یہ یہ بات کب ،کیوںاور کیسے معلوم ہوئی یاد نہیں، لیکن سمجھ خوب آئی۔ایک شخص نے اپنی مشکلوں سے تنگ آکراللہ علیم الخبیرکی خدمت میں عرض کیا کہ وہ بہت ہی مصیبت زدہ ہے،سب سے زیادہ تکلیف میںہے، اُس کو مصیبتوں سے نجات دلائی جائے۔ حکم ہو اکہ پاس پڑی دوسروں کی مصیبتوں ،اور مشکلات کی گٹھڑیوں میں سے جونسی سب سے زیادہ ہلکی لگے وہ گٹھڑی اُٹھا لو۔فرداً فرداً سب گٹھڑیوں کو جانچنے کے بعد وہ شخص اس نتیجے پر پہنچا کہ اُس کی اپنی گٹھڑی ہی اس کے لیے سب سے مناسب ہے۔ یہاں یہ ارشاد باری تعالیٰ بھی ذہن میں رہے کہ : تفصیل سے پڑھیے
’’اللہ کسی شخص کو اُس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا‘‘ (سورۃ بقرہ :286)
یہ ایک روایت،تمثیل،اورلوک کہانی یا جو کچھ بھی ہے، ہر کوئی اپنی استعدا د یا سمجھ کے مطابق ہی اس سے کوئی نتیجہ اخذ کرے گا۔کیوں؟ اس لیے کہ ہرانسان دوسرے سے اُسی طرح ہی مختلف ہے کہ جیسے ایک ہی درخت کے دو پتے۔یوںہر مخلو ق کو انفرادیت کی یہ عطا اللہ کے بینظیرالخالق (وجود بخشنے والا) اور المصور (صورت بنانے والا) ہونے کی ایک عظیم الشان مثال ہے۔ اللہ کی صفات اور اُس کی تخلیقات کے بارے میں غور و فکر اور تدبرکرنے کی تاکید اسی لیے ہے کہ اس طرح اُس پاک ذات کا الواحد(بے مثل) القہار (مخلوق پر مکمل غلبہ رکھنے والا) اور الرازق(حاجت روا) ہونے پر ایمان پختہ تر ہوتا چلا جائے :
’’اسی طرح اللہ اپنی آیات کی وضاحت فرماتا ہے تاکہ تم تعقل کرسکو ‘‘ (سورۃ بقرہ: 242)
’’اسی طرح ہم کھولتے ہیں اپنی آیات ان لوگوں کے لیے جو تفکر کریں‘‘ (سورۃ یونس:24)
’’ہم نے اسے قرآن عربی بنا کر اتارا تاکہ تم اسے سمجھ سکو‘‘
پہلے ذکر آچکا ہے کہ ہر انسان دوسرے انسان سے مختلف ہے،اس اختلاف کے باعث وہ ا پنی زندگی بھی ایک مخصوص، سب سے مختلف انداز، اورطریقے سے گذارتا ہے۔اور یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ انسانوں کی اکثریت زندگی اپنی پسند کے بر عکس گزار تی ہے یاگزارنے پر مجبور ہوتی ہے۔بہت کم ا ور وہ انسان مثالی ہوتے ہیں ، جو اس سفر کو بھرپور جدوجہد سے ایک منظم انداز میں مکمل کرتے ہیں۔ پتھر کے زمانے کے انسان کی مانندمحض معاش، تحفظ اور ایک چھت کاحصول اُن کا مطمحِ نظرنہیں ہوتا۔وگرنہ اُن میں اور ایک پودے کی جڑ میں کیا فرق جو جبّلی طور پر زمین میں اپنی جگہ بناتی چلی جاتی ہے۔
حقیقی زندگی میں جو انسان محدود سوچ، مخصوص حالات، کسی جسمانی عارضے یامعذوری کے باعث حتی المقدور جد وجہد نہیں کرپاتا وہ اوروںکے مقابلے میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ لیکن اُس کے برعکس ایک مثالی انسان خواہ وہ معذور ،اپاہج ہواپنی خداداد وسیع سوچ، بلند ہمتی، سازگار ماحول اورحوصلہ افزائی کے سبب وہ کچھ کر گذرتا ہے کہ جوایک عام تندرست انسان کے لیے کامیابی اور ہمت کی مثال بن جاتاہے۔حاصلِ کلام یہ کہ قدرت نے انسان کوبہت زیادہ صلاحیتوں سے نوازا ہے اور اُس کی بلند سوچ اُس کی زندگی میںحیرت انگیز مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔
بلند سوچ انسان کو ایسانڈر بھی بناتی ہے کہ کچھ ہی عرصہ پہلے عمر کی پروا کیے بغیر ایک نوے سالہ خاتون نے چھاتے کے ذریعہ ہزاروں میٹر کی بلندی سے چھلانگ لگائی ہے۔اسی طرح ایک شخص بلند عمارتوں کے درمیان یا کسی خطرناک دریا کے اوپربلندی پر تنے رسے پر سے واجبی حفاظتی انتظامات کے ساتھ گذر جاتا ہے۔ سائیکل، موٹر سائیکل، اور کار یا ہوائی جہازکے ذریعہ یابیسیوں اور طریقوں سے حیرت ناک کرتب انجام دیتاہے۔ چندانسانوں میں ایسی ودیعت اللہ کی خاص
نوازش ہوتی جسے وہ ذاتی کا وش سے حیرت انگیز مہارت میں بدل کر ایسے پُرخطر کرتب انجام دیتے ہیں۔ لیکن ایسے جان لیوا کاموں میں خیر کا پہلو کم،شوق،نام و نمود اورپیٹ کادخل زیادہ ہے۔ایسے کام دل کا بہلاواہیں،ان میں حقیقی فلاح کا پہلو کم ہے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ ایسی صلاحیتوں سے زیادہ سے زیادہ مثبت فائدہ اُٹھائے ۔ ابھی چند دن پہلے ایک معذور شخص نے نانگا پربت کی چوٹی سرکی ہے، اور اسی طرح جوانی میںاس چوٹی کو سر کرنے والے شخص نے اب
وہ کارنامہ اَسّی(80) سال کی عمر میں دوبارہ انجام دیا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ آج بہترتکنیک کی فراہمی، جدید علم،اور فی زمانہ ایجادات نے کئی مشکل مراحل کو سر کر لینا آسان ضرور بنا دیا ہے لیکن ایک ایسی مہم کو انجام دینے کے لیے پہاڑ کی طرح اپنی جگہ سے نہ ہلنے والے جس ارادے کی ضرورت ہوتی ہے،اُس کا انحصار صرف اور صرف انسان کی ذاتی بلندسوچ، ہمت وحوصلے پر ہے۔اور یہ سب بھی اللہ ہی کی دین ہے ،اُس شخص کا ذاتی کمال ہے تو وہ صرف یہ کہ اُن خصوصیات کو مثبت سوچ اور بہترین انداز میں استعمال میں لا کر نہ صرف کہ اپنی زندگی بہتر انداز میں گزارے بلکہ عام انسانوں کی زندگی میں بہتری لا ئے، مثلاً فلاح عام کے کام کا اجرا کردے،کسی خیر کے کام میں اپناحصہ ڈال دے۔
اب چندایسے افراد کا ذکر جو جسمانی معذوری کے باوجودتاریخ انسانی میں اہم مقام رکھتے ہیں۔نو صدی قبل مسیح کا مشہوریونانی شاعر ہومر نابینا تھا۔اُس نے اپنی رزمیہ شاعری سے مردہ قوم میں زندگی اور حریت کی روح پھونکی ۔تیمور لنگ مغلیہ خاندان کا جد ِ امجد ، ایک عظیم سپہ سالار ،سفاک فاتح’ لنگ‘ اس لیے کہلایا کہ ایک ٹانگ سے لنگڑا تھا۔ رنجیت سنگھ (1839۔1780) پنجاب کا حکمران ایک آنکھ سے محروم تھا۔ رُوزویلٹ (دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکی صدر)
دونوں ٹانگوں سے معذور تھا۔امریکی مصنف اور ایک متحرک سماجی شخصیت، ہیلن کیلر (1880ئ۔1968ئ) سماعت اور بصارت سے محروم تھیں۔ فورڈ کاروں کا موجد ہنری فورڈ بے اندازہ دولت مند ہونے کے باوجودکوئی ٹھوس غذا استعمال نہیں کرسکتا تھا۔ علامہ اقبال ؒکے ایک نابینا معالج ’حکیم نابینا‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔بلا جواز اور بے رحمانہ امریکی یلغارسے پیشتر ملاعمر جن کی حکومت (خلافت) کے دوران افغانستان کے85 فیصد علاقے میں مکمل امن و امان تھا
اور ہتھیاروں اور منشیات کے استعمال پرمکمل پابندی تھی،اُن کی ایک آنکھ روسیوں کے خلاف جہاد میں جاتی رہی۔ پاکستان کے راناتاب عرفانی،نابینا ہیں لیکن ایک شاعر،ادیب اور سفر نامہ نگار ہیں ۔ دنیا میں ا یسے لوگوں کی بیشتر مثالیں ہیں جنھوں نے جسمانی معذوری کے باوجود ایک فعال زندگی گزاری اور دوسروںکے لیے قابل تقلید مثا ل بھی بنے۔اُن میں درس و تدریس، طب،سائنس، سیاست ، صنعت ،تجارت ،کھیل اور اداکاری جیسے شعبوںسے وابستہ شخصیات شامل ہیں۔ یہاں یہ ذکر
ضروری ہے کہ معذوروں کے علاج معالجے، دیکھ بھال اور اُن کو دوبارہ زندگی کے دھارے میں شامل ہونے میں ہر ممکن مدد دینے والے ادارے مغربی دنیا میںزیادہ فعال ہیں۔ہم مسلمان اس میدان میں کافی پیچھے تھے۔اب چند سالوں سے انفرادی اور اجتماعی طور پر اس طرف بھرپور توجہ دی جارہی ہے۔ ایسے ادارے جو مسلمان ملکوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اُن کو اکثر دینی جماعتیں چلا رہی ہیں یا دین سے شغف رکھنے والی شخصیات۔ اس کام کو افراد لگن،تندہی اور زندگی کا اہم ترین مقصد قرار دے کر اپنے فرائض انجام نہ دیں گے، تو بہتر نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔یہ بے غرض خدمت اور مسیحائی کے ذریعہ سے قرب ِ الہٰی حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیااور اپنی نعمت تم پر تمام کردی‘‘(المائدہ : 5)۔
آپ ﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع کے ذریعہ رہتی دنیا تک کے تما م انسانوںکو کامیاب زندگی گذارنے کا ایک قابل عمل اور مکمل اسلوب عطا فرمایا۔ آپ ﷺ اس عظیم اور مبارک ترین اجتماع میں مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کے سربراہ بھی تھے۔ ایک کامیاب ترین اسلامی ریاست کی بنیاد رکھ کر کاروبار سلطنت کو عام انسانوںکی دینی اور دنیاوی فلاح کا ذریعہ بنانے کاسلیقہ اپنے غلاموں کو عطافرما چکے تھے۔ آپﷺ کے بعد خلفائے راشدین نے اسلامی ریاست کو حضورﷺ
کی اتباع میں، آپﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مزید استحکام بخشا، مملکت کی حدود میں اضافہ کیا ،عدل و انصاف ،صلہ رحمی اور عوام کی بھلائی کی ایسی روشن مثالیں قائم کیں کہ دنیا کی اورکوئی قوم ایسا نمونہ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ حضورﷺ پیوند لگا لباس زیب ِتن فرماتے،اپنے نعلین اپنے ہاتھ سے مرمت فرما لیتے۔حضرت ابو بکر ؓ کا ماہانہ وظیفہ ایک مزدور کی مزدوری کے برابر تھا۔حضرت عمر ؓ خلیفہ ِ وقت، درخت کے نیچے زمین پر اینٹ سر کے نیچے رکھ کر
سو جاتے ۔ حضرت عثمان ؓنے شہادت قبول فرمالی لیکن سرکاری فوج کو اپنی حفاظت کے لیے اس لیے نہیں بلایا کہ مدینہ منورہ کی زمین مسلمانوں کے خون سے سرخ نہ ہو۔ جب حضرت علی ؓ خلیفہ بنے تو آپ ؓکی کوشش رہی کہ مال کے معاملے میں خیانت نہ ہو جائے،عہدو پیمان میں کہیںفرق نہ آجائے،دین کے معاملے اور انصاف کرتے وقت کوئی کمزوری راہ نہ پائے۔اپنے اور گھر والوں کے لیے کم سے کم خرچ لیا۔انصاف کا اس حد تک خیال کہ کاری زخم کی وجہ سے اولادکو
وصیت کی کہ ’’اگر میں گزر جائوں تو صرف قاتل سے قصاص لینا،دوسرے لوگ نہ قتل کئے جائیں۔قاتل کے اعضا نہ کاٹے جائیں۔‘‘ اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ (حضرت عمر بن عبدالعزیز کا شمار بھی خلفائے راشدین میں کیا جاتا ہے) نے خلیفہ بنتے ہی عیش وعشرت کی زندگی ترک کر دی اور اُس سے متعلق سامان پر پابندی لگا دی۔ جن لوگوں سے بنو اُمیہ نے جائدادیں ناجائز طور پر ہتھیا لی تھیں وہ آپ نے واپس کرادیں۔
ایسی پابندیوںاور انصاف پروری کی وجہ سے بنو امیہ کے لوگ آپ کے خلاف ہوگئے اور زہردلوا کر شہید کروادیا۔ خلفائے راشدین یا آپ کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ ؓ کو ہمارے حکمرانوں کی طرح کوئی استثنیٰ حا صل نا تھا۔حضو ر نبی اکرم ﷺ جب صحابہ کرامؓ کے ساتھ تشریف فرما ہوتے تھے تو کوئی نوارد یہ اندازہ نہیں کرسکتا تھا کہ آپ ﷺکہاں تشریف فرما ہیں۔
ان سب پاک مثالوں کو جانتے بوجھتے آج ہم سب نام کے مسلمان ہیں ،اسی وجہ سے دوسروں کی نظر میں بے وقعت،اور ہماری طرح کے بے حس ،صرف ذاتی مفادکو مدِنظررکھنے والے،اقرباپرور،ظالم، ڈکٹیٹر،موروثی حکمران ہم پر مسلط ہیں۔ہماری ذلت کی اہم وجہ مسلکوں میں بٹا ہونا ہے۔
غیروں کے ہاتھوں میں کھیلتے دہشت گرد،شر پسنداور خود کش حملہ آور اسلامی ملکوں میں مسلمانوں کا خون بے دریغ بہا رہے ہیں۔ یہ سب بھی مسلک کا کیا
دھراہے۔ جانتے بوجھتے ہونے کے باوجود کہ ڈور کہاں سے ہلائی جاتی ہے اورکون سی طاقتیںاس تباہی کی ذمے دار ہیںہمارے لیڈر وں کولب کشائی کی ہمت نہیں۔مسلمانوں کے دو متحارب گروہوں کو یہی قوتیںہتھیار اور گولہ بارود فراہم کرکے اپنی اسلحہ ساز فیکٹریاں چالو رکھتی ہیں۔وہ’’کاروبار‘‘ بھی کر رہی ہیںاور مسلمانوں کا شکاربھی۔بم دھماکے، ڈرون یا خود کش حملے میں جومعصوم لوگ مارے جاتے ہیں کیا اُن کا مصرف یہی تھا؟اس سوال کا جواب شائد کسی کے پاس نہیں ہے لیکن پاکستان ،افغانستان اور عراق میں تمام خون خرابہ اور تباہی مشرف اور اُس کے رفقاکے ہاتھوں لائی ہوئی ہے۔
قدرت کی منشا اوراشرف المخلوقات کا یہ کام نہیںہے کہ وہ خود کش حملہ آور بن کربے دریغ خون بہائے اور جنت کا طلب گار بھی ہو۔اُس کوخود مختاری اس لیے نہیںدی گئی تھی کہ اپنے جیسوں کا خون بہا کر عدالت سے موت کی سزا پاکر شرمندہ یا خوفزدہ ہونے کے بجائے دولت کے زور پر سزا سے بچ جانے کے گھمنڈ میںدو اُنگلیوں سے اپنی جیت کا نشان بنا کر اپنی خباثت کو مزید اُجاگر کرے۔یہ نشان وہ بناسکتے ہیں جن کے دل اللہ کے ارشاد کے مطابق پتھر کے ہو گئے ہوں۔لیکن انسان کا دل پتھر سے بھی سخت ہے کہ پتھر میںسے تو پانی پھوٹ پڑتاہے لیکن مشرف جیسے انسان کی آنکھ سے آنسو نہ ٹپک سکے گا۔وکٹری کا نشان بنانے والے حیوانوں کو دیکھ کر اہل ِ ِدل،اور معصوموں کے دل پر کیسی قیا متیں گذرگئی ہوں گی؟کیا اُس وقت اُنھوں نے اللہ کو نہیں پکارا ہوگا؟
باکس
مظلوموں کی آہ اللہ کے دربار میںرائیگاں نہیں جاتی۔ یہ کیسے مسلمان ہیں جنھیں یہ پتا ہی نہیںکہ اُن جیسوں کی بخشش نہیںہے! ،نہیںہے! یہ اُسی جبار اور قہارکا فرمان ہے کہ:۔
’’ جو شخص کسی کو ناحق قتل کرے تو گویا اُس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا ہیــ‘‘(المائدہ :۲۲)
’’آپ ﷺ نے فرمایا جو کوئی ذمی کافرکو( ناحق) مار ڈالے وہ بہشت کی خوشبو نہ سونگھے گااور بہشت کی خوشبو چالیس برس کی راہ تک پہنچتی ہے‘‘ (بخاری) ۔
یعنی ایسے شخص کی جو کسی کو ناحق مار ڈالے حدیث کی رو سے بخشش نہیںہے۔جب نام نہاد مسلمان ہی بموں اور خود کش دھماکوں سے عبادت گاہوں میں اللہ کے ذکر میں مصروف ہر عمر اور جنس سے تعلق رکھنے والوں معصوموں اور بے گناہوںکو موت کے گھاٹ اُتاردیں، عمر بھر کے لیے معذور اور اپاہج بنا دیں تو کیااس قبیح ظلم کا سمیع و بصیر اللہ مزید سخت حساب نہ لے گا؟قرآن کی رو سے اس دنیا میں قتل کی سزا قتل ہے لیکن ہمارے ارباب اقتدار نے دوسروں کے کہنے
پر اس سزا پر عمل کرنا روک دیا ہے۔کیا یہ اللہ کے حکم کی صریح خلاف ورزی نہیں؟جب سزا کا خوف نہ ہوگا تو قبیح جرائم میں کمی کیسے واقع ہوسکتی ہے؟امریکہ ،یورپ ،اور دوسرے ملکوںمیں شرح جرائم زیادہ کیوںہے اور سعودی عرب میں اُن سب کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر کیوں؟
ہم اُمت وسطہ اور نبی آخر و نبی ِرحمت ﷺ کے ماننے والے ہونے کے باوجود آج جن ملکوں میں اکثریت میں ہیں۔ وہاں ایک بھی ایسی حکومت نہیں جسے اسلامی
حکومت تسلیم کیاجاسکے۔مسلمان ملکوں میں غیر اسلامی ممالک کے مقابلے میں بد ترین حکومتیں قائم ہیں اور و ہ الواحد (بیمثال )اللہ کے بجائے موجودہ دنیاوی بڑی طاقت کے اشارے پر مسلمانوں پربد ترین انداز میںحکومت کررہی ہیں۔ان موروثی اور صرف دولت کے زور پرحکمران بننے والوںکی اکثریت یہ سمجھنے سے
قاصر ہے کہ جس طرح روس کا حکمران پیٹر دی گریٹ (1682۔1725) اُس وقت کی منحنی روس کی مملکت کے اردگرد کی مسلمان ریاستوں کو باری باری دھونس،دھاندلی،سازش اور لالچ کے ذریعہ اپنے زیر ِ تسلط لایا تھا وہی سلسلہ الجیریا (1992)سے شروع ہوا۔وہاں جمہوری عمل کے ذریعہ اکثریت حاصل کرنے والی اسلامی جماعت کوبزور ِ طاقت زیر کر نے کے بعد ایک اسلام دشمن حکومت قائم کی گئی۔پھر افغانستان میں امن قائم کرنے والی طالبان حکومت کے خاتمے سے لے کر اب تک پاکستان ،عراق، لیبیا، تیونس، مصر، شام میںجوخون بہا یا جا رہاہے اُس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟مسلمان مخالف قوت کا رخ اب شام کی اوٹ
میں ایران کی طرف ہے۔ شام پر امریکی حملے کی صورت میںاگرروس سعودی عرب پر میزائل داغتا ہے( پیوٹن کی دھمکی ۔۲۷ اگست ۲۰۱۳) تو نقصان پھر بھی تو مسلمانوں ہی کا ہے۔اس طرح مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لیے اُن کے خلاف یہ عیسائیوں،یہودیوں اور کیمونسٹوںکی ایک سوچی سمجھی مشترکہ سازش ہے۔ذاتی مفادات اور اپنی ناک سے آگے نہ دیکھ سکنے والے مسلمان حکمرانوں کو اب جاگ جاناچاہئے۔رضا شاہ پہلوی، ضیاا لحق، سوہارتو،صدام،حسنی مبارک،اور مشرف اپنے دور میں بہت مضبوط رہے،لیکن اُن کا انجام؟ اور اُن سے پہلے والوں کا بھی!
المیہ یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کی اکثریت غیر تعلیم یافتہ اورخاص طور پر قرآن سے دور اور لا تعلق ہے اسی وجہ سے عبرت اور رسوائی کا نشان ہے۔ علامہ کو یہی دُکھ تھا:۔وہ زمانے میں معززتھے مسلماںہوکراور تم خوار ہوئے تارک ِقرآن ہوکر قرآن کو ایصالِ ثواب ،حصولِ ثواب اور قسم اور وہ بھی اکثر جھوٹی ،کھانے کے لیے استعمال میںلا کر ایک خوبصورت جزدان میں لپیٹ کر ایک اُونچی جگہ پر رکھ دیا جاتا ہے۔ایک حدیث مبارک کے الفاظ بہت غور طلب ہیں:۔
’’اے اہل قرآن اس قرآن کوتکیہ نہ بنا لینا‘‘۔
ایک مطلب یہ نکلتا ہے کہ قرآن کو پسِ پشت نہ ڈال دینا۔صرف تقدس کا پہلو ذہن میں ہو تو یہی مصرف ہے کہ اس کی موجودگی باعث برکت ہے اور دُلھن کو اس کے نیچے سے گذار کر اُس کے نئے گھر بھیجا جائے۔قرآن کوپڑھنا اور اس سے ہدایت حاصل کرنا کسی اور کا کام ہے۔ ہماری عافیت اسی میںہے کہ قرآن سے تعلق جوڑا جائے یعنی پڑھ کر سمجھاجائے اور پھر اُس پر عمل کیا جائے۔ قرآن سے لا تعلقی محض جہالت ہے۔
انسانوں کی اکثریت یہی خیال کرتی ہے کہ وہ وہی کچھ کرنے پر مجبور ہے جو اُس کے مقدر میں ہے۔ کم ہی لوگ اس بات کو سمجھتے اور اُس پر عمل کرتے ہیں کہ جس کے بارے میںقرآن مجیدمیں واضح ارشاد پاک ہے:۔
’’ اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اُ ُس نے کوشش کی ‘(النجم: 29)
اللہ نے جو نعمتیں انسان کے لیے پیدا کی ہیںاُن سے مستفید ہونے کا صحیح طریقہ اور سلیقہ بھی سکھایاہے۔ اب یہ ا نسان پر منحصر ہے کہ وہ ان نعمتوں کو حلال یا حرام طریقہ سے استعمال میں لائے،مثلًاً انگور کا حلال اور حرام استعمال۔اسی طرح انسان کی قوت ِ ارادی، قوت ِبرداشت ،سوچنے ،سمجھنے اور کسی مسئلے کا حل نکالنے کی صلاحیت حیرت انگیز ہے۔ایک طرف تو وہ برف سے لدے بلند ترین پہاڑوں کو سر کر رہا ہے تودو سری طرف انتہائی گہرے سمندروں میں تحقیقاتی
تجربات میں مصروف ہوکرسر بستہ رازوں کو منکشف کر رہا ہوتا ہے۔انسان کی بہتری اور فلاح کے لیے ایجادات کے ساتھ ساتھ مہلک ترین ہتھیاروں کی تیاری میں بھی اُسی قدر انہماک سے مصروف دکھائی دیتا ہے۔اور کیا یہ اُس کی خصوصیات کے استعمال کا منفی پہلو ہے؟اس میں انسانی فلاح کا پہلو اس قدر ضرور ہے کہ ایک جارح دشمن کے مقابلے کے لیے اور اُس پر دھاک بٹھانے کے لیے اپنے گھوڑے تیار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے(الانفال : ۶۰) اور آج کے زمانے کے گھوڑے
ایٹمی ہتھیار ہیں۔ لیکن اُن کا استعمال جس طرح امریکہ نے جاپان کے خلاف کیا تھا وہ بلاشک وشبہ صریحاً انسانیت کے خلاف تھا۔ اور آج بھی امریکہ اور اُس کے حواریوں نے افغانستان اورخاص طورپرعراق میںمہلک ہتھیاروں کو ڈھونڈنے کا ڈرامہ رچا کر مہلک ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا۔ شام میں جنگ کو مزیدبھڑکانے کے لیے کیمیکل ہتھیاروںکے استعمال کا الزام شامی حکومت پر لگایا جا رہا ہے۔ایران عراق جنگ میں ایران کے خلاف جو گیس عراق نے استعمال کی وہ امریکہ نے فراہم کی۔ پھراُسی گیس سے کردوں کو مارنے کا الزام صدام پر لگا۔
مختصر یہ کہ ہمارے دشمن ہمیں نقصان پہچانے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں ،کیونکہ مسلمان بٹے ہوئے ہیں۔سعودی عرب جس طرح امریکہ کا ساتھ دیتا ہے وہ سب سے زیادہ افسوسناک ہے۔مصر میں بھی سعودی عرب صدرمرسی کے خلاف سب سے بڑا حریف ثابت ہوا۔ اور یہ ہر حال میں مسلم کش طرز عمل ہے۔ہماری حکومت کی یہ مجبوری ہے کہ مصر اور شام سے متعلق امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ پالیسی کے خلاف وہ کوئی بیان نہیں دے سکتی ہے۔ جب کبھی سعودی شاہی خاندان کے خلاف ہوا چلی تو امریکہ حسب روایت اپنی آنکھیں پھیر لے گا۔
ہر کام خواہ اُس کا تعلق تفریح سے ہو، اسلام اصلاح اور فلاح کے پہلو کو مقدم رکھتا ہے ۔صحت بخش تفریح منع نہیںاور :۔
’’اسلام میں تنگی نہیں‘‘(البقرہ : 256)
جس کام میں بھی انسا نیت کی بھلائی ہے وہ عین اسلام ہے،اور ایمان اور عمل صالح کا رشتہ انتہائی قریبی ہے۔عمل ِ صالح کی ابتدا کرنے وا لے کے لیے اللہ کے ہاں بے پایاں اجر ہے۔اُس کے نیک کام کی پیروی کرنے والے کے ثواب میں کمی کئے بغیر نیک کام کے شروع کرنے والے کو پیروی کرنے والے کے برابر ثواب و اجر ملتا ہے۔
’’یہ زمین ،چاند ستارے اور آسمان سب انسان کے لیے بنائے گئے ‘‘(سورۃ بقرہ : 22)
اورانسان کواللہ واحد کے احکامات(عبادت) بجا لانے کے لیے اس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔
’’لوگو!اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم(اُس کے عذاب سے) بچو‘‘ (البقرہ : 21)
آنحضرت محمدﷺ نے اپنے اُسوۂ حسنہ (سورۃ احزاب :21) سے عملی طور مسلمانوں کو عبادت کے مفہوم ، عبادت کرنے اور پاکیزہ زندگی گزارنے کے طریقہ سے روشناس کرایا۔اسلام کوایک نظام یعنی زندگی گزارنے کے طریقے کے طور پر جاری وساری کرنے کے لیے قدرت نے آپ ﷺ کو افضل ترین عنایتوں اور موقع کی مناسبت سے وحی کے ذریعہ راہنمائی سے نوازا۔آپ ﷺ کی بعثت کا مقصدغلبہ دین ہے۔ مدنی سورتوں، سورۃ توبہ آیت33،سورۃ فتح آیت28، اور سورۃ صف آیت 9میں اللہ نے یہ واضح کردیا:
’’وہی اللہ ہے جس نے اپنے رسولﷺ کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تا کہ وہ (رسول) اس ہدایت اور دین حق کو ہر جنس، دین(یا کل ادیان ،نظام ہائے حیات )پر غالب کردے‘‘
آپﷺنے اُس بھاری ذمہ داری کو تمام مخالفتوں،رکاوٹوں، اور دشواریوں کے باوجود نبھایا اور اپنے فرمان اور عمل سے ایک اچھوتانظام زندگی قائم کیا، اُسے احسن ترین طریقہ پر چلا یا۔اُس دین نے انسانی زندگی سے متعلق ہر پہلو اور شعبہ زندگی پر مثبت اثرات مرتب کیے اور جو فیوض و برکات ظاہر ہوئیں اُن کا اثردائمی ہے۔ ریاست کے سربراہ کے طور پر جو بینظیر مثال آپ ﷺ نے قائم کی آپ ﷺ کے خلفائے راشدین نے بھی کمال اطاعت سے اُسے جوں کا توںقائم رکھا۔ آپ ﷺ کے سب ارشادات، فرامین کی اطاعت سب زمانوں کے لیے اور سب کے لیے یکساں ہے،لیکن جب نظام کوشخصی خواہشات کے تابع کردیا گیا تو بگاڑ کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ چل نکلا اور منتج ہوا اُمہ کے بٹوارے اور محکومیت پر۔
آپﷺ کے حکم کے مطابق ایسی عبادت جو حقوق العباد سے غافل کردے خواہ کیسی تسلی بخش ہو نفس کا دھوکہ ہے۔حرام کھانے سے بچنا عبادت،ماں باپ کا ادب عبادت (ادب ایسا کہ ’اُف ‘ کہنے کی ممانعت) ماں باپ کی خدمت عبادت۔ ہمسائے کا خیال رکھنا عبادت،مختصر یہ کہ جو کچھ اللہ کے رسولﷺ سے ہمیں عطا ہوا اُس پر بے کم و کاست عمل عبادت ،اور جس سے پرہیز کرنے کا حکم ملا اُس سے بچنا عبادت۔اللہ کی راہ میں شہادت،عظیم ترین عبادت۔ اسی لیے ارشاد ِ باری تعالی ٰ ہے:
’’تم پر لڑنا (جہاد) فرض کردیا گیاہے حالانکہ وہ تمہیں ناپسندہے، اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہواور(یہ بھی)ممکن ہے کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لیے مضر ہو اور(ان باتوں کو) اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘‘ (البقرہ:216) اس سچائی کو اس طرح بھی دیکھیں کہ ہم ایک چیز کی خواہش ر کھتے ہیں لیکن یہ شعور بھی رکھتے ہیںکہ اُس کا حصول ہمارے لیے سود مند نہیں تو ہمار ا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے ؟ ہم مسلمانوںکو اس میں زیادہ سوچ بچار کی ضرورت نہیں چونکہ ہمیں ایک معیار مہیا کر دیا گیا ہے،ایک جمع تفریق اور قاعد ے کلیے سے بھرپور حل شدہ پرچہ ہمیں میسرہے۔ آئیے عہدکریں کہ ہم کسی اور حل کی طرف دھیان دیے بغیر ابھی سے اپنی بہتری کے لیے عمل شروع کردیں،تا کہ ہر روز دن رات میں پانچ بارِ محشر کے روزشفاعت کے لیے کی جانے والی درخواست شرف ِقبولیت حاصل کرسکے۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو،آمین۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers