یہ رومیوں کا ایک بہت بڑا اکھاڑہ ہے جو تاریخ کا سفر طے کرتا آج یہاں چلا آیا ہے، تاحد نظر غلاموں کے غولوں کے غول ہیں، لگتا ہے ساری دنیا کی نظریں اسی اکھاڑے پر لگی ہوئی ہیں،آقاوں کا ایک مختصر سا ٹولہ منظر سے لطف اندوز ہو رہا ہے، کہیں ایک غلام کو دوسرے سے لڑایا جا رہا ہے اور کہیں جتھے بنواکے جنگیں کروائی جا رہی ہیں،ایک دوسرے کا خون بہایا جا رہا ہے ، غلاموں کی نظروں میں غلامی کی مستی اور غرور جھلک رہا ہے۔ وہ ایک دوجے سے لڑتے ہوئے بازووں کی قوت کو دیکھتے ہیں تو آنکھوں کی چمک مزید بڑھ جاتی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ وہ اشارہ ملتے ہی مزید خون بہانے، کشتوں کے پشتے لگانے کے لئے تیار ہیں۔ میں اس کولوزئیم میں اپنی مرضی سے تونہیں او ر میں کہیں باہر سے بھی تونہیں آیا،میں تو پیدا ہی یہیں ہوا ہوں، یہ میرا گھر ہے، میرے ارد گرد میرے اپنے رشتے دار ، میرے اپنے دوست ہیں مگر پھربھی میں اپنے آپ کو غلاموں کی اس بستی میں اجنبی محسوس کررہا ہوں، میںیہاں موجود لوگوں کی غالب اکثریت کی طرح نہیں سوچ رہا، میں طاقت کو اقتدار کا جواز تسلیم نہیں کر پارہا، میں ان میں سے کسی دھڑے میں شامل ہو کر دوسروں کا قتل عام نہیں کرپا رہا،میرے ارد گرد اس یقین کے ساتھ لڑائی ہو رہی ہے کہ کامیابی مخالفین مر جانے یا کم از کم اس خون سے بھرے اکھاڑے کو چھوڑ کر بھاگ جانے میں ہی ہے۔  تفصیل سے پڑھیے
آہ! اس سے بڑا جبر کیا ہو گا کہ کولوزئیم میں موجود غلاموں کے ذہنوں کو کنٹرول کیاجاتا ہے۔ کسی کو مذہب کے نام پر، کسی کو ریاست اور کسی کو تحفظ کے نام پر، کسی کو لالچ اور کسی کو دھوکہ دے کر۔ میں اکیلا نہیں ہوں، میرے ساتھ کچھ اور بھی ہیں مگراتنے بڑے ہجوم میں خود کو تنہا ہی سمجھ رہاہوں۔میں آگے بڑھتا ہوں،غلاموں کے اس ٹولے سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں جو میرے خیال میں میری بات سن سکتا ہے۔۔ میں انہیں پکارتا ہوں، ایک ، دو کے ہاتھ تھامنے کی کوشش کرتا ہوں تو ان کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ میں دفاعی رویہ اختیار کرتا ہوں، پیار سے پچکارتاہوں، دھیرے سے پوچھتا ہوں کہ تم خون کیوں بہا رہے ہو، جواب ملتا ہے اپنے تحفظ کے لئے، یہ جواب مجھے حیران کردیتا ہے کیونکہ دوسرے فریق کے پاس بھی لڑنے کے لئے یہی دلیل ہے۔ مجھے اندازہ ہونے لگتا ہے کہ یہ دلیل دھوکہ دہی کے سوا کچھ بھی نہیں، دوسروں کا خون اپنے تحفظ کے لئے نہیں بلکہ آقاوں کے قبضے برقرار رکھنے کے لئے بہایا جا رہا ہے، کولوزئیم پر قبضے کو برقرار رکھنے کے لئے ۔
میں ایک غلام سے پوچھتا ہوں کہ تمہیں لڑنے کے لئے کون کہہ رہا ہے، جواب ملتا ہے ، وہ، جو ہم سے بہت بہتر ہیں، ہمارے آقا ہیں، بہت مال دار ہیں، ان کے جسم ترشے ہوئے ،ان کی آنکھیں زیادہ روشن، ان کے ماتھے زیادہ چوڑے، ان کے بازو زیادہ توانااور ان کے رنگ زیادہ گورے ہیں۔ ان کے پاس قیمتی تلواریں بھی ہیں اور وہ انہیں چلانے کا بہترین ہنر بھی جانتے ہیں۔ ہمارے محلے گندگی اور ہمارے خاندان جہالت سے بھرے ہیں جبکہ ان کے محلات باغوں سے سجے ہیں،جہاں پھول کھلتے اور تتلیاں رقص کرتی ہیں، بلبلیں وہاں گاتیں اوران کی لہکتی ، مٹکتی دوشیزائیں پریوں کی طرح نظر آتی ہیں، ہماری عورتیں تو ان کے مقابلے میں چڑیلیں، بچیاں بُھتنیاں لگتی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ وہ تم سے بہتر نہیں کیونکہ ان کے محلات کی رونقیں توان کھیتوں، کھلیانوں اور کارخانوں کی وجہ سے ہیں ، جہاں تم اور تمہارے پیارے دن رات محنت کرتے ہیں، تمہارے چہروں پر سیاہی اس لئے ہے کہ تم دن بھر تپتے سورج میں ہل چلاتے اور کارخانوں کے دھووں میں زندگی بسر کردیتے ہو۔ تمہاری آنکھیں اس لئے روشن نہیں ہیں کہ تمہیں تو اپنے گندے ماحول کی وجہ سے ٹی بی ہوجاتی ہے، جن چمکتی، شاندار تلواروں سے تم مرعوب ہو، ان کی قیمت اصل میں تم ادا کرتے ہو، تمہارے محلے اس لئے گندگی سے بھرے ہیں کہ تمہیں انہیں صاف رکھنے کا شعور اور وسائل ہی نہیں دئیے جاتے، تم نے یہ فیصلہ کرنے کا اختیار اپنے پاس رکھا ہی نہیں کہ پھول کہاں کھلائے جانے ہیں اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کہاں لگائے جانے ہیں۔
غلاموں نے میری طرف حیرت سے دیکھا ، ایک بولا، تم چاہتے ہوکہ یہ فیصلے ہم خود کریں، ہمارے آقاوں نے بتایا ہے کہ فیصلہ سازی تو بہت ہی مشکل کام ہے جو ہم جیسے تھرڈ کلاس لوگ نہیں کر سکتے،وہ درست ہی تو کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی اوقات نہیں بھولنی چاہئے۔ میں نے دور بیٹھے ایک نسبتاً بہتر سمجھ دار نظر آنے والے غلام کی طرف اشارہ کیا کہ کیا یہ فیصلے اس کے ذریعے نہیں ہو سکتے جو تم میں سے ہے۔ ردعمل میرے لئے بہت ہی حیرت بھرا تھا، وہ چیخ پڑے، ہمارے جیسا ایک گھٹیا غلام اب ہمارے فیصلے کرے گا، یہ توکرپٹ بھی ہے اور نااہل بھی ،یہ ہم سے اوپر بیٹھنے کی کوشش کرے گا تو ہم اس کی ٹانگ کھینچ کے نیچے گرا لیں گے، اوپر بیٹھنے کا حق تو صرف ہمارے آقاوں کو حاصل ہے جو ہر طرح ہم سے افضل ہیں۔ہم تو آنکھیں بندکر کے ان کی ہی اطاعت کریں گے ۔ مجھے اندازہ ہوا کہ ان کے لئے آقاؤں سے ملنے والی ذلت تو قابل قبول ہے مگر اپنے ساتھی کوملنے والی عزت نہیں۔ میں انہیں بتانا چاہ رہا تھا کہ غیر مشروط اطاعت تو صرف اللہ عزوجل کی ہی روا ہے، اس کالی کملی والے کے فرمودات کی ہی اتباع ہو سکتی ہے جس کے پیش نظر کوئی ذاتی اور مالی مفاد نہیں تھا، یہ چھوٹے چھوٹے ،جھوٹے، جعلی اورمکارآقا تو خزانوں اور علاقوں پر قبضے برقرار رکھنے کے لئے ذہنی غلامی کو رواج دے رہے ہیں۔
ان غلاموں میں سب غبی نہیں تھے، کچھ شاطربھی تھے، میں نے دیکھا کہ کولوزئیم کے اندر بعض غلاموں کے پاس طشتریوں میں بہتر غذا اور جسموں پر بہتر لباس بھی موجود ہے، یہ غلام اپنے ساتھیوں کی نسبت زیادہ ہٹے کٹے نظر آ رہے تھے، انہوں نے اپنی پگڑیوں میں کچھ پر بھی لگا رکھے تھے جو انہیں آقاوں کے خصوصی ہرکارے ظاہر کررہے تھے، یہ دونوں ہاتھوں سے راتب اپنے منہ میں ڈالتے اور بیچ کے وقفے میں غلاموں کو اپنی مست کردینے والی آوازوں میں غلامی جاری رکھنے اورایک دوسرے کی بوٹیاں نوچنے کی تبلیغ بھی کرتے،انہی کے ارد گرد تو کچھ غلام باقاعدہ کتوں کی صورت اختیار کئے ہوئے تھے ۔ میں نے انہیں بتانا چاہا کہ انسان کو ربُ العالمین نے اشرف المخلوقات بنایا ہے لہذا وہ اس حالت کوچھوڑ دیں۔ اس پر انہوں نے زور زور سے بھونکنا شروع کر دیا،مجھے تو اتنی ہی سمجھ آئی کہ وہ دلائل دے رہے ہیں کہ انسان ہونے کی نسبت کتا ہونا زیادہ بہتر ہے کیونکہ کتے اپنے آقاوں کے وفادار ہوتے ہیں اور انسان مطلبی اور مفاد پرست ۔ کتوں کو وقت پر کھانا مل جاتا ہے اور آقاوں کے دروازے پر پڑے پڑے زندگی آسانی سے بسر کرسکتے ہیں، انہیں کرنا ہی کیا ہوتا ہے سوائے آقاوں کے حکم پر بھونکنے اور کاٹنے کے۔۔۔ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ وہ مجھ پر بھونک رہے ہیں اور جلد ان کی طرف سے کاٹنے کی نوبت بھی آ سکتی ہے تو میں نے خاموشی کے ساتھ پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔۔۔ پیچھے ہٹتے ہٹتے میں غلاموں کے ایک اور جتھے کے پاس پہنچ گیا، وہ میرے اپنے تھے، میرے ساتھی، میرے ہم دم مگر ا ن کی آنکھوں میں اجنبیت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ میں نے ارد گرد دیکھا شائد کچھ میرے ہم نوا بھی ہوں، میرے ہم خیال بھی ہوں جو اس غلامی کو ختم کرنا چاہتے ہوں، مجھے ایسے کچھ چہرے نظر تو آئے مگر وہ بھی میری طرح غلاموں میں گھرے ہوئے تھے، میں نے کولوزئیم کی سیڑھیوں کی طرف دیکھا تو وہاں مختلف ماسک سجائے آقااس منظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ایک نے میری طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ کولوزئیم کی روایات اور اقدار سے بغاوت کر رہا ہے، یہاں کا نظم ونسق خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے، غلاموں کو خود بادشاہ بننے کی ترغیب دے رہا ہے حالانکہ ہم ہی ان کی زندگیوں کے بہترین مالک اور مفادات کے بہترین مالک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک مختصر وقفے کے بعد غلاموں کو پھر لڑنے کا اشارہ کر دیا۔ غلاموں کی آنکھوں سے خون اور منہ سے تھوک بہنے لگا، وہ بازو چڑھانے لگے، ایک دوسرے کی طرف آنے لگے۔
غلاموں کی زنجیریں ہلنا شروع ہو گئی تھیں، ان کے مونہوں سے خوف ناک آوازیں برآمد ہو رہی تھیں، غلاموں کے جنوں خیز رقص میں تیزی آ رہی تھی، وہ مجھ سے سوال کر رہے تھے کہ میری آزادی میں زنجیروں کی یہ موسیقی شامل ہے اور میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔مجھے خاموش پا کے انہوں نے مجھے لاجواب جانا ۔ غلاموں نے شور مچانا شروع کر دیا، تم غدار ہو، تم غدار ہو ۔
بشکریہ - نجم والی خان
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers