میں نے تو صدیقی صاحب سے یہ کہا تھا کہ میرے لیے آپ خود ہی تقریر لکھ کر دے دیجیے۔ کیونکہ ایک دفعہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک جگہ ایسی ہی الوداعی تقریب میرے لیے بھی منعقد کی گئی تھی، تو اپنی شان میں خطبۂ الوداعیہ میں نے خود ہی لکھ کر دے دیا تھا تاکہ جی بھر کے اپنی تعریف کرا سکوں… مگر صدیقی صاحب نے میرے تجربے سے فائدہ نہ اُٹھایا… اس لیے یہ تقریر مجھے ہی لکھنی پڑی… میں یہ تقریر زبانی بھی کرسکتا تھا بلکہ منہ زبانی جیسے بچے دو کا پہاڑہ سناتے ہیں مگر لکھی ہوئی تقریر کرنے کی ایک خاص وجہ ہے… وجہ یہ ہے کہ آج ہمارا موضوع ایک ایسی شخصیت ہے جس کا تعلق آڈٹ اور اکائونٹس سے ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ آڈٹ کی نگاہ میں جب تک کوئی چیز ضبط ِ تحریر میں موجود نہ ہو،تو وہ قابلِ یقین نہیں ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ مرنے والے سے بھی شاید یہ سرٹیفکیٹ مانگا جاسکتا ہے کہ میں تصدیق کرتا ہوں کہ میں واقعی مرچکا ہوں… یہی وجہ ہے کہ میں یہ تقریر لکھ کر بلکہ اپنے ایک دوست کی لغت کے مطابق ’’اِن رائٹنگ لکھ کر‘‘ پیش کر رہا ہوں… اس لیے یہ تقریر کم ہے اور میرے جذبات کا کیش میمو زیادہ…مزید پڑھیں
جب بھی کسی شخص کے بارے میں اپنے جذبات کا اِظہار کیا جاتا ہے، تو اس کا بیان اُس وقت سے شروع ہوتا ہے کہ جب اس سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ لیکن میں ذرا اس سے بھی پیچھے لوٹ رہا ہوں… یعنی میں اُس وقت سے بات شروع کر رہا ہوں جب صدیقی صاحب سے میری پہلی ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی… اُس وقت تک صرف یہ سنا تھا کہ ہمارے یہاں ایک اکائونٹس آفیسر آنے والے ہیں… جب مجھے یہ معلوم ہوا، تو میں نے اکائونٹس آفیسر صاحب کی ایک تصویر اپنے تصور
میں کھینچ لی… حالانکہ عام زندگی میں مجھے تصویر کھینچنا تو کیا… تصویرکھچوانا بھی نہیں آتا… اگر تصویرکھچوانا ہی پڑ جائے، تو اس کے لیے کئی ہفتے یوگا کی مشقیں کرنا پڑتی ہیں… لیکن ہاں میں نے اکائونٹس آفیسر صاحب کی ایک تصویر اپنے ذہن کے کینوس پر اُتار لی… تصویر کچھ اس طرح کی تھی… آنکھوں پر چشمہ تو ہے مگر آنکھوں سے خفا ہو کر ناک کی طرف مائل ہوگیا ہے… ہاتھ میں پنسل تو ہے مگر ہاتھ سے اُچھل کر کان میں جا لگی ہے۔ آنکھیں تو ہیں مگر میز پرایسی گڑی ہیں جیسے میدانِ جنگ میں کوئی تیر زمین میں گَڑ گیا ہو… ابھی میں یہ تصویر بنا ہی رہا تھا کہ میری ملاقات اُن اکائونٹس آفیسر صاحب سے کرا دی گئی جن کی گراں قدر خدمات ایک ادارے سے حاصل کر لی گئی تھیں۔ یعنی آپ سے ملیے، آپ ہیں جناب صدیقی صاحب… پورا نام… جناب نعمت اللہ صدیقی صاحب۔
حضرات! یقین جانیے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے تصور میں جو تصویر بنائی تھی وہ تصویر تو ضرور تھی مگر وہ تصویر کانیگٹو(Negative) تھا اورجب صدیقی صاحب کو دیکھا، تو پازیٹیو(Positive)نظر آیا۔ ہاں واقعی… صدیقی صاحب کی طبیعت میں نفاست اتنی کہ … ماتھے پر شکن آجائے مگر پتلون پر شکن نہیں آسکتی… صفائی پسند اتنے کہ شاید کوئی وکیل صفائی بھی اِتنا نہ ہو… حاضر جواب اتنے کہ اگر مغلیہ دور میں پیدا ہوتے تو اب تک کروڑ پتی ہوچکے ہوتے… فائلوں کے ڈسپوزل میں اتنی تیز رفتاری کہ اگر ہائی وے سیفٹی والوںنے دیکھ لیا، تو فوراً بتلائیں گے… ’’یہ غلط طریقہ ہے… صحیح طریقہ یوں ہے۔‘‘ چہرےپر مسکراہٹ ایسی کہ جیسے ٹی وی پر کسی ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار۔ حالانکہ تمام عمر فِگر وَرک(Figure Work) میں گزری مگر ماشااللہ اپنی فگر اب بھی خوب ہے۔ محفلوں میں پہنچیں، تو جان ڈال دیں… لطیفوں کے بادشاہ ہیں، اگر لطیفوں میں کوئی ان کا مقابلہ کرسکتا ہے، تو صرف ملّا دو پیازہ… جب عام گفتگو ہو تو ایسی کہ شاید ہی کوئی موضوع ہو جو صدیقی صاحب کی زد میں نہ آئے… مثلاً اگر یہ بات ہو کہ یوڈی کو لون… کون سا اچھا ہے تو صدیقی صاحب … اگر یہ بات چلنکلے کہ ٹماٹر جمعہ بازار میں اچھے ملتے ہیں یا راجا بازار میں، تو صدیقی صاحب کی سروے رپورٹ۔ اگر یہ بات ہو کہ چائے کی پتی کون سی بہتر ہے تو صدیقی صاحب دارجلنگ سے لے کر نرنکاری بازار تک کا جائزہ پیش کر دیتے ہیں۔ غرض یہ کہ بظاہر تو ہم باریک نظر آتے ہیں مگر باریک بین دراصل صدیقی صاحب ہیں۔
صدیقی صاحب کی عمر مجھ پر مسلسل پوشیدہ رہی یعنی اُن کی شخصیت میں ایک جادو ہے کہ جو شخص بھی ان سے ملتا ہے ان کو اپنا ہم عمر سمجھتا ہے… میں بھی ان کو اپنا ہم عمر سمجھتا رہا… ان کی صحیح عمر تو اُس وقت پتا چلی کہ جب میں نے ایک روز ان کا ایک سرٹیفکیٹ بلکہ صحیح سرٹیفکیٹ اٹیسٹ(Attest)کیا تھا، بغیر فیس لیے۔ ورنہ میں توگھبراگیا تھا کہ پتا نہیں صدیقی صاحب کو کیا ہوگیا ہے، کون سی بیماری خدانخواستہ لاحق ہوگئی ہے کہ ان کی عمر آگے بڑھ ہی نہیںرہی ہے لیکن ہاں… اس کی وجہ یقینا یہی ہے کہ ان کے شوق بلکہ شوق صاحب اب بھی جواں ہیں… ان کے ایک شوق کا جب سے مجھے علم ہوا، تو میں تو ان سے کچھ کچھ ڈرنے لگا ہوں… اور وہ یہ کہ جمعہ کی آفٹر نون میں یہ گھر سے باہر نہیں نکلتے کیونکہ اس وقت یہ ریسلنگ چمپئن شپ میں مصروف ہوتے ہیں مگر واضح رہے… صرف دیکھنے کی حد تک۔
صدیقی صاحب نے ہائی وے کے اکائونٹس میں گرانقدر خدمات انجام دی ہیں مگر پھر بھی انھوں نے کوئی نئی تحقیق اِس شعبہ میںپیش نہیں کی جیسی ہمارے ایک اور ساتھی محترمی اور مکرمی عزیزی صاحب نے پیش کی تھی… ایک مرتبہ عزیزی صاحب کو ایک ہائی وے پروجیکٹ کا اِنچارج بنا دیا گیا، تو ان کا پہلا اعتراض اس کے نام پر تھا کہ اس کے نام میں ہائی وے کیوں ہو…؟ یہ کوئی پہاڑوں پر سے نہیں گزری… یہ تو ساری نشیبی راستوں سے گزری ہے… ہائی وے تو قراقرم ہائی وے ہے… ہمارا اندازہ ہے کہ اگر عزیزی صاحب بدستور ہائی وے پروجیکٹ کے اِنچارج ہوئے،تو صرف یہی نہیں کہ وہ اب تک بن چکی ہوتی بلکہ قوی اِمکان ہے کہ بن کر ٹوٹ بھی چکی ہوتی… اس طرح کی کسی تحقیق میں صدیقی صاحب کی طرف سے تشنگی محسوس ہو رہی ہے۔
حضرات! اب صدیقی صاحب ہم سے رخصت ہو رہے ہیں، کراچی جا رہے ہیں… ہم کراچی والوں پر ایک بہت بڑا احسان کر رہے ہیں… کراچی والوں سے ہم نے کہا بھی کہ تمھارے پاس اللہ کی دی ہوئی بہت سی نعمتیں ہیں، مثلاً ہاکس بے، احمد کا حلوہ، لالوکھیت، بندوخان کے کباب اور فرزند علی کی قلفی… لیکن ان کا کہنا تھا کہ ابھی ایک نعمت کی کمی ہے اور وہ ہے نعمت اللہ صدیقی… ہم بادلِ نخواستہ اس نعمت سے دوری پر راضی ہوگئے… مگر ایک پریشانی ضرور ہے کہ اب
اکائونٹس کے محکمے سے ہمارے بِل کون پاس کرائے گا۔ صدیقی صاحب کو اکائونٹس نے تو اپنا آدمی بنا کر بھیجا تھا لیکن وہ تو ایسے معلوم ہوئے تھے کہ جیسے ہمارے آدمی ہوں۔ لیکن حضرات…! آپ مطمئن رہیے کہ میں نے صدیقی صاحب سے محکمہ اکائونٹس کے نام ایک خط لکھوا لیا ہے۔ جسے میں عنقریب سائیکلو اسٹائل کراکے تقسیم کرا دوں گا… خط کا مضمون فی الحال outکیے دیتا ہوں… وہ یہ ہے…
محترمی! سلام مسنون… حاملِ رقعۂ ہٰذا میرا بھتیجا نہیں بلکہ میرا دوست ہے۔ اس کی زندگی میں یہ وقت بھی آنا تھا کہ اس کا ایک بِل آپ کے یہاں پہنچ جائے۔ کوشش کرکے اس کا یہ بل اس کی زندگی ہی میں پاس کرا دیجیے۔ اگر پاس کرانے میں کچھ دِقت ہو،تو گریس مارکس دِلوا دیجیے ورنہ سپلیمنٹری تو بہرحال ضروری ہے… میں نے ایک بِل ارجنٹ نیچر کا بھی بھیجا تھا… اسے براہِ مہربانی صرف پاس ہی نہ کریں بلکہ ہارن دے کر پاس کریں… پپو یارتنگ نہ کر… روکو مت جانے دو…
جس طرح صدیقی صاحب ہمارے بِل واپس نہیں آنے دیتے تھے اسی طرح ہم بھی ان کے لیے رکاوٹ نہیں بنتے… جب صدیقی صاحب کے کراچی جانے کی بات ہمارے ایک دوست سے چل نِکلی تو انھوں نے کہا… ’’اکائونٹس ڈیپارٹمنٹ صدیقی صاحب کا متبادل تو ضرور دے گا۔‘‘ میں نے کہا… ’’نہیں …‘‘ کہنے لگے… ’’کیسے نہیں دے گا … ‘‘ میں نے کہا… ’’نہیں دے گا…‘‘ مگر جب وہ میری بات پر راضی نہ ہوئے، تو پھر میں نے ان کو سمجھایا کہ محکمہ اکائونٹس ایک دوسرا
اکائونٹس افسر تو ضرور دے گا… لیکن صدیقی صاحب کا نعم البدل نہیں دے سکتا۔ بات صحیح بھی ہے کہ نعمت اللہ کا کوئی نعم البدل نہیں ہے اور ان کی جو خصوصیات اور خدمات ہیں ہم بھی ان کا کوئی بِل نہیں دے سکتے… سِوائے یہ کہ ہم دعا کریں کہ وہ جہاں بھی رہیں، اللہ ان کو ہنستا مسکراتا رکھے۔ اور یہ بھی کہ … ان کی زندگی کا ٹائم اس طرح پاس ہو کہ واقعی پاس ہو… اَن پاس نہیں…

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers