مگرمچھ کا شِکار
مجھے   ملائیشیا آئے دو ہفتے ہوچکے تھے جب ہم نے پہلی بار عظیم پہاڑ اوفر(Mount Ophir)کی پہلی جھلک دیکھی۔ 1276میٹر بلند یہ چوٹی اس وقت بادلوں میں گھری ہوئی تھی اور صبح کے سورج کی کرنیں ان بادلوں کو چیرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ بے انتہا خوب صورت منظر تھا۔ میں شکار بھول کر منظر میں گم ہوگیا۔ ہماری کشتی چوٹی کے قریب ہوتی جا رہی تھی۔ یہ ملاکا کا ساحلی علاقہ تھا۔ جہاں پام کے درختوں سے گھِرا پیغمبر حضرت سلیمانؑ کا محل بھی تھا۔ سبز اور نیلے فریم میں جُڑی چوٹی اب ہمارے بہت قریب تھی۔ بعض مؤرخین اسے ہی بائبل میں مذکور اوفر پہاڑ مانتے ہیں جبکہ بعض افریقا میں موجود ماؤنٹ اوفر کو بائبل کی مذکورہ چوٹی تسلیم کرتے ہیں۔ بحث سے قطع نظر کہ بائبل کی ماوئنٹ اوفر کون سی ہے اس وقت تو ہم صرف یہ جانتے تھے ہماری کشتی کانسی کی طرح چمکتی اس سرخ چوٹی کے بالکل قریب ہوگئی تھی۔ جھاڑیوں اور انواع و اقسام کی بیلوں نے چوٹی کو ڈھانپ رکھا تھا اور اس کے اردگرد بھی گھنا جنگل تھا۔ دریائے مور اس کے بالکل قریب سے گزر رہا تھا اور یہاں ٹمبر کے گھنے جنگلوں کے قریب ہی وہ تاریخی سونے کی کانیں ہیں جو حضرت سلیمانؑ کے دور میں سونے کے لیے مشہور تھیں۔   تفصیل سے پڑھیے
یہاں میں شہزادے ماٹ کا خاص مہمان تھا اور اُس نے اپنی شاہی کشتیوں میں سے ایک میرے لیے مختص کر دی تھی اور اُس کا چیف جسٹس میری میزبانی اور
راہنمائی کے فرائض ادا کر رہا تھا۔ وہ آسانی سے انگریزی بولتا تھا۔ کیونکہ وہ شہزادے کے ساتھ برطانیہ جا چکا تھا اور شہزادے تو ملکہ وکٹوریا کے ساتھ کھانا بھی کھا چکا تھا جس کی کہانی اُس نے مجھے ایک رات بہت بڑھا چڑھا کر بیان کی۔ خیر اس وقت مجھے آپ کو اپنے پہلے مگرمچھ کے شکار کی داستان سنانا مقصود ہے۔ میں ابھی ماؤنٹ اوفر کے طلسم ہی میں گم تھا جب کہ ہماری کشتی ساحل کے قریب پہنچنے والی تھی۔ ابھی ہم ساحل سے ایک میل دور تھے جب چیف جسٹس اور عملے کے تمام لوگ ایک طرف اشارہ کر کے کہنے لگے کہ نشانہ لگاؤ۔ مگر مجھے کچھ بھی وہاں نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں نے نہایت غور سے دیکھا تو مجھے بھی وہاں ایک چھوٹا سا مگرمچھ نظر آیا جس کی لمبائی بمشکل تین فٹ تھی۔ وہ ساحل پر لیٹا ایک درخت کے تنے کے مانند لگ رہا تھا۔ وہ شاید ابھی ابھی پانی سے نکلا تھا کیونکہ وہ کیچڑ سے صاف تھا۔ وہ اپنا سر اُونچا کرکے مشکوک انداز میں اپنی سبز سبز آنکھوں سے ہمیں دیکھ رہا تھا۔ اُس کی جسامت دیکھ کر میں کچھ مایوس ہوگیا کہ وہ بہت چھوٹا ہے۔ میں نے اپنی نہایت طاقت ور رائفل جو میں خاص طور پر مگرمچھ کے شکار کے لیے لایا تھا، ایک طرف رکھ دی اور ریوالور سے اُس کا نشانہ لینے لگا۔ میں نے نہایت احتیاط سے نشانہ باندھا اور گولی چلا دی۔ وہ پانی کی طرف بھاگا اور اس سے پہلے کہ میں دوبارہ گولی چلاتا وہ پانی میں غائب ہوگیا۔ عملے کے ملائی کارکن پُر یقین تھے کہ اُسے گولی لگی ہے۔ مگر میرے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں تھا کہ میرا نشانہ ٹھیک لگا ہے۔
اگلے چند دن میں مجھے مگرمچھوں کے شکار کے بارے میں کافی معلومات ملیں۔ جیسا کہ مگرمچھ کو قریب سے مارنا چاہیے اور نشانہ پکا ہونا چاہیے اور یہ کہ گولی لگنے پر بھی ان میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ واپس پانی میں چلے جائیں۔ اگر زخم کاری ہو، تو دو دن بعد اُن کی لاش سطح پر آ جاتی ہے مگر زیادہ تر مگرمچھ گولی لگنے پر اور زخمی ہونے پر بھی خود کو پانی کے نیچے کسی چٹان یا جھاڑی میں چھُپا لیتے ہیں اور اُن میں سے اکثر زخم بھر جانے پر ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ رائفل کی جس گولی کو میں نے قیمتی جان کر چھوٹے مگرمچھ پر ضائع نہیں کیا تھا وہ دراصل اُس کے لیے ناکافی تھی جبکہ 18سے20فٹ تک کے مگرمچھ کو مارنے کے لیے ضروری تھا کہ دو آدمی ایک ساتھ رائفلوں سے اُسے گولیاں ماریں تاکہ اُس میں اتنی ہمت نہ بچے کہ واپس پانی میں جا کر چھُپ سکے۔
چند روز بعد ہم کشتی میں ٹمبر کے جنگلوں کے قریب مگرمچھ تلاش کر رہے تھے۔ ہم اُن کی اٹکھیلیاں دیکھتے رہے۔ پھر میری نظر ایک بندر پر پڑی جس نے ایک درخت سے ناریل جیسا پھل توڑا اور درخت کے نچلے تنوں پر موجود اپنے ساتھی کے سر پر دے مارا۔ عین اسی لمحے ایک بہت بڑا مگرمچھ جھاڑیوں سے نکلا اور بندروں پر جھپٹا۔ میں نے کشتی رکوا دی۔ وہ ہم سے صرف 20گز دور تھا۔ یوں لگتا تھا کہ وہ کافی دیر سے درختوں کے نیچے ساکت اس انتظار میں لیٹا تھا کہ کوئی بندر اُس کے قریب آئے اور وہ اُسے شکار کرے۔ اُس کی پُشت پر کیچڑ جم چکا تھا۔ ملائی کارکن اپنے سانس روک کر سرگوشی میں بولے ”یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا آپ شکار کرنا چاہتے تھے۔ بڑا، شاندار اور ڈائنو سار کا اصل
رشتے دار۔“ چیف نے مجھے اشارہ کیا اور ہم دونوں نشانہ باندھنے لگے اور پھر میں نے اور چیف نے ایک ساتھ فائر کیا۔ وہ بڑا مگرمچھ جو لوہے کا تختہ لگ رہا تھا ایک دم یوں اُچھلا جیسے اُسے سپرنگ لگے ہوں یا پھر وہ ربڑ کا بنا ہو۔ اُس نے اپنی بڑی دُم زور سے درختوں پر ماری۔ ایک دوسرے سے جڑے درختوں والا جنگل پورے کا پورا ہِل کر رہ گیا۔ اور اس سے ایک چھوٹا بندر اُس کے پاس ہی زمین پر گِر گیا۔ اُس نے اپنا بڑا سا منہ کھولا اُس بندر کو کھانے کے لیے…… مگر بہت سی جھاڑیاں اُس کے جبڑوں میں آ کر ٹوٹ گئیں۔ چیف چلایا اور ”جلدی سے دوبارہ فائر کرو۔ وہ زخمی ہے“ اب مگرمچھ پانی کی طرف بھاگ رہا تھا اور وہ پانی میں اُترنے ہی والا تھا کہ میں نے فائر کر دیا۔ گولی اُس کی پچھلی ٹانگوں میں لگی۔ وہ وہیں رُک گیا۔ ایسے جیسے حیران رہ گیا ہو۔ میں نے جلدی سے اپنا ریوالور نکالا اور اُس کی آنکھ کا نشانہ لے کر گولی چلا دی، گولی سیدھی اُس کی غضب ناک آنکھ میں لگی۔ وہ یوں پلٹیاں کھانے لگا جیسے اُسے کرنٹ لگ گیا ہوا اور پھر ایک دم ساکت ہوگیا۔
کشتی پر موجود سارے ملائی ناچنے لگے۔ پھر اُنھوں نے اُسے رسیوں سے اچھی طرح باندھ دیا اور اسے کشتی میں گھسیٹنے لگے۔ اس دوران شہزادے بھی اپنی کشتی میں وہاں پہنچ گیا اور ہمیں داد اور شاباش دی۔ ملائی ملازم اُس کو شہزادے کے محل سے دو سو گز دور بنے اپنے گھروں کے سامنے لے گئے اور وہاں بڑے میدان میں اُس کی کھال اُتارنے لگے، میں اُس کی کھال محفوظ کرنا چاہتا تھا۔ ابھی اُنھوں نے تقریباً آدھی کھال ہی اُتاری تھی کہ عشا کی اذان ہوگئی۔ تمام لوگ چھٹی کرکے چلے گئے کہ بقیہ کھال اب صبح ہی اُتاریں گے۔
وہاں ایک نہایت عجیب واقعہ ہوا۔ تقریباً ابھی چھے بجے تھے جب میرے کمرے کا دروازہ زور سے بجا۔ میں باہر نکلا تو ایک ملائی حواس باختہ سا وہاں کھڑا تھا۔ اُس نے مجھے فوراً ساتھ چلنے کو کہا۔ جب ہم اُس جگہ پہنچے جہاں گزشتہ رات مگرمچھ کی کھال اُتاری جا رہی تھی تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں اب کوئی مگرمچھ نہیں تھا۔ مگر وہاں ایسے نشانات تھے جیسے کسی پتھر کی بنی ہوئی بڑی سی کشتی کو گھسیٹ کر لے جایا گیا ہو۔ ہم ان نشانات کے تعاقب میں چلے۔ یہ سمندر کی طرف جا رہے تھے اور تقریباً سو گز چلنے کے بعد ہمیں مگر مچھ نظر آگیا۔ وہ خون میں لت پت تھا اور کیچڑ اُس کے خون
سے مل رہا تھا۔ اُس کی اپنی کھال اُس کے گرد یوں لٹک رہی تھی جیسے کپڑے اُتر رہے ہوں۔ ڈھیروں ملائی اس کے اِردگرد کھڑے تھے۔ اُس کی ایک آنکھ اُن کے شور سے کبھی کھُل اور کبھی بند ہو رہی تھی۔ وہ ابھی تک زندہ تھا۔ میں اُس کی سخت جانی پر ششدر رہ گیا۔ میں نے اپنا ریوالور نکالا اور اُس کے نہایت قریب جا کر اس کے دل والی جگہ پر گولی ماری۔ وہ تڑپا اور پھر اُس کی کھلتی بند ہوتی آنکھ ہمیشہ کے لیے بند ہوگئی۔ پھر یہ تسلی کرنے کے بعد کہ وہ واقعی مَر گیا ہے ملائی اُس کی بقیہ کھال اُتارنے لگے۔
اس مہم کے دوران ہی چند دن بعد میرا ایک اور مگرمچھ سے ایسے سامنا ہوا کہ مجھے اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ میں اپنی تحقیق اور تجسس والی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک دن قدیم سونے کی کانوں کی تلاش میں نکلا۔ میں اپنی کشتی میں جنگل کے ساحل کے پاس اُترا، میرے پاس صرف ایک چھوٹا سا شکاری چاقو تھا جو میں نے حفاظت سے زیادہ راستہ صاف کرنے کی نیت سے لیا تھا۔ میں نے چیف کی احتیاط کرنے کی تمام نصیحتوں کو بالائے طاق رکھ دیا تھا۔ میں جنگل میں داخل ہو کر قدیم نشانات اور باقیات کا جائزہ لینے لگا۔ دن بہت گرم تھا اور جلد ہی جنگل تندور کی طرح تپنے لگا۔ چند میل چل کر مجھے راستہ تو مل گیا مگر وہ جھاڑیوں اور کانٹوں سے اس قدر اٹا پڑا تھا کہ مجھے اُنھیں کاٹ کاٹ کر تقریباً نیا راستہ ہی بنانا پڑ رہا تھا۔ میں اپنے ساتھ صرف اپنے چھوٹے سے کتے لیکاس کو لایا تھا۔ جلد ہی میں قدیم کانوں کے قریب پہنچ گیا۔ یہاں میں نے کئی گھنٹے گزارے اور ماضی کی یادداشتوں کو لکھ کر محفوظ کرتا رہا۔ جب میں تھک گیا تو میں نے واپسی کی سوچا۔ مگر اُسی راستے پر واپس آنے کے بجائے میں ندی کے ساتھ ساتھ چلنے لگا جو کانوں سے ہوتی ہوئی ساحل تک جا رہی تھی۔ آدھے گھنٹے تک تو میں آرام سے چلتا رہا۔ تب اچانک ندی چوڑی ہوگئی اور راستہ کیچڑ بھرا ہوگیا جس میں چلنا مشکل تھا اور پھر ٹمبر کے جنگل آگئے۔ اب جڑیں ہی جڑیں تھیں ہر طرف اور مجھے بہت محنت سے آگے بڑھنا پڑ رہا تھا۔ میں تھک گیا تھا اور یوں لگ رہا تھا جیسے کنارے تک پہنچنا ناممکن ہو۔ تب اچانک میرے ذہن میں خیال آیا کہ ایسی جگہ پر مگرمچھ ضرور ہوتے ہیں اور اگر کوئی اچانک نکل آئے تو میں کہاں بھاگوں گا اور صرف ایک چھوٹے سے چاقو
سے اپنا بچاؤ کرنا ایک بڑے عفریت سے، یہ بھی ناممکن تھا۔ مجھے ایک دم جھُر جھُری سی آگئی اور میں اس خیال کو جھٹک کر آگے بڑھنے لگا۔
اچانک میں نے پانی میں کچھ گرنے کی آواز سنی جو زیادہ دور سے نہیں آئی تھی۔ میرا دل ایک دم حلق میں آگیا۔ میں نے پیمر کی ایک جڑ پر پیر رکھے اور مڑ کر دیکھا۔ ایک لمحے کو تو کچھ بھی نظر نہیں آیا اور میں خود کو یہ یقین دلانے لگا کہ وہ آواز صرف میرا وہم تھی۔ مگر اگلے ہی لمحے مجھے صرف چند گز دور ایک بڑا مگرمچھ نظر آیا وہ تیرتا ہوا میری طرف ہی آ رہا تھا۔ میں غیراختیاری طور پر جڑوں پر چڑھ گیا مگر ابھی میں چار سے پانچ گز دور ہی گیا تھا کہ میرا پاؤں جڑوں میں پھنس گیا اور مایوسی نے مجھے گھیر لیا۔ میں نے اپنا چھوٹا سا چاقو مضبوطی سے تھام لیا۔ اُس وقت میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ کاش اس وقت میرے پاس میرا ریوالور ہوتا۔
مگرمچھ تیزی سے میری طرف بڑھ رہا تھا میں ایک بڑی جڑ پرکھڑا ہوگیا۔ دائیں ہاتھ میں چاقو اور بائیں ہاتھ سے ایک شاخ کو پکڑ کر میں خود کو متوازن کرکے کھڑا ہوگیا اور اس کے حملے کا انتظار کرنے لگا۔ میرے زندہ بچ جانے کا امکان کم تھا۔ مجھے لگا میں اس چھوٹے سے چاقو کے ساتھ اُس سے بچنے کی کوشش کرکے اپنا مذاق اُڑا رہا ہوں۔ اُس لمحے میں مجھے بہت کچھ یاد آیا، اپنا گھر، بیوی بچے، مقامی ملائی، کتابیں، ماؤنٹ اوفر اور نجانے کیا کیا…… جو لوگ ایسے جان لیوا لمحوں سے گزر چکے ہیں وہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ایسے لمحوں میں دماغ کس قدر تیزی سے سوچتا ہے۔ خوف اور مایوسی کا وہ لمحہ میں کبھی نہیں بھول سکتا وہ مجھ سے بس چند گز دور تھا کہ اچانک لیکاس کیچڑ میں کودتا وہاں پہنچ گیا۔ جیسے ہی اُس کی نظر میرے دشمن پر پڑی۔ وہ خوفزدہ ہو کر بھونکتے ہوئے پیچھے ہٹنے لگا۔ میری سانس جیسے رُک گئی تھی۔ اچانک مگرمچھ مُڑا اور لیکاس کی طرف بڑھنے لگا۔اب میرا چھوٹا سا کتا آگے آگے بھاگ رہا تھا اور وہ خونخوار مگرمچھ اُس کے پیچھے پیچھے…… میں بے جان سا ہو کر ایک لمحے کو جڑوں پر ڈھے گیا۔ مگر پھر یہ خیال آیا کہ وہ عفریت واپس بھی آسکتا ہے۔ میں اپنی ہمت جمع کرکے اُٹھا اور جڑوں سے اُتر کر ساحل کی طرف بڑھا۔ جب میں ساحل کے قریب پہنچا، تو سر سے لے کر پاؤں تک کیچڑ میں لت پت تھا اور کمزوری اور خوف سے بے ہوش ہونے کو تھا۔ میری قسمت اچھی تھی کہ کتے کے بھونکنے پر چیف چوکنا ہوگیا تھا اور کشتی لیے اسی طرف ہی آ رہا تھا۔ چیف نے مجھے کشتی پر کھینچ لیا۔ اسی دوران لیکاس بھی کشتی پر کودا۔ نجانے وہ اُس عفریت کے خونخوار جبڑوں سے کیسے بچ گیا تھا۔ میرا دل چاہا میں اپنے اس نجات دہندہ کو گلے لگا لوں مگر مجھ میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ اُس کے سر پر ایک تھپکی ہی دے سکوں۔
لیکاس کا پیچھا کرتے مگرمچھ بھی کشتی کے انتہائی قریب آگیا تھا۔ چیف کے کہنے پر عملے کے لوگوں نے اسے گولیاں ماریں مگر وہ پانی میں غائب ہوگیا اور دو دن بعد اُس کی لاش تیرتی ہوئی اُسی ساحل کے قریب اُبھر آئی۔ اُن لمحوں کا سوچتا ہوں، تو آج بھی لمحہ بھر کو لرز جاتا ہوں اگر لیکاس نہ آتا تو شاید آج یہ کہانی آپ کو سنانے کے لیے میں زندہ نہ ہوتا۔
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers