حضورﷺ شام کے وقت مسجد نبوی میں اپنے اصحابؓ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ چند نووارد کافر وہاں آئے اور بولے کہ ہم مسافر ہیں۔ ہمارے طعام و قیام کا بندوبست کر دیں۔ اے محمدﷺ! ہم نے سنا ہے کہ آپؐ بڑے مہمان نواز ہیں۔ سب بادشاہوں اور بندوں کے دستگیر۔ حضورﷺ نے یاران کبار کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ آئو ہم سب ایک ایک مہمان آپس میں تقسیم کر لیں۔ چنانچہ سب اپنا اپنا مہمان لے کر گھروں کو روانہ ہو گئے۔ حضورﷺکیلئے جو باقی رہا ،وہ بڑا بدمزاج اور پرخور تھا۔ وہ مسجد میں اس طرح پڑا رہا جیسے جام میں میل۔ حضورﷺ اس کو اپنے ہاں لے گئے۔   مزید پڑھیے

 اس وقت آپ کی سات بکریاں شیردار تھیں۔ وہ تمام کا دودھ پی گیا اور گھرمیں جتنا کھانا پکا تھا وہ بھی شرارت سے چٹ کر گیا۔ حضورﷺنے اسے علیحدہ سونے کیلئے حجرہ دے دیا۔ خادمہ کو اس کی شرارت پر بڑا رنج تھا۔ وہ آئی اور دروازہ باہر سے بند کر گئی۔آدھی رات گزری تو اسے دردشکم ہوا اور دست آنے لگے۔ وہ اندر ہی قضائے حاجت کرتا رہا۔ اس نے تمام کپڑے بھی خراب کر دیئے۔ حضورﷺ نے صبح آ کر دروازہ کھولا اور آواز دی کہ بیدار ہو اور خود عمداً ایک طرف ہو گئے تاکہ وہ شرمندہ نہ ہو دروازہ کھلا دیکھ کر وہ آہستگی سے باہر نکلا اور نظر بچا کر بھاگ گیا۔ ایک شخص اس کافر کے نجس کردہ کپڑے حضورﷺکے سامنے لے آیا اور بولا دیکھئے حضرت! اس شخص کے کرتوت۔ آپؐ ہنسے اور فرمایا کہ کچھ فکر نہیں۔ لائو میں ان کپڑوں کو اپنے ہاتھ سے پاک کروں۔ صحابہؓ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! ہماری جانیں اور جسم آپؐ پر قربان۔ یہ ناپاک کپڑے ہم دھوئیں گے کیونکہ یہ ہاتھوں کا کام ہے دل کا نہیں۔ ہم دست و پاہیں اور آپؐ جان و دل۔ ہم آپؐ کی خدمت گزاری کیلئے زندہ ہیں۔آپؐ جب ایسا کرنے لگیں تو ہم کس لیے ہیں: مابرائے خدمت تو مے زیئیم چوں تو خدمت میکنی پس ماکنیم حضور ﷺ نے فرمایا جو تم کہتے ہو سچ ہے مگر میرے دھونے میں ایک حکمت ہے، جو ابھی ظاہر ہو گی۔وہ شریر آدمی اپنی ہیکل حجرے میں بھول گیا تھا، جب اسے یاد آئی تو تمام حیا، شرم بالائے طاق رکھ کر واپس لوٹا۔ طمع بری بلا ہے یہ حیا باقی چھوڑتی ہے نہ شرم۔ جب واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ خواجہ کون و مکانؐ اپنے دست ِمبارک سے اس کافر کی نجاست دھو رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر اس کے دل پر بڑا اثر ہوا اور بے اختیار اس کی چیخیں نکل گئیں اور افسوس سے اپنا سر پیٹنے لگا۔ حضورﷺ نے اٹھ کر اسے تسلی دی اور فرمایا کہ کوئی بات نہیں یہ لو اپنی ہیکل: چوں زحد بیروں بلرزید و طپید مصطفی اش درکنار خودکشید یہ دیکھ کر وہ اور بھی شرمندہ ہوا اور معافی مانگنے لگا اور بول اٹھا کہ اسلام برحق اور آپؐ اس کے رسول برحق ہیں۔ جھوٹا میرا دین (کفر) جھوٹا۔کلمہ پڑھا اور مشرف بہ سلام ہو گیا۔ رات کو اس کے سامنے کھانا رکھا گیا ،تو اس نے بہت کم کھایا اور کہا کہ حالت کفر میں میرا دوزخ شکم کبھی نہ بھرتا تھا ،اب نور اسلام نے مجھے سیر کر دیا ہے: حرص و وہم و کافری سرزیر شد ازدہا از قوت مورمے سیرشد (کتاب ’’حکایاتِ رومی:مثنوی معنوی مولانا جلال الدین رومیؒ،) ٭…٭…٭
 
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers