میں ایک پاکستانی ہوں۔ میں چند سال پہلے روز گار کی خاطر اپنے ملک سے باہر نکلنے پر مجبور ہوا۔ آج اس بات کو 10 سال سے زیادہ عرصہ ہونے کو آرہا ہے ۔ میں اور میرا وجود پچھلے کئی سالوں سے اس اجنبی خاک پہ ضرور رہ رہا ہے۔ لیکن میرا دل آج بھی پاکستان کے سینے میں دھڑکتا ہے۔
اور میرے سینے میں پاکستان دھڑکتا ہے۔ میری رگوں میں لہو بن کر پاکستانیت دوڑتی ہے۔ میری روح آج بھی پاکستان کی انہی گلیوں میں موجود ہے جہاں میں پلا بڑھا، لکھنا پڑھنا سیکھا جہاں ماں مجھے سینے لگائی رکھتی تھی۔ جہاں میرے استاد شفقت سے پڑھاتے ہوئے کبھی کبھی میرے کان بھی کھینچا کرتے تھے۔ جہاں مولوی صاحب سے میں نے قرآن پڑھنا سیکھا۔   تفصیل سے پڑھیے
جہاں میرے والد میری بڑی انگلی تھام کر مجھے اپنے ساتھ باہر لے جایا کرتے تھے کبھی مسجد، کبھی پارک، کبھی سکول جہاں میں اپنے دوستوں کے ساتھ گلیوں محلوں میں مختلف کھیل کھیلا کرتا تھا۔ یہاں آنے کے کچھ سالوں بعد مجھے اس ملک کی شہریت بھی مل گئی۔
میرے پاس اس ملک کا پاسپورٹ ضرور ہے کیونکہ یہاں رہنے کام کرنے کیلئے، نوکری کے حصول اور بزنس کیلئے میرے پاس یہاں کا پاسپورٹ ہونا ضروری ہے۔ لیکن آج بھی مجھے یہاں کے فاسٹ فوڈاور برگر کی جگہ ماں کے ہاتھ کے بنے ہوئے پراٹھوں کی یاد ستاتی ہے۔ آج بھی مجھے نہاری، پائے ، چپلی کباب اور سجی دنیا جہان کے لذیذ کھانوں سے زیادہ لطف دیتی ہے۔
میں کبھی اپنا ملک چھوڑ کر یہاں رہنے پر مجبور نہ ہوتا۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد اپنا ملک چھوڑنا کہیں میری آپشنز میںنہ تھا۔ لیکن میں مجبور ہو گیا۔ ملکی حالات اور غربت نے مجھے اپنا ملک اپنی جنم بھومی چھوڑنے پر مجبور کیا۔ میں کسی صورت اپنا شہر اپنی گلیاں چھوڑنے کو تیار نہ تھا۔
یہ میری زندگی کے تکلیف دہ ترین فیصلوں میں سے ایک فیصلہ تھا۔ لیکن میرے بڑوں اور بزرگوں نے مجھے قائل کیا کہ غربت کی چکی میں پس کر اپنے خاندان اور وطن کے مسائل میں اضافہ کرنے سے بہتر ہے کہ باہر جا کر اپنے اور اپنے خاندان کے لیے معاشی خوشحالی کی کوشش کی جائے کہ جس کا فائدہ یقینا میرے وطن کو بھی پہنچے گا کہ ایک فرد اور ایک خاندان مضبوط ہوتو وہ ملک اور قوم کی مضبوطی کا بھی باعث ہوا کرتا ہے ۔
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
میں اپنے بڑوں کی اس بات پر قائل ہواکہ اسلامی فلسفہ بتاتا ہے کہ غربت جرم پر مجبور کر دیا کرتی ہے اور کفر تک لے جایا کرتی ہے اور پھر ہجرت تو میرے نبیؐ کی بھی سنت ہے۔ یقینا نبیؐ کی ہجرت خالصتاً دین کی خاطر تھی مگر اس سے یہ تو یقینا ثابت ہوتا ہے کہ وقت پڑنے پر مجبوری کے تحت ہجرت کرنا کوئی جرم نہیں ہے ۔
میں یہ سوچ کر تقریباً دس سال پہلے اپنے وطن پاکستان سے باہر کمانے کیلئے آیا تھا کہ میں اپنی فیملی اپنے خاندان اور پاکستان کیلئے کچھ ایسا کر سکوں کہ میرے بعد میرے بچوں کو اور کسی پاکستانی کو بھی کسی قسم کی مالی مجبوری کی وجہ سے اپنا ملک نہ چھوڑنا پڑے ان دس سالوں میں شاید ہی کوئی دن ہو گا جب میرا رابطہ پاکستان سے ٹوٹا ہو۔
میں جانتا ہوں کہ میں اور دیگر ممالک میں بسنے والے مجھ جیسے تقریباً ستر لاکھ پاکستانیوں کے دل ہر وقت پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ہمارے بارے میں ہر ملک میں مشہور ہے کہ دنیا کے ہر ممالک خصوصاً بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا سے آئے ملکوں کے شہری انہی ممالک میں رچ بس جاتے ہیں مگر ہم پاکستانی ، پاکستانی ہی رہتے ہیں۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے آج کل ہمارے ملک میں ہماری وفاداری پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور جن ممالک میں ہم رہتے ہیں وہ بھی ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
تمام تر بدامنی اور خراب معاشی حالات کے باوجود پاکستان پر ہمیں اعتماد ہے اور پاکستان سے ہمیں امید ہے۔ تبھی تو ہر سال تقریبا ً 13 بلین ڈالر کے قریب رقم ہم پوری دنیا سے کما کر پاکستان بھیجتے ہیں۔ جو پاکستان کی ایکسپورٹ کے بعد پاکستان میں زرمبادلہ کی آمد کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
ہر سال 13 بلین ڈالر کی یہ رقم پاکستان کی ڈوبتی معیشت کو سہارا دیتی ہے۔ پاکستانی معیشت کا پیہہ چلانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔جس دور میں پاکستان کے ایوانوں میں بیٹھے سیاستدان بڑے بڑے جرنیل، بیوروکریٹ، تاجر،
صنعتکارلوٹ کر ، کرپشن کر کے ٹیکس بچا کر سرمایہ پاکستان سے باہر منتقل کر رہے ہیں پاکستان کو کھوکھلا کر رہے ہیں اسی دور میں ہم اپنے وطن اپنے گھر گلیوں سے دوری کا عذاب سہہ کر خود لُٹ کر جذباتی طور پر ٹوٹ پھوٹ کر پاکستان کو مضبوط کرنے کی غرض سے باہر مواقع دستیاب ہونے کے باوجود پاکستان میں جائیدادیں بناتے ہیں۔
یہاں آکر بچوں کی شادیاں کرتے ہیں پلاٹس خریدتے ہیں یہاں تک کہ اپنے نام کی قبریں تک بنوا لیتے ہیں کہ مر کر یہیں لوٹنا چاہتے ہیں۔ یہیں دفن ہونا چاہتے ہیں۔
سیلاب کی تباہ کاریاں ہوں یا زلزلوں سے آنے والی بربادیاں، بیرون ملک مقیم مجھ جیسے لاکھوں پاکستانی اپنا پیٹ کاٹ کر مشکل کے دنوں میں پاکستان رقمیں بھجواتے ہیں۔ ہم میں سے بیشتر کو آج بھی ان ممالک کے نائٹ کلبز میں جا کر وہ لطف نہیں آتا وہ سکون نہیں ملتا جو ان ممالک میں آنے والے پاکستانی فنکاروں کی پذیرائی کر کے ملتا ہے۔
ہم آج بھی شکیرا، مائیکل جیکسن اور برٹنی سپیئر کے بجائے عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی، راحت فتح علی خان اور رحیم شاہ کو سن کر سر دھنتے ہیں۔پوری دنیا کو بتاتے پھرتے ہیں کہ پاکستان نے نصرت فتح علی خان، عمران خان، جہانگیر خان اور حسن سردار جیسے لوگ پیدا کیے۔
پاکستان سے ہماری محبت اور خلوص کی تصدیق کیلئے ہمیں کسی ادارے سے سندلینے کی ضرورت نہیں۔ دنیا کے دو سو کے قریب ممالک میں سے جن ممالک کے شہری سب سے زیادہ رقوم بیرون ممالک سے کما کر اپنے ملکوں کو ارسال کرتے ہیں ہم اس فہرست میں دسویں نمبر پر آتے ہیں۔
پردیس میں رہتے ہوئے ہم اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ پاکستانی چینلز کی نشریات کے حصول میں لگا دیتے ہیں صرف اس لیے کہ جب سارا دن کام سے تھک ہار کر گھر آئیں تو پاکستان کے بارے میں جان سکیں۔ پاکستان میں کیا ہورہا ہے اس سے آگاہ ہو سکیں۔ پاکستان میں ہر روز جو دھماکوں کی خون بہنے کی خبریں آتی ہیں عام پاکستانی انہیں سن کر یقینا کرب میں مبتلا ہوتا ہے
لیکن ہم پاکستان سے باہر رہ کر دوہرے کرب میں مبتلا ہیں کہ پاکستان کے بارے میں خبریں بھی سنتے ہیں اور یہ سب کچھ سننے اور دیکھنے کے بعد ہمارے ساتھ رونے کیلئے پردیس کی اجنبی ہوائوں اور نامانوس درو دیوار کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ کوئی اپنا نہیں ہوتا جسے گلے کر رو سکیں اپنے دل کا حال کہہ سکیں۔
یہ جو چہرے سے لگتے ہیں بیمار سے ہم
خوب روئے ہیں لپٹ کر در و دیوار سے ہم
نتیجتاً ہر سانحہ پر پاکستان کال کر کے اپنے پیاروں کی خیریت جاننے میں لگ جاتے ہیں پاکستان کی سلامتی کیلئے مصلے بچھاکر بیٹھ جاتے ہیں۔ پاکستان میں مقیم پاکستانیوں کے پاس دکھ درد میں رونے کیلئے کم سے کم اپنے لوگوں کا کاندھا تو دستیاب ہوتا ہے ہمارے پاس سوائے تنہائی کے کچھ نہیں ہوتا۔
مجھے 70 لاکھ پاکستانیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستانیوں، پاکستانی سیاستدانوں، پاکستان کے اہم اداروں کو یہ بتانا ہے کہ پچھلے چند دنوں میں جتنی بے چینی، جتنی تکلیف، جتنی توہین، جتنی تنہائی ہم نے پاکستان میں ہونے والی دہری شہریت کی بحث کے دوران اٹھائے جانے والے سوالات، اور بیانات کی وجہ سے محسوس کی۔ اتنی توہین، اتنی بے چینی، اتنی تکلیف کبھی ان نظروں پر بھی محسوس نہیں کی جو غیر ممالک میں ہمیں نفرت سے دیکھتی ہیں۔
دہری شہریت کی بحث کے دوران تلخ جملوں نے جتنی اذیت دی اتنی اذیت ہمیں نفرت اور حقارت سے ’’you paki‘‘کہہ کر بلانے والوں نے بھی نہیں دی ہو گی۔
پاکستانی قوم اجتماعی طور پر ہمارے حقوق کی حدود کے بارے میں، ہمارے ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے کے حق کے بارے میں جو بھی فیصلہ کرے گی ہمارے سر آنکھوں پر ہو گا لیکن خدارا ہمارے بارے میں بات کرتے ہوئے نفرت اور حقارت کے الفاظ تو استعمال نہ کریں۔
اپنے سیاسی مفادات یا سیاسی جنگ کی آگ میں ہماری پاکستان سے محبت، خدمات، خلوص اور وفاداری کوتو نہ جھونکیں۔ کسی بھی وجہ سے کسی ایک شخص کو ذلیل کرنے کی خاطر ہم 70 لاکھ پاکستانیوں کو تو ذلیل نہ کریں۔آخر میں مجھے صرف یہی کہنا ہے کہ ہمارے بزرگوں کی ہمارے آبائو اجداد کی قبریں پاکستان میں ہیں ہمارے پیارے اس دھرتی پہ سانس لیتے ہیں۔
ہم میں سے بیشتر نے اپنے بچوں کی شادیاں پاکستان میں کی ہیں۔ ہم میں سے بیشتر نے ایک دن لوٹ آنے کی امید میں اپنی جائیدادیں پاکستان میں بنائی ہیں۔ ہمیں اپنے سیاسی مفادات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ لاکھ سیاسی مخالفتوں کو پیش نظر رکھ کر جیسے چاہے قوانین بنا لیں۔
ووٹ دینے کا حق چھین کر اور بھی جو مرضی حقوق ہم سے چھین لیے جائیں لیکن کوئی ہم سے پاکستان سے محبت کرنے کا حق نہیں چھین سکتا۔ دنیا میں کہیں بھی پاکستان کے کھلاڑی کھیل رہے ہوں ہم اپنے کام دھندے چھوڑ کر گرائونڈ میں جا کر پاکستان کے حق میں نعرلے لگانا بھی نہیں چھوڑیں گے۔ ہم پاکستانی فنکاروں کی آمد پر جوق در جوق ان کے سجائے ہوئے میلوں میں شرکت کرنا نہیں چھوڑ سکتے۔
ہم سارے دن کے تھکے ہارے گھرآکر مہنگے داموں خریدے گئے پاکستانی چینلز پر پاکستان کے بارے میں درد ناک خبریں دیکھنا بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم مہنگے ٹیلی فون کارڈوں سے روز پاکستان سے گھنٹوں رابطہ رکھنا بھی نہیں چھوڑ سکتے۔
کوئی ہم سے فیضؔ، فرازؔ، جالبؔ، جون ایلیا، عطاء شاد، بلھے شاہ، رحمان بابا، سچل سرمست، مست توکلی کی شاعری پڑھنے کا حق نہیں چھین سکتا۔ کوئی قانون ہمیں مجبور نہیں کر سکتا کہ ہم منٹو، قاسمی، اشفاق احمد، بانو آپا، اور انتظار حسین سے محبت نہ کریں ، کوئی گل جی، اللہ بخش ، چغتائی اور صادقین کی تصویروں کے نقش ہماری آنکھوں سے جدا نہیں کر سکتا۔ کوئی ہم سے مہدی حسن، نور جہاں، الن فقیر، پٹھانے خان اور غلام علی کی آوازوں کی وراثت نہیں چھین سکتا۔
پاکستان کے انتظامی معاملات کو محفوظ ہاتھوں میں دینے کیلئے ہمارے حوالے سے جو قوانین پاکستان کے مفاد میں ہوں وہ ضرور بنائیں مگر خدارا بحث کے دوران وطن سے دور ہم پردیسیوں کے جذبات کا ضرور خیال کریں ہم پردیسیوں کے دل پہلے ہی آبلوں کی طرح دُکھ رہے ہوتے ہیں چھوٹی سی ٹھیس بھی گھنٹوں ہمیں اذیت کی لہروں میں غرق رکھتی ہے۔
ہمارے کیا حقوق ہونے چاہیں کیا نہیں اس پر ضرور قانون سازی کریں مگر یہ مت بھولیں کہ ہم پردیسی ضرور ہیں وطن سے دور ضرور ہیں غریب الوطن ضرور ہیں غدار ِوطن نہیں…
منجانب
ستر لاکھ پردیس میں رہنے والے پاکستانیوں میں سے ایک پاکستانی

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers