یاسر عرفات جن کا پورا نام ’’محمد یاسر عبد الرحمان عبد الرئوف عرفات ‘‘ ہے۔اپنی کنیت ابو عمار اور مختصر نام یاسر عرفات سے مشہور ہیں، آپ تحریک آزادی فلسطین کے عظیم رہنما رہے ہیں۔24اگست1929 کو مصر میں پیدا ہوئے، آپ کے والد گرامی کا نام عبد الرئوف القدوا الحسینی تھا،جن کا تعلق فلسطین کے علاقے غزہ سے تھا،آپ کے والد نے 25برس تک مصر میں اپنی زمینوں کے حقوق کی جنگ لڑی لیکن ناکام رہے، وہ ٹیکسٹائل کا کاروبار کرتے تھے، یاسر عرفات کی والدہ زاہوا عبد السعود فلسطین کے شہر یروشلم سے تعلق رکھتی تھیںاور 1933ء میں گردوں کی تکلیف کے باعث دار فانی سے کوچ کر گئیں۔اس وقت یاسرعرفات کی عمر صرف چار برس تھی۔
یاسر عرفات پہلی مرتبہ فلسطین شہر یروشلم سات سال کی عمر میں اس وقت پہنچے جب ان کے والد نے ان کو ان کے بھائی فتحی کے ساتھ اپنے انکل کے گھر رہنے کے لیے بھیج دیا کیونکہ یاسر عرفات کے والد سات بچوں کی پرورش کرنے میں مشکلات کا شکار تھے۔ تاہم یاسر عرفات اپنے انکل سلیم عبد السعود کے ساتھ رہنے لگے اور یہاں چار برس تک رہے۔ والد نے یاسرعرفات کو اپنی بڑی بہن کی تیمار داری کے لیے واپس مصر بلایا تاہم اپنے والد کے ساتھ بہتر تعلقات نہ ہونے کی بنیاد پر یاسر عرفات مصر نہ گئے اور جب 1952ء میں یاسر عرفات کے والد کا انتقال ہوا ۔ تفصیل سے پڑھیے
تو تب بھی وہ اپنے والد کے جنازے میں نہ گئے اور نہ ہی اپنے والد کی قبر پر دعا کے لیے گئے، یاسرعرفات کی بڑی بہن انعام نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ یاسر عرفات کو اس کے والد مصر میں بہت مارا پیٹا کرتے تھے کیونکہ یاسر عرفات یہودیوں کی محافل اور پروگراموں میں شریک ہوا کرتے تھے۔ تاہم جب یاسر عرفات سے پوچھا کہ تم یہودیوں کی محافل میں جانے سے کیوں باز نہیں آتے تو یاسر عرفات نے کہا میں یہودیوں کے بارے میں علم حاصل کرنا چاہتا ہوں کہ اور ان کی سوچ کو جاننا چاہتا ہوں۔
1944ء میں یاسر عرفات نے University of King Fuad Iمیں داخلہ لیا اور1950ء میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی،اس کے بعد یاسر عرفات یہودیوں کی جانب سے نشر کی جانے والی کتب اور خصوصاً صیہونزم کے بانی تھیوڈر ہرزل کے نظریات کا مطالعہ کرتے رہے۔جب کہ دوسری طرف یاسر عرفات عرب قومیت کا ایک بہادر سپاہی بھی بن کر ابھر رہا تھا اور فلسطین پر انگریزوں کے تسلط کے حوالے سے بیت المقدس کے دفاع کے لیے بنائی جانے والی ملیشیا میں اسلحہ اسمگل کرنے جیسی اہم ذمے داریاں بھی انجام دے رہے تھے۔
1948ء میں عرب اور اسرائیل جنگ کے دوران یاسر عرفات یونیورسٹی چھوڑ کر اسرائیلی افواج کے خلاف جہاد میں فلسطینی گروہوں کے ساتھ شامل ہو گئے۔ایک طرف عرفات مسلمان فدائین میں اہم ذمے داریاں انجام دے رہے تھے جب کہ دوسری طرف انھوں نے اخوان المسلمون میں شمولیت بھی اختیار کر لی۔یاسرعرفات غزہ میں ایک اہم ترین محاذ پر مصری افواج کے ہمراہ اسرائیلیوں کے خلاف جنگ میں نبرد آزما رہے اور 1949ء میں جب اسرائیلی افواج جنگ پر بھاری ہونے لگیں تو یاسر عرفات وسائل کی کمی اور ذرایع نہ ہونے کی وجہ سے مصر واپس چلے گئے۔
یاسر عرفات نے دوبارہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور پھر یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی طلباء کی جماعت  General Union of Palestinian Students (GUPS)کے صدر رہے اور 1956ء تک صدارت کے فرائض انجام دیے۔بعد میں سوئز کینال پر مصری افواج کے ساتھ معرکوں میں مصروف رہے۔یاسر عرفات ایک مجاہد ہونے کے ساتھ ساتھ الفتح نامی فلسطینی پارلیمانی جماعت کے بانی بھی رہے،اور فلسطین کی آزادی کی خاطر ان گنت خدمات انجام دیں۔
یاسر عرفات کی پوری زندگی مجاہدین کے ساتھ گزری اور غاصب اسرائیلی دشمن کے خلاف برسر پیکار رہے۔ یہاں تک کہ صیہونی غاصب دشمن نے ان کو زہر دے کر شہید کروا دیا، یاسر عرفات کا نام تاریخ میں ایک عظیم فلسطینی رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے ، یاسر عرفات کی جہادی زندگی کی اہم ترین اور منفرد خصوصیت یہ رہی کہ انھوں نے فلسطین کی آزادی کی خاطر قسم کھائی اور عہد کیا کہ وہ تا دم مرگ اپنے جسم سے اسلحہ کو جدا نہیں ہونے دیں گے اور اپنے گلے میں موجود فلسطینی نشانی ’’فلسطینی چفیہ ‘‘(رومال) کو بھی جدا نہیں کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یاسر عرفات وہ واحد رہنما ہیں کہ جنہوںنے اقوام متحدہ کی اسمبلی میں جب خطاب کیا تو ان کے جسم پر ان کا اسلحہ جو مزاحمت کا نشان سمجھا جاتا تھا موجود تھا اور فلسطینی رومال بھی ان کی گردن میں موجود تھا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب یاسر عرفات نے عراق کا دورہ کیا تو حضرت امام حسین کے روضہ مبارک میں داخل ہوتے وقت یاسر عرفات کے جملے تھے اور یہ کہتا ہوا اندر داخل ہو رہا تھا کہ ’’اے امام حسین (ع) سرداران شہداء و جنت، میں جانتا ہوں کہ آپ کی بارگاہ میں داخل ہونے کے آداب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھ رہا ہوں اور اس حالت میں داخل ہو رہا ہوں کہ میرے جسم کے ساتھ میرا اسلحہ موجود ہے جو بالکل آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے آداب کے خلاف ہے لیکن میں آپ سے امید کرتا ہو ں کہ آپ میری اس گستاخی کو معاف فرمائیں گے کیونکہ میں نے قسم کھائی ہے اور عہد کیا ہے کہ میں جب تک فلسطین کو آزاد نہیں کروا لیتا اس وقت تک اپنے جسم سے اس اسلحے کو جدا نہیں کروں گا۔‘‘
ہر انسان کی زندگی میں اتار چڑھائو آتے رہتے ہیں اور اسی طرح کے اتار چڑھائو یاسر عرفات کی جہادی زندگی میں بھی پیش آئے اور وہ یاسر عرفات کہ جنہوںنے جہاد فلسطین میں پیش پیش رہنے کے بعد بالآخر اندرونی اور بیرونی سازشوں کے سامنے حکمت عملی کو بدل دیا اور کیمپ ڈیوڈ جیسے معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے اپنے اسلحے کو امن کی خاطر اور فلسطین کی مظلوم عوام کو بچانے کی خاطر معاہدے کی نذر کر دیا۔ حالات اور اندرونی و بیرونی خاموش سازشوں نے یاسر عرفات کو مجبورکیا کہ وہ امریکا جیسے دشمن کے ساتھ مذاکرات کرنے پر تیار ہو گئے اور بالآخر امریکا اور اسرائیل نے ان کو قتل کروا کر ہی دم لیا۔
بہرحال یاسر عرفات کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا یقینا وہ ایک عظیم اور بہادر رہنما تھے کہ جنہوںنے اپنی جوانی سے ہی انسانیت کے دشمنوں امریکا اور اسرائیل کے خلاف عملی جہاد کیا، یاسر عرفات کا قتل خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یاسر عرفات دشمنوں امریکا اور اسرائیل کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھتے تھے تاہم انھیں راستے سے ہٹانا بہت اہم کام تھا ،۔
یاسرعرفات کے قتل کی منصوبہ بندی کسی اور نے نہیں بلکہ غاصب اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایریل شیرون اور ان کی کابینہ کے اراکین نے مشترکہ طور پر کی جس کا انکشاف خود اسرائیلی روزنامے ’’یدعوت‘‘ نے 2003ء میں شایع ایک رپورٹ میں کیا،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی سلامتی کی کابینہ کے اراکین نے ایک اجلاس میں مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ فلسطینی مجاہد رہنما یاسر عرفات کو قتل کر دیا جائے کیونکہ یاسر عرفات اسرائیل کے لیے خطرہ ہیں۔اجلاس کے دوران شیرون نے یہ مشورہ پیش کیا کہ یاسر عرفات کو قتل کروا دیا جانا چاہیے تا کہ اسرائیل ایک خطرناک دشمن سے محفوظ ہو سکے،شیرون کی اس رائے پر کابینہ کے تمام اراکین نے مثبت جواب دیا لیکن اس وقت کے اسرائیلی وزیر داخلہ شمعون پیریز نے اس منصوبے اور سازش کی مخالفت کی۔
اس اجلاس کے چودہ ماہ کے اندر ہی یاسر عرفات کو قتل کر دیا گیا،کیونکہ اسرائیلی کابینہ نے شیرون کو اختیار دے دیا تھا کہ وہ کسی بھی طرح اس ناپاک منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں اور بالآخر شیرون نے یاسر عرفات کو قتل کروا ہی دیا،حالانہ بعد میں اس سازش کا پردہ چاک ہو گیا۔ جب فرانسیسی تحقیق دانوں نے رپورٹ پیش کی کہ یاسر عرفات کو زہر دیا گیا ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ کس نے دیا؟ہم جانتے ہیں کہ یہ سب کس نے کیا،دنیا جانتی ہے کہ یہ سب اسرائیلی ظالموں اور سفاک دہشت گردوںنے کیا ہے لیکن کیا اس قتل میںملوث اسرائیلی کابینہ کے سفاک دہشت گردوں کو کبھی سزا دی جا سکے گی؟
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers