چائنیز سکالر کنفیوشس کہتے ہیں:
Choose A Job you like and you will never have to work a day in your life.
”یعنی اپنے لئے وہ کام منتخب کیجئے، جو آپ کو پسند ہو.... پھر زندگی میں آپ کو ایک دن بھی کام نہیں کرنا پڑے گا“۔ یہ ایک بہت بڑی حقیقت، سچائی، راز، علم اور خزانہ ہے کامیابی کا۔
آپ نے اپنی زندگی میں اکثر دیکھا ہوگا کچھ لوگ اپنا کام کرتے ہوئے اتنے محو ہوتے ہیں یا بے پناہ شوق سے کرتے ہیں۔دلچسپی اور دلجمعی سے کرتے ہیں کہ انہیں اردگرد کی کوئی ہوش اور پروا نہیں ہوتی۔
آپ نے اپنے آس پاس یا ٹی وی پر دیکھا ہوگا کہ کوئی موسیقار ، سنگر ، قوال یا صوفیانہ کلام پڑھنے والا بہت سرور یا مستی میں گا رہا ہے، آپ کی زندگی میں کوئی ایک آدھ استاد ایسا آیا ہوگا جو اپنے تدریس کے شعبے سے بہت محبت کرتا ہو، تو آپ کو اس سے تعلیم حاصل کرنا زیادہ اچھا لگتا ہوگا۔کئی سپورٹس مین ایسے ہوتے ہیں کہ جب وہ کھیلتے ہیں تو اپنا تن من دھن اس میں جھونک دیتے ہیں، جب سکوائش کے چمپئن جہانگیر خان نے محبت اور دلجمعی سے سکوائش کے کورٹ میں قدم رکھا اور سرحد جیسے ایک نسبتاً کم ترقی یافتہ صوبے سے چلا اور کتنی مدت تک سکوائش کی دنیا کا ناقابلِ شکست ورلڈ چمپئن رہا۔    تفصیل سے پڑھیے

نصرت فتح علی خان فیصل آباد سے چلا تو سُرکے بل بوتے پر پوری دنیا کو مسحور کر دیا اور جاپانیوں کا دیوتا ٹھہرا۔عبدالستار ایدھی بے سروسامانی کی حالت میں گھر سے نکلا، فٹ پاتھوں پر سویا، سوکھی روٹیاں کھائیں، لیکن ذہن میں ایک جذبہ تھا، انسانیت کی خدمت اور پھر وہ وقت آیا جب دنیا کا سب سے بڑا ایمبولینسز کا نیٹ ورک بنا لیا، اور گینز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ میں نام آیا اور انسانیت کی خدمت کا نشانہ ٹھہرا، منحنی سا، پتلا دبلا وکیل اٹھااور اس سلطنت سے مسلمانوں کے لئے ایک الگ خطہ ءارض حاصل کرلیا جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔بل گیٹس کو ہاورڈ کی انتظامیہ نے یونیورسٹی سے نکال دیا، لیکن ایک وہ وقت آیا کہ امریکن صدر کو کہنا پڑا کہ امریکہ بل گیٹس کا ملک ہے کہ امریکہ کی پہچان بل گیٹس بنا۔غرض وہ پکاسو ہو۔صادقین، الیگزینڈر دی گریٹ ہو یا شیرشاہ سوری ، غالب ہو یا شیکسپئر، ایڈیسن ہو یا کولمبس،آپ جانتے ہیں ان سب لوگوں میں ایک خوبی ایک جیسی تھی، جس نے ان کو کامیابی کی اس منزل تک پہنچایا کہ ہم آج ان کی مثالیں دے رہے ہیں۔
جی ہاں وہ راز یہ تھا کہ وہ پہچان گئے تھے کہ قدرت نے ان کے اندر کون کی چِپ فٹ کی ہے۔کون سا سا فٹ ویئر انسٹال کیا ہے۔ان کے اندر اصل پروگرام کون سا ہے۔تو جیسے ہی انہوں نے یہ راز پا لیا تو وہ اس فن یا ہنر کے ماہر بننے چل پڑے، پھر چاہے کچھ ہوا، انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، بلکہ دنیا انہیں پیچھے سے دیکھتی رہی اور وہ بہت بلندیوں تک پہنچ گئے۔
اسی طرح ڈاکٹر بھی دو طرح کے ہوتے ہیں جن کو ہم مسیحا کہتے ہیں۔یہ مسیحا جان بچا بھی سکتا ہے اور جان لے بھی سکتا ہے۔مَیں خود ایک واقعے کا چشم دید گواہ ہوں کہ لاہور کے ایک بہت بڑے ڈاکٹر صاحب تھے۔مریض اور رپورٹ دیکھنے کے بعد کہنے لگے کہ بھئی آپ کا تقریباً ایک مہینہ رہ گیاہے جو کرنا ہے کر لیں۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسے کسی شخص کو مسیحا کہلوانے کا حق ہے۔جس کو یہ سمجھ و فراست نہیں کہ ڈاکٹر کا ایک ایک لفظ مریض کے لئے زندگی یا موت کا پیغام ہوتا ہے۔اس کے ایک لفظ سے وہ کھل سکتا ہے یا مرجھا سکتا ہے۔اصل میں ان ڈاکٹر صاحب کو کسی نے گائیڈ نہیں کیاکہ بھئی پہلے تو آپ کو اس شعبے میں آنا نہیں چاہیے تھا، اگر آپ میڈیکل کی تعلیم حاصل کر ہی بیٹھے تھے تو پریکٹس کرنا ہی کیوں ٹھہرا، آپ جناب میڈیکل ایجوکیشن کی فیلڈ میں چلے جاتے۔یا میڈیکل ریسرچ میں طبع آزمائی کرتے یا کوئی ملٹی نیشنل فارماسوٹیکل جوائن کر لیتے کہ بھئی ڈاکٹر بننے کے لئے صرف میڈیکل کی کتابیں پڑھ کر ڈگری حاصل کرنا اور پھر بے بس اور لاچار مریضوں کو زندگی کی امید دلانے کی بجائے ان کو موت کے پروانے دینا کہاں کا انصاف ٹھہرا، جو پہلے ہی موت کی کشمکش میں ہے، اگر اس کو کوئی بات بتانا ہی ٹھہری تو اس کے عزیزوں کو الگ لے جا کر فرمایئے۔
مَیں نے اکثر دیکھا ہے کہ کچھ ڈاکٹر اتنے ہنس مکھ، خوش گفتار اور بھلی شخصیت کے مالک ہوتے ہیں کہ جیسے ہی مریض کی طرف مسیحانا نظروں اور مسکراہٹ سے دیکھتے ہیں مریض کی آدھی بیماری رفوچکر ہو جاتی ہے اور وہ اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتا ہے ۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ فطرت اسے ڈاکٹر ہی بنانا چاہتی تھی اور اس میں میڈیکل کی چپ لگا کر بھیجی اور اس نے وہی شعبہ منتخب کیا جسے طبعاً وہ پسند کرتا تھا اور اول الذکر ڈاکٹر صاحب حادثاتی طور پر یا کسی کے کہنے پر اس فیلڈ میں آ گئے، اس لئے مریضوں میں امید کی بجائے مایوسی بانٹنے لگے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر آپ نے صحیح شعبہ اپنی میلانِ طبع کے مطابق اختیار کیا تو وہ کام آپ کا شوق بن جائے گا اور شوق کے کام تو انسان دلچسپی سے ہی کرتا ہے اور اس سے کامیابی بھی یقینی ہوتی ہے، کیونکہ وہ صحیح راستے اور سمت پر ہوتا ہے۔
ایک امریکن ایک دفعہ پاکستان آیا وہ اپنی گاڑی خود چلا رہا تھا، راستے میں گاڑی کا انجن بند ہوگیا، اس نے بہت کوشش کی، لیکن انجن چالو نہ ہو سکا، اسی اثناءمیں ایک موٹر مکینک وہاں آ نکلا۔امریکن نے اسے اپنی پریشانی بتائی تو پوچھا کہ کیا وہ اس کی مدد کر سکتا ہے۔مکینک نے کہا کیوں نہیں اور بونٹ اٹھا کر 5ضربیں لگائیں اور انجن دوبارہ چالو ہوگیا، امریکن نے بڑی گرمجوشی سے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا جناب آپ کی فیس؟ مکینک نے کہا 100ڈالر، امریکن نے پوچھا وہ کس بات کے، مکینک نے جواب دیا، 5ڈالر ضربیں لگانے کے اور 95 ڈالر یہ جاننے کے لئے کہ خرابی کہاں ہے۔امریکن نے شرماتے ہوئے فیس ادا کی اور چل پڑا، یعنی کام آپ کی دلچسپی کا ہو تو آپ اپنے شہر میں یکتا ہو سکتے ہیں اور اپنی مرضی کی فیس بھی لے سکتے ہیں۔کچھ لوگ کہتے ہیں ہم نے بہت محنت کی، لیکن رزلٹ نہیں ملا ،تو سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ انہوں نے کس طرح محنت کی۔اگر آپ پوری توانائی سے پشاور کی طرف دوڑ رہے ہیں اور دن رات دوڑ رہے ہیں،اگر آپ نے جانا کراچی ہے تو کیا آپ کراچی پہنچ سکتے ہیں، کبھی نہیں۔ آپ افغانستان تو پہنچ سکتے ہیں، لیکن کراچی نہیں، کیونکہ آپ کی سمت درست نہیں، یعنی صحیح سمت میں محنت کرنا پڑے گی اور اس میں مہارت حاصل کرنا ہوگی۔مثال کے طور پر ایک شخص ایک بڑا پتھر اٹھانا چاہتا ہے، بہت زور لگانے کے بعد بھی اپنی جگہ سے نہیں ہل رہا، لیکن دوسرا شخص اسی پتھر کو بہت تھوڑی محنت کے ساتھ لیور لگا کر اپنی جگہ سے اٹھا سکتا ہے، یعنی محنت+ٹیکنیک ....!
اس طرح اگر آپ اپنے گھر میں ایک ہنڈیا میں گوشت پکا رہے ہیں اور وہ آدھ گھنٹے میں گل کر تیار ہو جاتا ہے، لیکن جب آپ کسی پہاڑی علاقے پر جاتے ہیں تو ویسا ہی گوشت گھنٹے سے زیادہ ہو جاتا ہے، لیکن وہ گلنے کا نام بھی نہیں لیتا، دراصل وہاں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے، اس لئے اس گوشت کو گلنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے، لیکن جب اس کی مطلوبہ آنچ پوری اسے مل جائے گی تو وہ ضرور گلے گا، اس لئے آپ بھی صحیح سمت میں اپنی کوشش جاری رکھیں تو مطلوبہ معیار کے پورا ہونے پر آپ کو رزلٹ ضرور ملے گا۔
امریکہ میں ایک ریسرچ کی گئی ۔یہ کل 1500افراد پر مشتمل تھی، تمام لوگ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کاآغاز کررہے تھے، ان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ دولت مند بننا چاہتے ہیں؟ ظاہر ہے سب کا جواب ہاں میں تھا، سب چاہتے تھے کہ وہ دولت مند ہوجائیں، ان لوگوں کے سامنے دو باتیں رکھی گئیں۔ایک ایسا کام جو آپ کی پسند، دلچسپی اور ذوق کے مطابق نہیں، لیکن اس میں آمدنی زیادہ ہوگی اور دوسرے کام میں آمدنی تو کم ہوگی، لیکن وہ آپ کے مزاج اور دلچسپی کے مطابق ہوگا۔
1500میں سے 1225افراد کا کہنا تھا کہ کام چاہے کوئی بھی ہو، چاہے ان کی اس میں دلچسپی نہ بھی ہو، لیکن اس میں آمدنی زیادہ ہو تو وہ کام کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ زیادہ دولت کمانا چاہتے ہیں۔دوسری طرف صرف 255افراد کا کہنا تھا کہ وہ ایسا کام کرنا چاہتے ہیں جو ان کے مزاج، دلچسپی اور ذوق کے مطابق ہو، چاہے اس میں آمدنی کم ہو۔چند سال بعد ان تمام افراد کے مالی حالات کا جائزہ لیا گیا تو دلچسپ اور حیرت انگیز صورت حال سامنے آئی۔ان 1225افراد میں سے جو دولت مند بننا چاہتے تھے، لیکن وہ اپنے ذوق، دلچسپی اور مزاج کے خلاف کام کرنے کو تیار ہوئے تھے۔صرف ایک شخص کروڑ پتی بن سکا، جبکہ ان 255افراد میں سے جو اپنے مزاج کا کام کرنے کے لئے اپنی آمدنی اور دولت کو قربان کرنے کے لئے بھی تیار ہو گئے تھے ،ان میں سے 100افراد ایسے تھے جو کروڑ پتی بن چکے تھے۔
یہ ایک راز اور حقیقت ہے کہ انسان کو قدرت نے جو صلاحیتیں دی ہیں، اگر وہ اصل میں ان کو پہچان جائے(ان صلاحیتوں کو پہچاننے کے طریقے کسی اور آرٹیکل میں بیان کئے جائیں گے) اور ان کو درست سمت میں صحیح استعمال کرنے کا فن جان لے جس میں اس کی دلی وابستگی ہو تو ایسا کام کرتے ہوئے اس کا دل اور دماغ دونوں پوری یکسوئی کے ساتھ کام کریں گے، جس کے نتیجے میں بہترین نتائج حاصل ہو سکتے ہیں، یعنی اگر وہ کسی کام کو بے دلی سے کرے گا تو اس کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں پوری طرح بارآور نہیں ہوں گی۔
Intelligent people always find a way, otherwise they make one.
یعنی ذہین لوگ راہ تلاش کرلیتے ہیں نہ ملے تو راہ بنا لیتے ہیں۔یہ کامیاب طالب علم، کامیاب سائنسدان، کامیاب صحافی، کامیاب کھلاڑی، کامیاب آرٹسٹ، کامیاب صنعتکار، سب اسی فطرت سے پیدا ہوئے جس سے سب پیدا ہوئے۔سب کو زندگی میں ترقی کے مواقع بھی ملے، لیکن کامیاب لوگوں نے وہ راز پا لیا، وہ چپ ڈھونڈ لی کہ فطرت نے ان کے اندر کن صلاحیتوں کے خزانے چھپا رکھے ہیں، جیسے ہی انہوں نے اس ہیرے کی اپنے اندر سے تلاش کرلی تو اسے وہاں سے نکالا اور اپنی محنت اور مہارت سے تراشا اور اس ہیرے کی روشنی سے وہ چمکنے لگے۔
یعنی انہیں اپنے اندر کے خزانے سے وہ ”چپ“ کا ہیرا مل گیا اور وہ ”چپ“ اپنے پروگرام میں انسٹال کی، ان کا پروگرام کامیابی کی شاہراہ پر دوڑنے لگا۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers