mohhbat 

’’محبت‘‘اس دنیا کا سب سے مضبوط اور توانا جذبہ ۔ایسا جذبہ جس کی کہیں کوئی نفی نہیں ۔مذہب کے پیروکاریااس سے انکاری ، خُداؤں کو ماننے والے یاانہیں جھٹلانے والے۔ یہ سب کسی ایک نقطے پر اگر متفق ہیں تو وہ محبت ہے ۔ محبت جو دو دلوں کو ایک دھڑکن عطا کرتی ہے ۔ دھڑکن جو انسان میں زندگی کی علامت ہے ۔ یہ محبت ہی ہے جو دو اجنبی انسانوں کو ایک پائیدار اور اٹوٹ بندھن میں باندھتی ہے ۔ دنیا کے سبھی دانشور اس بات کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ محبت ایک وقتی جذبہ ہے ۔ یہ نوجوانی کی ابتدائی بہاروں سے جوانی کی آخری گھٹاؤں تک ساتھ چلتا ہے ۔ میں اس بات کو نہیں مانتا ۔ میں ایسی کسی دلیل کو صحیح نہیں جانتا اور پھر میں یہ کیسے تسلیم کرسکتا ہوں ؟ میں آج اپنے سینے میں تُمہارے لئے جتنی محبت پاتا ہوں اس سے کئی گنا زیادہ محبت اس وقت محسوس کرتا تھا کہ جبکہ میں اس دنیا میں آیا بھی نہ تھا۔ اور مُجھے یہ بھی یقین ہے کہ کل جب میں اس دنیا سے جاؤں گا تو تُمہاری یہ محبت میرے ساتھ میری قبر کی تاریکیوں میں روشنی کرے گی ۔ میں آج بھی اپنے سینے میں اتنی محبت پاتا ہوں جتنی بچپن کے ابتدائی ایام میں ۔ میرے دل کی دھڑکنیں آج تُمہارے نام پر دھڑکتی ہیں اور کل بھی یہ دھڑکنیں تُمہیں سے منسوب ہوں گی۔میری سوچوں ، میری باتوں ، میرے خیالوں کا مرکز آج بھی تُم ہو کل بھی تُمہاری ذات تھی۔ محبت جسے ایک وقتی جذبہ کہا جاتا ہے ۔ اس جذبے نے میرا ساتھ تمام وقت نبھایا ہے اور مُجھے یقین ہے کہ یہ مُجھے کبھی نہیں چھوڑے گا اس دنیا میں پہلی سانس لینے سے لے کر آخری سانس تک یہ ہر دم مُجھے اپنی رفاقت مہیا کرے گا۔ تو پھر تُم ہی کہو میں اسے کیسے وقتی یا جذباتی لمحہ کہہ سکتا ہوں؟ جب یہ لمحاتی جذبہ مُجھ سے جدا ہوتا ہی نہیں ۔ ابتدا سے انتہا تک ہنوز مُجھ پر چھایا ہوا ہے ۔ یہ کیسا بادل ہے جو چھٹتا ہی نہیں ، گھٹتا ہی نہیں اور برستا بھی نہیں ۔۔۔۔ تفصیل سے پڑھیے
شِزہ!جب سیاہ بادل چھائے ہوں ۔ہوائیں تیز چل رہی ہوں ۔بار ش ہونا تو چاہتی ہو پر ہو نہ پارہی ہو تو میں میرا دل کر تا ہے کہ کاش میں ان فضاؤں میں گھوم سکوں اور ایسے میں جب میں اُن پرندوں کو دیکھتا ہوں جو آسمان پر بادلوں کے غول کے ساتھ مستیاں کر رہے ہوتے ہیں تو دل بے اختیا ر کہتا ہے کہ کاش میں بھی انہیں جیسا ہوتا ۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ جیسے میں اپنے جسم میں سے نکل کر ان اُڑتے ہوئے پرندوں میں سے کسی ایک کے جسم میں داخل ہوجاتا ہوں اور یوں میں بھی اُن کے ساتھ اُن کے اُس کھیل میں شامل ہوجاتا ہوں کہ جس میں وہ کبھی کسی ایک کے پیچھے بھاگتے ہیں تو کبھی کسی دوسرے کے ۔ان نیم خوابی لمحوں سے واپسی تب ہوتی ہے جب میرے جسم پر بارش کا کوئی قطرہ پڑتا ہے یا جب میرے چہرے سے سر د ہوا کا کوئی تیزجھونکا ٹکراتا ہے ۔تُم سے پہلے موسم سے دل بہلانا ہی میری سب سے بڑی خواہش تھی مگر اب جب تُم ساتھ ہو حسین سے حسین موسم بھی میری توجہ اپنی جانب مبذول نہیں کرپاتے ۔ اگر آج مُجھے تیز سرد ہوا پسند ہے تو اس لئے نہیں کہ وہ آج بھی ماضی کی طرح مُجھ میں جذب ہوجاتی ہے بلکہ اس لئے کہ جب وہ تُمہارے چہرے سے ٹکراتی ہے تو تُمہارے بالوں کی لٹیں لہراتی ہیں ۔ تُمہارے سپیدرخسار سردی کی شدت سے سُرخ ہوجاتے ہیں ۔ تُمہارے سُرخ ہونٹ ہلکے گلابی ہوجاتے ہیں ۔ اور تُم سراپا حسن بن جاتی ہو ۔کسی بدلی کو دیکھ کر جب تم ہنستی ہو ، تُمہارے ہونٹوں سے چھوٹا قہقہ میرے دل کی گہرائیوں میں جا کر پھوٹتا ہے ۔ تُمہاری یہ جھیل سی آنکھیں جن کی گہرائی کا تُمہیں بالکل اندازہ نہیں مُجھے ہر گھڑی خودکشی کی دعوت دیتی ہیں ۔ تُمہاری وہ دلفریب ادائیں جو تُمہارے لئے کچھ بھی نہیں مُجھے ہر پل اپنے سحر میں جکڑے رکھتی ہیں ۔ تُمہاری یہ مرمریں بانہیں جنہیں تم زیادہ تر خود سے لپیٹے رکھتی ہو ۔اور جو کبھی کبھی میرا نصیب بنتی ہیں ۔جب تم مُجھے اپنی بانہوں کے دائرے میں لیتی ہو اس لمحے ان نرم و نازک بانہوں کا حصار مُجھے اس دنیا کی سب سے محفوظ پناہ گاہ دکھائی دیتا ہے ۔ تُمہارے ہونٹوں کی وہ مہر جو تم وارفتگی کے عالم میں میری آنکھوں ، رخساروں اور ہونٹوں پر ثبت کرتی ہو۔میرے لئے اس دنیا کی سب سے پکی قسم بن جاتی ہے ۔ میری زندگی میں بہار پہلے بھی آتی تھی مگر تُمہارے ساتھ زندگی خود بہار بن گئی ۔ دنیا کے سارے حسین موسم میرے دل میں اُتر آئے ، چمن کے سارے پھول تُمہارے بالوں میں اور اس جہاں کے سارے رنگ میری مٹھی میں آسمائے ۔تُم نے میرے حواسوں پر قبضہ کیا کیا زندگی میں پہلی مرتبہ ڈیڑھ سال میں خود سے بیگانہ رہا ۔
شِزہ!تُم سے دوری مُجھے سکون دیتی ہے یا تُمہاری قربت میرے لئے زیادہ تسلی کا باعث ہے ۔ محبت کی ان انتہاؤں کو چھونے کا تصور بھی میرے پاس نہ تھا ۔ میں اپنی ذات میں گم ، ہر دم اپنے خیال میں مست ، اک بے ضررسا انسان آج دُنیا کے سب سے مشکل امتحان میں پھنس چکا ہوں ۔ میری زندگی کے وہ بائیس سال ایک طرف اور یہ پچھلا سال ایک طرف۔ان گزشتہ سالوں میں جتنی نفرت اور پیار مُجھے ملا اس اس کے مقابلے میں اس ایک سال کی عنائیتیں ایک طرف۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے قدرت کے سامنے صرف میری ہی جھولی ہے جسے وہ ہر پل ہر لمحہ بھرتی جارہی ہے ۔ بن مانگے اتنا ملا کے اِک پریشانی نے گھیرلیا۔ دل کھٹکنے لگا کے کہیں کچھ ہو نا جائے ۔ موسم کی انتہا بارش سے پہلے تک ہوتی ہے ، بارش دلفریبی کی آخری حد ہے اور آخری حد کسی بھی واپسی کے سفر کا پیش خیمہ ہوتی ہے ۔
ہر محبت کو کوئی نہ کوئی آسیب ضرور ڈستا ہے۔ اب یہ پیار کرنے والوں پر ہے کہ وہ اس کے زہر کو برداشت کرجائیں یا اس کے سامنے ہمت ہار جائیں ۔اور میں نادان یہ سمجھتارہا کہ میری طرح تم بھی راہ میں آنے والی ہر مشکل کا مقابلہ حوصلہ سے کرو گی مگر افسوس کے تمہارے پیروں میں پہلے کانٹے پر ہی زخم بن گئے ۔ اس ذرا سی تکلیف پر تُمہاری رنگت زرد ہوگئی اور تم آخری دم کی مہمان دکھائی دینے لگی ۔ یک دم ہی تُمہیں اپنے ماں باپ اور بہن بھائی سب یاد آگئے اور میں جو صرف تُمہاری رفاقت کی خوشی میں جنوں کے اس تپتے صحرا میں آنکلا تھا اس کو بالکل بھول گئیں۔ مُجھے دُکھ تُمہاری اس زیادتی پر نہیں کہ تم نے بیچ سفر کے واپسی کی راہ لی بلکہ مُجھے رونا اپنی نادانی پر آرہا ہے کیوں میں تُمہارے عشق میں اتنا بے پروا ہو کر چلا کے عورت کی فطرت کو ہی ذہن میں نہ رکھا۔
شِزہ!تم یقیناًسوچ رہی ہوگی کہ میں ناحق تم سے گلہ کررہا ہوں ۔ تم نے میرے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ یہ سب (ماں باپ کی رضامندی کے بنا مجھ سے شادی نہیں کروگی ،میرے لئے گھر والوں کو نہیں چھوڑو گی )تو پہلے سے ہی طے شدہ تھا۔تو پھر اب روناکس بات کا ؟ شِزہ!مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ تم نے ماضی میں جتنی آسانی کے ساتھ مُجھ سے تعلق جوڑا تھا ۔آج اتنی ہی آسانی سے اس کو ختم بھی کردیا۔میں تُمہیں یہ بتانا چاہوں گا کہ تُمہارا یہ فیصلہ انتہائی نہیں ،ابتدائی تھا ۔ شِزہ! تم میرے ساتھ محبت کی نیت سے چلی ہی کہاں تھی ۔ تم نے تو مجھ سے پیار کیا تھا ۔ پیار جو انسان کی ضرورت ہے ۔ جس کام کی اصل اہمیت اس کا پاگل پن اس کا جنون ہے ۔ اسے تم نے عقل و ہوش کے ذریعے حاصل کرنا چاہا۔ تُمہاری ماں محبت میں اگر ایک غلط انسان کو منتخب کربیٹھی تو اس کا بدلہ تم نے بیٹی ہونے کے ناطے مُجھ سے لیا ۔ماضی میں کئے گئے ان کے ایک غلط فیصلے نے میرے حال کو گہنا دیا۔تُمہارا تجربہ میرے لئے ذلت اور ناکامی کا باعث بن گیا ۔ تُم نے کہا ہے کہ میں ان سب کو چھوڑ کر کیسے آؤں گی اور اگر آؤں گی تو کیا پاؤں گی۔تم نے بالکل ٹھیک کہا واقعی ایک محل سے نکل کرکسی جھونپڑی میں تم کیوں آؤ گی ۔ تُمہارا شکریہ کے تم نے مُجھے میری حیثیت سے روشناس کروادیا۔ جس شخص کے قدم زمین سے جُڑے ہوں اسے آسمان چھونے کی خواہش نہیں کرنی چاہیے ۔میں جانتا ہوں تُم جیسی لڑکیاں مرسیڈیز میں بیٹھی اچھی لگتی ہیں نہ کہ میرے ساتھ موٹرسائیکل پہ لیکن پھر بھی میں تُمہیں بتانا چاہوں گا کہ محبت کی جس جادو نگری میں تم بدنصیب اک قدم بھی نہ رکھ سکی وہ تُمہارے ان بڑے بڑے محلوں اور قیمتی کاروں سے یکسر مختلف ہے۔تم نادان کیا جانوکہ محبت کے سائے میں گزارا ایک پل ،آسائشات میں گزری ساری زندگی پر کتنا بھاری ہے ۔ ساری دنیا کی دولت ، شہرت کسی عاشق کے لئے محبوب کی اِک نظر کابدل نہیں ہوسکتی ۔اگر پیار صرف جسم کی بھوک کا نام ہے تو تم نے پیار ضرور کیا تھا لیکن اگر پیار کچھ مختلف جذبات و احساسات سے روشناس ہونے کا نام ہے توتم نے کچھ نہیں کیا۔ہوسکتاہے میری یہ باتیں تُمہیں ہمیشہ کی طرح مُجھ سے ناراض کردیں۔ تم جانتی ہومیں کتنا جذباتی ہوں ،میرے نزدیک جذباتی ہونا اچھی علامت ہے ۔ جب تک اس دُنیا میں ایک بھی جذباتی آدمی زندہ ہے۔ محبت میں جنون زندہ رہے گا اور جب تک انسان جنون کا شکار رہے گا اس کا اپنی ذات کی تکمیل کا سفر طے ہوتا رہے گا ۔
محبت میں شدت ہر شخص کے نصیب کی بات نہیں عشق کی ہمراہی میں سب ہی اپنی نینداور چین نہیں کھوتے ۔ یہ وہ ہُمانہیں جو ہر سر کو بادشاہ بنا دے اور نہ یہ وہ پارس ہے جو ہر ٹکرانے والی شے کو سونے میں تبدیل کردے ۔ محبت میں جنوں کی حدیں سبھی پار کرسکتے تو دنیا میں عاشقوں کی تعداد اُنگلیوں پر نہ گنی جاسکتی۔ کسی کی محبت میں اپنی ذات سے بیگانہ ہوجانا اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جاتا ہے ۔ یہ وہ آب حیات ہے جو سب کو امر نہیں کرتا۔ اس کی تاثیر سب پر یکساں اثر انداز نہیں ہوتی۔ یہ وہم و گماں کی حدوں سے پرے سب کو نہیں لاپھینکتی ۔ اگر ہر محبت کو عبادت کا درجہ مل سکتا تو دنیا میں عبادت گاہیں اتنی کثیر تعداد میں تعمیر نہ ہوتیں۔
شِزہ!تمہیں یاد ہے تم کہتی تھی کہ تمہاری قدر صرف اس لئے کی جاتی ہے کہ تُمہاری وہ سب دُعائیں پوری ہوتی ہیں جو تم میرے لئے مانگتی ہو۔ اور اس وقت میں بھی مذاق میں کہتا تھا کہ ’’ہاں تو اور کیا ‘‘لیکن آج میں تُمہیں بتانا چاہوں گا کہ اگر ایک پلڑے میں میری تمام آروزوئیں اور تمہاری ساری قبولیت کی دعائیں رکھی جائیں اور دوسرے پلڑے میں تُمہیں رکھا جائے تو میں اک پل ضائع کئے بنا فوراً تُمہیں اُٹھا لوں گا ،صرف تُمہیں ۔ تم !جو کہ مُجھے کامیابی اور طاقت کا خواہشمند سمجھتی ہو میں صرف تُمہارا طلبگار ہوں ۔ تم نے مُجھے کوئی جذباتی فیصلہ کرنے سے منع اورکسی بھی انتہائی قدم سے باز رہنے کی التجاکی ہے ۔ تم بالکل بے فکر رہو مُجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں تُمہاری خوشی کے لئے اپنی خوشی قربان کردوں۔تم جانتی ہو کہ میں قربانی لینے سے زیادہ قربانی دینے میں سکون محسوس کرتا ہوں ۔ شاید اسی لئے زندگی کی اس دوڑ میں سب سے پیچھے رہ گیا۔
شِزہ تُمہیں یاد ہوگا تم جب بھی مُجھے ملنے آتی تھی ۔تُمہاری کوئی نہ کوئی شے میرے پاس رہ جاتی کبھی کوئی ٹوٹی چوڑی کبھی کوئی کانوں میں پہنی بالی جو تُمہاری مُجھ سے شرارتوں کے دوران ٹوٹ جاتیں اور جن کے ٹوٹنے کا سارا الزام تم مجھ پر ڈالتی اور میں تم پہ اور ہم دونوں کی اس نوچ کھسوٹ میں مزید کوئی چوڑی ٹوٹتی پھر کوئی بالی شہید ہوتی۔آج میں تُمہیں بتانا چاہوں گا کہ تمہاری وہ ساری ٹوٹی ہوئی بالیاں ، چوڑیاں،پازیبیں جو اس وقت میں بہت سنبھال کر رکھ لیتا تھا۔وہ سب آج سیاہ پڑچکی ہیں اپنی چمک کھوچکی ہیں لیکن پھر بھی میرے لئے اس دنیا کی ہرشے سے زیادہ روشن اور چمکدار ہیں ۔ جس وقت تم نے یہ چوڑیاں دوکان سے خریدی ہوں گے ان کی قیمت بہت زیادہ نہ ہوگی پر آج یہ میرے لئے اس پوری دنیاسے زیادہ قیمتی ہیں ۔ تم ساری عمرایک سے ایک قیمتی زیورپہنو گی مگر میری ان ٹوٹی پھوٹی اور سیاہ پڑتی جارہی یادوں سے زیادہ قیمتی جیولری کبھی نہ پہن سکو گی ۔
تم لڑکیاں شادی کو ہی محبت سمجھتی ہو جبکہ محبت شادی سے بہت اوپر کی چیز ہے ۔آج تم جس بات کو ’’صحیح فیصلے ‘‘کا نام دے رہی ہوکیا گارنٹی ہے کہ کل اسی کو زندگی کی سب سے بڑی غلطی نہیں گردانو گی؟۔تم آج مُجھے اس لئے نہیں چھوڑ رہی کہ تُم بہت فرمانبردار ہو بلکہ اس کی اصل وجہ تُمہاری دولت اور تُمہارا حُسن ہے ۔دولت جس کی تُمہیں ہر پل ضرورت ہے اور حُسن جس پر تُمہیں بہت مان ہے ۔کل تک میرے ۔لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ بہت جلد تُمہارا یہ حُسن ماند پڑ جائے گا اور اس کے کھوتے ہی تم پریشان ہوجاؤ گی جبکہ آج میرے لئے سب سے زیادہ طمانیت کا باعث یہ بات ہے کہ بہت جلد تُمہارا یہ غرور خاک میں مل جائے گا اور بس صرف چند سال بعد ہی تم اس سب کے لئے روؤگی جس کو آج اتنی آسانی سے چھوڑ دیا۔مُجھے خوشی ہے کہ میرا فن میرے مرنے کے بعد بھی زندہ رہے گا جبکہ تُمہارا یہ حسن خود تُمہارے اپنے سامنے ہی ماندپڑجائے گا ۔جوں جوں میری عمر بڑھے گی میرا کام نکھرتا جائے گا اورہر گزرتا لمحہ تم سے تمہاری دلکشی چھینتا جائے گا۔ تُمہارے اس خوبصورت جسم کی یہ رعنائی ماند پڑتی جائے گی اورتُمہارے چہرے کا یہ حسین یہ نقاب بوسیدہ ہو جائے گا۔
میری فکر مت کرو میں جس راہ کو چھوڑتا ہوں ،دوبارہ پلٹ کر بھی نہیں دیکھتا ۔ہوسکے تو خود کو روک لینااور اگر تم اس میں کامیاب ہوجاؤ تو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تُمہیں دیکھنا،تُمہیں ملنا ،تُمہیں چھونا تو ایک طرف ،تُمہاری قسم میں تُمہیں سوچوں گا بھی نہیں۔دل تو خُدا توڑے تو میں اس کو معاف نہ کروں اور تم تو پھر بھی انسان ہو۔تم نے کہا ہے کہ ’’مجھے بھول جاؤ‘‘تُم میری معصومیت کے ساتھ کھیلی ہومیں تمہیں کیسے بھول سکتا ہوں۔تم نے خود کو میری نظروں سے نہیں گرایا بلکہ مُجھے خود کو اپنے آپ کی نظروں سے گِرا دیا ہے ۔تُمہارے مجھ پر اتنے احسان ہیں کہ میں تُمہیں کوئی بدعا بھی نہیں دے سکتا بس یہی کہوں گا کہ شزہ ! تم نے میرے ساتھ کچھ اچھا نہیں کیا۔تُمہیں کھو کر میرا کتنا نقصان ہوگا یہ میں بخوبی جانتا ہوں لیکن مُجھے چھوڑ کر تُم کیا کچھ کھو دو گی اس کا تُمہیں آج بالکل بھی اندازہ نہیں ۔تم سے اتنی بڑی شکست کھانے کے باوجود میں تُمہیں اپنے دل سے نکال نہیں نکالوں گا تم بھلے ہی مجھ سے پیارنہ نبھاسکی لیکن میں محبت کی ان قسموں کی تذلیل نہیں ہونے دوں گاجو ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ کی تھیں ۔تم بیشک وعدہ خلافی کرو مگر میری محبت مُجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔اس لئے جب تک زندہ ہوں تب تک تو تُمہارا ہوں ،اب کب تک زندہ ہوں یہ دیکھنا ہے ۔
آؤ ہم اپنا معاملہ اس دُنیا کی عدالت سے اُٹھا کر خُدا کی عدالت میں لے جاتے ہیں اور مُجھے یقین ہے کہ وہ مہربان ہے وہ کسی کو نا اُمید نہیں کرتا ، مایوس نہیں چھوڑتا ۔یقیناًوہ ہمیں بھی اس مصیبت کی گھڑی سے ضرور نکالے گا ۔ آؤ دُعا کریں کہ وہ اپنا شفقت اور محبت بھرا ہاتھ ہمارے سروں پر رکھے کہ ہمیں سکون میسر آئے ۔


Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers