فرائی برگ سے بلیک فاریسٹ جانے کا ایک دوسرا راستہ بھی تھا‘ یہ ٹی ٹی سی کی مخالف سمت تھی‘ اس سائیڈ پر کیبل کار تھی‘ آپ کیبل کار پر بیٹھتے ہیں‘ کیبل کار صنوبر اور چیڑھ کے گھنے جنگلوں سے ہوتی ہوئی ٹاپ پر پہنچ جاتی ہے‘ کیبل کار کی آخری منزل پر ایک ریستوران ہے اور اس ریستوران کے بعد نیا سفر شروع ہوتا ہے‘آپ ڈھلوانوں پر اترتے ہیں تو بلیک فاریسٹ کی وادیاں شروع ہو جاتی ہیں‘ وادیوں میں چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں‘ آپ کو دور دور تک لکڑی کے خوبصورت گھر‘ جانوروں کے باڑے‘ کسانوں کی ورکشاپس اور تاحد نظر کھیت نظر آتے ہیں‘ ہم کیبل کار کے ذریعے ایروا شیسن پہنچے‘ وہاں سے واک شروع کی اور مختلف دیہات سے ہوتے ہوئے رنڈ ویگ پہنچ گئے‘رنڈ ویگ میں فور اسٹار ہوٹل تھا‘ ہوٹل کے چاروں اطراف جنگل تھا‘ جنگل میں باقاعدہ سڑکیں اور واکنگ ٹریکس تھے‘ آپ کو پوری وادی میں گاڑیاں آتی اور جاتی نظر آتی ہیں‘ دیہات تک بسیں بھی آجا رہی تھیں‘ برف ابھی تک موجود تھی‘ دھوپ سے برف پگھل رہی تھی اور یہ پگھلتی ہوئی برف چھوٹی چھوٹی ندیوں‘ چھوٹے چھوٹے نالوں اور چھوٹے چھوٹے جھرنوں کی شکل میں پوری وادی میں سرکتی پھر رہی تھی‘ آپ کو تاحد نظر پھول ہی پھول دکھائی دیتے تھے‘ سبز گھاس دکھائی دیتی تھی‘ صحت مند گائیں اور گھروں کی سرخ چھتیں دکھائی دیتی تھیں اور صنوبر اور چیڑھ کے سیاہ گھنے جنگل نظر آتے تھے‘ ان جنگلوں سے خوشبو آتی تھی اور نیلے اور سبز پروں والے ہزاروں پرندے دکھائی دیتے تھے۔  تفصیل سے پڑھیے
بلیک فاریسٹ قدرت کی صناعی کا عظیم مظہر ہے لیکن جرمنوں نے اس جنگل میں انفراسٹرکچر بچھا کر اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر دیا‘آپ جس طرف دیکھتے ہیں آپ کو وہاں دورویہ سڑک ملتی تھی‘ آپ کو ہر دو کلومیٹر بعد آبادی بھی نظر آتی تھی اور موبائل فون سروس بھی پورے جنگل میں دستیاب تھی۔ ہم نے ہفتے کی دوپہر اڑھائی بجے سفر شروع کیا اور پیدل چلتے ہوئے سات بجے ٹوڈناؤپہنچ گئے‘ٹوڈناؤایک چھوٹا سا قصبہ ہے‘ یہاں ایک ہی بلند عمارت ہے اور یہ عمارت اس قصبے کا چرچ ہے مگر اس کے باوجود یہاں شاپنگ سینٹرز بھی ہیں‘ کافی شاپس بھی‘ بس اسٹاف بھی اور ایک چھوٹا سا پولیس اسٹیشن بھی۔ ہم اس قصبے کے شاید پہلے پاکستانی تھے چنانچہ لوگ ہمیں حیرت سے دیکھ رہے تھے‘ ہمیں ٹوڈناؤ کے راستے میں جگہ جگہ کیمپنگ سائیٹس بھی ملیں‘ لوگ خیمے اور کاروان لے کر ان سائیٹس میں مقیم ہو جاتے ہیں‘ کاروان ایک بیڈ کی گاڑی ہوتی ہے جس میں ایک چھوٹا سا باتھ روم‘ ایک چھوٹا سا کچن اور چھوٹا سا ٹی وی لاؤنج ہوتا ہے‘ یہ آپ کا چلتا پھرتا گھر ہوتا ہے‘ آپ یہ گاڑی لے کر نکل جاتے ہیں اور آپ کا جہاں دل چاہتا ہے آپ وہاں رک جاتے ہیں۔
فرائی برگ کی انتظامیہ نے کاروان سواروں اورخیمہ بردار سیاحوں کے لیے مختلف جگہ پر کیمپنگ سائیٹس بنا رکھی ہیں‘ ان سائیٹس میں بجلی بھی ہوتی ہے‘ چھوٹاسا ریستوران بھی‘ ایک درمیانے سائز کی دکان بھی اور ایمرجنسی فون کی سہولت بھی۔ ہمیں راستے میں بے شمار سائیٹس ملیں اور سائیٹس میں کاروان اور خیمے بھی۔ بلیک فاریسٹ کیسا علاقہ تھا ‘ آپ اپنی سہولت کے لیے اسے سوات کا جنگلی علاقہ سمجھ لیں‘ شوگراں کی وادی سمجھ لیں یا فیری میڈوز‘ خپلو یا پھر دیوسائی سمجھ لیں‘ آپ بس ان علاقوں کو خوبصورت‘ صاف ستھرا اور منظم بنالیں‘آپ انھیں دو رویہ سڑکوں سے جوڑ دیں اور یہاں چھوٹے بڑے ہوٹلز اور ریستوران بنادیں اور یہاں آرام دہ بسیں چلا دیں تو یہ فرائی برگ کا بلیک فاریسٹ بن جائے گا‘ ہمارے ملک کو بھی اللہ تعالیٰ نے دل کھول کر نوازا ہے‘ بس ہم نے اس سرزمین کی قدر نہیں کی‘ ہم نے انفرا سٹرکچر بھی نہیں بنایا اور لوگوں کی ٹریننگ بھی نہیں کی‘ ہم خود بھی گندے ہیں اور ہم ماحولیاتی آلودگی بھی پھیلاتے ہیں‘ ہم آج تک لوگوں کو ٹشو پیپر‘ پلاسٹک کے لفافے‘ ریپر‘ ڈبے اور بوتلیں ٹھکانے لگانے کا طریقہ نہیں سیکھا سکے چنانچہ ہمارے شہر بھی گندے ہیں‘ دریا‘ ندیاں اور جنگل بھی۔
مجھے فرائی برگ میں تین دلچسپ چیزیں ملیں‘ پہلی چیز کھلی نالیاں تھیں‘ آج سے دو سو سال قبل فرائی برگ کی نالیاں بھی ہمارے شہروں کی نالیوں کی طرح کھلی اور بدبودار تھیں‘ شہر میں سیوریج کا جدید نظام آیا تو فرائی برگ کی انتظامیہ نے نالیاں بند کرنے کے بجائے انھیں پہاڑوں سے آنے والے جھرنوں اور ندیوں سے جوڑ دیا‘ یہ نالیاں اس معمولی سی تکنیک سے پورے شہر میں صاف پانی کی شریانیں بن گئیں‘ آپ شہر کے کسی بھی حصے میں چلے جائیں آپ کو وہاں صاف پانی کی نالیاں نظر آتی ہیں‘یہ نالیاں ہر محلے اور ہر گلی سے گزرتی ہیں‘ گرمیوں میں لوگ ان میں پاؤں ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں‘ یہ بہت اچھا آئیڈیا ہے‘ ہم بھی اپنے پرانے شہروں‘ قصبوں اور گاؤں کی نالیاں بند کرانے کے بجائے انھیں صاف پانی کی چھوٹی چھوٹی ندیاںبنا سکتے ہیں‘ حکومت پانی کا ایک بڑا ذخیرہ بنائے‘ پمپ کے ذریعے پانی کو بلندی تک پہنچائے اور پھر یہ پانی گاؤں یا قصبے کی نالیوں میں چھوڑ دے‘ یہ پانی جلترنگ بجاتا ہوا بڑے ذخیرے تک آئے اور وہاں سے اسے دوبارہ نالیوں میں چھوڑ دیا جائے‘ اس سے ماحولیاتی آلودگی بھی کم ہو گی‘ شہر اور قصبے کی فضا پر بھی اچھا اثر پڑے گا اور گرمی کی شدت بھی کم ہو جائے گی‘ ہم کسی ایک شہر یا قصبے میں یہ تجربہ کر سکتے ہیں۔
فرائی برگ کی دوسری چیز اس سے بھی زیادہ حیران کن تھی‘ جرمن حکومت بھی دوسرے ممالک کی طرح خالی بوتلوں اور خالی ڈبوں کی وجہ سے پریشان تھی‘ لوگ خالی بوتلیں اور خالی ڈبے سرے عام پھینک دیتے تھے جس سے ملک میں گندگی بھی ہوتی تھی اور ماحولیاتی آلودگی بھی لیکن پھر گرین پارٹی کے ایک وزیر کے ذہن میں اس کا انوکھا حل آیا‘ گرین پارٹی 1998ء میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی کولیشن میں شامل ہوئی‘ ماحولیاتی آلودگی کی وزارت گرین پارٹی کے حصے میں آ گئی‘ گرین پارٹی کے وزیرجرجین ٹریٹن نے بوتلوں اور ڈبوں پر 25 سینیٹ کا ’’ری وارڈ‘‘ لگا دیا‘ آپ آج جرمنی میں کسی بھی جگہ سے پانی‘ دودھ یا شراب کی بوتل خریدیں آپ کو اس بوتل پر 25 سنیٹ اضافی دینا پڑیں گے‘ آپ یہ بوتل استعمال کے بعد دکاندار کو واپس کر دیں‘ یہ دکاندار آپ کو 25سینیٹ واپس کر دے گا‘ آپ جرمنی میں اگر اپنے گھر کی بوتلیں اور ڈبے ہی محفوظ کر لیں تو آپ روزانہ بیس پچیس یورو بچا لیتے ہیں۔
حکومت نے اس کے بعد تمام اسٹورز اور دکانوں میں ’’ری سائیکلنگ مشینیں‘‘لگوا دیں‘ لوگ اب آتے ہیں‘ اپنی خالی بوتلیں مشین میں ڈالتے ہیں‘ مشین بوتلوں کو دبا کر ان کا بسٹک بنا دیتی ہے‘ دکاندار گاہک کو پیسے واپس کرتا ہے اور یہ بسٹک شام کے وقت کمپنیاں اٹھا کر لے جاتی ہیں‘ اس عمل سے شہر بھی صاف ہو گئے‘ ری سائیکلنگ کی انڈسٹری بھی ڈویلپ ہو گئی اور لوگوں میں احساس ذمے داری بھی پیدا ہو گیا‘ ہم بھی بڑے شہروں میں یہ تکنیک استعمال کر سکتے ہیں‘ شہر کی انتظامیہ تمام بوتلوں‘ ڈبوں اور ریپرز پر ایک روپیہ اضافی وصول کرے‘ گاہک یہ بوتلیں‘ ڈبے اور ریپر واپس کر کے اپنی رقم واپس لے لیں اور یہ سارا کچرا بعد ازاں ری سائیکلنگ میں چلا جائے‘ ہم اس سے ری سائیکلنگ کی انڈسٹری بھی ڈویلپ کر لیں گے‘ ملک میں معاشی سرگرمی بھی پیدا ہو گی‘ ماحول بھی صاف ہو جائے گا اور لوگوں میں احساس ذمے داری بھی جنم لے گا‘ ہم شروع میں اسلام آباد اور لاہور میں یہ تجربہ کر سکتے ہیں‘ ملک کی بڑی پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیموں اور کینٹ کے علاقوں میں بھی یہ تجربہ ہو سکتا ہے۔
فرائی برگ کی تیسری چیز اس کی چھوٹی چھوٹی جھلیں ہیں‘ میں جس علاقے میں رہ رہا تھا وہاں ایک خوبصورت جھیل تھی‘ یہ جھیل کرشنگ مشینوں کی وجہ سے پیدا ہوئی‘ آج سے بیس سال قبل اس علاقے میں بجری کی مشینیں لگی تھیں‘ یہ زمین سے پتھر نکال کر توڑتی تھیں‘ بجری نکلنے کی وجہ سے علاقے میں کھائیاں بن گئیں‘ میونسپل کارپوریشن نے ان کھائیوں کو جوڑ کر جھیل بنا دی‘ جھیل کی وجہ سے زمین مہنگی ہوئی اور آج اس جھیل کے اردگرد انتہائی خوبصورت محلے آباد ہیں‘ ہم بھی اگر مستقبل کی منصوبہ بندی کے دوران جھیلوں کو محلوں اور قصبوں کا لازمی حصہ بنا دیں تو اس سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آئے گی‘ پانی کی سطح بھی بلند ہو گی اور لوگوں کا معیار زندگی بھی بلند ہو جائے گا‘ پانی آبادی اور سماجیات کا بہت بڑا سورس ہے‘ آپ دنیا کے تمام پرانے قصبوں کا جغرافیہ دیکھ لیں‘ آپ کو انسان پانی کے گرد آباد ہوتا ہوا نظر آئے گا‘ ہم اس انسانی تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘ ہم اگر زیادہ نہ کریں تو بھی ہم بارش کا پانی جمع کر کے شہروں کے اندر بیسیوں جھیلیں بنا سکتے ہیں‘ ان جھیلوں سے سبزے میں بھی اضافہ ہو گا اور شہر بھی خوبصورت ہو جائیں گے اور یہ فرائی برگ کا تحفہ ہے‘ پاکستان کے لیے جرمنی کا تحفہ۔ اپنے شہروں کو خوبصورت بنائیں‘ لوگوں کی سوچ خود بخود خوبصورت ہو جائے گی۔
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers