔افریقی شیر بھارتی شیراورایشین ہاتھی افریقی ہاتھی سےمختلف ہوتا ہے۔سویقیناً پاکستانی میڈیا میں بھی چٹی کالی بھیڑوں، افریقی و بنگالی شیروں،جنوبی افریقی و امریکی مگرمچھوں،فارمی دریائی یا سمندری مچھلیوں کی طرح مختلف الاقسام حق گو فرشتے، ضمیر فروش مافیے، دوغلے دانشور، سہہ طرفی ادیب یا چہار سمتی نقاد بھی موجود ہوں گے۔ میڈیا میں اندر کے معزز دوست  اپنے صحافی بھائیوں کے بارے بخوبی جانتے ہوں گے کہ کون کس نسل کا شیر ہے، کیسے حملہ آور ہوتا ہے، کون تازہ شکار کھاتا ہے،کون مردارخور ہے، کس دریا کا مگرمچھ کیسے نگلتا ہے    تفصیل سے پڑھیں
اور کون سی مچھلی کتنے گہرے پانی میں رہتی ہے۔ لیکن سب سے پہلے ہمیں یہ ضرور ماننا ہو گا کہ جنگل کے معاشرے میں جہاں خوں خوار درندے فطری طور پر یا اپنی بقا کیلئے دوسروں کی جان کے درپے ہوتے ہیں وہاں اسی جنگل میں انسان تو کیا کسی جانور کی جان بچانے کیلئے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے والے فرشتہ صفت انسان بھی موجود رہتے ہیں سو میڈیا میں بھی ڈالروں کی جھنکار پر رقصاں لوگوں کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کا غم اور ملک و قوم کا درد رکھنے والے وطن عزیز کا قابل فخر سرمایہ صاحبان ِعلم و فضل موجود ہیں۔ صرف مجھے ہی نہیں کروڑوں پاکستانیوں کو طلعت حسین، انصار عباسی اور جان اوریا مقبول جیسے سچے صحافیوں کی جرات مند صحافت پر ناز ہو گا۔ میں ڈاکٹراجمل نیازی جیسے کئی درویش صفت کالم نگاروں کے کردار سے بھی واقف ہوں جنہوں نے بارہا دی جانے والی لالچوں اور تمام تر تعلقات ہونے کے باوجود ہاتھ سے سچائی کا دامن نہ چھوڑا اور میرے سامنے حسن نثار ایسے نام نہاد دانشور کا بھی احوال کل ہے جو سپوتِ پاکستان ڈاکٹرعبدالقدیرخان جیسے قومی محسنوں کو دہشت گرد قرار دینے یا دینی اقدار کا تمسخر اڑانے کے حسین جرم کی پاداش میں عالمِ غیب سے اربوں کےانعام کا مستحق ٹھہرا۔لیکن اس حسن نثارجیسوں کےمعاملات سےبخوبی واقف ان کے برادر میڈیا پرسنز کبھی اس بارے حقائق پر زبان نہیں کھولیں گے کہ دس برس قبل کا سوزوکی چلانے والا سفید پوش حسن نثار آج ایکڑوں کے عالی شان محل میں دس کروڑ کے جنگلی جانوروں کا چڑیا گھر بنا کر کیسے رہتا ہے۔ شاید کوئی میڈیا بھی گروپ اپنے تنخواہ دار ذمہ داروں کو ان کے ہم پیشہ ساتھیوں اور گماشین ِ زر کے مکروہ چہروں سے نقاب الٹنے کی اجازت نہیں دیتا ہاں مگر میڈیا سمیت ہر ادارے میں موجود کالی بھیڑوں اور افریقی مگرمچھوں کی وارداتوں کی سچی خون آشام کہانیاں لکھنے والے ہونڈا 70 سواران سچےاورکھرے بلاگرز اور سوشل میڈیا ورک میڈیا لکھاریوں پر گاہے بگاہے چڑھائی ضرور کرتا رہتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ مظبوط اورغیر جانب دارمیڈیا کا کردار کسی بھی ملک و قوم کیلئے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کہ مجموعی طور پر پاکستان میڈیا نے بہت سارے اہم موضوع عوام کے سامنے پیش کیے ہیں اور مہنگائی و کرپشن کا شکار عوام کے مسائل پر آواز پلند کر کےعوامی جذبات کی ترجمانی بھی ہے۔ مگر معذرت کے ساتھ کہنا ہو گا کہ ظلمتوں سے سیاہ  تر امریکہ برانڈ روشن خیالی اور بھارت نوازی کا درس دینے والا میڈیا اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اسلام کے تشخص کو برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام رہا۔ یہ حقیقت ہے کہ میڈیا کے زریعے عوام کو صحیح اورغلط ہر دو راستوں پر لگایا جا سکتا ہے ۔ پاکستان کے تشخص کی علامت “پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاللہ ” کے ایمان افروز نعرے کو بگاڑے بغیر بھی تعلیم کی ترقی اورامن پسندی کی بات کی جاسکتی ہے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ ملالہ معصوم ہے یا گناہگار ، اس کی معصومیت یا ہوس زر کو کس نے اور کیسے کیش کیا، کیا کیجیے اس میڈیا کا جس کی نظر میں باچا خان اور اوبامہ جیسی اسلام دشمن یا سیکولر شخصیتوں کو اپنا آئیڈیل قرار دیکر عالم اسلام اور محبانِ قائد اعظم کے جذبات کی توہین کرنے والی ملالہ پاکستان کےخالقوں سے اہم اور مقدس تر بن جائے۔۔حال ہی میں جاوید چوہدری صاحب کی طرف سے دوسرے صلیبی غلام اینکرز کی تقلید میں قادیانی غدار وطن ڈاکٹر عبدالسلام اور مغربی لاڈو ملالہ یوسف زئی کی حمایت میں کالم لکھنا افسوس ناک ہے۔ افسوس کہ سیکولر مزاج حسن نثار اور مغربی کٹھ پتلی ہود بھائی کی طرح حامد میر صاحب بھی ملالہ ڈرامہ کمپین کا حصہ بنے ہوئے ہیں
sabkuch
بدقسمتی سے مغربی دنیا میں بھی کمرشل میڈیا کا کردار روشن نہیں اور ایک بڑی تعداد میں مغربی عوام اس بات کا اعتراف کرتی ہے کے غلط اور جھوٹی معلومات کے ذریعے عوام کو اپنے مفادات کی خاطر دھوکہ دیا جاتا رہا ہے۔ بعین اسی روش پر گامزن پاکستان میڈیا بھی اپنے سیاسی یا کاروباری فنانسرز کے مفادات کے تحفظ کیلئے کچھ بھی کرتا رہتا ہے۔اس وقت میڈیا کی غیرجانبداری پر تعجب ہوتا ہے جب کسی دھونس یا دباؤ کی وجہ سے لندن سے الطاف حسین حسین کے ٹیلیفون خطاب کو توآدھا گھنٹہ کوریج دی جاتی ہے مگر عمران خان، نواز شریف، منور حسن اور دوسرے قومی رہنماؤں کی سیاسی سرگرمیوں کیلئے پانچ منٹ کا بھی وقت نہیں ہوتا۔ ملالہ کے ساتھ یک جہتی کیلئے صبح دوپہر شام پروگرامز کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر بھی شمع جلاؤ پروگرامز بھی منعقد کئے جاتے ہیں لیکن ڈرون حملوں میں بقول امریکی “غلطی سے مرنے والے” معصوم و بے گناہ بچوں کیلئے ایک تعزیتی جملہ بھی نہیں کہا جاتا۔ انٹرنیشنل پریس اور پاکستانی سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی مصدقہ تصاویر میں شراب و شباب کے ساتھ دیکھے جانے والے “قیدی ڈیلر” انصار برنی کے بھارت نواز نعرے ” جو بھارت کا دشمن ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے، جو بھارت کا دوست ہے وہ پاکستان کا دوست ہے ‘” کا ویڈیو کلپ تو بار بار چلایا جاتا ہے لیکن دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے وحشیانہ مظالم کا مکمل بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے۔ ہاں سوشل میڈیا کے بے ہتھیار لکھاریوں کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے عامر لیاقت حسین کی فحش گالیوں اور انتہائی نازیبا کلمات کی ان قابل تردید ویڈیوز کی کھل کھلا کر تشہیر کی جو یقیناً جیو نیٹ ورک کے کیمرہ مینوں نے ہی ریکارڈ کی تھیں مگر اخلاقی قدر کے ساتھ جینے کا درس دینے والا نام نہاد بااصول ادارہ جیو ابھی تک اسی بدنام زمانہ گالی باز کردارعامر لیاقت کو واپس جیو پر لانے کا کوئی بھی اخلاقی جواز بتانے سے قاصر ہے۔انٹر نیٹ سوشل میڈیا کو اپنےعزائم اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا عدو جاننے والے پاکستانی میڈیا پرسنز کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ اب انٹرنیٹ سوشل میڈیا دنیا کا مقبول ترین میڈیا بن چکا ہے۔ اسی فعال میڈیا کی بدولت اب عوام معلومات حاصل کرنے کے لیے کسی اخبار اور سرکاری یا غیرسرکاری چینلوں کی محتاج نہیں رہی۔ اہم بات یہ کہ یہ سوشل میڈیا نہ صرف دنیا بھر کی نیوز اور معلوماتی سائیٹس سے انفورمیشن حاصل کرتا ہے بلکہ وہ معلومات بغیر کسی دباؤ کے دوسروں تک پہنچائی بھی جاتی ہیں۔ یہ کڑوا سچ میڈیا کو برداشت کرنا ہو گا کہ میڈیا برادری اپنے ہم پیشہ بھائیوں کے گھناونے جرائم چھپاتی ہے مگر سوشل میڈیا پر ان کی کالی کرتوتوں کی تشہیر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی پے۔ میں ذاتی طور پر حامد میر، طلعت حسین، جاوید چوہدری اورانصارعباسی جیسے معزز اینکر پرسنز کی عزت و احترام کرتا ہوں کہ ان صاحبان نے کرپشن اورعدلیہ جیسے اہم قومی اموراور لاپتہ افراد جیسےحساس موضوعات پر بڑی جرات کے ساتھ انتہائی مظبوط آواز بلند کی ہے۔ مگر میڈیا کے ان بڑے ناموں حامد میر یا جاوید چوہدری کی طرف سے انٹر نیٹ سوشل میڈیا کے بارے تنقیدی کالمز لکھنے کی مذمت نہ کرنا بھی درست نہ ہو گا ۔  ممکن ہے کہ اس کی وجہ ان کے اداروں یا سیکولرصحافتی برادری کا دباؤ ہو۔ لیکن میرے مطابق اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ میڈیا کے لوگ اپنی میڈیا برادری کے نمائندوں پر انٹرنیٹ سوشل میڈیا کی فری سٹائل شدید تنقید اورعین جائزغصہ برداشت نہیں کر پا رہے۔ لہذا پاکستان میڈیا کو یہ حقیقت مدنظر رکھنی ہو گی کہ انٹرنیٹ سوشل میڈیا عوام کی خالص آواز ہے۔سو ان کے میڈیا پروگرامز اور میڈیا پرسنز پر اس سوشل میڈیا کی تنقید ہی دراصل عوام کا براہ راست اور خالص ردعمل ہے۔ ماضی کے حالات و واقعات سےماننا پڑے گا کہ حامد میر صاحب صدربش اور اوبامہ جیسےامریکی صدوراوردنیا بھر کی تمام اینٹی ٹیررسٹ ایجنسیوں سے زیادہ طاقتوراورباخبرانسان ہیں۔ سوائے اللہ کی ذات کے کون جانے کہ وہ کون سے “جادوئی ذرائع” تھے کہ وہ دنیا کے تمام طاقتورفرعونوں کومطلوب اسامہ بن لادن جیسے اس “موسٹ وانٹڈ ٹیرسٹ ” کےانٹرویو کیلئےاس خفیہ ترین مقام تک بھی پہنچ گئے جس کے بارےدنیا کے طاقتور ترین ممالک کی خفیہ ایجنسیاں بھی بے خبر تھیں۔ اب یہ بات تو حامد میر صاحب ہی بتا سکتے ہیں کہ وہ کون سی ماورائےعقل  روحانی یا طاقتیں تھیں جن کے خوف سے صدر بش جیسے دنیا کے طاقتور ترین شخص نے بھی حامد میر صاحب سے اسامہ بن لادن کےاس مقام کا پتہ پوچھنے کی جرات نہیں کی۔ مین اسٹریم میڈیا کے صاحبان  یاد رکھیں کہ عمل اور ردعمل ہمیشہ برابر چلتے ہیں لہذا امید رکھنی چاہیے کہ معزز ارب پتی میڈیا پرسنز کی طرف سے خاک نشیں انٹر نیٹ سوشل میڈیا پر مذید حملے نہیں ہوں گے ورنہ خبرستان مافیہ کے ارب پتی تاجروں کیلئے سوشل میڈیا کے سفید پوش فقیروں کے اس خالص عوامی ردعمل کو روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہو سکتا ہے۔ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری امن کی آشا نہیں برابری کی سطح پر اس “امن کی امید” رکھتے ہیں جس میں وطن عزیز کی خودمختاری اور ہمارے اسلامی تشخص پر حرف نہ آئے۔ حکومت میں شامل بال ٹھاکرے برانڈ سیاسی کرداروں کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دیے جانے کے باوجود ہم بھارت کو اس خطے میں “اپنا باپو “نہیں مان سکتے کہ ہمارے آبا و اجداد اور ” ابا جان ” نے ہمیں پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاللہ کا وہ نا بھولنے والا ملی نعرہ دیا جو ہماری قومی اور دینی شناخت بھی ہے۔ ہم پاکستان کی سلامتی، پاکستانی عوام اور امن کے خلاف سرگرم دہشت گردوں کی بھی مذمت کرتے ہیں اور ملالہ کو استعمال کرنے یا اس پر اصلی یا جعلی حملہ کرنے والے کسی گروہ کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ لیکن سامراجی و ہندوآتہ کے مفادات کے پیشہ ور محافط میڈیا جادوگر اور دہر کی تاریکیوں میں ڈوبے نام نہاد روشن خیال یاد رکھیں کہ
ہم ۔۔۔۔۔۔ تا با ابد مصطفوی مصطفوی مرتضوی ہیں-
بشکریہ - فاروق درویش

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers