مصنف:حکیم الامت مجدد ملت مولانا اشرف علی تھانوی

                   مکمل کتاب کے تین حصے کر دئے گئے ہیں                                          حصہ اول

کفر اور شرک کی باتوں کا بیان

کفر کو پسند کرنا۔ کفر کی باتوں کو اچھا جاننا۔ کسی دوسرے سے کفر کی کوئی بات کرانا۔ کسی وجہ سے اپنے ایمان پر پشیماں ہونا کہ اگر مسلمان نہ ہوتے تو فلانی بات حاصل ہو جاتی۔ اولاد وغیرہ کسی کے مر جانے پر رنج میں اس قسم کی باتیں کہنا۔ خدا کو بس اسی کا مارنا تھا۔ دنیا بھر میں مارنے کے لیے بس یہی تھا۔ خدا کو ایسا نہ چاہیے تھا۔ ایسا ظلم کوئی نہیں کرتا جیسا تو نے کیا۔ خدا اور رسول کے کسی حکم کو برا سمجھنا اس میں عیب نکالنا۔ کسی نبی یا فرشتے کی حقارت کرنا۔ ان کو عیب لگانا۔ کسی بزرگ یا پیر کے ساتھ یہ عقیدت رکھنا کہ ہمارے سب حال کی اس کو ہر وقت ضرور خبر رہتی ہے۔ نجومی پنڈت یا جس پر جن چڑھا ہو اس سے غیب کی خبریں پوچھنا یا فال کھلوانا پھر اس کو سچ جاننا۔ کسی بزرگ کے کلام سے فال دیکھ کر اس کو یقینی سمجھنا۔ کسی کو دور سے پکارنا اور یہ سمجھنا کہ اس کو خبر ہو گی۔ کسی کو نفع نقصان کا مختار سمجھنا۔ کسی سے مرادیں مانگنا۔ روزی اولاد مانگنا کسی کے نام کا روزہ رکھنا۔ کسی کو سجدہ کرنا۔ کسی کے نام کا جانور چھوڑنا یا چڑھاوا چڑھانا۔ کسی کے نام کی منت ماننا۔ کسی کی قبر یا مکان کا طواف کرنا۔ خدا کے حکم کے مقابلہ میں کسی دوسری بات یا رسم کو مقدم رکھنا۔ کسی کے سامنے جھکنا یا تصویر کی طرح کھڑا رہنا۔ توپ پر بکرا چڑھانا۔ کسی کے نام پر جانور ذبح کرنا۔ جن بھوت پریت وغیرہ کے چھوڑ دینے کے لیے ان کی بھینٹ دینا۔ بکرا وغیرہ ذبح کرنا۔ بچے کے جینے کے لیے اس کے نار کا پوجنا۔ کسی کی دہائی دینا۔ کسی جگہ کا کعبہ کے برابر ادب و تعظیم کرنا۔ کسی کے نام پر بچہ کے کان ناک چھیدنا۔ بالی اور بلاق پہنانا۔ کسی کے نام کا بازو پر پیسہ باندھنا یا گلے میں ناڑا ڈالنا۔ سہرا باندھنا۔ چوٹی رکھنا۔ بدھی پہنانا۔ فقیر بنانا۔ علی بخش۔ حسین بخش۔ عبدالنبی وغیرہ نام رکھنا۔  تفصیل سے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
کسی جانور پر کسی بزرگ کا نام لگا کر اس کا ادب کرنا۔ عالم کاروبار کو ستاروں کی تاثیر سے سمجھنا۔ اچھی بری تاریخ اور دن کا پوچھنا۔ شگون لینا۔ کسی مہینے یا تاریخ کو منحوس سمجھنا۔ کسی بزرگ کا نام بطور وظیفہ کے چننا۔ یوں کہنا کہ خدا و رسول اگر چاہے گا تو فلانا کام ہو جائے گا۔ کسی کے نام یا سر کی قسم کھانا۔ جاندار کی بڑی تصویر رکھنا۔ خصوصاً کسی بزرگ کی تصویر برکت کے لیے رکھنا اور اس کی تعظیم کرنا۔

بدعتوں اور بری رسموں اور بری باتوں کا بیان

قبروں پر دھوم دھام سے میلا کرانا۔ چراغ جلانا۔ عورتوں کا وہاں جانا۔ چادریں ڈالنا۔ پختہ قبریں بنانا۔ بزرگوں کے راضی کرنے کو قبروں کی حد سے زیادہ تعظیم کرنا۔ تعزیہ یا قبر کو چومنا چانٹا۔ خاک ملنا۔ طواف اور سجدہ کرنا۔ قبروں کی طرف نماز پڑھنا۔ مٹھائی۔ چاول۔ گلگلے وغیرہ چڑھانا۔ تعزیہ علم وغیرہ رکھنا۔ اس پر حلوہ مالیدہ چڑھانا یا اس کو سلام کرنا۔ کسی چیز کو اچھوتی سمجھنا۔ محرم کے مہینے میں پان نہ کھانا۔ مہندی مسی نہ لگانا۔ مرد کے پاس نہ رہنا۔ لال کپڑا نہ پہننا۔ بی بی کی صحنک مردوں کو نہ کھانے دینا۔ تیجا۔ چالیسواں وغیرہ کو ضروری سمجھ کر کرنا۔ باوجود ضرورت کے عورت کے دوسرے نکاح کو معیوب سمجھنا۔ نکاح۔ ختنہ۔ بسم اللہ وغیرہ میں اگرچہ وسعت نہ ہو مگر ساری خاندانی رسمیں کرنا۔ خصوصاً قرض وغیرہ کر کے ناچ رنگ وغیرہ کرنا۔ ہولی دیوالی کی رسمیں کرنا۔ سلام کی جگہ بندگی وغیرہ کرنا یا صرف سر پر ہاتھ رکھ کر جھک جانا۔ دیور۔ جیٹھ۔ پھوپی زاد۔ خالہ زاد بھائی کے سامنے بے محابا آنا۔ یا کسی نامحرم کے سامنے آنا۔ گگرا دریا سے گاتے بجاتے لانا۔ راگ، باجا۔ گانا سننا۔ ڈومنیوں وغیرہ کو نچانا اور دیکھنا۔ اس پر خوش ہو کر ان کو انعام دینا۔ نسب پر فخر کرنا یا کسی بزرگ سے منسوب ہونے کو نجات کے لیے کافی سمجھنا۔ کسی کے نسب میں کسر ہو اس پر طعن کرنا۔ جائز پیشہ کو ذلیل سمجھنا۔ حد سے زیادہ کسی کی تعریف کرنا۔ شادیوں میں فضول خرچی اور خرافات باتیں کرنا۔ ہندوؤں کی رسمیں کرنا۔ دولہا کو خلاف شرح پوشاک پہنانا۔ کنگنا سہرا باندھنا۔ مہندی لگانا۔ آتشبازی ٹیٹوں وغیرہ کا سامان کرنا۔ فضول آرائش کرنا۔ گھر کے اندر عورتوں کے درمیان دولہا کو بلانا اور سامنے جانا۔ تاک جھانک کر اس کو دیکھ لینا۔ سیانی سمجھدار سالیوں وغیرہ کا سامنے آنا۔ اس سے ہنسی دل لگی کرنا۔ چوتھی کھیلنا۔ جس جگہ دولہا دولہن لیٹے ہوں اس کے گرد جمع ہو کر باتیں سننا۔ جھانکنا۔
تاکنا۔ اگر کوئی بات معلوم ہو جائے تو اس کو اوروں سے کہنا مانجھے بٹھانا اور ایسی شرارت کرنا جس سے نمازیں قضا ہو جائیں۔ شیخی سے مہر زیادہ مقرر کرنا۔ غمی میں چلا کر رونا۔ منہ اور سینہ پیٹنا۔ بیان کر کے رونا۔ استعمال گھڑے توڑ ڈالنا۔ جو جو کپڑے اس کے بدن سے لگے ہوں سب کا دھلوانا۔ برس روز تک یا کچھ کم زیادہ اس گھر میں اچار نہ پڑنا۔ کوئی خوشی کی تقریب نہ کرنا۔ مخصوص تاریخوں میں پھر غم کا تازہ کرنا۔ حد سے زیادہ زیب و زینت میں مشغول ہونا۔ سادی وضع کو معیوب جاننا۔ مکان میں تصویریں لگانا۔ خاصدان۔ عطردان۔ سرمہ دانی سلائی وغیرہ چاندی سونے کی استعمال کرنا۔ بہت باریک کپڑا پہننا یا بجتا زیور پہننا۔ لہنگا پہننا۔ مردوں کے مجمع میں جانا خصوصاً تعزیہ دیکھنے اور میلوں میں جانا۔ ا ور مردوں کی وضع اختیار کرنا۔ بدن گودانا۔ خدائی رات کرنا۔ ٹوٹکہ کرنا۔ محض زیب و زینت کے لیے دیوار گیری چھت گیری لگانا۔ سفر کو جاتے یا لوٹتے وقت غیر محرم کے گلے لگنا یا گلے لگانا۔ جینے کے لیے لڑکے کا کان یا ناک چھیدنا۔ لڑکے کو بالا یا بلاق پہنانا۔ ریشمی یا کسم یا زعفران کا رنگا ہوا کپڑا یا ہنسلی یا گھونگر یا کوئی اور زیور پہنانا۔ کم رونے کے لیے افیون کھلانا۔ کسی بیماری میں شیر کا دودھ یا اس کا گوشت کھلانا۔ اس قسم کی اور بہت سی باتیں ہیں بطور نمونہ کے اتنی بیان کر دی گئی۔

بڑے بڑے گناہوں کا بیان جن پر بہت سختی آئی ہے

خدا سے شرک کرنا۔ نا حق خون کرنا۔ وہ عورتیں جن کے اولاد نہیں ہوتی کسی کی سنور میں بعضے ایسے ٹوٹکے کرتی ہیں کہ یہ بچہ مر جائے اور ہمارے اولاد ہو یہ بھی اسی خون میں داخل ہے۔ ماں باپ کو ستانا۔ زنا کرنا۔ یتیموں کا مال کھانا جیسے اکثر عورتیں خاوند کے تمام مال و جائیداد پر قبضہ کر کے چھوٹے بچوں کا حصہ اڑاتی ہیں۔ لڑکیوں کو حصہ میراث کا نہ دینا۔ کسی عورت کو ذرا سے شبہ میں زنا کی تہمت لگانا۔ ظلم کرنا۔ کسی کو اس کے پیچھے بدی سے یاد کرنا۔ خدا کی رحمت سے نا امید ہونا۔ وعدہ کر کے پورا نہ کرنا۔ امانت میں خیانت کرنا۔ خدا کا کوئی فرض مثل نماز روزہ حج زکوٰۃ چھوڑ دینا۔ قرآن شریف پڑھ کر بھلا دینا۔ جھوٹ بولنا۔ خصوصاً جھوٹی قسم کھانا۔ خدا کے سوا اور کسی کی قسم کھانا یا اس طرح قسم کھانا کہ مرتے وقت کلمہ نصیب نہ ہو۔ ایمان پر خاتمہ نہ ہو۔ خدا کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنا۔ بلا عذر نماز قضا کر دینا۔ کسی مسلمان کو کافر یا بے ایمان یا خدا کی مار یا خدا کی پھٹکار خدا کا دشمن وغیرہ کہنا۔ کسی کا گلہ شکوہ سننا۔ چوری کرنا۔ بیاج لینا۔ اناج کی گرانی سے خوش ہونا۔ مول چکا کر پیچھے زبردستی سے کم دینا۔ غیر محرم کے پاس تنہائی میں بیٹھنا۔ جوا کھیلنا۔ بعضی عورتیں اور لڑکیاں بد بد کے گٹے یا اور کوئی کھیل کھیلتی ہیں یہ بھی جوا ہے۔ کافروں کی رسمیں پسند کرنا۔ کھانے کو برا کہنا۔ ناچ دیکھنا۔ راگ باجا سننا۔ قدرت ہونے پر نصیحت نہ کرنا۔ کسی سے مسخرا پن کر کے بے حرمت اور شرمندہ کرنا۔ کسی کا عیب ڈھونڈنا۔

وضو کا بیان

وضو کرنے والی کو چاہیے کہ وضو کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کر کے کسی اونچی جگہ بیٹھے کہ چھینٹیں اڑ کر اوپر نہ پڑیں۔ اور وضو شروع کرتے وقت بسم اللہ کہے۔ اور سب سے پہلے تین دفعہ گٹوں تک ہاتھ دھوئے۔ پھر تین دفعہ کلی کرے اور مسواک کرے۔ اگر مسواک نہ ہو تو کسی موٹے کپڑے یا صرف انگلی سے اپنے دانت صاف کر لے کہ سب میل کچیل جاتا رہے اور اگر روزہ دار نہ ہو تو غرغرہ کر کے اچھی طرح سارے منہ میں پانی پہنچاوے اور اگر روزہ ہو تو غرغرہ نہ کرے کہ شاید کچھ پانی حلق میں چلا جائے۔ پھر تین بار ناک میں پانی ڈالے اور بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرے۔ لیکن جس کا روزہ ہو وہ جتنی دور تک نرم نرم گوشت ہے اس سے اوپر پانی نہ لے جاوے۔ پھر تین دفعہ منہ دھوئے۔ سر کے بالوں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور اس کان کی لو سے اس کان کی لو تک سب جگہ پانی بہ جائے۔ دونوں ابروؤں کے نیچے بھی پانی پہنچ جاوے کہیں سوکھا نہ رہے۔ پھر تین بار داہنا ہاتھ کہنی سمیت دھوئے پھر بایاں ہاتھ کہنی سمیت تین دفعہ دھوئے۔ اور ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر خلال کرے اور انگوٹھی چھلا چوڑی جو کچھ ہاتھ میں پہنے ہو ہلا لے وے کہ کہیں سوکھا نہ رہ جائے۔ پھر ایک مرتبہ سارے سر کا مسح کرے پھر کان کا مسح کرے اندر کی طرف کا کلمہ کی انگلی سے۔ اور کان کے اوپر کی طرف کا انگوٹھوں سے مسح کرے۔ پھر انگلیوں کی پشت کی طرف سے گردن کا مسح کرے۔ لیکن گلے کا مسح نہ کرے کہ یہ برا اور منع ہے۔ کان کے مسح کے لیے نیا پانی لینے کی ضرورت نہیں ہے سر کے مسح سے جو بچا ہوا پانی ہاتھ میں لگا ہے وہی کافی ہے۔ اور تین بار داہنا پاؤں ٹخنے سمیت دھوئے۔ پھر بایاں پاؤں ٹخنے سمیت تن دفعہ دھوئے اور بائیں ہاتھ کی چھنگلیاں سے پر کی انگلیوں کا خلال کرے۔ پیر کی داہنی چھنگلیاں سے شروع کرے اور بائیں چھنگلیا پر ختم کرے۔
یہ وضو کرنے کا طریقہ ہے لیکن اس میں بعض چیزیں ایسی ہیں کہ اگر اس میں سے ایک بھی چھوٹ جائے یا کچھ کمی رہ جائے تو وضو نہیں ہوتا جیسے پہلے بے وضو تھی اب بھی بے وضو رہے گی۔ ایسی چیزوں کو فرض کہتے ہیں۔ اور بعضی باتیں ایسی ہیں کہ ان کے چھوٹ جانے سے وضو تو ہو جاتا ہے لیکن ان کے کرنے سے ثواب ملتا ہے۔ اور شریعت میں ان کے کرنے کی تاکید بھی آئی ہے۔ اگر کوئی اکثر چھوڑ دیا کرے تو گناہ ہوتا ہے۔ اسی چیزوں کو سنت کہتے ہیں اور بعضی چیزیں ایسی ہیں کہ کرنے سے ثواب ہوتا ہے اور نہ کرنے سے کچھ گناہ نہیں ہوتا اور شرع میں ان کے کرنے کی تاکید بھی نہیں ہے ایسی باتوں کو مستحب کہتے ہیں۔ مسئلہ۔ وضو میں فرض فقط چار چیزیں ہیں۔ ایک مرتبہ سارا منہ دھونا۔ ایک ایک دفعہ کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھونا۔ ایک چار چوتھائی سر کا مسح کرنا۔ ایک ایک مرتبہ ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھونا۔ بس فرض اتنا ہی ہے۔ اس میں سے اگر ایک چیز بھی چھوٹ جائے گی یا کوئی جگہ بال برابر بھی سوکھی رہ جائے گی تو وضو نہ ہو گا۔
مسئلہ۔ پہلے گٹوں تک دونوں ہاتھ دھونا اور بسم اللہ کہنا اور کلی کرنا۔ اور ناک میں پانی ڈالنا۔ مسواک کرنا۔ سارے سر کا مسح کرنا۔ ہر عضو کو تین تین مرتبہ دھونا۔ کانوں کا مسح کرنا۔ ہاتھ اور پیروں کی انگلیوں کا خلال کرنا۔ یہ سب باتیں سنت ہیں اور اس کے سوا جو اور باتیں ہیں وہ سب مستحب ہیں۔
مسئلہ۔ جب یہ چار عضو جن کا دھونا فرض ہے دھل جائیں تو وضو ہو جائے گا چاہے وضو کا قصد ہو یا نہ ہو جیسے کوئی نہاتے وقت سارے بدن پر پانی بہا لے اور وضو نہ کرے یا حوض میں گر پڑے یا پانی برسنے میں باہر کھڑا ہو جائے اور وضو کے یہ اعضاء دھل جائیں۔ تو وضو ہو جائے گا لیکن ثواب وضو کا نہ ملے گا۔
مسئلہ۔ سنت یہی ہے کہ اسی طرح سے وضو کرے جس طرح ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔ اور اگر کوئی الٹا وضو کر لے کہ پہلے پاؤں دھو ڈالے پھر مسح کرے پھر دونوں ہاتھ دھوئے پھر منہ دھو ڈالے یا اور کسی طرح الٹ پلٹ کر وضو کرے تو بھی وضو ہو جاتا ہے لیکن سنت کے موافق وضو نہیں ہوتا اور گناہ کا خوف ہے۔
مسئلہ۔ اسی طرح اگر بایاں ہاتھ بایاں پاؤں پہلے دھویا تب بھی وضو ہو گیا لیکن مستحب کے خلاف ہے۔
مسئلہ۔ ایک عضو کو دھو کر دوسرے عضو کے دھونے میں اتنی دیر نہ لگائے کہ پہلا عضو سوکھ جائے بلکہ اس کے سوکھنے سے پہلے دوسرا عضو دھو ڈالے۔ اگر پہلا عضو سوکھ گیا تب دوسرا عضو دھویا تو وضو ہو جائے گا لیکن یہ بات سنت کے خلاف ہے۔
مسئلہ۔ ہر عضو کے دھوتے وقت یہ بھی سنت ہے کہ اس پر ہاتھ بھی پھیر لے تاکہ کوئی جگہ سوکھی نہ رہے سب جگہ پانی پہنچ جائے۔
مسئلہ۔ وقت آنے سے پہلے ہی وضو نماز کا سامان اور تیاری کرنا بہتر اور مستحب ہے۔
مسئلہ۔ جب تک کوئی مجبوری نہ ہو خود اپنے ہاتھ سے وضو کرے کسی اور سے پانی نہ ڈلوائے اور وضو کرنے میں دنیا کی کوئی بات چیت نہ کرے بلکہ ہر عضو کے دھوتے وقت بسم اللہ اور کلمہ پڑھا کرے اور پانی کتنا ہی فراغت کا کیوں نہ ہو چاہے دریا کے کنارے پر ہو لیکن تب بھی پانی ضرورت سے زیادہ خرچ نہ کرے اور نہ پانی میں بہت کمی کرے کہ اچھی طرح دھونے میں دقت ہو۔ نہ کسی عضو کو تین مرتبہ سے زیادہ دھوئے اور منہ دھوتے وقت پانی کا چھینٹا زور سے منہ پر نہ مارے۔ نہ پھنکار مار کر چھینٹیں اڑائے اور اپنے منہ اور آنکھوں کو بہت زور سے نہ بند کرے کہ یہ سب باتیں مکروہ اور منع ہیں اگر آنکھ یا منہ زور سے بند کیا اور پلک یا ہونٹ پر کچھ سوکھا رہ گیا یا آنکھ کے کوئے میں پانی نہیں پہنچا تو وضو نہیں ہوا۔
مسئلہ۔ انگوٹھی چھلے چوڑی کنگن وغیرہ اگر ڈھیلے ہوں کہ بے ہلائے بھی ان کے نیچے پانی پہنچ جائے تب بھی ان کا ہلالینا مستحب ہے۔ اور اگر ایسے تنگ ہوں کہ بغیر ہلائے پانی نہ پہنچنے کا گمان ہو تو ان کو ہلا کر اچھی طرح پانی پہنچا دینا ضروری اور واجب ہے۔ نتھ کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر سوراخ ڈھیلا ہے اس وقت تو ہلانا مستحب ہے اور جب تنگ ہو کہ بے پھرائے اور ہلائے پانی نہ پہنچے گا تو منہ دھوتے وقت گھما کر اور ہلا کر پانی اندر پہنچانا واجب ہے۔
مسئلہ۔ اگر کسی کے ناخن میں آٹا لگ کر سوکھ گیا اور اس کے نیچے پانی نہیں پہنچا تو وضو نہیں ہوا۔ جب یاد آئے اور آٹا دیکھے تو چھڑا کر پانی ڈال لے اور اگر پانی پہنچانے سے پہلے کوئی نماز پڑھ لی ہو تو اس کو لوٹا دے اور پھر سے پڑھے۔
مسئلہ۔ کسی کے ماتھے پر افشاں چنی ہو اور اوپر اوپر سے پانی بہا لیوے کہ افشاں نہ چھوٹنے پائے تو وضو نہیں ہوتا۔ ماتھے کا سب گند چھڑا کر منہ دھونا چاہیے۔
مسئلہ۔ جب وضو کر چکے تو سورہ انا انزلنا اور یہ دعا پڑھے۔
اے اللہ کر دے مجھ کو توبہ کرنے والوں میں سے اور کر دے مجھ کو گناہوں سے پاک ہونے والے لوگوں میں سے اور کر دے مجھ کو اپنے نیک بندوں میں سے اور کر دے مجھ کو ان لوگوں میں سے کہ جن کو دونوں جہانوں میں کچھ خوف نہیں۔ اور نہ وہ آخرت میں غمگین ہوں گے۔
مسئلہ۔ جب وضو کر چکے تو بہتر ہے کہ دو رکعت نماز پڑھے۔ اس نماز کو جو وضو کے بعد پڑھی جاتی ہے تحیۃ الوضو کہتے ہیں۔ حدیث شریف میں اس کا بڑا ثواب آیا ہے۔
مسئلہ۔ اگر ایک وقت وضو کیا تھا پھر دوسرا وقت آ گیا اور ابھی وضو ٹوٹا نہیں ہے تو اسی وضو سے نماز پڑھنا جائز ہے۔ اور اگر دوبارہ وضو کرے تو بہت ثواب ملتا ہے۔
مسئلہ۔ جب ایک دفعہ وضو کر لیا اور ابھی وہ ٹوٹا نہیں تو جب تک اس وضو سے کوئی عبادت نہ کرلے اس وقت تک دوسرا وضو کرنا مکروہ اور منع ہے۔ تو اگر نہاتے وقت کسی نے وضو کیا ہے تو اسی وضو سے نماز پڑھنا چاہیے۔ بغیر اس کے ٹوٹے دوسرا وضو کرے ہاں اگر کم سے کم دو ہی رکعت نماز وضو سے پڑھ چکی ہو تو دوسرا وضو کرنے میں کچھ حرج نہیں بلکہ ثواب ہے۔
مسئلہ۔ کسی کے ہاتھ یا پاؤں پھٹ گئے اور اس میں موم روغن یا اور کوئی دوا بھر لی اور اس کے نکالنے سے ضرر ہو گا تو اگر بے اس کے نکالے اوپر ہی اوپر پانی بہا دیا تو وضو درست ہے۔
مسئلہ۔ وضو کرتے وقت ایڑی یا کسی اور جگہ پانی نہیں پہنچا اور جب پورا وضو ہو چکا تب معلوم ہوا کہ فلانی جگہ سوکھی ہے تو وہاں پر فقط ہاتھ پھیر لینا کافی نہیں ہے بلکہ پانی بہانا چاہیے۔
مسئلہ۔ اگر ہاتھ پاؤں وغیرہ میں کوئی پھوڑا ہے یا کوئی اور ایسی بیماری ہے کہ اس پر پانی ڈالنے سے نقصان ہوتا ہے تو پانی نہ ڈالے۔ وضو کرتے وقت صرف بھیگا ہاتھ پھیر لیوے اس کو مسح کہتے ہیں۔ اور اگر یہ بھی نقصان کرے تو ہاتھ بھی نہ پھیرے اتنی جگہ چھوڑ دے۔ مسئلہ۔ اگر زخم پر پٹی بندھی ہو اور پٹی کھول کر زخم پر مسح کرنے سے نقصان ہو۔ یا پٹی کھولنے باندھنے میں بڑی دقت اور تکلیف ہو تو پٹی کے اوپر مسح کر لینا درست ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو پٹی پر مسح کرنا درست نہیں پٹی کھول کر زخم پر مسح کرنا چاہیے۔
مسئلہ۔ اگر پوری پٹی کے نیچے زخم نہیں ہے تو اگر پٹی کھول کر زخم کو چھوڑ کر اور سب جگہ دھو سکے تو دھونا چاہیے۔ اور اگر پٹی نہ کھول سکے تو ساری پٹی پر مسح کر لے جہاں زخم ہے وہاں بھی اور جہاں زخم نہیں ہے وہاں بھی۔
مسئلہ۔ ہڈی کے ٹوٹ جانے کے وقت بانس کی کھپچیاں رکھ کے ٹکھٹی بنا کر باندھتے ہیں اس کا بھی یہی حکم ہے کہ جب تک ٹکھٹی نہ کھول سکے ٹکھٹی کے اوپر ہاتھ پھیر لیا کرے۔ اور فصد کی پٹی کا بھی یہی حکم ہے اگر زخم کے اوپر مسح نہ کر سکے تو پٹی کھول کر کپڑے کی گدی پر مسح کرے اور اگر کوئی کھولنے باندھنے والا نہ ملے تو پٹی ہی پر مسح کر لے۔
مسئلہ۔ ٹکھٹی اور پٹی وغیرہ میں بہتر تو یہ ہے کہ ساری ٹکھٹی پر مسح کرے اور اگر ساری پر نہ کرے بلکہ آدھی سے زائد پر کرے تو بھی جائز ہے اگر فقط آدھی یا آدھی سے کم پر کرے تو جائز نہیں۔
مسئلہ۔ اگر ٹکھٹی یا پٹی کھل کر گر پڑے اور زخم ابھی اچھا نہیں ہوا تو پھر باندھ لے اور وہی پہلا مسح باقی ہے پھر مسح کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر زخم اچھا ہو گیا کہ اب باندھنے کی ضرورت نہیں ہے تو مسح ٹوٹ گیا۔ اب اتنی جگہ دھو کر نماز پڑھے۔ سارا وضو دہرانا ضروری نہیں ہے۔

وضو کے توڑنے والی چیزوں کا بیان

مسئلہ۔ پاخانہ پیشاب اور ہوا جو پیچھے سے نکلے اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے البتہ اگر آگے کی راہ سے ہوا نکلے جیسا کہ کبھی بیماری سے ایسا ہو جاتا ہے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹا اور اگر آگے یا پیچھے سے کوئی کیڑا جیسے کینچوا یا کنکری وغیرہ نکلے تو بھی وضو ٹوٹ گیا۔
مسئلہ۔ اگر کسی کے کوئی زخم ہوا اس میں سے کیڑا نکلے یا کان سے نکلا یا زخم میں سے کچھ گوشت کٹ کے گر پڑا اور خون نہیں نکلا تو اس سے وضو نہیں ٹوٹا۔
مسئلہ۔ اگر کسی نے فصد لی یا نکسرت پھوٹی یا چوٹ لگی اور خون نکل آیا۔ یا پھوڑے پھنسی سے یا بدن بھر میں اور کہیں سے خون نکلا یا پیپ نکلی تو وضو جاتا رہا۔ البتہ اگر زخم کے منہ ہی پر رہے زخم کے منہ سے آگے نہ بڑھے تو وضو نہیں گیا۔ تو اگر کسی کے سوئی چبھ گئی اور خون نکل آیا لیکن بہا نہیں ہے تو وضو نہیں ٹوٹا۔ اور جو ذرا بھی بہہ پڑا ہو تو وضو ٹوٹ گیا۔
مسئلہ۔ اگر کسی نے ناک سنکی اور اس میں جمے ہوئے خون کی پھٹکیاں نکلیں تو وضو نہیں گیا۔ وضو جب ٹوٹتا ہے کہ پتلا خون نکلے اور بہ پڑے۔ سو اگر کسی نے اپنی ناک میں انگلی ڈالی پھر اس کو نکالا تو انگلی میں خون کا دھبہ معلوم ہوا لیکن وہ خون بس اتنا ہی ہے کہ انگلی میں تو ذرا سا لگ جاتا ہے لیکن بہتا نہیں تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
مسئلہ۔ کسی کی آنکھ کے اندر کوئی دانہ وغیرہ تھا وہ ٹوٹ گیا۔ یا خود اس نے توڑ دیا اور اس کا پانی بہہ کر آنکھ میں تو پھیل گیا لیکن آنکھ سے باہر نہیں نکلا تو اس کا وضو نہیں ٹوٹا اور اگر آنکھ کے باہر پانی نکل پڑا تو وضو ٹوٹ گیا۔ اسی طرح اگر کان کے اندر دانہ ہو اور ٹوٹ جائے تو جب تک خون پیپ سوراخ کے اندر اس جگہ تک رہے جہاں پانی پہنچانا غسل کرتے وقت فرض نہیں ہے تب تک وضو نہیں جاتا۔ اور جب ایسی جگہ پر جائے جہاں پانی پہنچانا فرض ہے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
مسئلہ۔ کسی نے اپنے پھوڑے یا چھالے کے اوپر کا چھلکا نوچ ڈالا اور اس کے نیچے خون یا پیپ دکھائی دینے لگا لیکن وہ خون پیپ اپنی جگہ پر ٹھہرا ہے کسی طرف نکل کے بہا نہیں تو وضو نہیں ٹوٹا اور جو بہہ پڑا تو وضو ٹوٹ گیا۔
مسئلہ۔ کسی کے پھوڑے میں بڑا گہرا گھاؤ ہو گیا تو جب تک خون پیپ اس گھاؤ کے سوراخ کے اندر ہی اندر ہے باہر نکل کر بدن پر نہ آوے اس وقت تک وضو نہیں ٹوٹتا۔
مسئلہ۔ اگر پھوڑے پھنسی کا خون آپ سے نہیں نکلا بلکہ اس نے دبا کے نکالا ہے تب بھی وضو ٹوٹ جائے گا جبکہ وہ خون بہ جائے۔
مسئلہ۔ کسی کے زخم سے ذرا ذرا خون نکلنے لگا اس نے اس پر مٹی ڈال دی یا کپڑے سے پونچھ لیا۔ پھر ذرا سا نکالا پھر اس نے پونچھ ڈالا۔ اس طرح کئی دفعہ کیا کہ خون بہنے نہ پایا تو دل میں سوچے اگر ایسا معلوم ہو کہ اگر پونچھا نہ جاتا تو بہہ پڑتا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور اگر ایسا ہو کہ پونچھا نہ جاتا تب بھی نہ بہتا تو وضو نہ ٹوٹے گا۔
مسئلہ۔ کسی کے تھوک میں خون معلوم ہوا تو اگر تھوک میں خون بہت کم ہے اور تھوک کا رنگ سفیدی یا زردی مائل ہے تو وضو نہیں گیا اور اگر خون زیادہ یا برابر ہے اور رنگ سرخی مائل ہے تو وضو ٹوٹ گیا۔
مسئلہ۔ اگر دانت سے کوئی چیز کاٹی اور اس چیز پر خون کا دھبہ معلوم ہوا یا دانت میں خلال کیا اور خلال میں خون کی سرخی دکھائی دی لیکن تھوک میں بالکل خون کا رنگ معلوم نہیںہوتا تو وضو نہیں ٹوٹا۔
مسئلہ۔ کسی نے جونک لگوائی اور جونک میں اتنا خون بھر گیا کہ اگر بیچ سے کاٹ دو تو خون بہ پڑے تو وضو جاتا رہا اور جو اتنا نہ پیا ہو بلکہ بہت کم پیا ہو تو وضو نہیں ٹوٹا۔ اور اگر مچھر یا مکھی یا کھٹمل نے خون پیا تو وضو نہیں ٹوٹا۔
مسئلہ۔ کسی کے کان میں درد ہوتا ہے اور پانی نکلا کرتا ہے تو یہ پانی جو کان سے بہتا ہے نجس ہے اگرچہ کچھ پھوڑا یا پھنسی نہ معلوم ہوتی ہو۔ پس اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جائے گا جب کان کے سوراخ سے نکل کر اس جگہ تک جائے جس کا دھونا غسل کرتے وقت فرض ہے۔ اسی طرح اگر ناف سے پانی نکلے اور درد بھی ہوتا ہو تو اس سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا۔ ایسے ہی اگر آنکھیں دکھتی ہوں اور کھٹکھتی ہوں تو پانی بہنے اور آنسو نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اور اگر آنکھیں نہ دکھتی ہوں نہ اس میں کچھ کھٹک ہو تو آنسو نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
مسئلہ۔ اگر چھاتی سے پانی نکلتا ہے اور درد بھی ہوتا ہے۔ تو وہ بھی نجس ہے اس سے وضو جاتا رہے گا اور اگر درد نہیں ہے تو نجس نہیں ہے اور اس سے وضو بھی نہیں ٹوٹے گا۔
مسئلہ۔ اگر قے ہوئی اور اس میں کھانا یا پانی یا پت گرے تو اگر منہ بھر قے ہوئی ہو تو وضو ٹوٹ گیا اور منہ بھر قے نہیں ہوئی تو وضو نہیں ٹوٹا۔ اور منہ بھر ہونے کا یہ مطلب ہے کہ مشکل سے منہ میں رکے اور اگر قے میں نرا بلغم گرا تو وضو نہیں گیا چاہے جتنا ہو۔ منہ بھر ہو چاہے نہ ہو سب کا ایک حکم ہے۔ اور اگر قے میں خون گرے تو اگر پتلا اور بہتا ہوا ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا چاہے کم ہو چاہے زیادہ۔ منہ بھر ہو یا نہ ہو۔ اور اگر جما ہوا ٹکڑے ٹکڑے گرے اور منہ بھر ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا اوار اگر کم ہو تو وضو ہو جائے گا۔
مسئلہ۔ اگر تھوڑی تھوڑی کر کے کئی دفعہ قے ہوئی لیکن سب ملا کر اتنی ہے کہ اگر ایک دفعہ گرتی تو منہ بھر ہو جاتی تو اگر ایک ہی متلی برابر باقی رہی اور تھوڑی تھوڑی قے ہوتی رہی تو وضو ٹوٹ گیا۔ اور اگر ایک ہی متلی برابر نہیں رہی بلکہ پہلی دفعہ کی متلی جاتی رہی تھی اور جی اچھا ہو گیا تھا پھر دہرا کر متلی شروع ہوئی اور تھوڑی قے ہو گئی۔ پھر جب یہ متلی جاتی رہی تو تیسری دفعہ پھر متلی شروع ہو کر قے ہوئی تو وضو نہیں ٹوٹا۔
مسئلہ۔ لیٹے لیٹے آنکھ لگ گئی یا کسی چیز سے ٹیک لگا کر بیٹھے بیٹھے سو گئی اور ایسی غفلت ہو گئی کہ اگر وہ ٹیک نہ ہوتی تو گر پڑتی تو وضو جاتا رہا۔ اور اگر نماز میں بیٹھے بیٹھے یا کھڑے کھڑے سو جائے تو وضو نہیں گیا۔ اور اگر سجدے میں سو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
مسئلہ۔ اگر نماز سے باہر بیٹھے بیٹھے سوئے اور اپنا چوتڑ ایڑی سے دبا لیے اور دیوار وغیرہ کسی چیز سے ٹیک بھی نہ لگائے تو وضو نہیں ٹوٹتا۔
مسئلہ۔ بیٹھے ہوئے نیند کا ایسا جھونکا آیا کہ گر پڑی تو اگر گر کے فورا ہی آنکھ کھل گئی ہو تو وضو نہیں گیا۔ اور جو گرنے کے ذرا بعد آنکھ کھلی ہو تو وضو جاتا رہا۔ اور اگر بیٹھی جھومتی رہی گری نہیں تب بھی وضو نہیں گیا۔
مسئلہ۔ اگر بیہوشی ہو گئی یا جنون سے عقل جاتی رہی تو وضو جاتا رہا۔ چاہے بیہوشی اور جنون تھوڑی ہی دیر رہا ہو۔ ایسے ہی اگر تمباکو وغیرہ کوئی نشہ کی چیز کھا لی اور اتنا نشہ ہو گیا کہ اچھی طرح چلا نہیں جاتا اور قدم ادھر ادھر بہکتا اور ڈگمگاتا ہے تو بھی وضو جاتا رہا۔
مسئلہ۔ اگر نماز میں اتنے زور سے ہنسی نکل گئی کہ اس نے آپ بھی آواز سن لی اور اس کے پاس والیوں نے بھی سب نے سن لی جیسے کھل کھلا کر ہنسنے میں سب پاس والیاں سن لیتی ہیں اس سے بھی وضو ٹوٹ گیا اور نماز بھی ٹوٹ گئی اور اگر ایسا ہوا کہ اپنے کو تو آواز سنائی دے مگر سب پاس والیاں نہ سن سکیں اگرچہ بہت ہی پاس والی سن لے اس سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ وضو نہ ٹوٹے گا۔ اور اگر ہنسی میں فقط دانت کھل گئے آواز بالکل نہیں نکلی تو وضو ٹوٹا نہ نماز گئی۔ البتہ اگر چھوٹی لڑکی جو ابھی جوان نہ ہوئی ہو زور سے نماز میں ہنسے یا سجدہ تلاوت میں بڑی عورت کو ہنسی آئے تو وضو نہیں جاتا۔ ہاں وہ سجدہ اور نماز جاتی رہے گی جس میں ہنسی آ ئی۔
مسئلہ۔ وضو کے بعد ناخن کٹائے یا زخم کے اوپر کی مردار کھال نوچ ڈالی تو وضو میں کوئی نقصان نہیں آیا نہ تو وضو کے دہرانے کی ضرورت ہے اور نہ اتنی جگہ کے پھر تر کرنے کا حکم ہے۔
مسئلہ۔ وضو کے بعد کسی کا ستر دیکھ لیا یا اپنا ستر کھل گیا۔ یا ننگی ہو کر نہائی اور ننگے ہی وضو کار تو اس کا وضو درست ہے پھر وضو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ بدون لاچاری کے کسی کا ستر دیکھنا یا اپنا دکھلانا گناہ کی بات ہے۔
مسئلہ۔ جس چیز کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے و ہ چیز نجس ہوتی ہے اور جس سے وضو نہیں ٹوٹا وہ نجس بھی نہیں تو اگر ذرا سا خون نکلا کہ زخم کے منہ سے بہا نہیں آیا ذرا سی قے ہوئی منہ بھر نہیں ہوئی اور اس میں کھانا یا پانی یا پت یا جما ہوا خون نکلا تو خون زخم سے بہہ گیا تو وہ نجس ہے اس کا دھونا واجب ہے اور اگر اتنی قے کر کے کٹورے یا لوٹے کو منہ لگا کر کے کلی کے واسطے پانی لیا تو برتن ناپاک ہو جائے گا اس لیے چلو سے پانی لینا چاہیے۔
مسئلہ۔ چھوٹا لڑکا جو دودھ ڈالتا ہے اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر منہ بھر نہ ہو تو نجس نہیں ہے اور جب منہ بھر ہو تو نجس ہے۔ اگر بے اس کے دھوئے نماز پڑھے گی تو نماز نہ ہو گی۔
مسئلہ۔ اگر وضو کرنا تو یاد ہے اور اس کے بعد وضو ٹوٹنا اچھی طرح یاد نہیں کہ ٹوٹا ہے یا نہیں تو اس کا وضو باقی سمجھا جائے گا۔ اسی سے نماز درست ہے لیکن وضو پھر کر لینا بہتر ہے۔
مسئلہ۔ جس کو وضو کرنے میں شک ہوا کہ فلانا عضو دھویا یا نہیں تو وہ عضو پھر دھو لینا چاہیے اور اگر وضو کر چکنے کے بعد شک ہوا تو کچھ پروا نہ کرے وضو ہو گیا۔ البتہ اگر یقین ہو جائے کہ فلانی بات رہ گئی ہو تو اس کو کر لے۔
مسئلہ۔ بے وضو قرآن مجید کا چھونا درست نہیں ہے ہاں اگر ایسے کپڑے سے چھولے جو بدن سے جدا ہو تو درست ہے۔ دوپٹہ یا کرتے کے دامن سے جبکہ اس کو پہنے اوڑھے ہوئے ہو چھونا درست نہیں۔ ہاں اگر اترا ہوا ہو تو اس سے چھونا درست ہے۔ اور زبانی پڑھنا درست ہے اور اگر کلام مجید کھلا ہوا رکھا ہے اور اس کو دیکھ دیکھ کر پڑھا لیکن ہاتھ نہیں لگایا یہ بھی درست ہے۔ اسی طرح بے وضو ایسے تعویذ اور ایسی تشتری کا چھونا بھی درست نہیں ہے جس میں قرآن کی آیت لکھی ہو خوب یاد رکھو۔

معذور کے احکام

مسئلہ۔ جس کو ایسی نکسیر پھوٹی ہو کہ کسی طرح بند نہیں ہوتی یا کوئی ایسا زخم ہے کہ برابر بہتا رہتا ہے کوئی ساعت بہنا بند نہیں ہوتا۔ یا پیشاب کی بیماری ہے کہ ہر وقت قطرہ آتا رہتا ہے اتنا وقت نہیں ملتا کہ طہارت سے نماز پڑھ سکے تو ایسے شخص کو معذور کہتے ہیں۔ اس کا حکم یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرے جب تک وہ وقت رہے گا تب تک اس کا وضو باقی رہے گا۔ البتہ جس بیماری میں مبتلا ہے اس کے سوا اگر کوئی اور بات ایسی پائی جائے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو وضو جاتا رہے گا اور پھر سے کرنا پڑے گا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کسی کو ایسی نکسیر پھوٹی کہ کسی طرح بند نہیں ہوتی اس نے ظہر کے وقت وضو کر لیا تو جب تک ظہر کا وقت رہے گا نکسیر کے خون کی وجہ سے اس کا وضو نہ ٹوٹے گا۔ البتہ اگر پاخانہ پیشاب آ گیا یا سوئی چبھ گئی اس سے خون نکل پڑا تو وضو جاتا رہا پھر وضو کرے۔ جب یہ وقت چلا گیا دوسری نماز کا وقت آ گیا تو اب دوسرے وقت دوسرا وضو کرنا چاہیے۔ اسی طرح ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرے اور اس وضو سے فرض نفل جو نماز چاہے پڑھے۔
مسئلہ۔ اگر فجر کے وقت وضو کیا تو آفتاب نکلنے کے بعد اس وضو سے نماز نہیں پڑھ سکتی دوسرا وضو کرنا چاہیے اور جب آیت نکلنے کے بعد وضو کیا تو اس وضو سے ظہر کی نماز پڑھنا درست ہے۔ ظہر کے وقت نیا وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے جب عصر کا وقت آئے گا تب نیا وضو کرنا پڑے گا۔ ہاں اگر کسی اور وجہ سے ٹوٹ جائے تو یہ اور بات ہے۔
مسئلہ۔ کسی کے ایسا زخم تھا کہ ہر دم بہا کرتا تھا۔ اس نے وضو کیا۔ پھر دوسرا زخم پیدا ہو گیا اوربہنے لگا تو وضو ٹوٹ گیا پھر سے وضو کرے۔
مسئلہ۔ آدمی معذور جب بنتا ہے اور یہ حکم اس وقت لگاتے ہیں کہ پورا ایک وقت اسی طرح گزر جائے کہ خون برابر بہا کرے اور اتنا بھی وقت نہ ملے کہ اس وقت کی نماز طہارت سے پڑھ سکے۔ اگر اتنا وقت مل گیا کہ اس میں طہارت سے نماز پڑھ سکتی ہے تو اس کو معذور نہ کہیں گے۔ اور جو حکم ابھی بیان ہوا ہے اس پر نہ لگائیں گے۔ البتہ جب پورا ایک وقت اسی طرح گزر گیا کہ اس کو طہارت سے نماز پڑھنے کا موقع نہیں ملا یہ معذور ہو گئی۔ اب اس کا وہی حکم ہے کہ ہر وقت نیا وضو کر لیا کرے۔ جب دوسرا وقت آئے تو اس میں ہر وقت خون کا بہنا شرط نہیں ہے بلکہ وقت بھر میں اگر ایک دفعہ بھی خون آ جایا کرے اور سارے وقت بند رہے تو بھی معذور باقی رہے گی۔ ہاں اگر اس کے بعد ایک پورا وقت ایسا گزر جائے جس میں خون بالکل نہ آئے تو اب معذور نہیں رہی اب اس کا حکم یہ ہے کہ جس دفعہ خون نکلے گا وضو ٹوٹ جائے گا۔ خوب اچھی طرح سمجھ لو۔
مسئلہ۔ ظہر کا وقت کچھ ہو لیا تھا تب زخم وغیرہ کا خون بہنا شروع ہوا تو اخیر وقت تک انتظار کرے اگر بند ہو جائے تو خیر، نہیں تو وضو کر کے نماز پڑھ لے۔ پھر اگر عصر کے پورے وقت میں اسی طرح بہا کہ نماز پڑھنے کی مہلت نہیں ملی تو اب عصر کا وقت گزرنے کے بعد معذور ہونے کا حکم لگا دیں گے۔ اور اگر عصر کے وقت کے اندر ہی اندر بند ہو گیا تو وہ معذور نہیں ہے جو نمازیں اتنے وقت میں پڑھی ہیں وہ درست نہیں ہوئیں۔ پھر سے پڑھے۔
مسئلہ۔ ایسی معذور نے پیشاب پاخانہ کی وجہ سے وضو کیا اور جس وقت وضو کیا تھا اس وقت خون بند تھا۔ جب وضو کر چکی تب خون آیا تو اس خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ البتہ جو وضو نکسیر وغیرہ کے سبب کیا ہے خاص وہ وضو نکسیر کی وجہ سے نہیں ٹوٹا۔
مسئلہ۔ اگر یہ خون کپڑے وغیرہ میں لگ جائے تو دیکھو اگر ایسا ہو کہ نماز ختم کرنے سے پہلے ہی پھر لگ جائے گا تو اس کا دھونا واجب نہیں ہے اور اگر یہ معلوم ہو کہ اتنی جلدی نہ بھرے گا نماز طہارت سے ادا ہو جائے گی تو دھو ڈالنا واجب ہے۔ اگر ایک روپے سے بڑھ جائے تو بے دھوئے ہوئے نماز نہ ہو گی۔

غسل کا بیان

مسئلہ۔ غسل کرنے والی کو چاہیے کہ پہلے گٹے تک دونوں ہاتھ دھوئے۔ پھر استنجے کی جگہ دھوئے۔ ہاتھ اور استنجے کی جگہ پر نجاست ہو تب بھی اور نہ ہو تب بھی ہر حال میں ان دونوں کو پہلے دھونا چاہیے۔ پھر جہاں بدن پر نجاست لگی ہو پاک کرے پھر وضو کرے اور اگر کسی چوکی یا پتھر پر غسل کرتی ہو تو وضو کرتے وقت پیر بھی دھو لیوے اور اگر ایسی جگہ ہے کہ پیر بھر جائیں گے اور غسل کے بعد پھر دھونے پڑیں گے تو سارا وضو کرے مگر پیر نہ دھوئے۔ پھر وضو کے بعد تین مرتبہ اپنے سر پر پانی ڈالے۔ پھر تین مرتبہ داہنے کندھے پر۔ پھر تین بار بائیں کندھے پر پانی ڈالے ایسی طرح کہ سارے بدن پر پانی بہہ جاوے۔ پھر اس جگہ سے ہٹ کر پاک جگہ میں آئے اور پھر پیر دھوئے اور اگر وضو کے وقت پیر دھو لیے ہوں تو اب دھونے کی حاجت نہیں۔
مسئلہ۔ پہلے سارے بدن پر اچھی طرح ہاتھ پھیر لے تب پانی بہا دے تاکہ سب کہیں اچھی طرح پانی پہنچ جائے کہیں سوکھا نہ رہے۔
مسئلہ۔ غسل کا طریقہ جو ہم نے ابھی بیان کیا سنت کے موافق ہے۔ اس میں سے بعض چیزیں فرض ہیں کہ بے ان کے غسل درست نہیں ہوتا آدمی ناپاک رہتا ہے۔ اور بعضی چزیں سنت ہیں ان کے کرنے سے ثواب ملتا ہے اور اگر نہ کرے تو بھی غسل ہو جاتا ہے۔ فرض فقط تین چیزیں ہیں۔ اس طرح کلی کرنا کہ سارے منہ میں پانی پہنچ جائے۔ ناک میں پانی ڈالنا جہاں تک ناک نرم ہے۔ سارے بدن پر پانی پہنچانا۔
مسئلہ۔ غسل کرتے وقت قبلہ کی طرف کو منہ نہ کرے اور پانی بہت زیادہ نہ پھینکے اور نہ بہت کم لیوے کہ اچھی طرح غسل نہ کر سکے اور ایسی جگہ غسل کرے کہ اس کو کوئی نہ دیکھے اور غسل کرتے وقت باتیں نہ کرے اور غسل کے بعد کسی کپڑے سے اپنا بدن پونچھ ڈالے۔ اور بدن ڈھکنے میں بہت جلدی کرے یہاں تک کہ اگر وضو کرتے وقت پیر نہ دھوئے ہوں تو غسل کی جگہ سے ہٹ کر پہلے اپنا بدن ڈھکے پھر دونوں پیر دھوئے۔
مسئلہ۔ اگر تنہائی کی جگہ ہو جہاں کوئی نہ دیکھ پائے تو ننگے ہو کر نہانا بھی درست ہے چاہے کھڑی ہو کر نہائے یا بیٹھ کر۔ اور چاہے غسل خانہ کی چھت پٹی ہو یا نہ پٹی ہو لیکن بیٹھ کر نہانا بہتر ہے کیونکہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔ اور ناف سے لے کر گھٹنے کے نیچے تک دوسری عورتوں کے سامنے بھی بدن کھولنا گناہ ہے۔ اکثر عورتیں دوسری عورتوں کے سامنے بالکل ننگی ہو کر نہاتی ہیں یہ بڑی بری اور بے غیرتی کی بات ہے۔
مسئلہ۔ جب سارے بدن پر پانی پڑ جائے اور کلی کرے اور ناک میں پانی ڈال لے تو غسل ہو جائے گا۔ چاہے غسل کرنے کا ارادہ ہو چاہے نہ ہو تو اگر پانی برستے میں ٹھنڈی ہونے کی غرض سے کھڑی ہو گئی یا حوض وغیرہ میں گر پڑی اور سب بدن بھیگ گیا اور کلی بھی کر لی اور ناک میں بھی پانی ڈال لیا تو غسل ہو گیا۔ اسی طرح غسل کرتے وقت کلمہ پڑھنا یا پڑھ کر پانی پر دم کرنا بھی ضروری نہیں چاہے کلمہ پڑھے یا نہ پڑھے ہر حال میں آدمی پاک ہو جاتا ہے بلکہ نہاتے وقت کلمہ یا اور کوئی دعا نہ پڑھنا بہتر ہے اس وقت کچھ نہ پڑھے۔
مسئلہ۔ اگر بدن بھر میں بال برابر بھی کوئی جگہ سوکھی رہ جائے گی تو غسل نہ ہو گا۔ اسی طرح غسل کرتے وقت کلی کرنا بھول گئی یا ناک میں پانی نہیں ڈالا تو بھی غسل نہیں ہوا۔
مسئلہ۔ اگر غسل کے بعد یاد آئے کہ فلانی جگہ سوکھی رہ گئی تھی تو پھر سے نہانا واجب نہیں بلکہ جہاں سوکھا رہ گیا تھا اسی کو دھو لے لیکن فقط ہاتھ پھیر لینا کافی نہیں ہے بلکہ تھوڑا پانی لے کر اس جگہ بہانا چاہیے اور اگر کلی کرنا بھول گئی ہو تو اب کلی کر لے۔ اگر ناک میں پانی ڈالنا ہو تو اب ڈال لے۔ غرضیکہ جو چیز رہ گئی ہو اب اس کو کرے نئے سرے سے غسل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
مسئلہ۔ اگر کسی بیماری کی وجہ سے سر پر پانی ڈالنا نقصان کرے اور سر چھوڑ کر سارا بدن دھو لے تب بھی غسل درست ہو گیا۔ لیکن جب اچھی ہو جائے تو اب سر دھو ڈالے پھر سے نہانے کی ضرورت نہیں ہے۔
مسئلہ۔ اگر سر کے بال گندھے ہوئے نہ ہوں تو سب بال بھگونا اور ساری جڑوں میں پانی پہنچانا فرض ہے۔ ایک بال بھی سوکھا رہ گیا یا ایک بال کی جڑ میں پانی نہیں پہنچا تو غسل نہ ہو گا۔ اور اگر بال گندھے ہوئے ہوں تو بالوں کا بھگونا معاف ہے البتہ سب جڑوں میں پانی پہنچانا فرض ہے ایک جڑ بھی سوکھی نہ رہنے پائے۔ اور اگر بے کھولے سب جڑوں میں پانی نہ پہنچ سکے تو کھول ڈالے اور بالوں کو بھی بھگو دے۔
مسئلہ۔ نتھ اور بالیوں اور انگوٹھی چھلوں کو خوب ہلا لے کہ پانی سوراخوں میں پہنچ جائے اور اگر بالیاں نہ پہنے ہو تب بھی قصد کر کے سوراخوں میں پانی ڈال لے۔ ایسا نہ ہو کہ پانی نہ پہنچے اور غسل صحیح نہ ہو۔ البتہ اگر انگوٹھی چھلے ڈھیلے ہوں کہ بے ہلائے پانی پہنچ جائے تو ہلانا واجب نہیں لیکن ہلا لینا اب بھی مستحب ہے۔
مسئلہ۔ اگر ناخن میں آٹا لگ کر سوکھ گیا اور اس کے نیچے پانی نہیں پہنچا تو غسل نہیں ہوا جب یاد آئے اور آٹا دیکھے تو آٹا چھڑا کر پانی ڈال لے۔ اور اگر پانی پہنچانے سے پہلے کوئی نماز پڑھ لی ہو تو اس کو لوٹائے۔
مسئلہ۔ ہاتھ پیر پھٹ گئے اور اس میں موم روغن یا اور کوئی دوا بھر لی تو اس کے اوپر سے پانی بہا لینا درست ہے۔
مسئلہ۔ کان اور ناف میں بھی خیال کر کے پانی پہنچانا چاہیے۔ پانی نہ پہنچے گا تو غسل نہ ہو گا۔
مسئلہ۔ اگر نہاتے وقت کلی نہیں کی لیکن خوب منہ بھر کے پانی پی لیا کہ سارے منہ میں پانی پہنچ گیا تو بھی غسل ہو گیا کیونکہ مطلب تو سارے منہ میں پانی پہنچ جانے سے ہے۔ کلی کرے یا نہ کرے۔ البتہ اگر ایسی طرح پانی پئے کہ سارے منہ بھر میں پانی نہ پہنچے تو یہ پینا کافی نہیں ہے کلی کر لینا چاہیے۔
مسئلہ۔ اگر بالوں میں یا ہاتھ پیروں میں تیل لگا ہوا ہے کہ بدن پر پانی اچھی طرح ٹھیرتا نہیں ہے بلکہ پڑتے ہی ڈھلک جاتا ہے تو اس کا کچھ حرج نہیں۔ جب سارے بدن اور سارے سر پر پانی ڈال لیا غسل ہو گیا۔
مسئلہ۔ اگر دانتوں کے بیچ میں ڈلی کا دھرا پھنس گیا تو اس کو خلال سے نکال ڈالے۔ اگر اس کی وجہ سے دانتوں کے بیچ میں پانی نہ پہنچے گا تو غسل نہ ہو گا۔
مسئلہ۔ ماتھے پر افشاں چنی ہے یا بالوں میں اتنا گوند لگا ہے کہ بال اچھی طرح نہ بھیگیں گے تو گوند خوب چھڑا ڈالے اور افشاں دھو ڈالے اگر گوند کے نیچے پانی نہ پہنچے گا اوپر ہی اوپر سے بہہ جائے گا تو غسل نہ ہو گا۔
مسئلہ۔ اگر مسی کی دھڑی جمائی ہے تو اس کو چھڑا کر کلی کرے نہیں تو غسل نہیں ہو گا۔
مسئلہ۔ کسی کی آنکھیں دکھتی ہیں اس لیے اس کی آنکھوں سے کیچڑ بہت نکلا اور ایسا سوکھ گیا کہ اگر اس کو چھڑائے گی تو اس کے نیچے آنکھ کے کوئے پر پانی نہ پہنچے گا تو اس کا چھڑا ڈالنا واجب ہے بے اس کے چھڑائے نہ وضودرست ہے نہ غسل۔
کس پانی سے وضو کرنا اور نہانا درست ہے اور کسی پانی سے درست نہیں
مسئلہ۔ آسمان سے برسے ہوئے پانی اور ندی نالے چشمے اور کنویں اور تالاب اور دریاؤں کے پانی سے وضو اور غسل کرنا درست ہے چاہے میٹھا پانی ہو یا کھاری ہو۔
مسئلہ۔ کسی پھل یا درخت یا پتوں سے نچوڑے ہوئے عرض سے وضو کرنا درست نہیں۔ اسی طرح جو پانی تربوز سے نکلتا ہے اس سے اور گنے وغیرہ کے رس سے وضو اور غسل درست نہیں ہے۔
مسئلہ۔ جس پانی میں کوئی اور چیز مل گئی یا پانی میں کوئی چیز پکائی گئی اور ایسا ہو گیا کہ اب بول چال میں اس کو پانی نہیں کہتے بلکہ اس کا کچھ اور نام ہو گیا تو اس سے وضو اور غسل جائز نہیں جیسے شراب شیرہ اور شوربا اور سرکہ اور گلاب اور عرق گاؤزبان وغیرہ کہ ان سے وضو درست نہیں ہے۔
مسئلہ۔ جس پانی میں کوئی پاک چیز پڑ گئی اور پانی کے رنگ یا مزے یا بو میں کچھ فرق آ گیا لیکن وہ چیز پانی میں پکائی نہیں گئی نہ پانی کے پتلے ہونے میں کچھ فرق یا جیسے کہ بہتے ہوئے پانی میں کچھ ریت ملی ہوتی ہے یا پانی میں زعفران پڑ گیا اور اس کا بہت خفیف سا رنگ گیا۔ یا صابون پڑ گیا۔ یا اسی طرح کوئی اور چیز پڑ گئی تو ان سب صورتوں میں وضو اور غسل درست ہے۔
مسئلہ۔ اور اگر کوئی چیز پانی میں ڈال کر پکائی گئی اس سے رنگ یا مزہ وغیرہ بدلا تو اس پانی سے ضو درست نہیں۔ البتہ اگر ایسی چیز پکائی گئی جس سے میل کچیل خوب صاف ہو جاتا ہے اور اس کے پکانے سے پانی گاڑھا نہ ہوا ہو تو اس سے وضو درست ہے جیسے مردہ نہلانے کے لیے بیری کی پتیاں پکاتے ہیں تو اس میں کچھ حرج نہیں البتہ اگر اتنی زیادہ ڈال دیں کہ پانی گاڑھا ہو گیا تو اس سے وضو اور غسل درست نہیں۔
مسئلہ۔ کپڑا رنگنے کے لیے زعفران گھولا یا پڑیا گھولی تو اس سے وضو درست نہیں۔
مسئلہ۔ اگر پانی میں دودھ مل گیا تو اگر دودھ کا رنگ اچھی طرح پانی میں گیا تو وضو درست نہیں اور اگر دودھ بہت کم تھا کہ رنگ نہیں آیا تو وضو درست ہے۔
مسئلہ۔ جنگل میں کہیں تھوڑا پانی ملا تو جب تک اس کی نجاست کا یقین نہ ہو جائے تب تک اس سے وضو کرے۔ فقط اس وہم پر وضو نہ چھوڑے کہ شاید یہ نجس ہو اگر اس کے ہوتے ہوئے تیمم کرے گی تو تیمم نہ ہو گا۔
مسئلہ۔ کسی کنوئیں وغیرہ میں درخت کے پتے گر پڑے اور پانی میں بدبو آنے لگی اور رنگ اور مزہ بھی بدل گیا تو بھی اس سے وضو درست ہے جب تک کہ پانی اس طرح پتلا باقی ہے۔
مسئلہ۔ جس پانی میں نجاست پڑ جائے اس سے وضو غسل کچھ درست نہیں۔ چاہے وہ نجاست تھوڑی ہو یا بہت ہو۔ البتہ اگر بہتا ہوا پانی ہو تو وہ نجاست کے پڑنے سے ناپاک نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے رنگ یا مزے یا بو میں فرق نہ آئے۔ اور جب نجاست کی وجہ سے رنگ یا مزہ بدل گیا یا بو آنے لگی تو بہتا ہوا پانی بھی نجس ہو جائے گا اس سے وضو درست نہیں۔ اور جو پانی گھاس تنکے پتے وغیرہ کو بہا لے جائے وہ بہتا پانی ہے چاہے کتنا ہی آہستہ آہستہ بہتا ہو۔
مسئلہ۔ بڑا بھاری حوض جو دس ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑا ہو اور اتنا گہرا ہو کہ اگر چلو سے پانی اٹھائیں تو زمین نہ کھلے۔ یہ بھی بہتے ہوئے پانی کی مثل ہے ایسے حوض کو دہ در دہ کہتے ہیں۔ اگر اس میں ایسی نجاست پڑ جائے جو پڑ جانے کے بعد دکھلائی نہیں دیتی جیسے پیشاب خون شراب وغیرہ تو چاروں طرف وضو کرنا درست ہے جدھر چاہے وضو کرے۔ اور اگر ایسی نجاست پڑ جائے جو دکھلائی دیتی ہے جیسے مردہ کتاب تو جدھر پڑا ہو اس طرف وضو نہ کرے۔ اس کے سوا اور جس طرح چاہے کرے۔ البتہ اگر اتنے بڑے حوض میں اتنی نجاست پڑ جائے کہ رنگ یا مزہ بدل جائے یا بدبو آنے لگے تو نجس ہو جائے گا۔
مسئلہ۔ اگر بیس ہاتھ لمبا اور پانچ ہاتھ چوڑا یا پچیس ہاتھ لمبا اور چار ہاتھ چوڑا ہو وہ حوض بھی دہ در دہ کے مثل ہے۔
مسئلہ۔ چھت پر نجاست پڑی ہے اور پانی برسا اور پرنالہ چلا تو اگر آدھی یا آدھی سے زیادہ چھت ناپاک ہے تو وہ پانی نجس ہے اور اگر چھت آدھی سے کم ناپاک ہے تو وہ پانی پاک ہے اور اگر نجاست پرنالے کے پاس ہی ہو اور اتنی ہو کہ سب پانی اس سے مل کر آتا ہے تو وہ پانی نجس ہے۔
مسئلہ۔ اگر پانی آہستہ آہستہ بہتا ہو تو بہت جلدی جلدی وضو نہ کرے تاکہ جو دھوون گرتا ہے وہی ہاتھ میں نہ آ جائے۔
مسئلہ۔ دہ در دہ حوض میں جہاں پر دھوون گرا ہے اگر وہیں سے پھر پانی اٹھا لے تو بھی جائز ہے۔
مسئلہ۔ اگر کوئی کافر یا لڑکا بچہ اپنا ہاتھ پانی میں ڈال دے تو پانی نجس نہیں ہوتا۔ البتہ اگر معلوم ہو جائے کہ اس کے ہاتھ میں نجاست لگی تھی تو ناپاک ہو جائے گا۔ لیکن چونکہ چھوٹے بچوں کا کچھ اعتبار نہیں اس لیے جب تک کوئی اور پانی ملے اس کے ہاتھ ڈالے ہوئے پانی سے وضو نہ کرنا بہتر ہے۔
مسئلہ۔ جس پانی میں ایسی جاندار چیز مر جائے جس کے بہتا ہوا خون نہیں ہوتا یا باہر مر کر پانی میں گر پڑے تو پانی نجس نہیں ہوتا جیسے مچھر مکھی بھڑ تتیا بچھو شہد کی مکھی یا اسی قسم کی اور جو چیز ہو۔
مسئلہ۔ جس کی پیدائش پانی کی ہو اور ہر دم پانی ہی میں رہا کرتی ہو اس کے مرجانے سے پانی خراب نہیں ہوتا پاک رہتا ہے جیسے مچھلی مینڈک کچھوا کیکڑا وغیرہ۔ اور اگر پانی کے سوا اور کسی چیز میں مر جائے جیسے سرکہ شیرہ دودھ وغیرہ تو وہ بھی ناپاک نہیں ہوتا اور خشکی کا مینڈک اور پانی کا مینڈک دونوں کا ایک حکم ہے یعنی نہ اس کے مرنے سے پانی نجس ہوتا ہے نہ اس کے مرنے سے۔ لیکن اگر خشکی کے کسی مینڈک میں خون ہوتا ہو تو اس کے مرنے سے پانی وغیرہ جو چیز ہو ناپاک ہو جائے گی۔
فائدہ دریائی مینڈک کی پہچان یہ ہے کہ اس کی انگلیوں کے بیچ میں جالی لگی ہوتی ہے۔ اور خشکی کے مینڈک کی انگلیاں الگ الگ ہوتی ہیں۔
مسئلہ۔ جو چیز پانی میں رہتی ہو لیکن اس کی پیدائش پانی کی نہ ہو اس کے مر جانے سے پانی خراب و نجس ہو جاتا ہے جیسے بطخ اور مرغابی۔ اسی طرح الگ مر کر پانی میں گر پڑے تو بھی نجس ہو جاتا ہے۔
مسئلہ۔ مینڈک کچھوا وغیرہ اگر پانی میں مر کر بالکل گل جائے اور ریزہ ریزہ ہو کر پانی میں مل جائے تو بھی پانی پاک ہے لیکن اس کا پینا اور اس سے کھانا پکانا درست نہیں البتہ وضو اور غسل اس سے کر سکتے ہیں۔
مسئلہ۔ دھوپ کے جلے ہوئے پانی سے سفید داغ ہو جانے کا ڈر ہے اس لیے اس سے وضو غسل نہ کرنا چاہیے۔
مسئلہ۔ مردار کی کھال کو جب ڈھول میں سکھا ڈالیں یا کچھ دوا وغیرہ لگا کر درست کر لیں کہ پانی مر جاوے اور رکھنے سے خراب نہ ہو تو پاک ہو جاتی ہے اس پر نماز پڑھنا درست ہے۔ اور مشک وغیرہ بنا کر اس میں پانی رکھنا بھی درست ہے۔ لیکن سور کی کھال پاک نہیں ہوتی اور سب کالیں پاک ہو جاتی ہیں مگر آدمی کی کھال سے کوئی کام لینا اور برتنا بہت گناہ ہے۔
مسئلہ۔ کتا بندر بلی شیر وغیرہ جن کی کھال بنانے سے پاک ہو جاتی ہے بسم اللہ کہہ کر ذبح کرنے سے بھی کھال پاک ہو جاتی ہے چاہے بنائی ہو یا بے بنائی ہو۔ البتہ ذبح کرنے سے ان کا گوشت پاک نہیں ہوتا اور ان کا کھانا درست نہیں۔
مسئلہ۔ مردار کے بال اور سنگن اور ہڈی اور دانت یہ سب چیزیں پاک ہیں اگر پانی میں پڑ جائیں تو نجس نہ ہو گا۔ البتہ اگر ہڈی اور دانت وغیرہ پر اس مردار جانور کی کچھ چکنائی وغیرہ لگی ہو تو وہ نجس ہے اور پانی بھی نجس ہو جائے گا۔
مسئلہ آدمی کی بھی ہڈی اور بال پاک ہیں لیکن ان کو برتنا اور کام میں لانا جائز نہیں بلکہ عزت سے کسی جگہ گاڑ دینا چاہیے۔

کنوئیں کا بیان

مسئلہ۔ جب کنوئیں میں کچھ نجاست گر پڑے تو کنواں ناپاک ہو جاتا ہے اور پانی کھینچ ڈالنے سے پاک ہو جاتا ہے چاہے تھوڑی نجاست گرے یا بہت۔ سارا پانی نکالنا چاہیے۔ جب سارا پانی نکل جائے گا تو پاک ہو جائے گا۔ کنوئیں کے اندر کنکر دیوار وغیرہ کے دھونے کی ضرورت نہیں۔ وہ سب آپ ہی آپ پاک ہو جائیں گے۔ اسی طرح رسی ڈول جس سے پانی نکالا ہے کنویں کے پاک ہونے سے آپ ہی آپ پاک ہو جائے گا۔ ان دونوں کے بھی دھونے کی ضرورت نہیں۔
فائدہ کنویں میں کبوتر یا گوریا یعنی چڑیا کی بیٹ گر پڑی تو نجس نہیں ہوا۔ اور مرغی اور بطخ کی بیٹ سے نجس ہو جاتا ہے۔ اور سارا پانی نکالنا واجب ہے۔
مسئلہ۔ کنویں میں کبوتر یا گوریا یعنی چڑیا کی بیٹ گر پڑی تو نجس نہیں ہوا۔ اور مرغی اور بطخ کی بیٹ سے نجس ہو جاتا ہے۔ اور سارا پانی نکالنا واجب ہے۔
 مسئلہ۔ کتاب بلی گائے بکری پیشاب کر دے یا کوئی اور نجاست گرے تو سب پانی نکالا جائے۔
مسئلہ۔ اگر آدمی یا کتا یا بکری یا اسی کے برابر کوئی اور جانور گر کر مر جائے تو سارا پانی نکالا جائے اور اگر باہر مرے پھر کنویں میں گرے تب بھی یہی حکم ہے کہ سب پانی نکالا جائے۔
مسئلہ۔ اگر کوئی جاندار چیز کنویں میں مر جاوے اور پھول جائے یا پھٹ جائے تب بھی سب پانی نکالا جائے چاہے چھوٹا جانور ہو چاہے بڑا۔ تو اگر چوہا یا گوریا مر کر پھول جائے یا پھٹ جائے تو سب پانی نکالنا چاہیے۔
مسئلہ۔ اگر چوہا گوریا یا اسی کے برابر کوئی چیز گر کر مر گئی لیکن پھولی پھٹی نہیں تو بیس ڈول نکالنا واجب ہے۔ اور تیس ڈول نکال ڈالیں تو بہتر ہے۔ لیکن پہلے چوہا نکال لیں تب پانی نکالنا شروع کریں۔ اگر چوہا نہ نکالا تو اس پانی نکالنے کا کچھ اعتبار نہیں۔ چوہا نکالنے کے بعد پھر اتنا ہی پانی نکالنا پڑے گا۔
مسئلہ۔ بڑی چھپکلی جس میں بہتا ہوا خون ہوتا ہو اس کا حکم بھی یہی ہے کہ اگر مر جائے اور پھولے پھٹے نہیں تو بیس ڈول نکالنا چاہیے اور تیس ڈول نکالنا بہتر ہے۔ اور جس میں بہتا ہوا خون نہ ہوتا ہو اس کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔
مسئلہ۔ اگر کبوتر یا مرغی یا بلی یا اسی کے برابر کوئی چیز گر کر مر جائے اور پھولے نہیں تو چالیس ڈول نکالنا واجب ہے اور ساٹھ ڈول نکال دینا بہتر ہے۔
مسئلہ۔ جس کنویں پر جو ڈول پڑا رہتا ہے اسی کے حساب سے نکالنا چاہیے اور اگر اتنے بڑے ڈول سے نکالا جس میں بہت پانی سماتا ہے تو اس کا حساب لگا لینا چاہیے۔ اگر اس میں دو ڈول پانی سماتا ہے تو دو ڈول سمجھیں۔ اور اگر چار ڈول سماتا ہو تو چار ڈول سمجھنا چاہیے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس ڈول سے پانی آتا ہو گا اسی کے حساب سے کھینچا جائے گا۔
مسئلہ۔ اگر کنویں میں اتنا بڑا سوت ہے کہ سب پانی نہیں نکل سکتا جیسے جیسے پانی نکالتے ہیں ویسے ویسے اس میں سے اور نکلتا آتا ہے تو جتنا پانی اس میں اس وقت موجود ہے اندازہ کر کے اس قدر نکال ڈالیں۔
فائدہ پانی کے اندازہ کرنے کی کئی صورتیں ہیں ایک یہ کہ مثلاً پانچ ہاتھ پانی ہے تو ایک دم لگاتار سو ڈول پانی نکال کر دیکھو کتنا پانی کم ہوا۔ اگر ایک ہاتھ کم ہوا ہو تو بس اسی سے حساب لگا لو کہ سو ڈول میں ایک ہاتھ پانی ٹوٹا تو پانچ ہاتھ پانی پانچسو ڈول میں نکل جائے گا۔ دوسرے یہ کہ جن لوگوں کو پانی کی پہچان ہو اور اس کا اندازہ آتا ہو ایسے دو دیندار مسلمانوں سے اندازہ کرالو۔ جتنا وہ کہیں نکلوا دو۔ اور جہاں یہ دونوں باتیں مشکل معلوم ہوں تو تین سو ڈول نکلوا دیں۔
مسئلہ۔ کنویں میں مرا ہوا چوہا یا اور کوئی جانور نکلا اور یہ معلوم نہیں کہ کب سے گرا ہے اور وہ ابھی پھولا پھٹا بھی نہیں ہے تو جن لوگوں نے اس کنویں سے وضو کیا ہے ایک دن رات کی نمازیں دہرائیں اور ا س پانی سے جو کپڑے دھوئے ہیں پھر ان کو دھونا چاہیے۔ اور اگر پھول گیا ہے یا پھٹ گیا ہے تو تین دن تین رات کی نمازیں دہرانا چاہیے۔ البتہ جن لوگوں نے اس پانی سے وضو نہیں کیا ہے وہ نہ دہرائیں۔ یہ بات تو احتیاط کی ہے اور بعضے عالموں نے یہ کہا ہے کہ جس وقت کنویں کا ناپاک ہونا معلوم ہوا ہے اس وقت سے ناپاک سمجھیں گے۔ اس سے پہلے کی نماز وضو سب درست ہے اگر کوئی اس پر عمل کرے تب بھی درست ہے۔
مسئلہ۔ جس کو نہانے کی ضرورت ہے وہ دو ڈول ڈھونڈنے کے واسطے کنویں میں اترا اور اس کے بدن اور کپڑا پر آلودگی نجاست نہیں ہے تو کنواں ناپاک نہ ہو گا۔ ایسے ہی اگر کافر اترے اور اس کے کپڑے اور بدن پر نجاست نہ ہو تب بھی کنواں پاک ہے البتہ اگر نجاست لگی ہو تو ناپاک ہو جائے گا اور سب پانی نکالنا پڑے گا اور اگر شک ہو کہ معلوم نہیں کپڑا پاک ہے یا ناپاک ہے تب بھی کنواں پاک سمجھا جائے گا لیکن اگر دل کی تسلی کے لیے بیس یا تیس ڈول نکلوا دیں تب بھی کچھ حرج نہیں۔
مسئلہ۔ کنویں میں بکری یاچوہا گر گیا اور زندہ نکل آیا تو پانی پاک ہے کچھ نہ نکالا جائے۔
مسئلہ۔ چوہے کو بلی نے پکڑا اور اس کے دانت لگنے سے زخمی ہو گیا۔ پھر اس سے چھوٹ کر اسی طرح خون میں بھرا ہوا کنویں میں گر پڑا تو سارا پانی نکالا جائے۔
مسئلہ۔ چوہا تابدان سے نکل کر بھاگا اور اس کے بدن میں نجاست بھر گئی پھر کنویں میں گر پڑا تو سب پانی نکالا جائے چاہے چوہا کنویں میں مر جائے یا زندہ نکلے۔
مسئلہ۔ چوہے کی دم کٹ کر گر پڑی تو سارا پانی نکالا جائے۔ اسی طرح وہ چھپکلی جس میں بہتا ہوا خون ہوتا ہے اس کی دم گرنے سے بھی سب پانی نکالا جائے۔
مسئلہ۔ جس چیز کے گرنے سے کنواں ناپاک ہوا ہے۔ اگر وہ چیز باوجود کوشش کے نہ نکل سکے تو دیکھنا چاہیے کہ وہ چیز کیسی ہے۔ اگر وہ چیز ایسی ہے کہ خود تو پاک ہوتی ہے لیکن ناپاکی کی لگنے سے ناپاک ہو گئی ہے جیسے ناپاک کپڑا ناپاک گیند ناپاک جوتہ تب تو اس کا نکالنا معاف ہے ویسے ہی پانی نکال ڈالیں۔ اور اگر وہ چیز ایسی ہے کہ خود ناپاک ہے جیسے مردہ جانور و چوہا وغیرہ تو جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ یہ گل سڑ کر مٹی ہو گیا ہے اس وقت تک کنواں پاک نہیں ہو سکتا۔ اور جب یہ یقین ہو جائے اس وقت سارا پانی نکال دیں کنواں پاک ہو جائے گا۔
مسئلہ۔ جتنا پانی کنویں میں سے نکالنا ضرور ہو چاہے ایکدم سے نکالیں چاہے تھوڑا تھوڑا کر کے کئی دفعہ نکالیں ہر طرح پاک ہو جائے گا۔

جانوروں کے جھوٹے کا بیان

مسئلہ۔ آدمی کا جھوٹا پاک ہے چاہے بددین ہو یا حیض سے ہو ناپاک ہو یا نفاس میں ہو ہر حال میں پاک ہے۔ اسی طرح پسینہ بھی ان سب کا پاک ہے۔ البتہ اگر اس کے ہاتھ میں یا منہ میں کوئی ناپاکی لگی ہو تو اس سے وہ جھوٹا ناپاک ہو جائے گا۔
مسئلہ۔ کتنے کا جھوٹا نجس ہے۔ اگر کسی برتن میں منہ ڈال دے تو تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جائے گا۔ چاہے مٹی کا برتن ہو چاہے تانبے وغیرہ کا۔ دھونے سے سب پاک ہو جاتا ہے۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ سات مرتبہ دھو دے اور ایک مرتبہ مٹی لگا کر مانجھ بھی ڈالے کہ خوب صاف ہو جائے۔
مسئلہ۔ سور کا جھوٹا بھی نجس ہے۔ اسی طرح شیر بھیڑیا بندر گیدڑ وغیرہ جتنے چیر پھاڑ کر کے کھانے والے جانور ہیں سب کا جھوٹا نجس ہے۔
مسئلہ۔ بلی کا جھوٹا پاک تو ہے لیکن مکروہ ہے۔ تو اور پانی ہوتے وقت اس سے وضو نہ کرے۔ البتہ اگر کوئی اور پانی نہ ملے تو اس سے وضو کر لے۔
مسئلہ۔ دودھ سالن وغیرہ میں بلی نے منہ ڈال دیا تو اگر اللہ نے سب کچھ دیا ہے تو اسے نہ کھائے اور اگر غریب آدمی ہو تو کھا لے اس میں کچھ حرج اور گناہ نہیں ہے بلکہ ایسے شخص کے واسطے مکروہ بھی نہیں ہے۔
مسئلہ۔ بلی نے چوہا کھایا اور فورا آ کر برتن میں منہ ڈال دیا تو وہ نجس ہو جائے گا۔ اور جو تھوڑی دیر ٹھیر کر منہ ڈالے کہ اپنا منہ زبان سے چاٹ چکی ہو تو نجس نہ ہو گا بلکہ مکروہ ہی رہے گا۔
مسئلہ۔ کھلی ہوئی مرغی جو ادھر ادھر گندی پلید چیزیں کھاتی پھرتی ہے اس کا جھوٹا مکروہ ہے۔ اور جو مرغی بند رہتی ہو اس کا جھوٹا مکروہ نہیں بلکہ پاک ہے۔
مسئلہ۔ شکار کرنے والے پرندے جیسے شکرہ باز وغیرہ ان کا جھوٹا بھی مکروہ ہے۔ لیکن جو پالتو ہو اور مردار نہ کھانے پائے نہ اس کی چونچ میں کسی نجاست کے لگے ہونے کا شبہ ہو اس کا جھوٹا پاک ہے۔
مسئلہ۔ حلال جانور جیسے مینڈھا بکری بھیڑ گائے بھینس ہرنی وغیرہ اور حلال چڑیاں جیسے مینا طوطا فاختہ گوریا ان سب کا جھوٹا پاک ہے۔ اسی طرح گھوڑے کا جھوٹا بھی پاک ہے۔
مسئلہ۔ جو چیزیں گھروں میں رہا کرتی ہیں جیسے سانپ بچھو چوہا چھپکلی وغیرہ ان کا جھوٹا مکروہ ہے۔
مسئلہ۔ اگر چوہا روٹی کتر کر کھائے تو بہتر یہ ہے کہ اس جگہ سے ذرا سی توڑ ڈالے تب کھائے۔
مسئلہ۔ گدھے اور خچر کا جھوٹا پاک تو ہے لیکن وضو ہونے میں شک ہے۔ سو اگر کہیں فقط گدھے خچر کا جھوٹا پانی ملے اور اس کے سوا پانی نہ ملے تو وضو بھی کرے اور تیمم بھی کرے اور چاہے پہلے وضو کرے چاہے پہلے تیمم کرے دونوں اختیار ہیں۔
مسئلہ۔ جن جانوروں کا جھوٹا نجس ہے ان کا پسینہ بھی نجس ہے۔ اور جن کا جھوٹا پاک ہے انکا پسینہ بھی پاک ہے۔ اور جن کا جھوٹا مکروہ ہے ان کا پسینہ بھی مکروہ ہے اور گدھے اور خچر کا پسینہ پاک ہے کپڑے اور بدن پر لگ جائے تو دھونا واجب نہیں۔ لیکن دھو ڈالنا بہتر ہے۔
مسئلہ۔ کسی نے بلی پالی وہ پاس آ کر بیٹھتی ہے اور ہاتھ وغیرہ چاٹتی ہے تو جہاں چاٹے یا اس کا لعاب لگے تو اس کو دھو ڈالنا چاہیے۔ اگر نہ دھویا اور یوں ہی رہنے دیا تو مکروہ اور برا کیا۔
مسئلہ۔ غیر مرد کا جھوٹا کھانا اور پانی عورت کے لیے مکروہ ہے جبکہ جانتی ہو کہ یہ اس کا جھوٹا ہے اور اگر معلوم نہ ہو تو مکروہ نہیں۔
مسئلہ۔ اگر کوئی جنگل میں ہے اور بالکل معلوم نہیں کہ پانی کہاں ہے نہ وہاں کوئی ایسا آدمی ہے جس سے دریافت کرے تو ایسے وقت تیمم کر لے اور گر کوئی آدمی مل گیا اور اس نے ایک میل شرعی کے اندر پانی کا پتہ بتایا اور گمان غالب ہوا کہ یہ سچا ہے یا آدمی تو نہیں ملا لیکن کسی نشانی سے خود اس کا جی کہتا ہے کہ یہاں ایک میل شرعی کے اندر اندر کہیں پانی ضرور ہے تو پانی کا اس قدر تلاش کرنا کہ اس کو اور اس کے ساتھیوں کو کسی قسم کی تکلیف اور حرج نہ ہو ضروری ہے۔ بے ڈھونڈے تیمم کرنا درست نہیں۔ اور اگر خوب یقین ہے کہ پانی ایک میل شرعی کے اندر ہے تو پانی لانا واجب ہے۔
فائدہ میل شرعی انگریزی سے ذرا زیادہ ہوتا ہے یعنی انگریزی ایک میل پورا اور اس کا آٹھواں حصہ یہ سب مل کر ایک میل شرعی ہوتا ہے۔
مسئلہ۔ اگر پانی کا پتہ چل گیا لیکن پانی ایک میل سے دور ہے تو اتنی دور جا کر پانی لانا واجب نہیں ہے بلکہ تیمم کر لینا درست ہے۔
مسئلہ۔ اگر کوئی آبادی سے ایک میل کے فاصلے پر ہو اور ایک میل سے قریب کہیں پانی نہ ملے تو بھی تیمم کر لینا درست ہے چاہے مسافر ہو یا مسافر نہ ہو تھوڑی دور جانے کے لیے نکلی ہو۔
مسئلہ۔ اگر راہ میں کنواں تو مل گیا مگر لوٹا ڈول پاس نہیں ہے اس لیے کنویں سے پانی نکال نہیں سکتی نہ کسی اور سے مانگے مل سکتا ہے تو بھی تیمم درست ہے۔
مسئلہ۔ اگر کہیں پانی مل گیا لیکن بہت تھوڑا ہے تو اگر اتنا ہو کہ ایک ایک دفعہ منہ اور دونوں ہاتھ اور دونوں پیر دھو سکے تو تیمم کرنا درست نہیں ہے بلکہ ایک ایک دفعہ ان چیزوں کو دھوئے اور سر کا مسح کر لے اور کلی وغیرہ کرنا یعنی وضو کی سنتیں چھوڑ دے اور اگر اتنا بھی نہ ہو تو تیمم کرے۔
مسئلہ۔ اگر بیماری کی وجہ سے پانی نقصان کرتا ہو کہ اگر وضو یا غسل کرے گی تو بیماری بڑھ جائے گی یا دیر میں اچھی ہو گی تب بھی تیمم درست ہے لیکن اگر ٹھنڈا پانی نقصان کرتا ہو اور گرم پانی نقصان نہ کرے تو گرم پانی سے غسل کرنا واجب ہے البتہ اگر ایسی جگہ ہے کہ گرم پانی نہیں مل سکتا تو تیمم کرنا درست ہے۔
مسئلہ۔ اگر پانی قریب ہے یعنی یقیناً ایک میل سے کم دور ہے تو تیمم کرنا درست نہیں۔ جا کر پانی لانا اور وضو کرنا واجب ہے۔ مردوں سے شرم کی وجہ سے یا پردہ کی وجہ سے پانی لینے کو نہ جانا اور تیمم کر لینا درست نہیں۔ ایسا پردہ جس میں شریعت کا کوئی حکم چھوٹ جائے ناجائز اور حرام ہے۔ برقع اوڑھ کر یا سارے بدن سے چادر لپیٹ کر جانا واجب ہے۔ البتہ لوگوں کے سامنے بیٹھ کر وضو نہ کرے اور ان کے سامنے ہاتھ منہ نہ کھولے
مسئلہ۔ جب تک پانی سے وضو نہ کر سکے برابر تیمم کرتی رہے چاہے جتنے دن گزر جائیں کچھ خیال و وسوسہ نہ لائے۔ جتنی پاکی وضو اور غسل کرنے سے ہوتی ہے اتنی ہی پاکی تیمم سے بھی ہو جاتی ہے۔ یہ نہ سمجھے کہ تیمم سے اچھی طرح پاک نہیں ہوتی۔
مسئلہ۔ اگر پانی مول بکتا ہے تو اگر اس کے پاس دام نہ ہوں تو تیمم کر لینا درست ہے اور اگر دام پاس ہوں اور رستہ میں کرایہ بھاڑے کی جتنی ضرورت پڑے گی اس سے زیادہ بھی ہے تو خریدنا واجب ہے البتہ اگر اتنا گراں بیچے کہ اتنے دام کوئی لگا ہی نہیں سکتا تو خریدنا واجب نہیں تیمم کر لینا درست ہے۔ اور اگر کرایہ وغیرہ رستہ کے خرچ سے زیادہ دام نہیں ہیں تو بھی خریدنا واجب نہیں تیمم کر لینا درست ہے۔
مسئلہ۔ اگر کہیں اتنی سردی پڑتی ہو اور برف کٹتی ہو کہ نہانے سے مر جانے یا بیمار ہو جانے کا خوف ہو اور رضائی لحاف وغیرہ کوئی ایسی چیز بھی نہیں کہ نہا کر اس میں گرم ہو جائے تو ایسی مجبوری کے وقت تیمم کر لینا درست ہے۔
مسئلہ۔ اگر کسی کے آدھے سے زیادہ بدن پر زخم ہوں یا چیچک نکلا ہو تو نہانا واجب نہیں بلکہ تیمم کر لے۔
مسئلہ۔ اگر کسی میدان میں تیمم کر کے نماز پڑھ لی اور وہاں سے پانی قریب ہی تھا لیکن اس کو خبر نہ تھی تو تیمم اور نمازیں دونوں درست ہیں۔ جب معلوم ہو تو دہرانا ضروری نہیں۔
مسئلہ۔ اگر سفر میں کسی اور کے پاس پانی ہو تو اپنے جی کو دیکھے اگر اندر سے دل کہتا ہو کہ اگر میں مانگوں گی تو یہ پانی مل جائے گا تو بے مانگے ہوئے تیمم کر لینا درست نہیں۔ اور اگر اندر سے دل یہ کہتا ہو کہ مانگنے سے وہ شخص پانی نہ دے گا تو بے مانگے بھی تیمم کر کے نماز پڑھ لینا درست ہے۔ لیکن اگر نماز کے بعد اس سے پانی مانگا اور اس نے دے دیا تو نماز کو دہرانا پڑے گا۔
مسئلہ۔ اگر زمزم کا پانی زمزمی میں بھرا ہو اہے تو تیمم کرنا درست نہیں زمزمیوں کو کھول کر اس پانی سے نہانا اور وضو کرنا واجب ہے۔
مسئلہ۔ کسی کے پاس پانی تو ہے لیکن راستہ ایسا خراب ہے کہ کہیں پانی نہیں مل سکتا اس لیے راہ میں پیاس کے مارے تکلیف اور ہلاکت کا خوف ہے تو وضو نہ کرے تیمم کر لینا درست ہے۔
مسئلہ۔ اگر غسل کرنا نقصان کرتا ہو اور وضو نقصان نہ کرے تو غسل کی جگہ تیمم کرے۔ پھر اگر تیمم غسل کے بعد وضو ٹوٹ جائے تو وضو کے لیے تیمم نہ کرے بلکہ وضو کی جگہ وضو کرنا چاہیے۔ اور اگر تیمم غسل سے پہلے کوئی بات وضو توڑنے والی بھی پائی گئی اور پھر غسل کا تیمم کیا ہو تو یہی تیمم غسل و وضو دونوں کے لیے کافی ہے
مسئلہ۔ تیمم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ پاک زمین پر مارے اور سارے منہ کو مل لے پھر دوسری مرتبہ زمین پر دونوں ہاتھ مارے اور دونوں ہاتھوں کی کہنی سمیت ملے۔ چوڑیوں کنگن وغیرہ کے درمیان اچھی طرح ملے اگر اس کے گمان میں ناخن برابر بھی کوئی جگہ چھوٹ جائے گی تو تیمم نہ ہو گا۔ انگوٹھی چھلے اتار ڈالے تاکہ کوئی جگہ چھوٹ نہ جائے۔ انگلیوں میں خلال کر لے۔ جب یہ دونوں چیزیں کر لیں تو تیمم ہو گیا۔
مسئلہ۔ مٹی پر ہاتھ جھاڑ ڈالے تاکہ بانہوں اور منھ پر بھبھوت نہ لگ جائے۔ اور صورت نہ بگڑ جائے۔
مسئلہ۔ زمین کے سوا اور جو چیز مٹی کی قسم سے ہو اس پر بھی تیمم درست ہے۔ جیسے مٹی ریت پتھر گچ چونا ہڑتال سرمہ گیرد وغیرہ۔ اور جو چیز مٹی کی قسم سے نہ ہو اس سے تیمم درست نہیں جیسے سونا چاندی رانگا گیہوں لکڑی کپڑا اور اناج وغیرہ۔ ہاں اگر ان چیزوں پر گرد اور مٹی لگی ہو اس وقت البتہ ان پر تیمم درست ہے۔
مسئلہ۔ جو چیز نہ تو آگ میں جلے اور نہ گلے وہ چیز مٹی کی قسم سے ہے اس پر تیمم درست ہے۔ اور جو چیز جل کر راکھ ہو جائے یا گل جائے اس پر تیمم درست نہیں۔ اسی طرح راکھ پر بھی تیمم درست نہیں۔
مسئلہ۔ تانبے کے برتن اور تکیے اور گدے وغیرہ پر تیمم کرنا درست نہیں البتہ اگر اوپر اتنی گرد ہے کہ ہاتھ مارنے سے خوب اڑتی ہے اور ہتھیلیوں میں خوب اچھی طرح لگ جاتی ہے تو تیمم درست ہے۔ اور اگر ہاتھ مارنے سے ذرا ذرا گرد اڑتی ہو تو بھی اس پر تیمم درست ہے۔ اور مٹی کے گھڑے بدھنے پر تیمم درست ہے چاہے اس میں پانی بھرا ہوا ہو یا پانی نہ ہو لیکن اگر اس پر لک پھرا ہوا ہو تو تیمم درست نہیں۔
مسئلہ۔ اگر پتھر پر بالکل گرد نہ ہو تب بھی تیمم درست ہے۔ بلکہ اگر پانی سے خوب دھلا ہوا ہو تب بھی درست ہے۔ ہاتھ پر گرد کا لگنا ضروری نہیں ہے اسی طرح پکی اینٹ پر بھی تیمم درست ہے۔ چاہے اس پر کچھ گرد ہو چاہے نہ ہو۔
مسئلہ۔ کیچڑ سے تیمم کرنا گو درست ہے مگر مناسب نہیں۔ اگر کہیں کیچر کے سوا اور کوئی چیز نہ ملے تو یہ ترکیب کرے کہ اپنے کپڑے میں کیچڑ بھر لیے جب وہ سوکھ جائے تو اس سے تیمم کرے۔ البتہ اگر نماز کا وقت ہی نکلا جاتا ہو تو اس وقت جس طرح بن پڑے تر سے یا خشک سے تیمم کر لے نماز نہ قضا ہونے دے۔
موزوں پر مسح کرنے کا بیان
مسئلہ۔ اگر چمڑے کے موزے وضو کر کے پہن لے اور پھر وضو ٹوٹ جائے تو پھر وضو کرتے وقت موزوں پر مسح کر لینا درست ہے۔ اور اگر موزہ اتار کر پیر دھو لیا کرے تو یہ سب سے بہترہے۔
مسئلہ۔ اگر موزہ اتنا چھوٹا ہے کہ ٹخنے موزے کے اندر چھپے ہوئے نہ ہوں تو اس پر مسح درست نہیں۔ اسی طرح اگر بغیر وضو کیے موزہ پہن لیا تو اس پر بھی مسح درست نہیں اتار کر پیر دھونا چاہیے۔
مسئلہ۔ مسافرت میں تین دن تین رات تک موزوں پر مسح کرنا درست ہے اور جو مسافرت میں نہ ہو اس کے ایک دن اور ایک رات اور جس وقت وضو ٹوٹا ہے اس وقت سے ایک دن رات یا تین دن رات کا حساب کیا جائے گا جس وقت موزہ پہنا ہے اس کا اعتبار نہ کریں گے۔ جیسے کسی نے ظہر کے وقت وضو کر کے موزہ پہنا پھر سورج ڈوبنے کے وقت وضو ٹوٹا تو اگلے دن کے سورج ڈوبنے تک مسح کرنا درست ہے۔ اور مسافرت میں تیسرے دن کے سورج ڈوبنے تک۔ جب سورج ڈوب گیا تو اب مسح کرنا درست نہیں رہا۔
مسئلہ۔ اگر کوئی ایسی بات ہو گئی جس سے نہانا واجب ہو گیا تو موزہ اتار کر نہائے۔ غسل کے ساتھ موزے پر مسح کرنا درست نہیں۔
مسئلہ۔ موزہ کے اوپر کی طرف مسح کرے تلوے کی طرف مسح نہ کرے۔
مسئلہ۔ موزہ پر مسح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ کی انگلیاں تر کر کے آگے کی طرف رکھے۔ انگلیاں تو سموچی موزہ پر رکھ دے اور ہتھیلی موزے سمیت انگلیوں کو کھینچ کر لے جائے تو بھی درست ہے۔
مسئلہ۔ اگر کوئی الٹا مسح کرے یعنی ٹخنے کی طرف سے کھینچ کر انگلیوں کی طرف لائے تو بھی جائز ہے لیکن مستحب کے خلاف ہے ایسے ہی اگر لمباؤ میں مسح نہ کرے بلکہ موزے کے چوڑان میں مسح کرے تو بھی درست ہے لیکن مستحب کے خلاف ہے۔
مسئلہ۔ اگر تلوے کی طرف یا ایڑی پر یا موزہ کے اغل بغل میں مسح کرے تو یہ مسح درست نہیں ہوا۔
مسئلہ۔ اگر پوری انگلیوں کو موزہ پر نہیں رکھا بلکہ فقط انگلیوں کا سرا موزہ پر رکھ دیا اور انگلیاں کھڑی رکھیں تو یہ مسح درست نہیں ہوا۔ البتہ اگر انگلیوں سے پانی برابر ٹپک رہا ہو جس سے بہہ کر تین انگلیوں کے برابر پانی موزہ کو لگ جائے تو درست ہو جائے گا۔
مسئلہ۔ مسح میں مستحب تو یہی ہے کہ ہتھیلی کی طرف سے مسح کرے۔ اور اگر کوئی ہتھیلی کے اوپر کی طرف سے مسح کرے تو بھی درست ہے۔
مسئلہ۔ اگر کسی نے موزہ پر مسح نہیں کیا لیکن پانی برستے وقت باہر نکلی یا بھیگی گھاس میں چلی جس سے موزہ بھیگ گیا تو مسح ہو گیا۔
مسئلہ۔ ہاتھ کی تین انگلیوں بھر ہر موزہ پر مسح کرنا فرض ہے اس سے کم میں مسح درست نہ ہو گا۔
مسئلہ۔ جو چیز وضو توڑ دیتی ہے اس سے مسح بھی ٹوٹ جاتا ہے اور موزوں کو اتار دینے سے بھی مسح ٹوٹ جاتا ہے۔ تو اگر کسی کا وضو تو نہیں ٹوٹا لیکن اس نے موزے اتار ڈالے تو مسح جاتا رہا۔ اب دونوں پیر دھو لے پھر سے وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
مسئلہ۔ اگر ایک موزہ اتار ڈالا تو دوسرا موزہ بھی اتار کر دونوں پاؤں کا دھونا واجب ہے۔
مسئلہ۔ اگر مسح کی مدت پوری ہو گئی تو بھی مسح جاتا رہا۔ اگر وضو نہ ٹوٹا ہو تو موزہ اتار کر دونوں پاؤں دھوئے پورے وضو کا دہرانا واجب نہیں۔ اور اگر وضو ٹوٹ گیا ہو تو موزے اتار کر پورا وضو کرے۔
حیض اور استحاضہ کا بیان
مسئلہ۔ ہر مہینہ میں جو آگے کی راہ سے معمولی خون آتا ہے اس کو حیض کہتے ہیں۔
مسئلہ۔ کم سے کم حیض کی مدت تین دن تین رات ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن دس رات ہے۔ کسی کو تین دن تین رات سے کم خون آیا تو وہ حیض نہیں ہے۔ بلکہ استحاضہ ہے کہ کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے اور اگر دس دن رات سے زیادہ خون آیا ہے تو جتنے دن دس سے زیادہ آیا ہے وہ بھی استحاضہ ہے۔
مسئلہ۔ اگر تین دن تو ہو گئے لیکن تین راتیں نہیں ہوئیں جیسے جمعہ کو صبح سے خون آیا اور اتوار کو شام کے وقت بعد مغرب بند ہو گیا تب بھی یہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔ اگر تین دن رات سے ذرا بھی کم ہو تو وہ حیض نہیں۔ جیسے جمعہ کو سورج نکلتے وقت خون آیا اور دو شنبہ کو سورج نکلنے سے پہلے بند ہو گیا تو وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔
مسئلہ۔ حیض کی مدت کے اندر سرخ زرد سبز خاکی یعنی مٹیالا سیاہ جو رنگ آئے سب حیض ہے جب تک گدی بالکل سفید نہ دکھلائی دے اور جب بالکل سفید رہے جیسی کہ رکھی گی تھی تو اب حیض سے پاک ہو گئی۔
مسئلہ۔ نو برس سے پہلے اور پچپن برس کے بعد کسی کو حیض نہیں آتا ہے اس لیے نو برس سے چھوٹی لڑکی کو جو خون آئے وہ حیض نہیں ہے بلکہ استحاضہ ہے اگرچہ پچپن برس کے بعد کچھ نکلے تو اگر خون خوب سرخ یا سیاہ ہو تو حیض ہے اور اگر زرد یا سبز یا خاکی رنگ ہو تو حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔ البتہ اگر اس عورت کو اس عمر سے پہلے بھی زرد یا سبز یا خاکی رنگ آتا ہو تو پچپن پرس کے بعد بھی یہ رنگ حیض سمجھے جائیں گے۔ اور اگر عادت کے خلاف ایسا ہوا تو حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔
مسئلہ۔ کسی کو ہمیشہ تین دن یا چار دن خون آتا تھا۔ پھر کسی مہینہ میں زیادہ آ گیا لیکن دس دن سے زیادہ نہیں آیا وہ سب حیض ہے اور اگر دس دن سے بھی بڑھ گیا تو جتنے دن پہلے سے عادت کے ہیں اتنا تو حیض ہے باقی سب استحاضہ ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کسی کو ہمیشہ تین دن حیض آنے کی عادت ہے لیکن کسی مہینہ میں نو دن یا دس دن رات خون آیا تو یہ سب حیض ہے اور اگر دس دن رات سے ایک لحظہ بھی زیادہ خون آئے تو وہی تین دن حیض کے ہیں اور باقی دنوں کا سب استحاضہ ہے ان دنوں کی نمازیں قضا پڑھنا واجب ہیں۔
مسئلہ۔ ایک عورت ہے جس کی کوئی عادت مقرر نہیں ہے کبھی چار دن خون آتا ہے کبھی سات دن اسی طرح بدلتا رہتا ہے کبھی دس دن بھی آ جاتا ہے تو یہ سب حیض ہے ایسی عورت کو اگر کبھی دس دن رات سے زیاد خون آئے تو دیکھو کہ اس سے پہلے مہینہ میں کتنے دن حیض آیا تھا بس اتنے ہی دن حیض کے اور باقی سب استحاضہ ہے۔
مسئلہ۔ کسی کو ہمیشہ چار دن حیض آتا تھا پھر ایک مہینہ میں پانچ دن خون آیا اس کے بعد دوسرے مہینہ میں پندرہ دن خون آیا تو اس پندرہ دن میں سے پانچ دن حیض کے ہیں اور دس دن استحاضہ ہے اور پہلی عادت کا اعتبار نہ کریں گے اور یہ سمجھیں گے کہ عادت بدل گئی اور پانچ دن کی عادت ہو گئی۔
مسئلہ۔ کسی کو دس دن سے زیادہ خون آیا اور اس کو اپنی پہلی عادت بالکل یاد نہیں کہ پہلے مہینے میں کتنے دن خن آیا تھا تو اس کے مسئلے بہت باریک ہیں جن کا سمجھنا مشکل ہے اور ایسا اتفاق بھی کم پڑتا ہے اس لیے ہم اس کا بیان نہیں کرتے اگر کبھی ضرورت پڑے تو کسی بڑے عالم سے پوچھ لینا چاہیے اور کسی ایسے ویسے معمولی مولوی سے ہرگز نہ پوچھے۔
مسئلہ۔ کسی لڑکی نے پہلے پہل خون دیکھا تو اگر دس دن یا اس سے کچھ کم آئے سب حیض ہے اور جو دس دن سے زیادہ آئے تو پورے دس دن حیض ہے اور جتنا زیادہ ہو وہ سب استحاضہ ہے۔
مسئلہ۔ کسی نے پہلے پہل خون دیکھا اور وہ کسی طرح بند نہیں ہوا کئی مہینے تک برابر آتا رہا تو جس دن خون آیا ہے اس دن سے لے کر دس دن رات حیض ہے اس کے بعد بیس دن استحاضہ ہے۔ اسی طرح برابر دس دن حیض اور بیس دن استحاضہ سمجھا جائے گا۔
مسئلہ۔ دو حیض کے درمیان میں پاک رہنے کی مدت کم سے کم پندرہ دن ہیں اور زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ سو اگر کسی وجہ سے کسی کو حیض آنا بند ہو جائے تو جتنے مہینے تک خون نہ آئے گا پاک رہے گی۔
مسئلہ۔ اگر کسی کو تین دن رات خون یا پھر پندرہ دن پاک رہی۔ پھر تین دن رات خون آیا تو تین دن پہلے کے اور تین دن یہ جو پندرہ دن کے بعد ہیں حیض کے ہیں اور بیچ میں پندرہ دن پاکی کا زمانہ ہے۔
مسئلہ۔ اور اگر ایک یا دو دن خون آیا پھر پندرہ دن پاک رہی پھر ایک یا دو دن خون آیا تو بیچ میں پندرہ دن تو پاکی کا زمانہ ہی ہے ادھر ادھر ایک یا دو دن جو خون آیا ہے وہ بھی حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔
مسئلہ۔ اگر ایک دن یا کئی دن خون آیا۔ پھر پندرہ دن سے کم پاک رہی اس کا کچھ اعتبار نہیں بلکہ یوں سمجھیں گے کہ گویا اول سے آخر تک برابر خون جاری رہا۔ سو جتنے دن حیض آنے کی عادت ہو اتنے دن تو حیض کے ہیں باقی سب استحاضہ ہے۔ مثال اس کی یہ ہے کہ کسی کو ہر مہینہ کی پہلی اور دوسری اور تیسری تاریخ حیض آنے کا معمول ہے پھر کسی مہینہ میں ایسا ہوا کہ پہلی تاریخ کو خون یا پھر چودہ دن پاک رہی۔ پھر ایک دن خون آیا تو ایسا سمجھیں گے کہ سولہ دن گویا برابر خون آیا۔ سو اس میں سے تین دن اول کے تو حیض کے ہیں اور تیرہ دن استحاضہ ہے۔ اور اگر چوتھی پانچویں چھٹی تاریخ حیض کی عادت تھی تو یہی تاریخیں حیض کی ہیں اور تین دن اول کے اور دس دن بعد کے استحاضہ کے ہیں۔ اور اگراس کی کچھ عادت نہ ہو بلکہ پہلے پہل خون آیا ہو تو دس دن حیض ہے اور چھ دن استحاضہ ہے۔
مسئلہ۔ حمل کے زمانہ میں جو خون آئے وہ بھی حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے چاہے جتنے دن آوے۔
مسئلہ۔ بچہ پیدا ہونے کے وقت بچہ نکلنے سے پہلے جو خون آئے وہ بھی استحاضہ ہے۔ بلکہ جب تک بچہ آدھے سے زیادہ نہ نکل آئے تب تک جو خون آئے گا اس کو استحاضہ ہی کہیں گے۔
حیض کے احکام کا بیان
مسئلہ۔ حیض کے زمانہ میں نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا درست نہیں۔ اتنا فرق ہے کہ نماز تو بالکل معاف ہو جاتی ہے پاک ہونے کے بعد بھی اس کی قضا واجب نہیں ہوتی لیکن روزہ معاف نہیں ہوتا پاک ہونے کے بعد قضا رکھنی پڑے گی۔
مسئلہ۔ اگر فرض نماز پڑھتے میں حیض آ گیا تو وہ نماز بھی معاف ہو گئی۔ پاک ہونے کے بعد اس کی قضا نہ پڑھے اور اگر نفل یا سنت میں حیض آ گیا تو اس کی قضا پڑھنا پڑے گی۔ اور اگر آدھے روزہ کے بعد حیض آیا تو وہ روزہ ٹوٹ گیا جب پاک ہو تو قضا رکھے۔ اگر نفل روزہ میں حیض آ جائے تو اس کی بھی قضا رکھے۔
مسئلہ۔ اگر نماز کے اخیر وقت میں حیض آیا اور ابھی نماز نہیں پڑھی ہے تب بھی معاف ہو گئی۔
مسئلہ۔ حیض کے زمانہ میں مرد کے پاس رہنا یعنی صحبت کرنا درست نہیں۔ اور صحبت کے سوا اور سب باتیں درست ہیں جن میں عورت کی ناف سے لے کر گھٹنے تک کا جسم مرد کے کسی عضو سے مس نہ ہو یعنی ساتھ کھانا پینا لیٹنا وغیرہ درست ہے۔
مسئلہ۔ کسی کی عادت پانچ دن کی یا نو دن کی تھی سو جتنے دن کی عادت تھی اتنے ہی دن خون آیا پھر بند ہو گیا تو جب تک نہا نہ لے تب تک صحبت کرنا درست نہیں اگر غسل نہ کرے تو جب ایک نماز کا وقت گزر جائے کہ ایک نماز کی قضا اس کے ذمہ واجب ہو جائے تب صحبت درست ہے اس سے پہلے درست نہیں۔
مسئلہ۔ اگر عادت پانچ دن کی تھی اور خون چار ہی دن آ کے بند ہو گیا تو نہا کے نماز پڑھنا واجب ہے لیکن جب تک پانچ دن پورے نہ ہو لیں تب تک صحبت کرنا درست نہیں ہے کہ شاید پھر خون آ جائے
مسئلہ۔ اگر پورے دس دن رات حیض آیا تو جب سے خون بند ہو جائے اسی وقت سے صحبت کرنا درست ہے چاہے نہا چکی ہو یا ابھی نہ نہائی ہو۔
مسئلہ۔ اگر ایک یا دو دن خون آ کر بند ہو گیا تو نہانا واجب نہیں ہے وضو کر کے نماز پڑھے لیکن ابھی صحبت کرنا درست نہیں اگر پندرہ دن گزرنے سے پہلے خون آ جائے گا تو اب معلوم ہو گا کہ وہ حیض کا زمانہ تھا۔ حساب سے جتنے دن حیض کے ہوں ان کو حیض سمجھے اور اب غسل کر کے نماز پڑھے اور اگر پورے پندرہ دن بیچ میں گزر گئے اور خون نہیں آیا تو معلوم ہوا کہ وہ استحاضہ تھا سو ایک دن یا دو دن خون آنے کی وجہ سے جو نمازیں نہیں پڑھیں اب ان کی قضا پڑھنا چاہیے۔
مسئلہ۔ تین دن حیض آنے کی عادت ہے لیکن کسی مہینے میں ایسا ہوا کہ تین دن پورے ہو چکے اور ابھی خون بند نہیں ہوا تو ابھی غسل نہ کرے نہ نماز پڑھے اگر پورے دس دن رات پر یا اس سے کم میں خون بند ہو جائے تو ان سب دنوں کی نمازیں معاف ہیں۔ کچھ قضا نہ پڑھنا پڑے گی اور یوں کہیں گے کہ عادت بدل گئی اس لیے یہ دن حیض کے ہوں گے اور اگر گیارہویں دن بھی خون آیا تو اب معلوم ہوا کہ حیض کے فقط تین ہی دن تھے یہ سب استحاضہ ہے۔ پس گیارہویں دن نہائے اور سات دن کی نمازیں قضا پڑھے اور اب نمازیں نہ چھوڑے۔
مسئلہ۔ اگر دس دن سے کم حیض یا اور ایسے وقت خون بند ہوا کہ نماز کا وقت بالکل تنگ ہے کہ جلدی اور پھرتی سے نہا دھو ڈالے تو نہانے کے بعد بالکل ذرا سا وقت بچے گا جس میں صرف ایک دفعہ اللہ اکبر کہہ کے نیت باندھ سکتی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں پڑھ سکتی تب بھی اس وقت کی نماز واجب ہو جائے گی اور قضا پڑھنی پڑے گی اور اگر اس سے بھی کم وقت ہو تو نماز معاف ہے اس کی قضا پڑھنا واجب نہیں۔
مسئلہ۔ اور اگر پورے دس دن رات حیض آیا اور ایسے وقت خون بند ہوا کہ بالکل ذرا سا بس اتنا وقت ہے کہ ایک دفعہ اللہ اکبر کہہ سکتی ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتی اور نہانے کی بھی گنجائش نہیں تو بھی نماز واجب ہو جاتی ہے اس کی قضا پڑھنا چاہیے۔
مسئلہ۔ اگر رمضان شریف میں دن کو پاک ہوئی تو اب پاک ہونے کے بعد کچھ کھانا پینا درست نہیں ہے۔ شام تک روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہے لیکن یہ دن روزہ میں محسوب نہ ہو گا بلکہ اس کی بھی قضا رکھنی پڑے گی۔
مسئلہ۔ اور اگر رات کو پاک ہوئی اور پورے دس دن رات حیض آیا ہے تو اگر اتنی ذرا سی رات باقی ہو جس میں ایک دفعہ اللہ اکبر بھی نہ کہہ سکے تب بھی صبح کا روزہ واجب ہے اور اگر دس دن سے کم حیض آیا ہے تو اگر اتنی رات باقی ہو کہ پھرتی سے غسل تو کر لے گی لیکن غسل کے بعد ایک دفعہ بھی اللہ اکبر نہ کہہ پائے گی تو بھی صبح کا روزہ واجب ہے اگر اتنی رات تو تھی لیکن غسل نہیں کیا تو روزہ توڑے بلکہ روزہ کی نیت کر لے اور صبح کو نہا لے اور جو اس سے بھی کم رات ہو یعنی غسل بھی نہ کر سکے تو صبح کا روزہ جائز نہیں ہے۔ لیکن دن کو کچھ کھانا پینا بھی درست نہیں بلکہ سارا دن روزہ داروں کی طرح رہے پھر اس کی قضا رکھے۔
مسئلہ۔ جب خون سوراخ سے باہر کی کھال میں نکل آئے تب سے حیض شروع ہو جاتا ہے۔ اس کھال سے باہر چاہے نکلے یا نہ نکلے اس کا کچھ اعتبار نہیں ہے تو اگر کوئی سوراخ کے اندر روئی وغیرہ رکھ لے جس سے خون باہر نہ نکلنے پائے تو جب تک سوراخ کے اندر ہی اندر خون رہے اور باہر روئی وغیرہ پر خون کا دھبہ نہ آئے تب تک حیض کا حکم نہ لگائیں گے۔ جب خون کا دھبہ باہر والی کھال میں جائے یا روئی وغیرہ کھینچ کر باہر نکلال لے تب سے حیض کا حساب ہو گا۔
مسئلہ۔ پاک عورت نے رات کو فرج داخل میں گدی رکھ لی تھی جب صبح ہوئی تو اس پر خون کا دھبہ دیکھا تو جس وقت سے دھبہ دیکھا ہے اسی وقت سے حیض کا حکم لگائیں گے۔
استحاضہ کے احکام کا بیان
مسئلہ۔ استحاضہ کا حکم ایسا ہے جیسے کسی کے نکسیر پھوٹے اور بند نہ ہو ایسی عورت نماز بھی پڑھے روزہ بھی رکھے قضا نہ کرنا چاہیے اور اس سے صحبت کرنا بھی درست ہے۔
نوٹ:استحاضہ کے احکام بالکل معذور کے احکام کی طرح ہیں۔
نفاس کا بیان
مسئلہ۔ بچہ پیدا ہونے کے بعد آگے کی راہ سے جو خون آتا ہے اس کو نفاس کہتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ نفاس کے چالیس دن ہیں اور کم کی کوئی حد نہیں۔ اگر کسی کو ایک آدھ گھڑی آ کر خون بند ہو جائے تو وہ بھی نفاس ہے۔
مسئلہ۔ اگر بچہ پیدا ہونے کے بعد بالکل خون نہ آئے تب بھی جننے کے بعد نہانا واجب ہے۔
مسئلہ۔ آدھے سے زیادہ بچہ نکل آیا لیکن ابھی پورا نہیں نکلا۔ اس وقت جو خون آئے وہ بھی نفاس ہے اور اگر آدھے سے کم نکلا تھا اس وقت خون آیا تو وہ استحاضہ ہے اگر ہوش و حواس باقی ہوں تو اس وقت بھی نماز پڑھے نہیں گنہگار ہو گی نہ ہو سکے تو اشارہ ہی سے پڑھے قضا نہ کرے۔ لیکن اگر نماز پڑھنے سے بچہ کا ضائع ہو جانے کا ڈر ہو تو نماز نہ پڑھے۔
مسئلہ۔ کسی کا حمل گر گیا تو اگر بچہ کا ایک آدھ عضو بن گیا ہو تو گرنے کے بعد خون آئے گا وہ بھی نفاس ہے اور اگر بالکل نہیں بنا بس گوشت ہی گوشت ہے تو یہ نفاس نہیں پس اگر وہ خون حیض بن سکے تو حیض ہے اور اگر حیض بھی نہ بن سکے مثلاً تین دن سے کم آئے یا پاکی کا زمانہ ابھی پورے پندرہ دن نہیں ہوا تو وہ استحاضہ ہے۔
مسئلہ۔ اگر خون چالیس دن سے بڑھ گیا تو اگر پہلے پہل یہی بچہ ہوا تو چالیس دن نفاس کے ہیں اور جتنا زیادہ آیا ہے وہ استحاضہ ہے پس چالیس دن کے بعد نہا لے اور نماز پڑھنا شروع کرے خون بند ہونے کا انتظار نہ کرے اور اگر یہ پہلا بچہ نہیں بلکہ اس سے پہلے جن چکی ہے اور اس کی عادت معلوم ہے کہ اتنے دن نفاس آتا ہے تو جتنے دن نفاس کی عادت ہو اتنے دن نفاس کے ہیں اور جو اس سے زیادہ ہے وہ استحاضہ ہے۔
مسئلہ۔ کسی کی عادت تیس دن نفاس آنے کی ہے لیکن تیس دن گزر گئے اور ابھی خون بند نہیں ہوا تو ابھی نہ نہائے۔ اگر پورے چالیس دن پر خون بند ہو گیا تو یہ سب نفاس ہے اور اگر چالیس دن سے زیادہ ہو جائے تو فقط تیس دن نفاس کے ہیں اور باقی سب استحاضہ ہے اس لیے اب فورا غسل کر ڈالے اور دس دن کی نمازیں قضا پڑھے۔
مسئلہ۔ اگر چالیس دن سے پہلے خون نفاس کا بند ہو جائے تو فورا غسل کر کے نماز پڑھنا شروع کرے اور اگر غسل نقصان کرے تو تیمم کر کے نماز شروع کرے ہرگز کوئی نماز قضا نہ ہونے دے۔
مسئلہ۔ نفاس میں بھی نماز بالکل معاف ہے اور روزہ معاف نہیں بلکہ اس کی قضا رکھنا چاہیے اور روزہ نماز اور صحبت کرنے کے یہاں بھی وہی مسئلے ہیں جو اوپر بیان ہو چکے ہیں۔
مسئلہ۔ اگر چھ مہینے کے اندر اندر آگے پیچھے دو بچے ہوں تو نفاس کی مدت پہلے بچہ سے لی جائے گی۔ اگر دوسرا بچہ دس بیس دن یا دو ایک مہینے کے بعد ہوا تو دوسرے بچہ سے نفاس کا حساب نہ کریں گے۔
نفاس اور حیض وغیرہ کے احکام کا بیان
مسئلہ۔ جو عورت حیض سے ہو یا نفاس سے ہو اور جس پر نہانا واجب ہو اس کو مسجد میں جانا اور کعبہ شریف کا طواف کرنا اور کلام مجید کا چھونا درست نہیں۔ البتہ اگر اگر کلام مجید جزدان میں یا رومال میں لپٹا ہو یا اس پر کپڑے وغیرہ کی چولی چڑھی ہوئی ہو اور جلد کے ساتھ سلی ہوئی نہ ہو بلکہ الگ ہو کہ اتارے سے اتر سکے تو اس حال میں قرآن مجید کا چھونا اور اٹھانا درست ہے۔
مسئلہ۔ جس کا وضو نہ ہو اس کو بھی کلام مجید کا چھونا درست نہیں البتہ زبانی پڑھنا درست ہے۔
مسئلہ۔ جس روپیہ یا پیسہ میں یا طشتری میں یا تعویز میں یا اور کسی چیز میں قرآن شریف کی کوئی آیت لکھی ہو اس کو بھی چھونا ان لوگوں کے لیے درست نہیں البتہ اگر کسی تھیلی میں یا برتن وغیرہ میں رکھے ہوں تو اس تھیلی اور برتن کو چھونا اور اٹھا درست ہے۔
مسئلہ۔ کرتے کے دامن اور دوپٹہ کے آنچل سے بھی قرآن مجید کو پکڑنا اور اٹھانا درست نہیں البتہ اگر بدن سے الگ کوئی کپڑا ہو جیسے رومال وغیرہ اس سے پکڑ کے اٹھانا جائز ہے۔
مسئلہ۔ اگر پوری آیت نہ پڑھے بلکہ آیت کا ذرا سا لفظ یا آدھی آیت پڑھے تو درست ہے لیکن وہ آدھی آیت اتنی بڑی نہ ہو کہ کسی چھوٹی سی آیت کے برابر ہو جائے۔
مسئلہ۔ اگر الحمد کی پوری سورت دعا کی نیت سے پڑھے یا اور دعائیں جو قرآن میں آئی ہیں ان کو دعا کی نیت سے پڑھے تلاوت کے ارادہ سے نہ پڑھے تو درست ہے اس میں کچھ گناہ نہیں ہے جیسے یہ دعا ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ اور یہ دعا ربنا لا تواخذنا ان نسینا اواخطانا آخر تک جو سورہ بقرہ کے آخر میں لکھی ہے۔ یا اور کوئی دعا جو قرآن شریف میں آئی ہو دعا کی نیت سے سب کا پڑھنا درست ہے۔
مسئلہ۔ دعاء قنوت کا پڑھنا بھی درست ہے۔
مسئلہ۔ اگر کوئی عورت لڑکیوں کو قرآن شریف پڑھاتی ہو تو ایسی حالت میں ہجے لگوانا درست ہے اور رواں پڑھاتے وقت پوری آیت نہ پڑھے بلکہ ایک ایک دو دو لفظ کے بعد سانس توڑ دے اور کاٹ کاٹ کر کے آیت کا رواں کہلائے۔
مسئلہ۔ کلمہ اور درود شریف پڑھنا اور خدا تعالی کا نام لینا استغفار پڑھنا یا اور کوئی وظیفہ پڑھنا جیسے لا حول ولا قوۃ الا باللہ اعلی العظیم۔ پڑھنا منع نہیں ہے۔ یہ سب درست ہے۔
مسئلہ۔ حیض کے زمانہ میں مستحب ہے کہ نماز سے جی گھبرائے نہیں۔
مسئلہ۔ کسی کو نہانے کی ضرورت تھی اور ابھی نہانے نہ پائی تھی کہ حیض آ گیا تو اب اس پر نہانا واجب نہیں بلکہ جب حیض سے پاک ہو تب نہائے ایک ہی غسل دونوں باتوں کی طرف سے ہو جائے گا۔
نجاست کے پاک کرنے کا بیان
مسئلہ۔ بدن میں یا کپڑے میں منی لگ کر سوکھ گئی تو کھرچ کر خوب مل ڈالنے سے پاک ہو جائے گا اور اگر ابھی سوکھی نہ ہو تو فقط دھونے سے پاک ہو گا لیکن اگر کسی نے پیشاب کر کے استنجا نہیں کیا تھا ایسے وقت منی نکلی تو وہ ملنے سے پاک نہ ہو گی اس کو دھونا چاہیے۔
نماز کا بیان
مسئلہ۔ کسی کے لڑکا پیدا ہو رہا ہے لیکن ابھی سب نہیں نکلا کچھ باہر ہے اور کچھ نہیں نکلا ایسے وقت بھی اگر ہوش و حواس باقی ہوں تو نماز پڑھنا فرض ہے قضا کر دینا درست نہیں البتہ اگر نماز پڑھنے سے بچہ کی جان کا خوف ہو تو نماز قضا کر دینا درست ہے۔ اسی طرح دائی جنائی کو اگر یہ خوف ہو کہ اگر میں نماز پڑھنے لگوں گی تو بچہ کو صدمہ پہنچے گا تو ایسے وقت دائی کو بھی نماز کا قضا کر دینا درست ہے لیکن ان سب کو پھر جلدی قضا پڑھ لینا چاہیے۔
جوان ہونے کا بیان
مسئلہ۔ جب کسی لڑکی کو حیض آ گیا یا ابھی تک کوئی حیض تو نہیں آیا لیکن اس کے پیٹ رہ آ گیا یا پیٹ بھی نہیں آرہا لیکن خواب میں مرد سے صحبت کراتے دیکھا اور اس سے مزہ آیا اور منی نکل آئی۔ ان تینوں صورتوں میں وہ جوان ہو گئی۔ روزہ نماز وغیرہ شریعت کے سب حکم احکام اس پر لگائے جائیں گے اور اگر ان تینوں باتوں میں سے کوئی بات نہیں پائی گئی لیکن اس کی عمر پورے پندرہ برس کی ہو چکی ہے تب بھی وہ جوان سمجھی جائے گی اور جو حکم ان پر لگائے جاتے ہیں اب اس پر لگائے جائیں گے۔
مسئلہ۔ جوان ہونے کو شریعت میں بالغ ہونا کہتے ہیں۔ نو برس سے پہلے کوئی عورت جوان نہیں ہو سکتی۔ اگر اس کو خون بھی آئے تو وہ حیض نہیں ہے بلکہ استحاضہ ہے جس کا حکم اوپر بیان ہو چکا ہے۔
نماز کی فضیلت کا بیان
اللہ تعالی فرماتا ہے ان الصلوۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر یعنی بے شک نماز روک دیتی ہے بے حیائی اور گناہ سے۔ غرض یہ ہے کہ نماز باقاعدہ پڑھنے سے ایسی برکت ہوتی ہے جس سے نمازی تمام گناہوں سے باز رہتا ہے۔ اگرچہ اور بھی بعض عبادتیں ایسی ہیں جن سے یہ برکت حاصل ہوتی ہے مگر نماز کو اس میں خاص دخل ہے اور نماز کو اس باب میں اعلی درجہ کی تاثیر ہے۔ مگر یہ ضرور ہے کہ نماز سنت کے موافق عمدہ طور سے ادا کی جائے۔ نمازی کے دل میں اللہ پاک کی عظمت پائی جائے ظاہر اور باطن سکون و عاجزی سے بھرا ہو۔ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ جس درجہ نماز کو کامل ادا کرے گا اسی درجہ کی برکت حاصل ہو گی۔ کوئی عبادت نماز سے زیادہ محبوب حق تعالی کو نہیں ہے پس مسلمان کو ضرور ہے کہ ایسی عبادت جو تمام گناہوں سے روک دے اور دوزخ سے نجات دلادے اس کو نہایت التزام سے ادا کرے اور کبھی قضا نہ کرے۔ حضرت امام حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضرت امام حسن بصری بڑے درجہ کے عالم اور درویش ہیں اور صحابہ کے دیکھنے والے ہیں۔ حافظ محدث ذہبی نے ان کے حالات میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس شخص نے ایسی نماز پڑھی کہ اس نماز نے اس نمازی کو بے حیائی کے کاموں اور گناہ کی باتوں سے نہ روکا تو وہ شخص اللہ تعالی سے دوری کے سوا اور کسی بات میں نہ بڑھا۔ اس نماز کے سبب یعنی اس کو نماز کے سبب قرب خداوندی اور ثواب میسر نہ ہو گا۔ بلکہ اللہ میاں سے دوری بڑھے گی اور یہ سزا ہے اس بات کی کہ اس نے ایسی پیاری عبادت کی قدر نہ کی اور اس کا حق ادا نہ کیا۔ پس معلوم ہوا کہ نماز قبول ہونے کی کسوٹی اور پہچان یہ ہے کہ نمازی نماز پڑھنے کے سبب گناہوں سے باز رہے اور اگر کبھی اتفاق سے کوئی گناہ ہو جائے تو فورا توبہ کر لے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود یہ بڑے درجہ کے صحابی اور بڑے عالم اور متقی ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک حال یہ ہے کہ اس نمازی کی نماز مقبول نہیں ہوتی اور اس کو ثواب نہیں ملتا گو بعضی صورتوں میں فرض سر سے اتر جاتا ہے اور کچھ ثواب بھی مل جاتا ہے جو نماز کی تابعداری نہ کرے اور نماز کی تابعداری کی پہچان یا اس کا اثر یہ ہے کہ نماز نمازی کو بے حیائی کے کاموں اور گناہ کی باتوں سے روک دے۔ اور حدیث میں ہے کہ ایک مرد جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ تحقیق فلاں شخص رات کو نماز پڑھتا ہے یعنی شب بیدار اور عبادت گزار ہے پھر جب صبح ہوتی ہے تو چوری کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا بے شک عنقریب نماز اس کو اس کام سے روک دے گی جسے تو بیان کرتا ہے۔ یعنی چوری کرنا چھوڑ دے گا اور گناہ سے باز آئے گا اخرجہ احمد وابن حبان والبیہقی عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ بلفظ قال ای ابوہریرۃ جاء رجل الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال ان فلانا یصلی باللیل فاذا اصبح سرق قال انہ سینہاہ ماتقول اوردہ الامام السیوطی فی الدر المنثور۔
حضرت عبادۃ بن الصامت یہ صحابی ہیں سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت بندہ وضو کرتا ہے پس عمدہ وضو کرتا ہے یعنی سنت کے موافق اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے پس پورے طور پر نماز کا رکوع کرتا ہے اور پورے طور پر نماز کا سجدہ کرتا ہے اور پورے طور پر نماز میں قرآن پڑھتا ہے یعنی رکوع سجدہ قرات اچھی طرح ادا کرتا ہے تو نماز کہتی ہے اللہ تعالی تیری حفاظت کرے جیسی تو نے میری حفاظت کی یعنی میرا حق ادا کیا مجھے ضائع نہ کیا پھر وہ نماز آنکھوں کی طرف چڑھائی جاتی ہے اس حال میں کہ اس میں چمک اور روشنی ہوتی ہے اور اس کے لیے آنکھوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں تاکہ اندر پہنچ جائے اور مقبول ہو جائے اور جبکہ بندہ اچھی طرح وضو نہیں کرتا اور رکوع اور سجدہ اور قرات اچھی طرح ادا نہیں کرتا تو وہ نماز کہتی ہے خدا تجھے ضائع کرے جیسا کہ تو نے مجھے ضائع کیا۔ پھر وہ آنکھوں کی طرف چڑھائی جاتی ہے اس حال میں کہ اس پر اندھیرا ہوتا ہے اور دروازے آنکھوں کے بند کر دیئے جاتے ہیں تاکہ وہاں نہ پہنچے اور مقبول نہ ہو پھر لپیٹ دی جاتی ہے جیسے کہ پرانا کپڑا جو بیکار ہوتے ہی لپیٹ دیا جاتا ہے۔ پھر وہ نمازی کے منہ پر ماری جاتی ہے۔ یعنی قبول نہیں ہوتی اور اس کا ثواب نہیں ملتا حضرت عبداللہ بن مغفل صحابی سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوروں میں بڑا چور وہ ہے جو اپنی نماز چراتا ہے۔ عرض کای گیا یا رسول اللہ کس طرح اپنی نماز چراتا ہے۔ فرمایا پورے طور سے اس کا رکوع اور اس کا سجدہ نہیں ادا کرتا۔ اور بخیلوں میں بڑا بخیل وہ شخص ہے جو سلام سے بخل کرے رواہ الطبرانی فی الثلثۃ ورجالہ ثقات کذا فی مجمع الزوائد غرض یہ ہے کہ نماز جیسی سہل اور عمدہ عبادات کا حق ادا نہ کرنا بڑی چوری ہے جس کا گناہ بھی بہت بڑا ہے۔
مسلمانوں کو غیرت چاہیے کہ نماز پورے طور ادا نہ کرنے سے ان کو ایسا برا خطاب دیا گیا حضرت انس بن مالک یہ صحابی ہیں جن کا ذکر ضمیمہ حصہ اول میں گزر چکا ہے ان سے روایت ہے کہ باہر تشریف لائے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پس دیکھا ایک مرد کو مسجد میں کہ اپنا رکوع اور سجدہ پورے طور سے ادا نہیں کرتا۔ سو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں قبول کی جاتی نماز اس مرد کی جو پورے طور سے اپنا رکوع اور اپنا سجدہ نہیں ادا کرتا۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط والصغیر وفیہ ابراہیم بن عبداد الکرمانی ولم اجد من ذکرہ کذا فی مجمع الزوائد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ یہ بڑے درجے کے عالم اور بڑے عبادت گزار اور بڑے ذکر کرنے والے اور صحابی ہیں۔ صحابہ میں حضرت ابن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ان سے زیادہ حدیث کے جاننے والے تھے اور کوئی صحابی ابوہریرہ سے زیادہ حدیث کا جاننے والا نہ تھا۔ ان کا نام عبدالرحمن ہے ابوہریرہ کنیت ہے اور ابتدائے حال میں یہ تنگدست تھے یہاں تک کہ فاقوں اور بھوک کی تکلیف بھی اٹھائی۔ ان کے اسلام لانے کا قصہ طویل ہے۔ ابتداء میں باوجود ضرورت کے بوجہ تنگدستی کے نکاح بھی نہ کر سکے۔
پھر بعد وفات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کی دنیاوی حالت درست ہو گئی اور مال میں ترقی ہوئی اور مدینہ منورہ کے حاکم مقرر کیے گئے۔ حاکم ہونے کی حالت میں لکڑیوں کا گٹھہ لے کر بازار میں گزرتے تھے اور فرماتے تھے کہ راستہ کشادہ کر دو حاکم کے لیے یعنی میرے نکلنے کے لیے راستہ چھوڑ دو۔ دیکھو باوجود اتنے بڑے عہدے دار ہونے کے اپنا کام اور وہ بھی اس طرح کہ معمولی عزت دار آدمی اس طرح کام کرنے سے اپنی ذلت سمجھتا ہے۔ خود کرتے تھے اور ذرا بڑائی کا خیال نہ تھا کہ میں  کلکٹر ہوں کسی ماتحت یا نوکر سے یہ کام لے لوں۔ یہ طریقہ ہے ان حضرات کا جنہوں نے سالار انبیاء احمد مجتبیٰ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم پائی تھی اور آپ کی صحبت اٹھائی تھی۔ ہر شخص اپنے کو ذرا سا رتبہ حاصل ہونے پر بہت بڑا سمجھنے لگتا ہے اور پھر دعوی محبت رسول مقبول کرتا ہے۔ مگر حقیقت میں محبت رسول اسی کو ہے جو آپ کے احکام کی تعمیل کرتا ہے اور آپ کی سنت کی ہر کام میں تابعداری کرتا ہے خوب کہا ہے
وکل یدعی وصلا بلیلی
ولیلی لا تقرلہم بذاک
یعنی ہر شخص دعوی کرتا ہے کہ مجھے لیلے کا وصال ہو گیا۔ اور لیلی اس بات کا ان لوگوں کے لیے اقرار نہیں کرتی۔ سو ان لوگوں کا دعوی کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اللہ و رسول کی محبت کا مدعی ہو۔ اور حدیث و قرآن کے خلاف عمل کرے۔ اور اللہ و رسول اس کے دعوی کی تکذیب کریں تو اس کا دعوی کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ حدیث میں صاف مذکور ہے کہ طریق حق وہ ہے جس پر میں یعنی رسول اللہ اور میرے صحابہ ہیں۔ اس حدیث سے خوب واضح ہے کہ جو طریقہ خلاف طریق رسول ہو وہ گمراہی ہے اور اس پر عمل کرنے والے سے رسول اللہ سخت ناخوش ہیں اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے پرورش پائی اس حال میں کہ میں یتیم تھا۔ اور میں نے ہجرت کی مدینہ کو اس حال میں کہ میں مسکین تھا اور میں غزوان کی بیٹی کا نوکر تھا۔ کھانے کی عوض اور اس شرط پر کہ کبھی سفر میں پیدل چلوں اور کبھی سوار ہو لوں۔ میں ان کے اونٹ ہانکتا تھا شعر پڑھ کر عرب میں اشعار پڑھ کر اونٹوں کو چلاتے ہیں جس سے اونٹ بسہولت چلے جاتے ہیں اور میں لکڑیاں لاتا تھا ان کے یعنی اپنے مالک کے گھر والوں کے لیے جب وہ اترتے تھے یعنی کہیں پڑاؤ ڈالتے تھے پس شکر ہے اس اللہ کا جس نے دین کو مضبوط کیا۔ اور ابوہریرہ کو امام اور پیشوا بنایا۔ یعنی دین اسلام قبول کر کے یہ دولت حاصل ہوئی کہ امامت دین میسر ہوئی اور یہ خدا کی نعمت کا شکر ادا فرمایا۔ بطور تکبر اور فخر کے اپنے کو پیشوا نہیں کہا۔ اور خدا کی نعمت کا اظہار کرنے اور اس کا شکریہ ادا کرنے کو جتنا درجہ انسان کو حاصل ہوا س کا ظاہر کرنا ثواب ہے اور با اعتبار فخر و تکبر منع اور حرام ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم ان غنیمتوں کے مال میں سے ہم سے کیوں نہیں مانگتے۔
پس میں نے عرض کیا میں آپ سے یہ مانگتا ہوں کہ آپ مجھے علم سکھلائیں اس علم میں سے جو اللہ تعالی نے آپ کو سکھلایا ہے۔ سو اتار لیا آپ نے اس کملی کو جو میری پشت پر تھی یعنی میں اس کو اوڑھے ہوئے تھا پھر اسے بچھایا میرے اور اپنے درمیان یہاں تک کہ گویا کہ تحقیق میں دیکھتا ہوں جوؤں کی طرف جو چلتی تھیں اس پر پھر آپ نے مجھ سے کچھ کلمات فرمائے تبرکاً یہاں تک کہ جب آپ وہ کلمات پورے فرما چکے تو فرمایا کہ اس کو اکٹھا کر لے سمیٹ لے پھر اس کو اپنے سینے سے لگا لے۔ ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ میں ایسا ہو گیا کہ میں ایک حرف نہیں ساقط کرتا ہوں اس علم سے جو مجھ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا یعنی حافظہ بہت عمدہ ہو گیا اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ تعالی سے توبہ استغفار بارہ ہزار بار روز کرتا ہوں یعنی استغفراللہ واتوب الیہ یا اس کی مثل کچھ اور الفاظ بارہ ہزار بار روز پڑھتے تھے۔ اور ان کے پاس ایک ڈورا تھا جس میں دو ہزار گرہ لگی تھیں سوتے نہیں تھے جب تک کہ اس قدر یعنی دوہزار بار سبحان اللہ نہ پڑھ لیتے۔ یعنی سونے سے پہلے اس قدر سبحان اللہ پڑھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جو بڑے درجہ کے صحابی اور عالم ہیں اور سنت کی تابعداری کا اس قدر شوق تھا کہ آپ نے طریقہ سنت کا اس قدر تلاش کیا کہ لوگوں کو یہ اندیشہ تھا کہ اس محنت میں شاید ان کی عقل جاتی رہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ نعم الرجل عبداللہ لوکان یصلی من اللیل یعنی اچھا مرد ہے عبداللہ ابن عمر کاش کہ نماز پڑھتا تہجد کی۔ جب سے آپ نے تہجد کی نماز کبھی نہیں چھوڑی اور رات کو کم سوتے تھے سو وہ فرماتے ہیں کہ اے ابوہریرہ تم بے شک زیادہ رہنے والے تھے ہم لوگوں یعنی صحابہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور زیادہ جاننے والے تھے ہم لوگوں میں آپ کی حدیث کے۔
حضرت طفاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں چھ ماہ تک ابوہریرہ کا مہمان رہا سو نہ دیکھا میں نے کسی مرد کو صحابہ میں سے کہ بہت مستعد ہو اور بہت خدمت کرے مہمان کی ابوہریرہ سے زیادہ۔ اور حضرت ابو عثمان نہدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں سات روز تک حضرت ابوہریرہ کا مہمان رہا۔ سو ابوہریرہ اور آپ کی بیوی اور آپ کا خادم یکے بعد دیگرے رات کے تین حصوں میں نوبت بنوبت جاگتے تھے یعنی ایک شخص نماز پڑھتا تھا پھر دوسرے کو جگاتا تھا اور خود آرام کرتا تھا پس وہ نماز پڑھتا تھا دوسرا آرام کرتا تھا اور تیسرے کو جگاتا تھا اور وہ نماز پڑھتا تھا یہ قصے تذکرۃ الحفاظ بخاری وغیرہ سے لکھے گئے ہیں سو ان سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر تم میں کسی کی یہ ستون ملک ہوتا تو وہ شخص اس بات کو برا جانتا کہ وہ ستون خراب کر دیا جائے سو کیونکر تم میں سے کوئی ایسا کام کرتا ہے کہ اپنی نماز خراب کرتا ہے ایسی نماز کہ وہ اللہ کے لیے ہے پس تم پورے طور پر باقاعدہ اپنی نماز ادا کرو اس لیے کہ بے شک اللہ نہیں قبول کرتا مگر کامل کو یعنی ناقص نماز اور تمام ناقص عبادتیں مقبول نہیں ہوتیں رواہ الطبرانی فی الاوسط حضرت عبداللہ بن عمرو سے جو صحابی ہیں روایت ہے کہ تحقیق ایک مرد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پوچھا افضل اعمال سے یعنی افضل عمل دین میں کون سا ہے بعد ایمان کے سو فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فرض
اس نے عرض کیا پھر اس کے بعد کونسا عمل افضل ہے فرمایا کہ نماز۔ اس نے عرض کیا پھر کون سا عمل افضل ہے فرمایا نماز یہ ارشاد تین بار فرمایا نماز کی فضیلت اس قدر تاکید سے نماز کے عظیم الشان ہونے کی وجہ سے آپ نے بیان فرمائی تاکہ لوگ اس کا خوب اہتمام کریں اور ضائع نہ ہونے دیں پھر جب غلبہ کیا اس نے آپ پر یعنی بار بار پوچھا کہ اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے۔ اور یہ سوال بظاہر چوتھی بار ہو گا تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد اللہ کے راستہ میں یعنی نماز کے بعد کافروں سے لڑنا اس لیے کہ خدا کا دین غالب ہو نہ اس لیے کہ مجھے کچھ نفع مال تعریف وغیرہ حاصل ہو اگرچہ مال وغیرہ مل جائے لیکن نیت یہ نہ ہونی چاہیے۔ سو یہ سب اعمال سے بعد فرض نماز کے افضل ہے اس مرد نے عرض کیا پھر یہ گذارش ہے کہ میرے والدین زندہ ہیں ان کے بارے میں کیا ارشاد ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں تجھے والدین سے بھلائی کرنے کا حکم کرتا ہوں یعنی ان سے نیکی کر اور ان کو تکلیف نہ پہنچا کہ ان کو تکلیف دینا حرام ہے اس قدر حق والدین کا فرض اور ضروری ہے کہ جس کام میں ان کو تکلیف ہو وہ نہ کرے۔ بشرطیکہ وہ کوئی ایسا کام نہ ہو جس کا درجہ والدین کے حق ادا کرنے سے بڑا ہو اور اس میں حق تعالی کی نافرمانی نہ ہو اور تکلیف سے مراد وہ تکلیف ہے جس کو شریعت نے تکلیف شمار کیا ہے۔ اور اس سے زیادہ حق ادا کرنا مستحب ہے ضرور نہیں خوب سمجھ لو۔ اس مسئلہ میں عام لوگ بڑی غلطی کرتے ہیں۔
اور اس کو مفصل طور پر رسالہ ازالۃ الرین عن حقوق الوالدین میں بیان کیا ہے اس مرد نے عرض کیا کہ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے میں البتہ ضرور جہاد کروں گا اور بے شک ضرور ان دونوں والد اور والدہ کو چھوڑ جاؤں گا فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خوب جاننے والا ہے یعنی والدین کے ساتھ نیکی کرنے اور جہاد کرنے میں سے جس طرف تیری طبیعت راغب ہو اس کو کر۔ اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جہاد کا درجہ والدین کے ساتھ نیکی کرنے سے بڑھ کر ہے۔ اور بعضی حدیثوں میں بعد نماز فرض کے حقوق والدین کے ادا کرنے کا بڑا درجہ وارد ہوا ہے۔ اس کے بعد جہاد کا مرتبہ۔ سو جواب یہ ہے کہ یہاں جہاد سے حقوق والدین کے افضل ہونے کے یہ معنی ہیں کہ حقوق والدین چونکہ بندوں کے حق ہیں جو بغیر معافی بندوں کے معاف نہیں ہو سکتے۔ اس اعتبار سے ان کا مرتبہ جہاد سے بڑھ کر ہے کہ اگر کوئی فرض جہاد ادا نہ کرے اور اس کا وقت نکل جائے تو توبہ کر لینے سے یہ گناہ معاف ہو جائے گا مگر حقوق العباد فقط توبہ سے معاف نہیں ہوتے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ جناب رسول مقبول کی خدمت میں مختلف قسم کے سائل حاضر ہوتے تھے اور آپ ہر شخص کو اس کی حالت کے موافق جواب دیتے تھے رواہ احمد و فیہ ابن لہیعۃ زنۃ فعیلۃ وہو ضعیف وقد حسن لہ الترمذی و بقیۃ رجالہ رجال الصحیح کذا فی مجمع الزوائد حضرت ابو ایوب انصاری  یہ صحابی ہیں مدینہ میں اول ان ہی کے مکان میں حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول فرمایا تھا جب مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تھے سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلعم فرماتے تھے کہ بے شک ہر نماز نمازی کے ان گناہوں کو جو اس نماز کے آگے ہیں ( رواہ احمد باسناد حسن) مطلب یہ ہے کہ ہر نماز پڑھنے سے وہ گناہ صغیرہ معاف ہو جاتے ہیں جو اس نماز سے دوسری نماز پڑھنے تک کرے۔
حضرت ابوامامہ باہلی صحابی سے روایت ہے کہ میں نے سنا ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے ایک فرض نماز دوسری نماز کے ساتھ مل کر مٹا دیتی ہے ان گناہوں کو جو اس نماز سے پہلے ہوئے یعنی اس نماز سے پہلے جو گناہ صغیرہ ہوئے وہ معاف ہو گئے۔ اسی طرح اور دوسری نماز تک جو گناہ صغیرہ ہوئے وہ اس سے معاف ہو گئے اور نماز جمعہ مٹا دیتی ہے ان گناہوں کو جو اس جمعہ سے پہلے ہوئے یہاں تک کہ دوسرا جمعہ پڑھے۔ اور بعضی حدیثوں میں اس سے آگے تین دن آگے تک گناہ معاف ہو جانا وارد ہے یعنی جمعہ کی نماز سے تین دن آگے کے گناہ صغیرہ معاف کیے جاتے ہیں اور روزہ ماہ رمضان کا مٹا دیتا ہے ان گناہوں کو جو اس رمضان سے پہلے ہوئے۔ یہاں تک کہ دوسرے رمضان کے روزے رکھے اور حج مٹا دیتا ہے ان گناہوں کو جو اس سے پہلے ہوئے یہاں تک کہ دوسرا حج کرے۔ پھر کہا راوی نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں جائز ہے کسی مسلمان عورت کو حج کرنا مگر ہمراہ خاوند کے یا ذی محرم کے (رواہ الطبرانی فی الکبیر وفیہ المفضل بن صدقۃ وہو متروک الحدیث) اگر کوئی کہے جس شخص سے گناہ صغیرہ نہ ہوں تو اس کو کیا فضیلت حاصل ہو گی۔ دوسرے یہ کہ نمازوں کے ادھر ادھر کے سب گناہ معاف ہوئے تو جمعہ وغیرہ سے کون سے گناہ معاف ہوں گے اب تو کوئی گناہ ہی نہ رہا جو صغیرہ ہو۔ جواب یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں درجے بلند ہوں گے۔
حضرت ابوامامۃ سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال پانچوں نمازوں کی ایسی ہے جیسے میٹھے غیر کھاری پانی کی نہر جو جاری ہو تم میں سے کسی کے دروازے پر اور وہ نہائے اس میں روز مرہ پانچ بار سو کیا باقی رہے گا اس پر کچھ میل (رواہ الطبرانی فی الکبیر وفیہ عفیر بن معد ان وہو ضعیف جدا کذا فی مجمع الزوائد )حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شک اول وہ چیز کہ اس کا بندہ سے حساب لیا جائے گا روز قیامت وہ اس کی نماز ہے۔ پس اگر درست ہو گی حساب میں درست ہوں گے اس کے باقی اعمال اس لیے کہ نمازی کے نماز کے سوا باقی اعمال بھی نماز کی برکت سے درست ہو جاتے ہیں اور اگر خراب ہو گی تو خراب ہوں گے اس کے باقی اعمال پھر فرمائے گا حق تعالی دیکھو اے فرشتوں کیا میرے بندہ کی کچھ نفل نمازیں بھی نامہ اعمال میں ہیں۔ سو اگر ہوں گی اس کی کچھ نفل نمازیں تو ان نفلوں سے فرض نماز کی خرابی کو پور اکیا جائے گا۔ پھر باقی فرائض بھی اسی طرح حساب لیے جائیں گے اور نوافل سے کمی پوری کی جائے گی جیسے فرض روزہ نفل روزہ فرض صدقہ نفل صدقہ وغیرہ بسبب مہربانی اور رحمت اللہ کے یعنی یہ خدا کی رحمت ہے کہ فرض کو نفل سے پورا کیا جائے گا۔ ورنہ قاعدہ تو یہی چاہتا ہے کہ فرض نفل سے پورا نہ ہو۔ اور جب پورا نہ ہو تو عذاب دیا جائے۔ مگر سبحان اللہ کیا رحمت خداوندی ہے۔ اور جس کے فرائض درست نہ ہوں گے اور نوافل بھی نہ ہوں گے تو اسے عذاب دیا جائے گا۔ ہاں اگر خدائے تعالی رحم کر دے تو یہ دوسری بات ہے۔
(رواہ ابن عساکر بسند حسن کذا فی کنزالعمال آج )حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نماز افضل ان عبادتوں کی ہے جن کو اللہ نے بندوں پر مقرر فرمایا ہے۔ سو جو طاقت رکھے بڑھانے کی سو چاہیے کہ بڑھا دے یعنی کثرت سے پڑھے تاکہ ثواب کثرت سے ملے۔ حضرت عبادۃ بن الصامت سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس جبرئیل اللہ تبارک و تعالی کے پاس سے آئے پس کہا اے محمد تحقیق اللہ عزوجل فرماتا ہے بے شک میں نے تیری امت پر پانچ نمازیں فرض کر دیں جس شخص نے ان کو پورا ادا کیا ان کے وضو کے ساتھ اور ان کے وقتوں کے ساتھ اور ان کے رکوع کے ساتھ اور ان کے سجدہ کے ساتھ ہو گیا اس کے لیے ذمہ بسبب ان نمازوں کے اس بات کا کہ میں اس کو داخل کروں بسبب ان نمازوں کے جنت میں اور جو ملا مجھ سے اس حال میں کہ بے شک کمی کی ہے اس نے اس میں سے کچھ سو نہیں ہے اس کے لیے میرے پاس ذمہ اگر چاہوں اسے عذاب دوں اور اگر چاہوں اس پر رحم کروں۔ کنزالعمال حدیث میں ہے کہ جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا۔ پھر نماز پڑھی دو رکعت اس طرح کہ نہ بھولے اور سہو نہ ہو۔ ان دونوں میں بخش دے گا اللہ اس کے گذشتہ گناہ ( رواہ احمد و ابو داود  و الحاکم عن زید بن خالد الجہنی کذا فی الکنز) دو رکعت نماز پڑھنی اس اہتمام سے کہ اس میں سہو نہ ہو ممکن ہے اور سہولت سے ادا ہو سکتی ہے۔ غرض یہ ہے کہ غفلت سے نہ ہو۔ اکثر سہو غفلت سے ہی ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے مرد و عورت کی نماز نور پیدا کرتی ہے سو جو چاہے تم میں سے روشن کرے اپنے دل کو حدیث میں ہے کہ بے شک اللہ تعالی نے نہیں فرض کی کوئی چیز زیادہ بزرگ توحید یعنی خدا کو اس کی ذات و صفات و افعال میں یکتا ماننا اور نماز سے اور اگر اس مذکور سے افضل کوئی چیز ہوتی۔
البتہ فرض کرتا اس کو اپنے فرشتوں پر کوئی ان فرشتوں میں سے رکوع کر رہا ہے اور کوئی ان میں سے سجدہ کر رہا ہے۔ یعنی فرشتے چونکہ پاکیزہ اور اللہ کے مقرب بندے ہیں اور ان میں عبادت ہی کا مادہ رکھا گیا ہے جس سے ان کو عبادت سے بہت بڑا تعلق ہے سو اگر کوئی عبادت نماز سے افضل ہوتی تو ان پر فرض کی جاتی اور یہ بھی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجموعی ہیئت سے نماز جس طرح ہم پر فرض ہے اس طرح ملائکہ پر نہیں بلکہ اس نماز کے بعض اجزاء بعض ملائکہ پر فرض ہیں۔ سو ہماری کیسی خوش نصیبی ہے کہ وہ اجزاء نفیسہ عبادت کے جو ملائکہ کو تقسیم کیے گئے مجموعی ہیئت سے ہم کو عطا ہوئے سو اس نعمت کی بڑی قدر کرنی چاہیے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اپنی نماز میں موت کو یاد کر اس لیے کہ بے شک مرد یا عورت جب موت کو یاد کرے گا اپنی نماز میں البتہ لائق ہے وہ اس بات کے کہ اچھی نماز ادا کرے اور نماز پڑھ اس مرد کی جیسی نماز جو نہیں گمان کرتا ہے نماز پڑھنے کا سو اس نماز کے جسے ادا کر رہا ہے اور بچا تو اپنی ذات کو ایسے کام سے معذرت کی جاتی ہے یعنی ایسا کام نہ کر جس سے ندامت ہو اور معذرت کرنی پڑے( رواہ الدیلمی عن انس مرفوعا وحسنہ الحافظ ابن حجر ) حدیث میں ہے کہ افضل نماز وہ ہے کہ جس میں قیام طویل ہو یعنی قیام زیادہ ہو اور قرآن زیادہ پڑھا جائے( رواہ الطحاوی و سعید بن منصور ) حدیث میں ہے کہ اس کی نماز کامل نہیں ہوتی جو اپنی نماز میں عاجزی نہیں کرتا۔ تخشع کا لفظ جو حدیث میں ہے جس کا ترجمہ عاجزی سے کیا گیا۔ اصل یہ ہے کہ اس کے معنی سکون کے ہیں مگر چونکہ سکون کے ساتھ نماز پڑھنا بغیر عاجزی کے میسر نہیں ہو سکتا اس لیے عاجزی سے ترجمہ کیا گیا۔
کیونکہ یہ زیادہ مشہور ہے اور سکون بغیر عاجزی اس لیے میسر نہیں ہو سکتا کہ جب آدمی بے دھڑک اور بیباکی سے اٹھے بیٹھے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ ادھر ادھر نہ دیکھے بلا ضرورت ہلے جلے نہیں بلکہ زیادہ رہے گا اور جب عاجزی ہو گی تو ادب کے ساتھ بغیر ادھر ادھر دیکھے اچھی طرح نماز ادا کرے گا۔ حضرت علی سے بسند صحیح روایت ہے کہ آخر کلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ اہتمام رکھو نماز کا اور خدا س ڈرو لونڈی غلاموں کے بارے میں (کنزل العمال) یہ دونوں باتیں اس قدر اہتمام کے لائق تھیں کہ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے روانگی کے وقت بھی اس کا اہتمام فرمایا اس لیے کہ نماز میں لوگ کوتاہی زیادہ کرتے ہیں۔ نیز لونڈی غلاموں نوکر بیوی بچوں کے تکلفاً دینے اور ان کو حقیر سمجھنے کو بھی معمولی بات خیال کرتے ہیں۔ پس مسلمانوں کو اس طرح بڑا اہتمام کرنا چاہیے اللہ پاک کے بعضے نیک اور بزرگ بندوں کو تو نماز سے اس قدر شوق تھا کہ حضرت منصور بن زاذان تابعی رضی اللہ تعالی عنہ کے حال میں لکھا ہے کہ آیت نکلنے سے عصر تک برابر نماز پڑھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ فرض تو اس درمیان میں فقط دو نمازیں تھیں۔ ظہر اور عصر باقی نفل پڑھتے تھے۔ پر بعد عصر مغرب تک سبحان اللہ پڑھتے رہتے تھے۔ پھر مغرب پڑھتے تھے اور ان کی یہ حالت تھی کہ اگر ان سے کہا جاتا کہ ملک الموت دروازے پر ہیں تو اپنے عمل میں کچھ زیادتی نہ فرما سکتے تھے یعنی اپنے دینی کاموں کو موت کے قریب ہونے سے بڑھا نہیں سکتے تھے اس لیے کہ بڑھا وہ سکتا ہے جو موت سے غافل ہو اور تمام وقت یاد الٰہی میں صرف نہ کرتا ہو۔ تو جب وہ موت کا نزدیک آنا سنے گا عمل میں ترقی کرے گا۔ اور جس کا کوئی وقت ہی خالی نہیں اور ہر وقت یاد حق میں مصروف ہے اور موت کو ہر وقت پاس ہی سمجھتا ہے سو وہ کس طرح ترقی کرے اور یہ عالم بھی بڑے تھے اور بڑے بڑے علماء نے ان سے حدیث حاصل کی ہے۔
اور حضرت مخصور بن المعتمر یہ بھی تابعی اور بڑے عالم اور پارسا ہیں۔ ان کے حال میں لکھا ہے کہ چالیس سال تک ان کا یہ حال رہا ہے کہ یہ دن کو روزہ رکھتے اور رات کو جاگتے تھے یعنی عبادت کرتے تھے اور تمام رات گناہوں کے عذاب کے خوف سے روتے تھے۔ اگر ان کو کوئی نماز پڑھتے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ ابھی مر جائیں گے یعنی اس قدر آہ و زاری و اہتمام سے نماز ادا کرتے تھے اور جب صبح ہوتی تو دونوں آنکھوں میں سرمہ لگاتے اور دونوں ہونٹوں کو آبدار یعنی تر کر لیتے اور سر میں تیل ڈالتے پس ان کی ماں ان سے فرماتیں کہ کیا تم نے کسی کو مار ڈالا ہے جو ایسی صورت بناتے ہو کہ رات کو عبادت کرنے اور رونے سے جو صورت ہو گئی اس کو بدلتے ہو سو عرض کرتے میں خوب جانتا ہوں اس چیز کو جو میرے نفس نے کیا ہے یعنی نفس کو خواہش ہے یا اس کا احتمال ہے کہ یہ خواہش کرے کہ میری شہرت ہو۔ لوگوں میں عبادت کا چرچا ہو بزرگ سمجھیں اور صورت سے عبادت کرنا ثابت ہو جائے یا یہ مطلب کہ میرے نفس نے کچھ عبادت اچھی نہیں کی سو وہ کس شمار میں ہے اور میری صورت سے عبادت گزاری معلوم ہوتی ہے سو لوگ دیکھ کر دھوکہ میں پڑیں گے اور مجھے بزرگ سمجھیں گے۔ حالانکہ میں ایسا نہیں اس لیے صورت بدلتا ہوں اور یہ روتے روتے اندھے ہو گئے تھے۔ امیر عراق نے ان کو بلایا کہ ان کو کوفہ ایک شہر کا نام ہے ملک شام میں اس کا قاضی بنا دے انہوں نے انکار کیا تو ان کے بیڑیاں ڈالی گئیں پھر چھوڑ دیا گیا۔ اور بعضوں نے کہا ہے کہ دو مہینے مجبوری کو قاضی رہے یہ دونوں قصے تذکرۃ الحفاظ جلد اول میں ہیں صاحبو ذرا غور کرو کہ ان بزرگ کو خدا کی عبادت سے کیسی کچھ رغبت تھی اور دنیا سے کیسی نفرت تھی کہ حکومت کا عہدہ ان کو بغیر طلب اور بغیر کوشش کیے ملتا تھا جس میں بہت بڑی عزت اور آمدنی تھی اور جس کے لیے لوگ بڑی بڑی کوشش کرتے ہیں۔ مگر انہوں نے پرواہ نہ کی اور بیڑیاں ڈلوانی گوارہ کیں۔
مسلمان کو ایسا ہی ہونا چاہیے کہ بقدر ضرورت کھانے پہننے کا بندوبست کرے باقی وقت یاد الٰہی میں صرف کرے۔ حدیث میں ہے کہ جس نے بارہ رکعت نماز دن رات میں ایسی پڑھی جو فرض نہیں ہے یہاں سنت موکدہ مراد ہیں دو فجر کی چھ ظہر کی یعنی چار قبل ظہر اور دو بعد ظہر اور دو بعد مغرب اور دو بعد عشاء تو اللہ تعالی اس کے لیے ایک مکان جنت میں تیار کریں گے (رواہ فی الجامع الصغیر بسند صحیح) حدیث میں ہے جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان چھ رکعت پڑھیں اس طرح کہ ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی تو وہ بارہ برس کی نفل عبادت کی برابر ثواب میں کی جائیں گی۔ (رواہ فی الجامع الصغیر بسند ضعیف) یعنی ان چھ رکعات پڑھنے کا ثواب بارہ سال کی نفل عبادت کے برابر ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ جس نے دو رکعت نماز پڑھی تنہا جگہ میں جہاں نمازی کو اللہ کے سوا اور ان فرشتوں کے جو ہر وقت ساتھ رہتے ہیں اور پیشاب و پاخانہ و جماع کے وقت جدا ہو جاتے ہیں ان کے سوا کوئی اس نمازی کو نہیں دیکھتا لکھی جائے گی اس کے لیے نجات دوزخ سے۔ (رواہ الامام السیوطی بسند ضعیف) یعنی گناہ سے بچنے کی توفیق ہو جائے گی جس سے جہنم میں نہ جائے گا مگر پڑھتا رہے جب یہ برکت حاصل ہو گی۔ حدیث میں ہے جس نے چار رکعت چاشت اور چار رکعت سوائے سنت موکدہ کے قبل ظہر پڑھیں اس کے لیے جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا۔ ( رواہ الطبرانی باسناد حسن) حدیث میں ہے جو مغرب اور عشاء کے درمیان میں بیس رکعت نفل پڑھے تو اللہ تعالی اس کے لیے ایک مکان جنت میں بنائیں گے۔ ( رواہ الامام السیوطی باسناد ضعیف) حدیث میں ہے من صلی قبل العصر اربعا حرمہ اللہ علی النار یعنی جس نے نماز نفل پڑھی عصر سے پہلے چار رکعت حرام کر دے گا اس کو اللہ تعالی دوزخ پر (رواہ الطبرانی عن ابن عمرو مرفوعا باسناد حسن) مطلب یہ ہے کہ اس نماز کو ہمیشہ پڑھنے سے نیکی کرنے اور بدی سے بچنے کی توفیق ہو گی جس کی برکت سے جہنم سے نجات ملے گی۔
مگر یہ ضرور ہے کہ عبادت اس قدر کرے جس کا نباہ ہمیشہ ہو سکے اگرچہ تھوڑی ہی ہو۔ یوں کبھی کسی مجبوری سے ناغہ ہو جائے وہ دوسری بات ہے۔ سو جب نوافل پڑھنا شروع کرے تو ہمیشہ اس کو نباہنا ضروری ہے۔ شروع کر کے چھوڑ دینا بہت بری بات ہے۔ اور شروع نہ کرنے سے یہ فعل زیادہ برا ہے۔ حدیث میں ہے رحم اللہ امرا صلے قبل العصر اربعا یعنی رحم کرے اللہ اس مرد عورت پر جس نے نماز پڑھی قبل عصر کے چار رکعت (رواہ الامام السیوطی باسناد صحیح) اے مسلمان بھائیو اور اے دینی بہنو اس حدیث کے مضمون پر فدا ہو جاؤ۔ دیکھو تھوڑی سی محنت میں کس قدر درجہ ملتا ہے کہ حضور سرور عالم کی دعا کی برکت اور گناہوں سے بچنے کی توفیق۔ اس کی جو کچھ بھی قدر کی جائے اور جس قدر بھی ایسی عبادت مقرر کرنے پر حق تعالی کا شکریہ ادا کیا جائے وہ کم ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا کسی خوش نصیب ہی کو میسر ہوتی ہے۔ دونوں وقت یعنی صبح و شام ہمارے نامہ اعمال حضرت رسول مکرم نبی معظم احمد مجتبے محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں جو شخص نیکی کرتا ہے اور آپ کی رغبت دلائی ہوئی عبادت بجا لاتا ہے اس سے آپ بہت خوش ہوتے ہیں اور آپ کی خوشنودی اور رضا مندی سے دونوں جہان میں رحمت اور چین میسر ہوتا ہے خوب کہا ہے
فان من جودک الدنیا وضرتہا
ومن علومک علم اللوح والقلم
یعنی آپ کی سخاوت اور بخشش میں تو دنیا اور اس کے مقابل یعنی آخرت موجود ہے اور آپ کے علوم میں لوح محفوظ یعنی جس میں قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے وہ لکھا ہوا ہے اس کا علم موجود ہے۔ غرض یہ ہے کہ آپ کی توجہ اور سخاوت سے دین و دنیا کی نعمتیں میسر آ سکتی ہیں۔ اور آپ کی تعلیم سے لوح محفوظ کا علم میسر ہو سکتا ہے اور اس علم کے میسر ہونے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کی فرمائی ہوئی حدیثوں میں غیبی اسرار موجود ہیں اور اللہ کے خاص بندوں کو منکشف ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ علاوہ ان اسرار کے حق تعالی کی عنایت اور آپ کی احادیث پڑھنے کی برکت اور اس پر عمل کرنے کے سبب اور غیبی بھید بھی طالبان حق پر کھل جاتے ہیں۔ خوب سمجھ لو اور عمل کرو۔ فقط پڑھنے سے بغیر عمل کچھ زیادہ فائدہ نہیں۔ اصل فائدہ تو پڑھنے سے اس پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ رات کی نماز یعنی تہجد کی اپنے اوپر لازم کر لو۔ اگرچہ ایک ہی رکعت ہو ( رواہ الامام السیوطی بسند صحیح) مطلب یہ ہے کہ تہجد کی نماز اگرچہ تھوڑی ہی ہو مگر ضرور پڑھ لیا کرو اس لیے کہ اس کا ثواب بہت ہے گو فرض نہیں ہے اور یہ غرض نہیں کہ ایک رکعت پڑھ لو۔ اس لیے کہ ایک رکعت نماز کا پڑھنا درست نہیں کم ازکم دو رکعت پڑھے۔ حدیث میں ہے کہ رات کے قیام کو یعنی نماز تہجد کو اپنے ذمہ لازم کر لو اس لیے کہ وہ عادت ان نیکوں کی ہے جو تم سے پہلے تھے اور نزدیکی کرنے والی ہے اللہ تعالی کی طرف اور گناہ سے روکنے کا ذریعہ ہے اور مٹاتی ہے گناہوں (صغیرہ) کو ہٹانے والی ہے مرض کو جسم سے (رواہ السیوطی بسند صحیح) ذرا غور کرو کہ کس قدر نفع ہے اس نماز کے پڑھنے میں کہ ثواب بھی گناہوں کی معافی اور گناہوں سے روک دینا بھی اور جسمانی مرض کی شفا بھی۔ اور باطنی بیماریوں کی تو شفا ہے ہی۔
اس لیے کہ حدیث میں ہے خدا کا ذکر دلوں کی بیماری کے لیے شفا ہے اور نماز اعلی درجہ کا ذکر ہے اور کچھ دشوار بھی نہیں۔ تہجد کے وقت خاص طور پر دعا قبول ہوتی ہے ضرور پڑھنا چاہیے۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے چالیس سال تک عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی ہے۔ رات بھر خدا کی عبادت کرتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ پاک سے روایت فرماتے ہیں کہ حق تعالی فرماتے ہیں کہ اے ابن دم تو چار رکعت نفل پڑھ میرے لیے یعنی اخلاص سے اول دن میں تو میں تجھے تیرے کاموں میں کفایت کروں گا آخر تک ( رواہ الترمذی) وغیرہ یہ اشراق کی نماز کی فضیلت ہے اور اس کے پڑھنے کا طریقہ اصل کتاب بہشتی زیور میں تحریر ہو چکا ہے۔ دیکھو ثواب بھی ملتا ہے اور اللہ تعالی سب کاموں کو پورا بھی فرماتے ہیں۔ دین و دنیا کی نعمتیں میسر آتی ہیں۔ لوگ مصیبت میں ادھر ادھر مارے پھرتے ہیں۔ مخلوق کی خوشامد کرتے ہیں کاش کہ وہ حق تعالی کی طرف توجہ کریں اور اس کے بتلائے ہوئے وظیفے اور نمازیں پڑھیں تو دنیا کے کام بھی خوب درست ہو جائیں اور ثواب بھی میسر ہو اور مخلوق کی خوشامد کی ذلت سے بھی نجات ملے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ ہر قوم کا ایک پیشہ ہے جس سے وہ لوگ معاش حاصل کرتے ہیں اور ہمارے پیشہ تقوی اور توکل ہے۔ تقوی پرہیز گاری اور اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل کو کہتے ہیں۔ اور توکل کے معنے ہیں خدا پر بھروسہ کرنا اور اس کا مفصل بیان ساتویں حصہ کے ضمیمہ میں آئے گا انشاء اللہ تعالی۔ غرض یہ ہے کہ دینداری سے دنیا کی مشقتیں اور مصیبتیں جاتی رہتی ہیں۔
مسئلے
آدمی کے بال اگر اکھاڑے جائیں تو ان بالوں کا سر ناپاک ہوتا ہے بوجہ اس چکنائی کے جو اس میں لگی ہوتی ہے۔ (شامی) عیدین کی نماز جہاں واجب ہے وہاں کے سب مرد و عورت کو قبل نماز عیدین کے نماز فجر کے بعد کوئی نفل وغیرہ پڑھنا مکروہ ہے۔ (بحر(رالرائق)
حالت جنابت میں ناخن کاٹنا اور ناف کے نیچے کے یا اور کسی مقام کے بال دور کرنا مکروہ ہے (عالمگیری مصطفائی جلد ص)
نابالغ بچوں کو نماز وغیرہ ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے اور جو ان کی تعلیم کرے اسے تعلیم کا ثواب ملتا ہے۔
جن اوقات میں نماز پڑھنا مکروہ ہے ان وقتوں میں اگر قرآن مجید کی تلاوت کرے تو مکروہ نہیں ہے۔ یا بجائے تلاوت کے درود شریف پڑھے یا ذکر کرے۔ (صغیری مجتبائی ص)
اگر نماز میں پہلی رکعت میں کسی سورت کا کچھ حصہ پڑھے اور دوسری رکعت میں اس سورۃ کا باقی حصہ پڑھے تو بلا کراہت درست ہے۔ اور اسی طرح اگر اول رکعت میں کسی سورت کا درمیانی حصہ یا ابتدائی حصہ پڑھے پھر دوسری رکعت میں کسی دوسری سورۃ کا درمیانی یا ابتدائی حصہ یا کوئی پوری چھوٹی سورت پڑھے تو بلا کراہت درست ہے۔ ( صغیری ص) مگر اس عادت کا ڈالنا خلاف اولی ہے بہتر ہے کہ ہر رکعت میں مستقل سورت پڑھے۔
تراویح میں قرآن پڑھتے وقت کوئی آیت یا سورت غلطی سے چھوٹ جائے اور اس آیت یا سورت کے آگے پڑھنے لگے اور پھر یاد آئے کہ فلاں آیت یا سورت چھوٹ گئی تو مستحب یہ ہے کہ چھوٹی ہوئی آیت یا سورت کو پڑھے۔ پھر جس قدر قرآن شریف چھوٹ جانے کے بعد پڑھ لیا تھا اس کو دوبارہ پڑھے تاکہ قرآن مجید با ترتیب ختم ہو ( عالمگیری مصطفائی آج ص) اور چونکہ ایسا کرنا مستحب ہی ہے لہذا اگر کسی شخص نے بوجہ اس کے کہ بہت زیادہ پڑھنے کے بعد یاد آیا تھا کہ فلاں جگہ کچھ رہ گیا۔ اور اس وجہ سے وہاں سے یہاں تک کل کا پڑھنا گراں ہے۔ اس لیے فقط اسی رہے ہوئے کو پڑھ کر پھر آگے سے پڑھنا شروع کر دیا تب بھی کچھ مضائقہ نہیں۔
مرے وقت پیشانی پر پسینہ آنا اور آنکھوں سے پانی بہنا اور ناک کے نتھنوں کے پردہ کا کشادہ ہو جانا اچھی موت کی علامت ہے اور فقط پیشانی پر پسینہ آنا بھی اچھی موت کی نشانی ہے( تذکرۃ الموتی والقبور از جامع ترمذی ) وغیرہ
راستوں کی کیچڑ اور ناپاک پانی معاف ہے بشرطیکہ اس میں نجاست کا اثر معلوم نہ ہو۔ (مراقی الفلاح۔)
مستعمل پانی یعنی ایسا پانی کہ جس سے کسی بے وضو نے وضو کیا ہو یا جس سے کسی نہانے کی حاجت والے نے غسل کیا ہو یا جس سے کسی باوضو شخص نے ثواب کے لیے پھر وضو کیا ہو یا جس سے کوئی شخص بلا غسل واجب ہونے کے نہایا ہو ثواب کے لیے مثلاً جمعہ کے دن محض ثواب کے لیے نہایا ہو حالانکہ اسے نہانے کی حاجت نہ تھی سو ایسے پانی سے وضو غسل جائز نہیں۔ اور ایسے پانی کا پینا اور کھانے کی چیزوں میں استعمال کرنا مکروہ ہے(شامی) یہ جو بیان ہوا کہ نہانے کی حاجت والے نے غسل کیا ہو یہ جب ہے کہ نہانے والے کے بدن پر نجاست حقیقیہ نہ لگی ہو اور جو لگی ہو تو اس کا دھوون ناپاک ہے اور اس کا پینا اور کھانے کی چیزوں میں استعمال حرام ہے۔

مرنے کا شرعی دستور العمل

نزع کے وقت سورہ یسین پڑھو اور قریب موت داہنی کروٹ پر قبلہ رخ لٹاؤ کہ مسنون ہے جبکہ مریض کو تکلیف نہ ہو ورنہ اس کے حال پر چھوڑ دو۔ اور چت لٹانا بھی جائز ہے کہ پاؤں قبلہ کی طرف ہوں اور سر کسی قدر اونچا کر دیا جائے اور پاس بیٹھنے والے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کسی قدر بلند آواز سے پڑھتے رہیں۔ میت کو کلمہ پڑھنے کے لیے کہیں نہیں۔ کھں ہ وہ ضد میں منع کر دے۔ مرنے پر ایک چوڑی پٹی لے کر اور تھوڑی کے نیچے کو نکال کر سر پر لا کر گرہ دے دو اور آنکھیں بند کر دو۔ اور پیروں کے انگوٹھے ملا کر دھجی سے باندہ دو۔ اور ہاتھ داہنے بائیں رکھو۔ سینے پر نہ رہیں۔ اور لوگوں کو مرنے کی خبر کر دو۔ اور دفن میں بہت جلدی کرو۔ سب سے پہلے قبر کا بندوبست کرو اور کفن دفن کے لیے سامان ذیل کی فراہمی کر لو جس کو اپنے اپنے موقعہ پر صرف کرو۔ تفصیل اس کی یہ ہے۔ گھڑے دو عدد اگر گھر میں برتن موجود ہوں تو کورے کی حاجت نہیں لوٹا اگر موجود ہو تو حاجت نہیں تختہ غسل کا اکثر مساجد میں رہتا ہے۔ لوبان ایک تولہ۔ روئی آدھی چھٹانک۔ گل خیرو ایک چھٹانک کافور چھ ماشہ۔ تختہ یا لکڑی برائے پٹا و قبر۔ بقدر پیمائش قبر۔ بوریا ایک عدد بقدر قبر۔ کفن جس کی ترکیب مرد کے لیے یہ ہے کہ مردے کے قد کے برابر ایک لکڑی لو۔ اور اس میں ایک نشان کندھے کے مقابل لگا لو اور ایک تاگہ سینے کے مقابل رکھ کر جسم کی گولائی میں کو نکالو کہ دونوں سرے اس تاگے کے دونوں طرف کی پسلیوں پر پہنچ جائیں اور اس کو وہاں سے توڑ کر رکھ لو پھر ایک کپڑا لو جس کا عرض اسی تاگے کے برابر یا قریب برابر کے ہو۔ اگر عرض اس قدر نہ ہو تو اس میں جوڑ لگا کر پورا کر لو۔ اور اس لکڑی کے برابر ایک چادر پھاڑ لو۔ اس کو ازار کہتے ہیں۔
اسی طرح دوسری چادر پھاڑو جو عرض میں تو اسی قدر ہو البتہ طول میں ازار سے چار گرہ زیادہ ہو اس کو لفافہ کہتے ہیں پھر ایک کپڑا لو جس کا عرض بقدر چوڑائی جسم مردہ کے ہو اور لکڑی کے نشان سے اخیر تک جس قدر طول ہے اس کا دوگنا پھاڑ لو اور دونوں سرے کپڑے کے ملا کر اتنا چاک کھولو کہ سر کی طرف سے گلے میں جائے اس کو قمیص یا کفنی کہتے ہیں عورت کے لیے یہ کپڑے تو ہیں ہی اس کے علاوہ دو اور ہیں ایک سینہ بند دوسرے سربند جسے اوڑھنی کہتے ہیں۔ سینہ بند زیر بغل سے گھٹنے تک اور تاگے مذکور کے بقدر چوڑا۔ سربند نصف ازار سے تین گرہ زیادہ لمبا اور بارہ گرہ چوڑا۔ یہ تو کفن ہوا۔ اور کفن مسنون اسی قدر ہے اور بعض چیزیں ان کے متعلقات سے ہیں جن کی تفصیل ذیل میں ہے
تہبند بدن کی موٹائی سے تین گرہ زیادہ۔ بڑے آدمی کے لیے سوا گز طول کافی ہے اور عرض میں ناف سے پنڈلی تک چودہ گرہ عرض کافی ہے۔ یہ دو ہونے چاہئیں۔ دستانہ چھ گرہ طول اور تین گرہ عرض ہو بقدر پنجہ دست بنا لیں یہ بھی دو عدد ہوں۔ چادر عورت کے گہوارہ کی جو بڑی عورت کے لیے ساڈھے تین گز طول اور دو گز عرض کافی ہے۔
تنبیہ: کفن اور اس کے متعلقات کا بندوبست بھی گھڑوں وغیرہ کے ساتھ کر دیں
تنبیہ: اب مناسب ہے کہ بڑے شخص کے کفن کو یکجائی طور پر لکھ دیا جائے تاکہ اور آسانی ہو
کیفیت
اندازہ پیمایش
عرض
طول
نام پارچہ
نمبرشمار
چودہ یا پندرہ یا سولہ گرہ عرض کا کپڑا ہو تو ڈیڑھ پاٹ میں ہو گا سر سے پاؤں تک سوا گزر سے ڈیڑھ گز تک اڑھائی گز ازار
1
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ازار سے چار گرہ زیادہ
//
پونے تین گز
لفافہ
2
چودہ گرہ یا ایک گز کے عرض کی تیار ہوتی ہے دو برابر حصہ کر کے اور چاک طول کر گلے میں ڈالتے ہیں کندھے سے نصف ساق تک ایک گز اڑھائی گز تا پونے تین گز قمیص یا کفنی 3 بغل سے پنڈلیوں تک باندھا جاتا ہے زیر بغل سے سلق تک سوا گز دو گز سینہ بند 4
سر کے بال کے دو حصے کر کے اور اس میں لپیٹ کر دائیں یا بائیں جانب سینہ پر رکھے جاتے ہیں جہاں تک جائے بارہ گرہ ڈیڑھ گز سربند 5
تنبیہ : تخمیناً مرد کے کفن مسنون میں ایک گز عرض کا کپڑا دس گز صرف ہوتا ہے اور عورت کے لیے مع چادر گہوارہ ساڑھے اکیس گز اور تہبند اور دستانہ اس سے جدا ہیں۔ اور بچہ کا کفن اس کے مناسب حال مثل سابق لے لو۔ فقط

غسل اور کفنانے کا طریقہ

ایک گھڑے میں دو مٹھی بیری کے پتے ڈال کر پانی جوش دے لو اور اس کے دو گھڑے بنا لو۔ اور ایک گڑھا شمالاً جنوباً لمبا کھودو یہ ضروری نہیں کہ اگر کوئی ایسا موقع ہو کہ پانی کسی نالی وغیرہ کے ذریعہ سے بہہ جائے تو اس کے قریب تختہ رکھ لینا کافی ہے اور اس پر تختہ اسی رخ سے بچھا کر تین دفعہ لوبان کی دھونی دے لو اور مردے کو اس پر لٹاؤ اور کرتہ انگرکھا وغیرہ کو چاک کر کے نکال لو۔ اور تہبند ستر پر ڈال کر استعمالی پارچہ اندر ہی اندر اتار لو۔ اور پیٹ پر آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرو نجاست خارج ہو یا نہ ہو دونوں صورت میں مٹی کے تین یا پانچ ڈھیلوں سے استنجا کرو۔ پھر پانی سے استنجا کرو مگر ہاتھ میں دستانہ یعنی تھیلی پہن لو۔ بلا تھیلی کے ستر پر ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے۔ پھر روئی کا پھایہ تر کر کے ہونٹوں اور دانتوں پر پھیر کر پھینک دو اسی طرح تین مرتبہ کرو۔ اسی صورت سے تین مرتبہ ناک اور رخساروں پر پھیرو پھر منہ اور ناک اور کانوں میں روئی رکھ دو کہ پانی نہ جائے پھر سر اور داڑھی کو گل کیرو یا صابن سے دھو دو۔ پھر وضو کراؤ۔ اول میت کا منہ دھوؤ پھر کہنیوں تک دونوں ہاتھ پھر سر کا مسح پھر دونوں پاؤں دھو دو۔ پھر سارے بدن پر پانی بہاؤ پھر بائیں کروٹ پر لٹا کر پانی بہا دو۔ پھر داہنی کروٹ پر ایسا ہی کرو۔ پھر دوسرا دستانہ پہن کر بدن کو صاف کر دو اور تہبند دوسرا بدل دو۔
پھر چارپائی بچھا کر اس پر اول لفافہ اس پر ازار پھر اس پر نیچے کا حصہ کفنی کا بچھا کر باقی حصہ بالائی کو سمیٹ کر سرہانے کی طرف رکھ دو پھر مردے کے تختہ سے بہتگی اٹھا کر اس پر لٹاؤ اور کفنی کے حصہ کو سر کی طرف الٹ دو کہ گلے میں جائے اور پیروں کی طرف بڑھا دو اور تہبند نکال دو اور کافور سر اور ڈاڑھی اور سجدہ کے موقعوں پر پیشانی ناک دونوں ہتھیلی دونوں کہنی دونوں پنجے مل دو پھر ازار کا بایاں پلہ لوٹ کر اس پر دایاں پلہ لوٹ دو اور لفافہ کو بھی ایسے ہی کرو اور ایک کتر لے کر سرہانے اور پائنتی چادر کے گوشہ چن کر باندھ دو۔ سینہ بند سے عورت کی چھاتیاں لپیٹ دو۔ سربند کا ذکر نقشہ میں ہو گیا۔ عورت کے گہوارے پر چادر ڈالی جاتی ہے جس کا ذکر اوپر ہو لیا۔
تنبیہ بعض کپڑے لوگوں نے کفن کے ساتھ ضرور سمجھ رکھا ہے حالانکہ وہ کفن مسنون سے خارج ہے۔ ترکہ میت سے ان کا خریدنا جائز نہیں وہ یہ ہیں جائے نماز طول سوا گز عرض چودہ گرہ پٹکا طول ڈیڑھ گز عرض چودہ گرہ یہ مردہ کو قبر میں اتارنے کے لیے ہوتا ہے۔ بچھونا طول اڑھائی گز عرض سوا گز یہ چار پائی پر بچھانے کے لیے ہوتا ہے۔ دامنی طول دو گز عرض سوا گز بقدر استطاعت چار سے سات تک محتاجیں کو دیتے ہیں جو محض عورت کے لیے مخصوص ہیں۔ چادر کلاں مرد کے جنازے پر طول تین گز عرض پونے دو گز جو چارپائی کو ڈھانک لیتی ہے البتہ عورت کے لیے ضروری ہے مگر ہے کفن سے خارج اس لیے اس کا ہمرنگ کفن ہونا ضروری نہیں۔ پردہ کے لیے کوئی سا کپڑا ہو کافی ہے۔
تنبیہ اگر جائے نماز وغیرہ کی ضرورت کبھی خیال میں آئے تو گھر کے کپڑے کار آمد ہو سکتے ہیں۔ ترکہ میت سے ضرورت نہیں یا کوئی عزیز اپنے مال سے خرید دے۔
مسئلہ۔ سامان غسل و کفن میں سے اگر کوئی چیز گھر موجود ہو اور پاک صاف ہو تو اس کے استعمال میں حرج نہیں
مسئلہ۔ کپڑا کفن کا اسی حیثیت کا ہونا چاہیے جیسا مردہ اکثر زندگی میں استعمال کرتا تھا تکلفات فضول ہیں۔
مسئلہ جو بچہ علامت زندگی کی ظاہر ہو کر مر گیا تو اس کا نام اور غسل اور نماز سب ہو گی اور اگر کوئی علامت نہ پائی گئی تو غسل دے کر اور ایک کپڑا میں لپیٹ کر بدون نماز دفن کر دیں گے۔
قبر میں مردے کو قبلہ رخ اس طرح کہ تمام جسم کو کروٹ دی جائے لٹائیں اور کفن کی گرہ کھول دیں اور سلف صالحین کے موافق ایصال ثواب کریں۔ وہ اس طرح کہ کسی رسم کی قید اور کسی دن کی تخصیص نہ کریں اپنی ہمت کے موافق حلال مال سے مساکین کی خفیہ مدد کریں اور جس قدر توفیق ہو بطور خود قرآن شریف وغیرہ پڑھ کر اس کو ثواب پہنچا دیں اور قبل دفن قبرستان میں جو فضول وقت خرافات باتوں میں گزارتے ہیں اس وقت کلمہ پڑھتے اور ثواب بخشتے رہا کریں۔ فقط تمت

روزے کا بیان

حدیث شریف میں روزہ کا بڑا ثواب آیا ہے اور اللہ تعالی کے نزدیک روزہ دار کا بڑا رتبہ ہے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جس نے رمضان کے روزے محض اللہ تعالی کے واسطے ثواب سمجھ کر رکھے تو اس کے سب اگلے گناہ صغیرہ بخش دیئے جائیں گے اور نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ روزہ دار کے منہ کی بدبو اللہ تعالی کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پیاری ہے قیامت کے دن روزہ کا بے حد ثواب ملے گا۔ روایت ہے کہ روزہ داروں کے واسطے قیامت کے دن عرش کے تلے دستر خوان چنا جائے گا وہ لوگ اس پر بیٹھ کر کھانا کھائیں گے اور سب لوگ ابھی حساب ہی میں پھنسے ہوں گے۔ اس پر وہ لوگ کہیں گے کہ یہ لوگ کیسے ہیں کہ کھانا کھا پی رہے ہیں اور ہم ابھی حساب ہی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کو جواب ملے گا کہ یہ لوگ روزہ رکھا کرتے تھے اور تم لوگ روزہ نہ رکھتے تھے۔ یہ روزہ بھی دین اسلام کا بڑا رکن ہے جو کوئی رمضان کے روزے نہ رکھے گا بڑا گناہ ہو گا اور اس کا دین کمزور ہو جائے گا۔
مسئلہ۔ رمضان شریف کے روزے ہر مسلمان پر جو مجنون اور نابالغ نہ ہو فرض ہیں جب تک کوئی عذر نہ ہو روزہ چھوڑنا درست نہیں ہے۔ اور اگر کوئی روزہ کی نذر کر لے تو نذر کر لینے سے روزہ فرض ہو جاتا ہے۔ اور قضا اور کفارے کے روزے بھی فرض ہیں اور اس کے سوا اور سب روزے نفل ہیں رکھے تو ثواب ہے اور نہ رکھے تو کوئی گناہ نہیں البتہ عید اور بقر عید کے دن اور بقر عید سے بعد تین دن روزہ رکھنا حرام ہے۔
مسئلہ۔ جب سے فجر کی نماز کا وقت آتا ہے اس وقت سے لے کر سورج ڈوبنے تک روزے کی نیت سے سب کھانا اور پینا چھوڑ دے اور مرد سے ہمبستری بھی نہ ہو۔ شرع میں اس کو روزہ کہتے ہیں۔
مسئلہ۔ زبان سے نیت کرنا اور کچھ کہنا ضرور نہیں ہے بلکہ جب دل میں یہ دھیان ہے کہ آج میرا روزہ ہے اور دن بھر نہ کچھ کھایا نہ پیا نہ ہمبستری ہوئی تو اس کا روزہ ہو گیا۔ اور اگر کوئی زبان سے بھی کہہ دے کہ یا اللہ میں کل تیرا روزہ رکھوں گی یا عربی میں یہ کہہ دے کہ بصوم غد نویت تو بھی کچھ حرج نہیں یہ بھی بہتر ہے۔
مسئلہ۔ اگر کسی نے دن بھر نہ تو کچھ کھایا نہ پیا صبح سے شام تک بھوکی پیاسی رہی لیکن دل میں روزہ کا ارادہ نہ تھا بلکہ بھوک نہیں لگی یا کسی اور وجہ سے کچھ کھانے پینے کی نوبت نہیں آئی تو اس کا روزہ نہیں ہوا۔ اگر دل میں روزہ کا ارادہ کر لیتی تو روزہ ہو جاتا۔
مسئلہ۔ شرع سے روزہ کا وقت صبح صادق کے وقت سے شروع ہوتا ہے اس لیے جب تک صبح نہ ہو کھانا پینا وغیرہ سب کچھ جائز ہے۔ بعضی عورتیں پچھلے کو سحری کھا کر نیت کی دعا پڑھ کر لیٹی رہتی ہیں اور یہ سمجھتی ہیں کہ اب نیت کر لینے کے بعد کچھ کھانا پینا نہ چاہیے یہ خیال غلط ہے۔ جب تک صبح نہ ہو برابر کھا پی سکتی ہے چاہے نیت کر چکی ہو یا ابھی نہ کی ہو۔

رمضان شریف کے روزے کا بیان

مسئلہ۔ رمضان شریف کے روزے کی اگر رات سے نیت کر لے تو بھی فرض ادا ہو جاتا ہے اور اگر رات کو روزہ رکھنے کا ارادہ نہ تھا بلکہ صبح ہو گئی تب بھی یہی خیال رہا کہ میں آج کا روزہ نہ رکھوں گی پھر دن چڑھے خیال آ گیا کہ فرض چوڑ دینا بری بات ہے اس لیے اب روزہ کی نیت کر لی تب بھی روزہ ہو گیا لیکن اگر صبح کو کچھ کھا پی چکی ہو تو اب نیت نہیں کر سکتی۔
مسئلہ۔ اگر کچھ کھایا پیا نہ ہو تو دن کو ٹھیک دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے پہلے رمضان کے روزے کی نیت کر لینا درست ہے۔
مسئلہ۔ رمضان شریف کے روزے میں بس اتنی نیت کر لینا کافی ہے کہ آج میرا روزہ ہے یا رات کو اتنا سوچ لے کہ کل میرا روزہ ہے بس اتنی ہی نیت سے بھی رمضان کا روزہ ادا ہو جائے گا اگر نیت میں خاص یہ بات نہ آئی ہو کہ رمضان کا روزہ ہے یا فرض روزہ ہے تب بھی روزہ ہو جائے گا۔
مسئلہ۔ رمضان کے مہینے میں اگر کسی نے یہ نیت کی کہ میں کل نفل کا روزہ رکھوں گی رمضان کا روزہ نہ رکھوں گی بلکہ اس روزہ کی پھر کبھی قضا رکھ لوں گی تب بھی رمضان ہی کا روزہ ہوا اور نفل کا نہیں ہوا۔
مسئلہ۔ پچھلے رمضان کا روزہ قضا ہو گیا تھا اور پورا سال گزر گیا اب تک اس کی قضا نہیں رکھی پھر جب رمضان کا مہینہ آ گیا تو اسی قضا کی نیت سے روزہ رکھا تب بھی رمضان ہی کا روزہ ہو گا اور قضا کا روزہ نہ ہو گا قضا کا روزہ رمضان کے بعد رکھے۔
مسئلہ۔ کسی نے نذر مانی تھی کہ اگر میرا فلاں کام ہو جائے تو میں اللہ تعالی کے لیے دو روزے یا ایک روزہ رکھوں گی پھر جب رمضان کا مہینہ آیا تو اس نے اسی نذر کے روزے رکھنے کی نیت کی رمضان کے روزے کی نیت نہیں کی تب بھی رمضان ہی کا روزہ ہوا نذر کا روزہ ادا نہیں ہوا نذر کے روزے رمضان کے بعد پھر رکھے سب کا خلاصہ یہ ہوا کہ رمضان کے مہینے میں جب کسی روزے کی نیت کرے گی تو رمضان ہی کا روزہ ہو گا اور کوئی روزہ صحیح نہ ہو گا۔
مسئلہ۔ شعبان کی انتیسویں تاریخ کو اگر رمضان شریف کا چاند نکل آئے تو صبح کو روزہ رکھو اور اگر نہ نکلے یا آسماں پر ابر ہو اور چاند نہ دکھائی دے تو صبح کو جب تک یہ شبہ رہے کہ رمضان شروع ہوا یا نہیں روزہ نہ رکھو بلکہ شعبان کے تیس دن پورے کر کے رمضان کے روزے شروع کرو۔
مسئلہ۔ انتیسویں تاریخ ابر کی وجہ سے رمضان شریف کا چاند نہیں دکھائی دیا تو صبح کو نفل روزہ نہ رکھو ہاں اگر ایسا اتفاق پڑا کہ ہمیشہ پیر اور جمعرات یا کسی اور مقرر دن کا روزہ رکھا کرتی تھی اور آج وہی دن ہے تو نفل کی نیت سے صبح کو روزہ رکھ لینا بہتر ہے پھر اگر کہیں سے چاند کی خبر آ گئی تو اسی نفل روزے سے رمضان کا فرض ادا ہو گیا اب اس کی قضا نہ رکھے۔
مسئلہ۔ بدلی کی وجہ سے انتیس تاریخ کو رمضان کا چاند نہیں دکھائی دیا تو دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے تک کچھ نہ کھاؤ نہ پوف۔ اگر کہیں سے خبر آ جائے تو اب روزہ کی نیت کر لو اور اگر خبر نہ آئے تو کھاؤ پیو۔
مسئلہ۔ انتیسویں تاریخ چاند نہیں ہوا تو یہ خیال نہ کرو کہ کل کا دن رمضان کا تو ہے نہیں لاؤ۔ میرے ذمہ جو پار سال کا ایک روزہ قضا ہے اس کی قضا ہی رکھ لوں۔ یا کوئی نذر مانی تھی اس کا روزہ رکھ لوں اس دن قضا کا روزہ اور کفارہ کا روزہ اور نذر کا روزہ رکھنا بھی مکروہ ہے کوئی روزہ نہ رکھنا چاہیے اگر قضا یا نذر کا روزہ رکھ لیا پھر کہیں سے چاند کی خبر آ گئی تو بھی رمضان ہی کا روزہ ادا ہو گا قضا اور نذر کا روزہ پھر سے رکھے اور اگر خبر نہیں آئی تو جس روزہ کی نیت کی تھی وہی ادا ہو گیا۔

چاند دیکھنے کے بیان

مسئلہ۔ اگر آنکھوں پر بادل ہے یا غبار ہے اس وجہ سے رمضان کا چاند نظر نہیں آیا لیکن ایک دیندار پرہیزگار سچے آدمی نے آ کر گواہی دی کہ میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے تو چاند کا ثبوت ہو گیا چاہے وہ مرد ہو یا عورت ہو۔
مسئلہ۔ اور اگر بدلی کی وجہ سے عید کا چاند نہ دکھائی دیا تو ایک شخص کی گواہی کا اعتبار نہیں ہے چاہے جتنا بڑا معتبر آدمی ہو بلکہ جب دو معتبر اور پرہیزگار مرد ایک دیندار مرد اور دو دیندار عورتیں اپنے چاند کو دیکھنے کی گواہی دیں تب چاند کا ثبوت ہو گا۔ اور اگر چار عورتیں گواہی دیں تو بھی قبول نہیں۔
مسئلہ۔ جو آدمی دین کا پابند نہیں برابر گناہ کرتا رہتا ہے مثلاً نماز نہیں پڑھتا یا روزہ نہیں رکھتا یا جھوٹ بولا کرتا ہے یا اور کوئی گناہ کرتا ہے شریعت کی پابندی نہیں کرتا تو شرع میں اس کی بات کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ چاہے جتنی قسمیں کھا کر بیان کرے بلکہ ایسے اگر دو تین آدمی ہوں ان کا بھی اعتبار نہیں۔
مسئلہ۔ یہ جو مشہور ہے کہ جس دن رجب کی چوتھی اس دن رمضان کی پہلی ہوتی ہے شریعت میں اس کا بھی کچھ اعتبار نہیں ہے اگر چاند نہ ہو تو روزہ نہ رکھنا چاہیے۔
مسئلہ۔ چاند دیکھ کر یہ کہنا کہ چاند بہت بڑا ہے کل کا معلوم ہوتا ہے بری بات ہے حدیث میں آیا ہے کہ یہ قیامت کی نشانی ہے جب قیامت قریب ہو گی تو لوگ ایسا کہا کریں گے۔ خلاصہ یہ ہیکہ چاند کے بڑے چھوٹے ہونے کا بھی کچھ اعتبار نہ کرو نہ ہندوؤں کی اس بات کا اعتبار کرو کہ آج دوئج ہے آج ضرور چاند ہے شریعت سے یہ سب باتیں واہیات ہیں۔
مسئلہ۔ اگر آنکھیں بالکل صاف ہو تو دو چار آدمیوں کے کہنے اور گواہی دینے سے بھی چاند ثابت نہ ہو گا چاہے رمضان کا چاند ہو چاہے عید کا البتہ اگر اتنی کثرت سے لوگ اپنا چاند دکھنا بیان کریں کہ دل گواہی دینے لگے کہ یہ سب کے سب بات بنا کر نہیں آئے ہیں اتنے لوگوں کا جھوٹا ہونا کسی طرح نہیں ہو سکتا تب چاند ثابت ہو گا۔
مسئلہ۔ شہر بھر میں یہ خبر مشہور ہے کہ کل چاند ہوا بہت لوگوں نے دیکھا لیکن بہت ڈھونڈا تلاش کیا پھر بھی کوئی ایسا آدمی نہیں ملتا جس نے خود چاند دیکھا ہو تو ایسی خبر کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔
مسئلہ۔ کسی نے رمضان شریف کا چاند اکیلے دیکھا سوائے اس کے شہر بھر میں کسی نے نہیں دیکھا لیکن یہ شرع کی پابند نہیں ہے تو اس کی گواہی سے شہر والے تو روزہ نہ رکھیں لیکن خود یہ روزہ رکھے اور اگر اس اکیلی دیکھنے والی نے تیس روزے پورے کر لیے لیکن ابھی عید کا چاند نہیں دکھائی دیا تو اکتیسواں روزہ بھی رکھے اور شہر والوں کے ساتھ عید کرے۔
مسئلہ۔ اگر کسی نے عید کا چاند اکیلے دیکھا اس لیے اس کی گواہی کا شریعت نے اعتبار نہیں کیا تو اس دیکھنے والے آدمی کو بھی عید کرنا درست نہیں ہے صبح کو روزہ رکھے اور اپنے چاند دیکھنے کا اعتبار نہ کرے اور روزہ نہ توڑے۔

قضا روزے کا بیان

مسئلہ۔ جو روزے کسی وجہ سے جاتے رہے ہوں رمضان کے بعد جہاں تک جلدی ہو سکے ان کی قضا رکھلے دیر نہ کرے۔ بے وجہ قضا رکھنے میں دیر لگانا گناہ ہے۔
مسئلہ۔ روزے کی قضا میں دن تاریخ مقرر کر کے قضا کی نیت کرنا کہ فلاں تاریخ کے روزے کی قضا رکھتی ہوں یہ ضروری ہے بلکہ جتنے روزے قضا ہوں اتنے ہی روزے رکھ لینا چاہیے البتہ اگر تو رمضان کے کچھ روزے قضا ہو گئے اس لیے دونوں سال کے روزوں کی قضا رکھنا ہے تو سال کا مقرر کرنا ضروری ہے یعنی اس طرح نیت کرے کہ فلاں سال کے روزوں کی قضا رکھتی ہوں۔
مسئلہ۔ قضا روزے میں رات سے نیت کرنا ضروری ہے اگر صبح ہو جانے کے بعد نیت کی تو قضا صحیح نہیں ہوئی بلکہ وہ روزہ نفل ہو گیا قضا کا روزہ پھر سے رکھے۔
مسئلہ۔ کفار کے روزے کا بھی یہی حکم ہے کہ رات سے نیت کرنا چاہیے۔ اگر صبح ہونے کے بعد نیت کی تو کفارہ کا روزہ صحیح نہیں ہوا۔
مسئلہ۔ جتنے روزے قضا ہو گے ہیں چاہے سب کو ایکدم سے رکھ لے چاہے تھوڑے تھوڑے کر کے رکھے دونوں باتیں درست ہیں۔
مسئلہ۔ اگر رمضان کے روزے ابھی قضا نہیں رکھے اور دوسرا رمضان آ گیا تو خیر اب رمضان کے ادا روزے رکھے اور عید کے بعد قضا رکھے لین اتنی دیر کرنا بری بات ہے۔
مسئلہ۔ رمضان کے مہینے میں دن کو بیہوش ہو گئی اور ایک دن سے زیادہ بیہوش رہی تو بیہوش ہونے کے دن کے علاوہ جتنے دن بیہوش رہی اتنے دنوں کی قضا رکھے۔ جس دن بیہوش ہوئی اس ایک دن کی قضا واجب نہیں ہے کیونکہ اس دن کا روزہ بوجہ نیت کے درست ہو گیا۔ ہاں اگر اس دن روزہ سے نہ تھی یا اس دن حلق میں کوئی دوا ڈالی گئی اور وہ حلق سے اتر گئی تو اس دن کی قضا بھی واجب ہے۔
مسئلہ۔ اور اگر رات کو بیہوش ہوئی ہو تب بھی جس رات کو بیہوش ہوئی اس ایک دن کی قضا واجب نہیں ہے باقی اور جتنے دن بیہوش رہی سب کی قضا واجب ہے ہاں اگر اس رات کو صبح کا روزہ رکھنے کی نیت نہ تھی یا صبح کو کوئی دوا حلق میں ڈالی گئی تو اس دن کا روزہ بھی قضا رکھے۔
مسئلہ۔ اگر سارے رمضان بھر بیہوش رہے تب بھی قضا رکھنا چاہیے یہ نہ سمجھے کہ سب روزے معاف ہو گئے۔ البتہ اگر جنون ہو گیا اور پورے رمضان بھر سٹرن دیوانی رہی تو اس رمضان کے کسی روزے کی قضا واجب نہیں اور اگر رمضان شریف کے مہینے میں کسی دن جنون جاتا رہا اور عقل ٹھکانے ہو گئی تو اب سے روزے رکھنے شروع کرے اور جتنے روزے جنون میں گئے ان کی قضا بھی رکھے۔

نذر کے روزے کا بیان

مسئلہ۔ جب کوئی روزہ کی نذر مانے تو اس کا پورا کرنا واجب ہے اگر نہ رکھے گی تو گنہگار ہو گی۔
مسئلہ۔ نذر دو طرح کی ہے ایک تو یہ کہ دن تاریخ مقرر کر کے نذر مانی کہ یا اللہ اگر آج فلاں کام ہو جائے تو کل ہی تیرا روزہ رکھوں گی یا یوں کہا کہ یا اللہ میری فلاں مراد پوری ہو جائے تو پرسوں جمعہ کے دن روزہ رکھوں گی ایسی نذر میں اگر رات سے روزہ کی نیت کرے تو بھی درست ہے اور اگر رات سے نیت نہ کی تو دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے پہلے نیت کر لے یہ بھی درست ہے نذر ادا ہو جائے گی۔
مسئلہ۔ جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی نذر مانی اور جب جمعہ آیا تو بس اتنی نیت کر لی کہ آج میرا روزہ ہے یہ مقرر نہیں کیا کہ یہ نذر کا روزہ ہے یا کہ نفل کی نیت کر لی تب بھی نذر کا روزہ ادا ہو گیا۔ البتہ اس جمعہ کو اگر قضا روزہ رکھ لیا اور نذر کا روزہ رکھنا یاد نہ رہا یا یاد تو تھا مگر قصداً قضا کا روزہ رکھا تو نذر کا روزہ ادا نہ ہو گا بلکہ قضا کا روزہ ہو جائے گا نذر کا روزہ پھر رکھے۔
مسئلہ۔ اور دوسری نذر یہ ہے کہ دن تاریخ مقرر کر کے نذر نہیں مانی بس اتنا ہی کہا یا اللہ اگر میرا فلاں کام ہو جائے تو ایک روزہ رکھوں گی یا کسی کام کا نام نہیں لیا ویسے ہی کہہ دیا کہ پانچ روزے رکھوں گی ایسی نذر میں رات سے نیت کرنا شرط ہے اگر صبح ہو جانے کے بعد نیت کی تو نذر کا روزہ نہیں ہوا بلکہ وہ روزہ نفل ہو گیا۔

نفل روزے کا بیان

مسئلہ 1۔ نفل روزے کی نیت اگر یہ مقرر کر کے کرے کہ میں نفل کا روزہ رکھتی ہوں تو بھی صحیح ہے اور اگر فقط اتنی نیت کرے کہ میں روزہ رکھتی ہوں تب بھی صحیح ہے۔
مسئلہ 2۔ دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے تک نفل کی نیت کر لینا درست ہے تو اگر دس بجے دن تک مثلاً روزہ رکھنے کا ارادہ نہ تھا لیکن ابھی تک کچھ کھایا پیا نہیں۔ پھر جی میں آ گیا اور روزہ رکھ لیا تو بھی درست ہے۔
مسئلہ 3۔ رمضان شریف کے مہینے کے سوا جس دن چاہے نفل کا روزہ رکھے جتنے زیادہ رکھے گی زیادہ ثواب پائے گی۔ البتہ عید کے دن اور بقر عید کی دسویں گیارہویں بارہویں اور تیرہویں سال بھر میں فقط پانچ دن روزے رکھنے حرام ہیں اس کے سوا سب روزے درست ہیں۔
مسئلہ 4۔ اگر کوئی شخص عید کے دن روزہ رکھنے کی منت مانے تب بھی اس دن کا روزہ درست نہیں۔ اس کے بدلے کسی اور دن رکھ لیے۔
مسئلہ 5۔ اگر کسی نے یہ منت مانی کہ میں پورے سال کے روزے رکھوں گی سال میں کسی دن کا روزہ بھی نہ چھوڑوں گی تب بھی یہ پانچ روزے نہ رکھے باقی سب رکھ لے پھر ان پانچ روزوں کی قضا رکھ لے۔
مسئلہ 6۔ نفل کا روزہ نیت کرنے سے واجب ہو جاتا ہے۔ سو اگر صبح صادق سے پہلے یہ نیت کی کہ آج میرا روزہ ہے پھر اس کے بعد توڑ دیا تو اب اس کی قضا رکھے۔
مسئلہ 7۔ کسی نے رات کو ارادہ کیا کہ میں کل روزہ رکھوں گی لیکن پھر صبح صادق ہونے سے پہلے ارادہ بدل گیا اور روزہ نہیں رکھا تو قضا واجب نہیں۔
مسئلہ 8۔ بے شوہر کی اجازت کے نفل روزہ رکھنا درست نہیں اگر بے اس کی اجازت روزہ رکھ لیا تو اس کے تڑوانے سے توڑ دینا درست ہے پھر جب وہ کہے تب اس کی قضاء رکھے۔
مسئلہ 9۔ کسی کے گھر مہمان آ گئی یا کسی نے دعوت کی تھی اور کھانا نہ کھانے سے اس کا جی برا ہو گا دل شکنی ہو گی تو اس کی خاطر سے نفل روزہ توڑ دینا درست ہے اور مہمان کی خاطر سے گھر والی کو بھی توڑ دینا درست ہے۔
مسئلہ 10۔ کسی نے عید کے دن نفل روزہ رکھ لیا اور نیت کر لی تب بھی توڑ دے اور اس کی قضا رکھنا بھی واجب نہیں۔
مسئلہ 11۔ محرم کی دسویں تاریخ روزہ رکھنا مستحب ہے حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو کوئی یہ روزہ رکھے اس کے گذرے ہوئے ایک سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اس کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ رکھنا بھی مستحب ہے۔ صرف دسویں کو روزہ رکھنا مکروہ ہے۔
مسئلہ 12۔ اسی طرح بقر عید کی نویں تاریخ روزہ رکھنے کا بھی بڑا ثواب ہے اس سے ایک سال کے اگلے اور ایک سال کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اگر شروع چاند سے نویں تک برابر روزہ رکھے تو بہت ہی بہتر ہے۔
مسئلہ 13۔ شب برات کی پندرہویں اور عید کے چھ دن نفل روزہ رکھنے کا بھی اور نفلوں سے زیادہ ثواب ہے۔
مسئلہ 14۔ اگر ہر مہینے کی تیرہویں چودہویں پندرہویں تین دن روزہ رکھ لیا کرے تو گویا اس نے سال بھر برابر روزے رکھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ تین روزے رکھا کرتے تھے ایسے ہی ہر دو شنبہ و جمعرات کے دن بھی روزہ رکھا کرتے تھے اگر کوئی ہمت کرے تو ان کا بھی بہت ثواب ہے۔

جن چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور جن سے ٹوٹ جاتا ہے

مسئلہ 1۔ اگر روزہ دار بھول کر کچھ کھا لے یا پی لے یا بھولے سے خاوند سے ہمبستر ہو جائے تو اس کا روزہ نہیں گیا۔ اگر بھول کر پیٹ بھر بھی کھا پی لے تب بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اگر بھول کر کئی دفعہ کھا پی لیا تب بھی روزہ نہیں گیا۔
مسئلہ۔ ایک شخص کو بھول کر کچھ کھاتے پیتے دیکھا تو اگر وہ اس قدر طاقت دار ہے کہ روزہ سے زیادہ تکلیف نہیں ہوتی تو روزہ یاد دلا دینا واجب ہے اور اگر کوئی نا طاقت ہو کہ روزہ سے تکلیف ہوتی ہے تو اس کو یاد نہ دلائے کھانے دے۔
مسئلہ 4۔ دن کو سرمہ لگانا تیل لگانا خوشبو سونگھنا درست ہے اس سے روزہ میں کچھ نقصان نہیں آتا چاہے جس وقت ہو۔ بلکہ اگر سرمہ لگانے کے بعد تھوک میں یا رینٹھ میں سرمہ کا رنگ دکھائی دے تو بھی روزہ نہیں گیا نہ مکروہ ہوا۔
مسئلہ 6۔ حلق کے اندر مکھی چلی گئی یا آپ ہی آپ دھواں چلا گیا یا گرد و غبار چلا گیا تو روزہ نہیں گیا البتہ اگر قصداً ایسا کیا تو روزہ جاتا رہا۔
مسئلہ 7۔ لوبان وغیرہ کوئی دھونی سلگائی پھر اس کو اپنے پاس رکھ کر سونگھا تو روزہ جاتا رہا۔ اسی طرح حقہ پینے سے بھی روزہ جاتا رہتا ہے۔ البتہ اس دھوئیں کے سوا عطر کیوڑھ گلاب پھول وغیرہ اور خوشبو سونگھنا جس میں دھواں نہ ہو درست ہے۔
مسئلہ 8۔ دانتوں میں گوشت کا ریشہ اٹکا ہوا تھا یا ڈلی کا دھرا وغیرہ کوئی اور چیز تھی اس کو خلال سے نکال کر کھا گئی لیکن منہ سے باہر نہیں نکالا آپ ہی آپ حلق میں چلی گئی تو دیکھو اگر چنے سے کم ہے تب تو روزہ نہیں گیا اور اگر چنے کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو جاتا رہا البتہ اگر منہ سے باہر نکال لیا تھا پھر اس کے بعد نگل گئی تو ہر حال میں روزہ ٹوٹ گیا چاہے وہ چیز چنے کی برابر ہو یا اس سے بھی کم ہو دونوں کا ایک حکم ہے۔
مسئلہ 9۔ تھوک نگلنے سے روزہ نہیں جاتا چاہے جتنا ہو۔
مسئلہ۔ اگر پان کھا کر خوب کلی غرغرہ کر کے منہ صاف کر لیا لیکن تھوک کی سرخی نہیں گئی تو اس کا کچھ حرج نہیں روزہ ہو گیا (ق)
مسئلہ 29۔ کسی نے بھولے سے کچھ کھا لیا اور یوں سمجھی کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا اس وجہ سے پھر قصداً کچھ کھا لیا تو اب روزہ جاتا رہا فقط قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔
مسئلہ 30۔ اگر کسی کو قے ہوئی اور وہ سمجھی کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا اس گمان پر پھر قصداً کھا لیا اور روزہ توڑ دیا تو بھی قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔
مسئلہ 31۔ اگر سرمہ لگایا یا فصد لی یا تیل ڈالا پھر سمجھی کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا اور پھر قصداً کھا لیا تو قضا اور کفارہ دونوں واجب ہیں
مسئلہ 32۔ رمضان کے مہینے میں اگر کسی کا روزہ اتفاقا ٹوٹ گیا تو روزہ ٹوٹنے کے بعد بھی دن میں کچھ کھانا پینا درست نہیں ہے سارے دن روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہے۔
مسئلہ 33۔ کسی نے رمضان میں روزہ کی نیت ہی نہیں کی اس لیے کھاتی پیتی رہی اس پر کفارہ واجب نہیں۔ کفارہ جب ہے کہ نیت کر کے توڑ دے۔

سحری کھانے اور افطار کرنے کا بیان

مسئلہ1۔ سحری کھانا سنت ہے اگر بھوک نہ ہو اور کھانا نہ کھائے تو کم سے کم دو تین چھوہارے ہی کھا لے۔ یا کوئی اور چیز تھوڑی بہت کھا لے کچھ نہ سہی تو تھوڑا سا پانی ہی پی لے۔
مسئلہ3۔ اگر کسی نے سحری نہ کھائی اور اٹھ کر ایک آدھ پان کھا لیا تو بھی سحری کھانے کا ثواب مل گیا۔
مسئلہ4۔ سحری میں جہاں تک ہو سکے دیر کر کے کھانا بہتر ہے لیکن اتنی دیر نہ کرے کہ صبح ہونے لگے اور روزہ میں شبہ پڑ جائے۔
مسئلہ 5۔ اگر سحری بڑی جلدی کھا لی مگر اس کے بعد پان تمباکو چائے پانی دیر تک کھاتی پیتی رہی جب صبح ہونے میں تھوڑی دیر رہ گئی تب کلی کر ڈالی تب بھی دیر کر کے کھانے کا ثواب مل گیا اور اس کا بھی وہی حکم ہے جو دیر کر کے کھانے کا حکم ہے۔
مسئلہ 6۔ اگ رات کو سحری کھانے کے لیے آنکھ نہ کھلی سب کے سب سو گئے تو بے سحری کھائے صبح کا روزہ رکھو سحری چھوٹ جانے سے روزہ چھوڑ دینا بڑی کم ہمتی کی بات اور بڑا گناہ ہے۔
مسئلہ 7۔ جب تک صبح نہ ہو اور فجر کا وقت نہ آئے جس کا بیان نمازوں کے وقتوں میں گزر چکا ہے تب تک سحری کھانا درست ہے اس کے بعد درست نہیں۔
مسئلہ 8۔ کسی کی آنکھ دیر میں کھلی اور یہ خیال ہوا کہ ابھی رات باقی ہے اس گمان پر سحری کھالی پھر معلوم ہوا کہ صبح ہو جانے کے بعد سحری کھائی تھی تو روزہ نہیں ہوا قضا رکھے اور کفارہ واجب نہیں لیکن پھر بھی کچھ کھائے پئے نہیں روزہ داروں کی طرح رہے۔ اسی طرح اگر سورج ڈوبنے کے گمان سے روزہ کھول لیا پھر سورج نکل آیا تو روزہ جاتا رہا اس کی قضا کرے کفارہ واجب نہیں اور جب تک سورج نہ ڈوب جائے کچھ کھانا پینا درست نہیں۔
مسئلہ9۔ اگر اتنی دیر ہو گئی کہ صبح ہو جانے کا شبہ پڑ گیا تو اب کچھ کھانا مکروہ ہے اور اگر ایسے وقت کچھ کھا لیا یا پانی پی لیا تو برا کیا اور گناہ ہوا۔ پھر اگر معلوم ہو گیا کہ اس وقت صبح ہو گئی تھی تو اس روزہ کی قضا رکھے اور اگر کچھ نہ معلوم ہو شبہ ہی شبہ رہ جائے تو قضا رکھنا واجب نہیں ہے لیکن احتیاط کی بات یہ ہے کہ اس کی قضا رکھ لے۔
مسئلہ10۔ مستحب یہ ہے کہ جب سورج یقیناً ڈوب جائے تو ترت روزہ کھول ڈالے دیر کر کے روزہ کھولنا مکروہ ہے۔
مسئلہ11۔ بدلی کے دن ذرا دیر کر کے روزہ کھولو جب خوب یقین ہو جائے کہ سورج ڈوب گیا ہو گا تب افطار کرو اور صرف گھڑی گھڑیاں وغیرہ پر کچھ اعتماد نہ کرو جب تک کہ تمہارا دل گواہی نہ دے دے کیونکہ گھڑی شاید کچھ غلط ہو گئی ہو بلکہ اگر کوئی اذان بھی کہہ دے لیکن ابھی وقت آنے میں کچھ شبہ ہے تب بھی روزہ کھولنا درست نہیں۔
مسئلہ12۔ چھوہارے سے روزہ کھولنا بہتر ہے اور اور کوئی میٹھی چیز ہو اس سے کھولے وہ بھی نہ ہو تو پانی سے افطار کرے بعضی عورتیں اور بعضے مرد نمک کی کنکری سے افطار کرتے ہیں اور اس میں ثواب سمجھتے ہیں یہ غلط عقیدہ ہے۔
مسئلہ13۔ جب تک سورج کے ڈوبنے میں شبہ رہے تب تک افطار کرنا جائز نہیں۔

کفارہ کے بیان

مسئلہ۔ رمضان شریف کے روزے توڑ ڈالنے کا کفارہ یہ ہے کہ دو مہینے برابر لگاتار روزے رکھے تھوڑے تھوڑے کر کے روزے رکھنے درست نہیں اگر کسی وجہ سے بیچ میں دو ایک روزے نہیں رکھے تو اب پھر سے دو مہینے کے روزے رکھے ہاں جتنے روزے حیض کی وجہ سے جاتے رہے ہیں وہ معاف ہیں ان کے چھوٹ جانے سے کفارہ میں کچھ نقصان نہیں آیا لیکن پاک ہونے کے بعد ترت پھر روزے رکھنے شروع کرے اور ساٹھ روزے پورے کر لے۔
مسئلہ۔ نفاس کی وجہ سے بیچ میں روزے چھوٹ گئے پورے روزے لگاتار نہیں رکھ سکی تو بھی کفارہ صحیح نہیں ہوا سب روزے پھر سے رکھے۔
مسئلہ۔ اگر دکھ بیماری کی وجہ سے بیچ میں کفارے کے کچھ روزے چھوٹ گئے تب بھی تندرست ہونے کے بعد پھر سے روزے رکھنے شروع کرے۔
مسئلہ۔ اگر بیچ میں رمضان کا مہینہ آ گیا تب بھی کفارہ صحیح نہیں ہوا۔
مسئلہ۔ اگر کسی کو روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو ساٹھ مسکینوں کو صبح شام پیٹ بھر کے کھانا کھلا دے جتنا ان کے پیٹ میں سمائے خون تن کر کھا لیں۔
مسئلہ۔ ان مسکینوں میں اگر بعضے بالکل چھوٹے بچے ہوں تو جائز نہیں ان بچوں کے بدلے اور مسکینوں کو پھر کھلا دے۔
مسئلہ۔ اگر گیہوں کی روٹی ہو تو روکھی روٹی کھلانا بھی درست ہے اور اگر جوء باجرہ جوار وغیرہ کی روٹی ہو تو اس کے ساتھ کچھ دال وغیرہ دینا چاہے جس کے ساتھ روٹی کھائیں۔
مسئلہ۔ مگر کھانا نہ کھلائے بلکہ ساٹھ مسکینوں کو کچا اناج دے دے تو بھی جائز ہے ہر ایک مسکین کو اتنا اتنا دے جتنا صدقہ فطر دیا جاتا ہے اور صدقہ فطر کا بیان زکوٰۃ کے باب میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالی۔
مسئلہ۔ اگر اتنے اناج کی قیمت دے دے تو بھی جائز ہے۔
مسئلہ۔ اگر کسی اور سے کہہ دیا کہ تم میری طرف سے کفارہ ادا کر دو اور ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اور اس نے اس کی طرف سے کھانا کھلا دیا یا کچا اناج دے دیا تب بھی کفارہ ادا ہو گیا اور اگر بے اس کے کہے کسی نے اس کی طرف سے دیے دیا تو کفارہ صحیح نہیں ہوا۔
مسئلہ۔ اگر ایک ہی مسکین کو ساٹھ دن تک صبح و شام کھانا کھلا دیا یا ساٹھ دن تک کچا اناج یا قیمت دییں رہی تب بھی کفارہ صحیح ہو گیا۔
مسئلہ۔ اگر ساٹھ دن تک لگاتار کھانا نہیں کھلایا بلکہ بیچ میں کچھ دن ناغہ ہو گئے تو کچھ حرج نہیں یہ بھی درست ہے۔
مسئلہ۔ اگر ساٹھ دن کا اناج حساب کر کے ایک فقیر کو ایک ہی دن دے دیا تو درست نہیں۔ اسی طرح ایک ہی فقیر کو ایک ہی دن اگر ساٹھ دفعہ کر کے دے دیا تب بھی ایک ہی دن کا ادا ہوا ایک کم ساٹھ مسکینوں کو پھر دینا چاہیے اسی طرح قیمت دینے کا بھی حکم ہے یعنی ایک دن میں ایک مسکین کو ایک روزے کے بدلے سے زیادہ دینا درست نہیں۔
مسئلہ۔ اگر کسی فقیر کو صدقہ فطر کی مقدار سے کم دیا تو کفارہ صحیح نہیں ہوا۔
مسئلہ۔ اگر ایک ہی رمضان کے دو یا تین روزے توڑ ڈالے تو ایک ہی کفارہ واجب ہے۔ البتہ اگر یہ دونوں روزے ایک رمضان کے نہ ہوں تو الگ الگ کفارہ دینا پڑے گا۔

جن وجہوں سے روزہ توڑ دینا جائز نہیں ان کا بیان

مسئلہ۔ اگر ایسی بیماری ہے کہ روزہ نقصان کرتا ہے اور یہ ڈر ہے کہ اگر روزہ رکھے گی تو بیماری پڑھ جائے گی یا دیر میں اچھی ہو گی یا جان جاتی رہے گی تو روزہ نہ رکھے جب اچھی ہو جائے گی تو اس کی قضا رکھ لے لیکن فقط اپنے دل سے ایسا خیال کر لینے سے روزہ چھوڑ دینا درست نہیں ہے بلکہ جب کوئی مسلمان دیندار طبیب کہہ دے کہ روزہ تم کو نقصان کرے گا تب چھوڑنا چاہیے۔
مسئلہ۔ اگر حکیم یا ڈاکٹر کافر ہے یا شرع کا پابند نہیں ہے تو اس کی بات کا اعتبار نہیں ہے فقط اس کے کہنے سے روزہ نہ چھوڑے۔
مسئلہ۔ اگر حکیم نے کچھ کہا نہیں لیکن خود اپنا تجربہ ہے اور کچھ ایسی نشانیاں معلوم ہوئیں جن کی وجہ سے دل گواہی دیتا ہے کہ روزہ نقصان کرے گا تب بھی روزہ نہ رکھے اور اگر خود تجربہ کار نہ ہو اور اس بیماری کا کچھ حال معلوم نہ ہو تو فقط خیال کا اعتبار نہیں۔ اگر دیندار حکیم کے بغیر بتائے اور بے تجربے کے اپنا خیال ہی خیال پر رمضان کا روزہ توڑے گی تو کفارہ دینا پڑے گا۔ اور اگر روزہ نہ رکھے گی تو گنہگار ہو گی۔
مسئلہ۔ اگر بیماری سے اچھی ہو گئی لیکن ابھی ضعف باقی ہے اور یہ غالب گمان ہے کہ اگر روزہ رکھا تو پھر بیمار پڑ جائے گی تب بھی روزہ نہ رکھنا جائز ہے۔
مسئلہ۔ اگر کوئی مسافرت میں ہو تو اس کو بھی درست ہے کہ روزہ نہ رکھے پھر کبھی اس کی قضا رکھ لے اور مسافرت کے معنے وہی ہیں جس کا نماز کے بیان میں ذکر ہو چکا ہے یعنی تین منزل جانے کا قصد ہو۔
مسئلہ۔ مسافرت میں اگر روزے سے کوئی تکلیف نہ ہو جیسے ریل پر سوار ہے اور یہ خیال ہے کہ شام تک گھر پہنچ جاؤں گی یا اپنے ساتھ سب راحت و آرام کا سامان موجود ہے تو ایسے وقت سفر میں بھی روزہ رکھ لینا بہتر ہے۔ اور اگر روزہ نہ رکھے تب بھی کوئی گناہ نہیں۔ ہاں رمضان شریف کے روزے کی جو فضیلت ہے اس سے محروم رہے گی۔ اور اگر راستہ میں روزہ کی وجہ سے تکلیف اور پریشانی ہو تو ایسے وقت روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔
مسئلہ۔ اگر بیماری سے اچھی نہیں ہوئی اس میں مر گئی یا ابھی گھر نہیں پہنچی مسافرت ہی میں مر گئی تو جتنے روزے بیمار یا سفر کی وجہ سے چھوٹے ہیں آخرت میں ان کا مواخذہ نہ ہو گا کیونکہ قضا رکھنے کی مہلت ابھی اس کو نہیں ملی تھی
مسئلہ۔ اگر بیماری میں دس روزے گئے تھے پھر پانچ دن اچھی رہی لیکن قضا روزے نہیں رکھے تو پانچ روزے معاف ہیں فقط پانچ روزوں کی قضا نہ رکھنے پر پکڑی جائے گی۔ اور اگر پورے دس دن اچھی رہی تو پورے دسوں دن کی پکڑ ہو گئی اس لیے ضروری ہے کہ جتنے روزوں کا مواخذہ اس پر ہونے والا ہے اتنے دنوں کا فدیہ دینے کے لیے کہہ مرے جبکہ اس کے پاس مال ہو اور فدیہ کا بیان آگے آتا ہے۔
مسئلہ۔ اسی طرح اگر مسافرت میں روزے چھوڑ دیئے تھے پھر گھر پہنچنے کے بعد مر گئی تو جتنے دن گھر میں رہی ہے فقط اتنے دن کی پکڑ ہو گی اس کو بھی چاہیے کہ فدیہ کی وصیت کر جائے۔ اگر روزے گھر رہنے کی مدت سے زیادہ چھوٹے ہوں تو ان کا مواخذ نہیں ہے۔
مسئلہ۔ اگر راستہ میں پندرہ دن رہنے کی نیت سے ٹھیر گئی تو اب روزہ چھوڑنا درست نہیں کیونکہ شرع سے اب وہ مسافر نہیں رہی۔ البتہ اگر پندرہ دن سے کم ٹھیرنے کی نیت ہو تو روزہ رکھنا درست ہے۔
مسئلہ۔ حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو جب اپنی جان کا یا بچہ کی جان کا کچھ ڈر ہو تو روزہ نہ رکھے پھر کبھی قضا رکھ لے لیکن اگر اپنا شوہر مالدار ہے کہ کوئی انا رکھ کر دودھ پلوا سکتا ہے تو دودھ پلانے کی وجہ سے ماں کو روزہ چھوڑنا درست نہیں ہے۔ البتہ اگر وہ ایسا بچہ ہے کہ سوائے اپنی ماں کے کسی اور کا دودھ نہیں پیتا ہے تو ایسے وقت ماں کو روزہ نہ رکھنا درست ہے۔
مسئلہ۔ کسی انا نے دودھ پلانے کی نوکری کی پھر رمضان آ گیا اور روزہ سے بچہ کی جان کا ڈر ہے تو انا کو بھی روزا نہ رکھنا درست ہے۔
مسئلہ۔ اسی طرح اگر کوئی دن کو مسلمان ہوئی یا دن کو جوان ہوئی تو اب دن بھر کچھ کھانا پینا درست نہیں ہے اور اگر کچھ کھا لیا تو اس روزہ کی قضا رکھنا بھی نئی مسلمان اور نئی جوان کے ذمہ واجب نہیں ہے۔
مسئلہ۔ مسافرت میں روزہ نہ رکھنے کا ارادہ تھا لیکن دوپہر سے ایک گھنٹہ پہلے ہی اپنے گھر پہنچ گئی یا ایسے وقت میں پندرہ دن رہنے کی نیت سے کہیں رہ پڑی اور اب تک کچھ کھایا پیا نہیں ہے تو اب روزہ کی نیت کر لے۔
فدیہ کا بیان
مسئلہ۔ جس کو اتنا بڑھاپا ہو گیا ہو کہ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رہی یا اتنی بیمار ہے کہ اب اچھے ہونے کی امید نہیں نہ روزے رکھنے کی طاقت ہے تو وہ روزے نہ رکھے اور ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو صدقہ فطر کے برابر غلہ دے دے یا صبح شام پیٹ بھر کے اس کو کھلا دے شرع میں اس کو فدیہ کہتے ہیں اور اگر غلہ کے بدلے اسی قدر غلہ کی قیمت دے دے تب بھی درست ہے۔
مسئلہ۔ وہ گیہوں اگر تھوڑے تھوڑے کر کے کئی مسکینوں کو بانٹ دیے تو بھی صحیح ہے۔
مسئلہ۔ پھر اگر کبھی طاقت آ گئی یا بیماری سے اچھی ہو گئی تو سب روزے قضا رکھنے پڑیں گے اور جو فدیہ دیا ہے اس کا ثواب الگ ملے گا۔
مسئلہ۔ کسی کے ذمہ کئی روزے قضا تھے اور مرتے وقت وصیت کر گئی کہ میرے روزوں کے بدلے فدیہ دے دینا تو اس کے مال میں اس کا ولی فدیہ دے دے اور کفن دفن اور قرض ادا کر کے جتنا مال بچے اس کی ایک تہائی میں سے اگر سب فدیہ نکل آئے تو دینا واجب ہو گا۔
مسئلہ۔ اگر اس نے وصیت نہیں کی مگر ولی نے اپنے مال میں سے فدیہ دے دیا تب بھی خدا سے امید رکھے کہ شاید قبول کر لے اور اب روزوں کا مواخذہ نہ کرے اور بغیر وصیت کیے خود مردے کے مال میں سے فدیہ دینا جائز نہیں ہے اسی طرح اگر تہائی مال سے فدیہ زیادہ ہو جائے تو باوجود وصیت کے بھی زیادہ دینا بدون رضا مندی سب وارثوں کے جائز نہیں ہاں اگر سب وارث خوش دل سے راضی ہو جائیں تو دونوں صورتوں میں فدیہ دینا درست ہے لیک نابالغ وارث کی اجازت کا شرع میں کچھ اعتبار نہیں۔ بالغ وارث اپنا حصہ جدا کر کے اس میں سے دے دیں تو درست ہے۔
مسئلہ۔ اگر کس کی نماز قضا ہو گئی ہوں اور وصیت کر کے مر گئی کہ میری نمازوں کے بدلے میں فدیہ دے دینا اس کا بھی یہی حکم ہے۔
مسئلہ۔ ہر وقت کی نماز کا اتنا ہی فدیہ ہے جتنا ایک روزہ کا فدیہ ہے اس حساب سے دن رات کے پانچ فرض اور ایک وتر چھ نمازوں کی طرف سے ایک چھٹانک کم پونے گیارہ سیر گہیوں اسی روپے کے سیر سے دے مگر احتیاطا پورے بارہ سیر دے۔
مسئلہ۔ کسی کے ذمہ زکوٰۃ باقی ہے ابھی ادا نہیں کی تو وصیت کر جانے سے اس کا بھی ادا کر دینا وارثوں پر واجب ہے۔ اگر وصیت نہیں کی اور وارثوں نے اپنی خوشی سے دے دی تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔
مسئلہ۔ اگر ولی مردے کی طرف سے قضا روزے رکھ لے یا اس کی طرف سے قضا نمازیں پڑھ لے تو یہ درست نہیں یعنی اس کے ذمہ سے نہ اتریں گی۔
مسئلہ۔ بے وجہ رمضان کا روزہ چھوڑ دینا درست نہیں اور بڑا گناہ ہے یہ نہ سمجھے کہ اس کے بدلے ایک روزہ قضا رکھ لوں گی کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ رمضان کے ایک روزے کے بدلے میں اگر سال برابر روزے رکھتی رہے تب بھی اتنا ثواب نہ ملے گا جتنا رمضان میں ایک روزے کا ثواب ملتا ہے۔
مسئلہ۔ اگر کسی نے شامت اعمال سے روزہ نہ رکھا تو اور لوگوں کے سامنے کچھ کھائے نہ پئے نہ یہ ظاہر کرے کہ آج میرا روزہ نہیں ہے اس لیے کہ گناہ کر کے اس کو ظاہر کرنا بھی گناہ ہے اگر سب سے کہہ دے گی تو دہرا گناہ ہو گا۔ ایک تو روزہ نہ رکھنے کا دوسرا گناہ ظاہر کرنے کا۔ یہ جو مشہور ہے کہ خدا کی چوری نہیں تو بندہ کی کیا چوری یہ غلط بات ہے بلکہ جو کسی عذر سے روزہ نہ رکھے اس کو بھی مناسب ہے کہ سب کے روبرو نہ کھائے۔
مسئلہ۔ جب لڑکا یا لڑکی روزہ رکھنے کے لائق ہو جائیں تو ان کو بھی روزہ کا حکم کرے اور جب دس برس کی عمر ہو جائے تو مار کر روزہ رکھائے اگر سارے روزے نہ رکھ سکے تو جتنے رکھ سکے رکھائے۔
مسئلہ۔ اگر نابالغ لڑکا لڑکی روزہ رکھ کے توڑ ڈالے تو اس کی قضا نہ رکھائے۔ البتہ اگر نماز کی نیت کر کے توڑ دے تو اس کو دہرائے۔

اعتکاف کا بیان

رمضان شریف کی بیسویں تاریخ کے دن چھپنے سے ذرا پہلے سے رمضان کی انتیس یا تیس تاریخ یعنی جس دن عید کا چاند نظر آ جائے اس تاریخ کے دن چھپنے تک اپنے گھر میں جہاں نماز پڑھنے کے لیے جگہ مقرر کر رکھی ہو اس جگہ پر پابندی سے جم کر بیٹھے اس کو اعتکاف کہتے ہیں اس کا بڑا ثواب ہے اگر اعتکاف شروع کرے تو فقط پیشاب پاخانہ یا کھانے پینے کی ناچاری سے تو وہاں سے اٹھنا درست ہے اور اگر کوئی کھانا پانی دینے والا ہو تو اس کے لیے بھی نہ اٹھے۔ ہر وقت اسی جگہ رہے اور وہیں سو وے اور بہتر یہ ہے کہ بیکار نہ رہے قرآن پڑھتی رہے نفلیں اور تسبیحیں جو توفیق ہو اس میں لگی رہے اور اگر حیض یا نفاس آ جائے تو اعتکاف چھوڑ دے اس یں  درست نہیں اور اعتکاف میں مرد سے ہمبستر ہونا لپٹنا چمٹنا بھی درست نہیں۔

زکوٰۃ کا بیان

جس کے پاس مال ہو اور اس کی زکوٰۃ نہ نکالتی ہو وہ اللہ تعالی کے نزدیک بڑی گنہگار ہے قیامت کے دن اس پر بڑا سخت عذاب ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جس کے پاس سونا چاندی ہو اور وہ اس کی زکوٰۃ نہ دیتا ہو قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی پھر ان کو دوزخ کی آگ میں گرم کر کے اس کی دونوں کروٹیں اور پیشانی اور پیٹھ داغی جائے گی اور جب ٹھنڈی ہو جائیں گی پھر گرم کر لی جائیں گی اور نبی علیہ السلام نے فرمایا ہے جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے زکوٰۃ نہ ادا کی تو قیامت کے دن اس کا مال بڑا زہریلا گنجا سانپ بنایا جائے گا اور اس کی گردن میں لپٹ جائے گا پھر اس کے دونوں جبڑے نوچے گا اور کہے گا میں ہوں تیرا مال اور میں ہی تیرا خزانہ ہوں۔ خدا کی پناہ بھلا اتنے عذاب کی کون سہار کرسکتا ہے تھوڑے سے لالچ کے بدلے یہ مصیبت بھگتنا بڑی بیوقوفی کی بات ہے خدا ہی کی دی ہوئی دولت کو خدا کی راہ میں نہ دینا کتنی بے جا بات ہے۔
مسئلہ۔ جس کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا ہو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر روپیہ ہو۔ شبیر علی اور ایک سال تک باقی رہے تو سال گزرنے پر اس کی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور اگر اس سے کم ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ اور اگر اس سے زیادہ ہو تو بھی زکوٰۃ واجب ہے۔
مسئلہ۔ کسی کے پاس آٹھ تولہ سونا چار مہینے یا چھ مہینے تک رہا پھر وہ کم ہو گیا اور وہ تین مہینے کے بعد ملے گا تب بھی زکوٰۃ دینا واجب ہے غرضیکہ جب سال کے اول و آخر میں مالدار ہو جائے اور سال کے بیچ میں کچھ دن اس مقدار سے کم رہ جائے تو بھی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ بیچ میں تھوڑے دن کم ہو جانے سے زکوٰۃ معاف نہیں ہوتی البتہ اگر سب مال جاتا رہے اس کے بعد پھر مال ملے تو جب سے پھر ملا ہے تب سے سال کا حساب کیا جائے گا۔
مسئلہ۔ کسی کے پاس آٹھ نو تولہ سونا تھا لیکن سال گزرنے سے پہلے پہلے جاتا رہا پورا سال نہیں گزرنے پایا تو زکوٰۃ واجب نہیں۔
مسئلہ۔ کسی کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ہے۔ اور اتنے ہی روپوں کی وہ قرض دار ہے تو بھی زکوٰۃ واجب نہیں۔
مسئلہ۔ اگر اتنے کی قرض دار ہے کہ قرضہ ادا ہو کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت بچتی ہے تو زکوٰۃ واجب ہے۔
مسئلہ۔ سونے چاندی کے زیور اور برتن اور سچا گوٹہ ٹھپہ سب پر زکوٰۃ واجب ہے۔ چاہے پہنتی رہتی ہو یا بند رکھے ہوں اور کبھی نہ پہنتی ہو۔ غرضیکہ چاندی و سونے کی ہر چیز پر زکوٰۃ واجب ہے۔ البتہ اگر اتنی مقدار سے کم ہو جو اوپر بیان ہوئی تو زکوٰۃ واجب نہ ہو گی۔
مسئلہ۔ سونا چاندی اگر کھرا نہ ہو بلکہ اس میں کچھ میل ہو جیسے مثلاً چاندی میں رانگا ملا ہوا ہے تو دیکھو چاندی زیادہ ہے یا رانگا۔ اگر چاندی زیادہ ہو تو اس کا وہی حکم ہے جو چاندی کا حکم ہے یعنی اگر اتنی مقدار ہو جو اوپر بیان ہوئی تو زکوٰۃ واجب ہے اور اگر رانگا زادہ ہے تو اس کو چاندی نہ سمجھیں گے۔ پس جو حکم پیتل تانبے لوہے رانگے وغیرہ اسباب کا آگے آئے گا وہی اس کا بھی حکم ہے۔
مسئلہ۔ کسی کے پاس نہ تو پوری مقدار سونے کی ہے نہ پوری مقدار چاندی کی بلکہ تھوڑا سونا ہے اور تھوڑی چاندی تو اگر دونوں کی قیمت ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو جائے یا ساڑھے سات تولہ سونا کے برابر ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہے اور اگر دونوں چیزیں اتنی تھوڑی تھوڑی ہیں کہ دونوں کی قیمت نہ اتنی چاندی کے برابر ہے نہ اتنے سونے کے برابر تو زکوٰۃ واجب نہیں اور اگر سونے اور چاندی دونوں کی مقدار پوری پوری ہے تو قیمت لگانے کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ۔ فرض کرو کہ کسی زمانہ میں پچیس روپے کا ایک تولہ سونا ملتا ہے اور ایک روپے کی ڈیڑھ تولہ چاندی ملتی ہے اور کسی کے پاس دو تولہ سونا اور پانچ روپے ضرورت سے زائد ہیں اور سال پھر تک وہ رہ گئے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ کیونکہ دو تولہ سونا پچاس روپے کا ہوا اور پچاس روپے کی چاندی پچھتر تولہ ہوئی تو دو تولہ سونے کی چاندی اگر خریدو گی تو پچھتر تولہ ملے گی اور پانچ روپے تمہارے پاس ہیں اس حساب سے اتنی مقدار سے بہت زیادہ مال ہو گیا جتنے پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ البتہ اگر فقط دو تولہ سونا ہو اس کے ساتھ روپے اور چاندی کچھ نہ ہو تو زکوٰۃ واجب نہ ہو گی۔
مسئلہ۔ ایک روپیہ کی چاندی مثلاً دو تولہ ملتی ہے اور کسی کے پاس فقط تیس روپے چاندی کے ہیں تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں اور یہ حساب نہ لگائیں گے کہ تیس روپے کی چاندی ساٹھ تولہ ہوئی کیونکہ روپیہ تو چاندی کا ہوتا ہے اور جب فقط چاندی یا فقط سونا پاس ہو تو وزن کا اعتبار ہے قیمت کا اعتبار نہیں۔ یہ حکم اس وقت کا ہے جب روپیہ چاندی کا ہوتا تھا۔ آجکل عام طور پر روپیہ گلٹ کا مستعمل ہے اور نوٹ کے عوض میں بھی وہی ملتا ہے اس لیے اب حکم یہ ہے کہ جس شخص کے پاس اتنے روپیہ یا نوٹ موجود ہوں جن کی ساڑھے باون تولہ چاندی بازار کے بھاؤ کے مطابق آ سکے اس پر زکوٰۃ واجب ہو گی
مسئلہ۔ کسی کے پاس سو روپے ضرورت سے زائد رکھے تھے پھر سال پورا ہونے سے پہلے پہلے پچاس روپے اور مل گئے تو ان پچاس روپے کا حساب الگ نہ کریں گے بلکہ اسی سو روپے کے ساتھ اس کو ملا دیں گے اور جب ان سو روپے کا سال پورا ہو گا تو پورے ڈیڑھ سو کی زکوٰۃ واجب ہو گی اور ایسا سمجھیں گے کہ پورے ڈیڑھ سو پر سال گزر گیا۔
مسئلہ۔ کسی کے پاس سو تولہ چاندی رکھی تھی پھر سال گزرنے سے پہلے دو چار تولہ سونا آ گیا یا نو دس تولہ سونا مل گیا تب بھی اس کا حساب الگ نہ کیا جائے گا بلکہ اس چاندی کے ساتھ ملا کر کے زکوٰۃ کا حساب ہو گا پس جب اس چاندی کا سال پورا ہو جائے گا تو اس سب مال کی زکوٰۃ واجب ہو گی۔
مسئلہ۔ سونے چاندی کے سوا اور جتنی چیزیں ہیں جیسے لوہا تانبا پیتل گلٹ رانگا وغیرہ اور ان چیزوں کے بنے ہوئے برتن وغیرہ اور کپڑے جوتے اور اس کے سوا جو کچھ اسباب ہو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کو بیچتی اور سوداگری کرتی ہو تو دیکھو وہ اسباب کتنا ہے اگر اتنا ہے کہ اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونے کے برابر ہے تو جب سال گزر جائے تو اس سوداگری کے اسباب میں زکوٰۃ واجب ہے اور اگر اتنا نہ ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں اور اگر وہ مال سوداگری کے لیے نہیں ہے تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے چاہے جتنا مال ہو اگر ہزاروں روپے کا مال ہو تب بھی زکوٰۃ واجب ہے۔
مسئلہ۔ گھر کا اسباب جیسے پتیلی دیگچہ بڑی دیگ سینی لگن اور کھانے پینے کے برتن اور رہنے سہنے کا مکان اور پہننے کے کپڑے سچے موتیوں کا ہار وغیرہ ان چیزوں میں زکوٰۃ واجب نہیں چاہے جتنا ہو اور چاہے روز مرہ کے کاروبار میں آتا ہو یا نہ آتا ہو کسی طرح زکوٰۃ واجب نہیں۔ ہاں اگر یہ سوداگری کا اسباب ہو تو پھر اس میں زکوٰۃ واجب ہے۔ خلاصہ یہ کہ سونے چاندی کے سوا اور جتنا مال اسباب ہو اگر وہ سوداگری کا اسباب ہے تو زکوٰۃ واجب ہے نہیں تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
مسئلہ۔ کسی کے پاس دس پانچ گھر ہیں ان کو کرایہ پر چلاتی ہے تو ان مکانوں پر بھی زکوٰۃ واجب نہیں چاہے جتنی قیمت کے ہوں۔ ایسے ہی اگر کسی نے دوچار سو روپے کے برتن خرید لیے اور ان کو کرایہ پر چلاتی رہتی ہے تو اس پر بھی زکوٰۃ واجب نہیں غرضیکہ کرایہ پر چلانے سے مال میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔
مسئلہ۔ پہننے کے دھراؤ جوڑے چاہے جتنے زیادہ قیمتی ہوں اس میں زکوٰۃ واجب نہیں لیکن اگر ان میں سچا کام ہے اور اتنا کام ہے کہ اگر چاندی چھڑائی جائے تو ساڑھے باون تولہ یا اس سے زیادہ نکلے گی تو اس چاندی پر زکوٰۃ واجب ہے اور اگر اتنا نہ ہو تو زکوٰۃ واجب نہیں۔
مسئلہ۔ کسی کے پاس کچھ چاندی یا سونا ہے اور کچھ سوداگری کا مال ہے تو سب کو ملا کر دیکھو اگر اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونے کے برابر ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہے اور اگر اتنا نہ ہو تو واجب نہیں۔
مسئلہ۔ سوداگری کا مال وہ کہلائے گا جس کو اسی ارادہ سے مول لیا ہو کہ اس کی سوداگری کریں گے تو اگر کسی نے اپنے گھر کے خرچ کے لیے یا شادی وغیرہ کے خرچ کے لیے چاول مول لیے پھر ارادہ ہو گیا کہ لاؤ اس کی سوداگری کر لیں تو یہ مال سوداگری کا نہیں ہے اور اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
مسئلہ۔ اگر کسی پر تمہارا قرض آتا ہے تو اس قرض پر بھی زکوٰۃ واجب ہے لیکن قرض کی تین قسمیں ہیں ایک یہ کہ نقد روپیہ یا سونا چاندی کسی کو قرض دیا یا سوداگری کا اسباب بیچا اس کی قیمت باقی ہے اور ایک سال کے بعد یا دو تین برس کے بعد وصول ہوا تو اگر اتنی مقدار ہو جنتی پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو ان سب برسوں کی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور اگر یکمشت نہ وصول ہو تو جب اس میں گیارہ تولہ چاندی کی قیمت وصول ہو تب اتنے کی زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے اور اگر گیارہ تولہ چاندی کی قیمت بھی متفرق ہی ہو کر ملے تو جب بھی یہ مقدار پوری ہو جائے اتنی مقدار کی زکوٰۃ ادا کرتی رہے اور جب دے تو سب برسوں کی دے اور اگر قرضہ اس سے کم ہو تو زکوٰۃ واجب نہ ہو گی البتہ اگر اس کے پاس کچھ اور مال بھی ہو اور دونوں ملا کر مقدار پوری ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی۔
مسئلہ۔ اور اگر نقد نہیں دیا نہ سوداگری کا مال بیچا بلکہ کوئی اور چیز بیچی تھی جو سوداگری کی نہ تھی جیسے پہننے کے کپڑے بیچ ڈالے یا گھرہستی کا اسباب بیچ دیا یا اس کی قیمت باقی ہے اور اتنی ہے جتنی میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے پھر وہ قیمت کئی برس کے بعد وصول ہو تو سب برسوں کی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور اگر سب ایک دفعہ کر کے نہ وصول ہو بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے ملے تو جب تک اتنی رقم نہ وصول ہو جائے جو نرخ بازار سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ہو تب تک زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ جب مذکورہ رقم وصول ہو تو سب برسوں کی زکوٰۃ کا حساب ملنے کے دن سے ہے پچھلے برسوں کی زکوٰۃ واجب نہیں بلکہ اگر اب اس کے پاس رکھا رہے اور اس پر سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی نہیں تو واجب نہیں۔
مسئلہ۔ اگر کوئی مالدار آدمی جس پر زکوٰۃ واجب ہے سال گزرنے سے پہلے ہی زکوٰۃ دے دے اور سال کے پورے ہونے کا انتظار نہ کرے تو یہ بھی جائز ہے اور زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے اور اگر مالدار نہیں ہے بلکہ کہیں سے مال ملنے کی امید تھی اس امید پر مال ملنے سے پہلے ہی زکوٰۃ دے دی تو یہ زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ جب مال مل جائے اور اس پر سال گزر جائے تو پھر زکوٰۃ دینا چاہیے۔
مسئلہ۔ مالدار آدمی اگر کئی سال کی زکوٰۃ پیشگی دے دے یہ بھی جائز ہے لیکن اگر کسی سال مال بڑھ گیا تو بڑھتی کی زکوٰۃ پھر دینا پڑے گی۔
مسئلہ۔ کسی کے پاس سو روپے ضرورت سے زیادہ رکھے ہوئے ہیں اور سو روپے کہیں اور سے ملنے کی امید ہے اس نے پورے دو سو روپے کی زکوٰۃ سال پورا ہونے سے پہلے پیشگی دے دی یہ بھی درست ہے لیکن اگر ختم سال پر روپیہ نصاب سے کم ہو گیا تو زکوٰۃ معاف ہو گئی اور وہ دیا ہوا صدقہ نافلہ ہو گیا۔
مسئلہ۔ کسی کے مال پر پورا سال گزر گیا لیکن ابھی زکوٰۃ نہیں نکالی تھی کہ سارا مال چوری ہو گیا یا اور کسی طرح سے جاتا رہا تو زکوٰۃ بھی معاف ہو گئی۔ اگر خود اپنا مال کسی کو دے دیا یا اور کسی طرح اپنے اختیار سے ہلاک کر ڈالا تو جتنی زکوٰۃ واجب ہوئی تھی وہ معاف نہیں ہوئی بلکہ دینا پڑے گی۔
مسئلہ۔ سال پورا ہونے کے بعد کسی نے اپنا سارا مال خیرات کر دیا تب بھی زکوٰۃ معاف ہو گئی۔
مسئلہ۔ کسی کے پاس دو سو روپے تھے ایک سال کے بعد اس میں سے ایک سو چوری ہو گئے یا ایک سو روپے خیرات کر دیئے تو ایک سو کی زکوٰۃ معاف ہو گئی فقط ایک سو کی زکوٰۃ دینا پڑے گی۔

زکوٰۃ کے ادا کرنے کا بیان

مسئلہ۔ جب مال پر پورا سال گزر جائے تو فورا زکوٰۃ ادا کر دے نیک کام میں دیر لگانا اچھا نہیں کہ شاید اچانک موت آ جائے اور یہ مواخذہ اپنی گردن پر رہ جائے اگر سال گزرنے پر زکوٰۃ ادا نہیں کی یہاں تک کہ دوسرا سال بھی گزر گیا تو گنہگار ہوئی اب بھی توبہ کر کے دونوں سال کی زکوٰۃ دے دے غرض عمر بھر میں کبھی نہ کبھی ضرور دے دے باقی نہ رکھے۔
مسئلہ۔ جتنا مال ہے اس کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ میں دینا واجب ہے یعنی سو روپے میں ڈھائی روپے اور چالیس روپے میں ایک روپیہ۔
مسئلہ۔ جس وقت زکوٰۃ کا روپیہ کسی غریب کو دے دے اس وقت اپنے دل میں اتنا ضرور خیال کر لے کہ میں زکوٰۃ میں دیتی ہوں اگر یہ نیت نہیں کہ یوں ہی دے دیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی پھر سے دینا چاہیے اور جتنا دیا ہے اس کا ثواب الگ ملے گا۔
مسئلہ۔ اگر فقیر کو دیتے وقت یہ نیت نہیں کی تو جب تک وہ مال فقیر کے پاس رہے اس وقت تک یہ نیت کر لینا درست ہے اب نیت کر لینے سے بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ البتہ جب فقیر نے خرچ کر ڈالا اس وقت نیت کرنے کا اعتبار نہیں ہے اب پھر سے زکوٰۃ دے۔
مسئلہ۔ کسی نے زکوٰۃ کی نیت سے دو روپے نکال کر الگ رکھ لیے کہ جب کوئی مستحق ملے گا اس کو دے دوں گی پھر جب فقیر کو دے دیا اس وقت زکوٰۃ کی نیت کرنا بھول گئی تو بھی زکوٰۃ ادا ہو گئی۔ البتہ زکوٰۃ کی نیت سے نکال کر الگ نہ رکھتی تو ادا نہ ہوتی۔
مسئلہ۔ کسی نے زکوٰۃ کے روپے نکالے تو اختیار ہے چاہے ایک ہی کو سب دے دے یا تھوڑا تھوڑا کر کے کئی غریبوں کو دے اور چاہے اسی دن سب دے یا تھوڑا تھوڑا کر کے کئی مہینے میں دے۔
مسئلہ۔ بہتر یہ ہے کہ ایک غریب کو کم سے کم اتنا دے دے کہ اس دن کے لیے کافی ہو جائے کسی اور سے مانگنا نہ پڑے۔
مسئلہ۔ ایک ہی فقیر کو اتنا مال دے دینا جتنے مال کے ہونے سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے مکروہ ہے لیکن اگر دے دیا تو زکوٰۃ ادا ہو گئی اور اس سے کم دینا جائز ہے مکروہ بھی نہیں۔
مسئلہ۔ کوئی عورت قرض مانگنے آئی اور یہ معلوم ہے کہ وہ اتنی تنگدست اور مفلس ہے کہ کبھی ادا نہ کر سکے گی یا ایسی نا دہندہ ہے کہ قرض لے کر کبھی ادا نہیں کرتی اس کو قرض کے نام سے زکوٰۃ کا روپیہ پیسہ دے دیا اور اپنے دل میں سوچ لیا کہ میں زکوٰۃ دیتی ہوں تو زکوٰۃ ادا ہو گئی اگرچہ وہ اپنے دل میں یہی سمجھے کہ مجھے قرض دیا ہے۔
مسئلہ۔ اگر کسی کو انعام کے نام سے کچھ دیا مگر دل میں یہی نیت ہے کہ میں زکوٰۃ دیتی ہوں تب بھی زکوٰۃ ادا ہو گئی۔
مسئلہ۔ کسی غریب آدمی پر تمہارے دس روپے قرض ہیںل اور تمہارے مال کی زکوٰۃ بھی دس روپے یا اس سے زیادہ ہے اس کو اپنا قرض زکوٰۃ کی نیت سے معاف کر دیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی البتہ اس کو دس روپے زکوٰۃ کی نیت سے دے دو تو زکوٰۃ ادا ہو گئی اب یہی روپے اپنے قرض میں اس سے لے لینا درست ہیں۔
مسئلہ۔ کسی کے پاس چاندی کا اتنا زیور ہے کہ حساب س تین تولہ چاندی زکوٰۃ کی ہوتی ہے اور بازار میں تین تولہ چاندی دو روپے بکتی ہے تو زکوٰۃ میں دو روپے چاندی کے دے دینا درست نہیں کیونکہ دو روپے کا وزن تنت تولہ نہیں ہوتا اور چاندی کی زکوٰۃ میں جب چاندی دی جائے تو وزن کا اعتبار ہوتا ہے قیمت کا اعتبار نہیں ہوتا۔ ہاں اس صورت میں اگر دو روپے کا سونا خرید کر کے دے دیا یا دو روپے گلٹ کے یا دو روپے کے پیسے یا دو روپے کی گلٹ کی ریزگاری یا دو روپے کا کپڑا یا اور کوئی چیز دے دی یا خود تین تولہ چاندی دے دی تو درست ہے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔
مسئلہ۔ زکوٰۃ کا روپیہ خود نہیں دیا بلکہ کسی اور کو دے دیا کہ تم کسی کو دے دینا یہ بھی جائز ہے اب وہ شخص دیتے وقت اگر زکوٰۃ کی نیت نہ بھی کرے تب بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔
مسئلہ۔ کسی غریب کو دینے کے لیے تم نے دو روپے کسی کو دیئے لیکن اس نے بعینہ وہی دو روپے فقیر کو نہیں دیئے جو تم نے دیئے تھے بلکہ اپنے پاس سے دو روپے تمہاری طرف سے دے دیئے اور یہ خیال کیا کہ وہ روپے میں لے لوں گا تب بھی زکوٰۃ ادا ہو گئی بشرطیکہ تمہارے روپے اس کے پاس موجود ہوں اور اب وہ شخص اپنے دور روپے کے بدلے میں تمہارے وہ دونوں روپے لے لیوے البتہ اگر تمہارے دیئے ہوئے روپے اس نے پہلے خرچ کر ڈالے اس کے بعد اپنے روپے غریب کو دیئے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی یا تمہارے روپے اس کے پاس رکھے تو ہیں لیکن اپنے روپے دیتے وقت یہ نیت نہ تھی کہ میں وہ روپے لے لوں گا تب بھی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔ اب وہ دونوں روپے پھر زکوٰۃ میں دے دے۔
مسئلہ۔ اگر تم نے روپے نہیں دیئے لیکن اتنا کہہ دیا کہ تم ہماری طرف سے زکوٰۃ دے دینا اس لیے اس نے تمہاری طرف سے زکوٰۃ دے دی تو ادا ہو گئی اور جتنا اس نے تمہاری طرف سے دیا ہے اب تم سےلے لیوے۔
مسئلہ۔ اگر تم نے کسی سے کچھ نہیں کہا اس نے بلا تمہاری اجازت کے تمہاری طرف سے زکوٰۃ دے دی تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی اب اگر تم منظور بھی کر لو تب بھی درست نہیں اور جتنا تمہاری طرف سے دیا ہے تم سے وصول کرنے کا اس کو حق نہیں۔
مسئلہ۔ تم نے ایک شخص کو اپنی زکوٰۃ دینے کے لیے دو روپے دیئے تو اس کو اختیار ہے چاہے خود کسی غریب کو دے دے یا کسی اور کے سپرد کر دے کہ تم یہ روپیہ زکوٰۃ میں دے دینا اور نام کا بتلانا ضروری نہیں ہے کہ فلانی کی طرف سے یہ زکوٰۃ دینا۔ اور وہ شخص وہ روپیہ اگر اپنے کسی رشتہ دار یا ماں باپ کو غریب دیکھ کر دے دے تو بھی درست ہے۔ لیکن اگر وہ خود غریب ہو تو آپ ہی لے لینا درست نہیں۔ البتہ اگر تم نے یہ کہہ دیا ہو کہ جو چاہے کرو اور جسے چاہے دے دو تو آپ بھی لے لینا درست ہے۔

پیداوار کی زکوٰۃ کا بیان


مسئلہ۔ کوئی شہر کافروں کے قبضہ میں تھا وہی لوگ وہاں رہتے سہتے تھے پھر مسلمان ان پر چڑھ آئے اور لڑ کر وہ شہر ان سے چھین لیا اور وہاں دین اسلام پھیلایا اور مسلمان بادشاہ نے کافروں سے لے کر شہر کی ساری زمین ان ہی مسلمانوں کو بانٹ دی تو ایسی زمین کو شرع میں عشری کہتے ہیں اور اگر اس شہر کے رہنے والے لوگ سب کے سب اپنی خوشی سے مسلمان ہو گئے لڑنے کی ضرورت نہیں پڑی تب بھی اس شہر کی سب زمین عشری کہلائے گی اور عرب کے ملک کی بھی ساری زمین عشری ہے۔
مسئلہ۔ اگر کسی کے باپ دادا سے یہی عشری زمین برابر چلی آتی ہو یا کسی ایسے مسلمان سے خریدی جس کے پاس اسی طرح چلی آتی ہو تو ایسی زمین میں جو کچھ پیدا ہوا اس میں بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ اور طریقہ اس کا یہ ہے کہ اگر کھیت کو سینچنا نہ پڑھے فقط بارش کے پانی سے پیداوار ہو گئی یا ندی اور دریا کے کنارے پر ترائی میں کوئی چیز بوئی اور بے سنچے پیدا ہو گئی تو ایسے کھیت میں جتنا پیدا ہوا ہے اس کا دسواں حصہ خیرات کر دینا واجب ہے یعنی دس من میں ایک من اور دس سیر میں ایک سیر اور اگر کھیت کو پرچلا کر کے یا کسی اور طریق سے سینچا ہے تو پیداوار کا بیسواں حصہ خیرات کرے یعنی بیس من میں ایک من اور بیس سیر میں ایک سیر اور یہی حکم ہے باغ کا ایسی زمین میں کتنی ہی تھوڑی چیز پیدا ہوئی ہو بہرحال یہ صدقہ خیرات کرنا واجب ہے کم اور زیادہ ہونے میں کچھ فرق نہیں ہے۔
مسئلہ۔ اناج ساگ ترکاری میوہ پھل پھول وغیرہ جو کچھ پیدا ہو سب کا یہی حکم ہے۔
مسئلہ۔ عشری زمین یا پہاڑ یا جنگل سے اگر شہد نکالا تو اس میں بھی یہ صدقہ واجب ہے۔
مسئلہ۔ کسی نے اپنے گھر کے اندر کوئی درخت لگایا یا کوئی چیز ترکاری کی قسم سے ہے اور کچھ بویا اور اس میں پھل آیا تو اس میں یہ صدقہ واجب نہیں ہے۔
مسئلہ۔ اگر عشری زمین کوئی کافر خرید لے تو وہ عشری نہیں رہتی پھر اگر اس سے مسلمان بھی خرید  لے یا کسی اور طور پر اس کو مل جائے تب بھی وہ عشری نہ ہو گی۔
مسئلہ۔ یہ بات کہ یہ دسواں یا بیسواں حصہ کس کے ذمہ ہے یعنی زمین کے مالک پر ہے یا پیداوار کے مالک پر ہے۔ اس میں بڑا عالموں کا اختلاف ہے مگر ہم آسانی کے واسطے یہی بتلایا کرتے ہیں کہ پیداوار والے کے ذمہ ہے۔ سو اگر کھیت ٹھیکہ پر ہو خواہ نقد پر یا غلہ پر تو کسان کے ذمہ ہو گا اور اگر کھیت بٹائی پر ہو تو زمیندار اور کسان دونوں اپنے اپنے حصہ کا دیں۔

جن لوگوں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے ان کا بیان

مسئلہ۔ جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا یا اتنی ہی قیمت کا سوداگری کا اسباب ہو اس کو شریعت میں مالدار کہتے ہیں ایسے شخص کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں اور اس کو زکوٰۃ کا پیسہ لینا اور کھانا بھی حلال نہیں۔ اسی طرح جس کے پاس اتنی ہی قیمت کا کوئی مال ہو جو سوداگری کا اسباب تو نہیں لیکن ضرورت سے زائد ہے وہ بھی مالدار ہے ایسے شخص کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں اگرچہ خود اس قسم کے مالدار پر زکوٰۃ بھی واجب نہیں۔
مسئلہ۔ اور جس کے پاس اتنا مال نہیں بلکہ تھوڑا مال ہے یا کچھ بھی نہیں یعنی ایک دن کے گزارہ کے موافق بھی نہیں اس کو غریب کہتے ہیں ایسے لوگوں کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اور ان لوگوں کو لینا بھی درست ہے۔
مسئلہ۔ بڑی بڑی دیگیں اور بڑے بڑے فرش فروش اور شامیانے جن کی برسوں میں ایک آدھ دفعہ کہیں شادی بیاہ میں ضرورت پڑتی ہے اور روزہ مرہ ان کی ضرورت نہیں ہوتی وہ ضروری اسباب میں داخل نہیں۔
مسئلہ۔ رہنے کا گھر اور پہننے کے کپڑے اور کام کاج کے لیے نوکر چاکر اور گھر کی گھرستی جو اکثر کام میں رہتی ہے یہ سب ضروری اسباب میں داخل ہیں اس کے ہونے سے مالدار نہیں ہو گی چاہے جتنی قیمت کی ہو اس لیے اس کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اسی طرح پڑھے ہوئے آدمی کے پاس اس کی سمجھ اور برتاؤ کی کتابیں بھی ضروری اسباب میں داخل ہیں۔
مسئلہ۔ کسی کے پاس دس پانچ مکان ہیں جن کو کرایہ پر چلاتی ہے اور اس کی آمدنی سے گزر کرتی ہے یا ایک آدھ گاؤں ہے جس کی آمدنی آتی ہے لیکن بال بچے اور گھر میں کھانے پینے والے لوگ اتنے زیادہ ہیں کہ اچھی طرح بسر نہیں ہوتی اور تنگی رہتی ہے اور اس کے پاس کوئی ایسا مال بھی نہیں جس میں زکوٰۃ واجب ہو تو ایسے شخص کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔
مسئلہ۔ کسی کے پاس ہزار روپے نقد موجود ہیں لیکن وہ پورے ہزار روپے کا یا اس سے بھی زائد کا قرض دار ہے تو اس کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اور اگر قرضہ ہزار روپے سے کم ہو تو دیکھو قرضہ دے کر کتنے روپے بچتے ہیں اگر اتنے بچیں جتنے میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اس کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں اور اور اگر اس سے کم بچیں تو دنیا درست ہے۔
مسئلہ۔ ایک شخص اپنے گھر کا بڑا مالدار ہے لیکن کہیں سفر میں ایسا اتفاق ہوا کہ اس کے پاس کچھ خرچ نہیں رہا سارا مال چوری ہو گیا اور کوئی وجہ ایسی ہوئی کہ اب گھر تک پہنچنے کا بھی خرچ نہیں ہے ایسے شخص کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔ ایسے ہی اگر حاجی کے پاس راستے میں خرچ مک گیا اور اس کے گھر میں بہت مال و دولت ہے اس کو بھی دینا درست ہے۔
مسئلہ۔ زکوٰۃ کا پیسہ کسی کافر کو دینا درست نہیں مسلمان ہی کو دے۔ اور زکوٰۃ اور عشر اور صدقہ فطر اور نذر اور کفارہ کے سوا اور خیر خیرات کافر کو بھی دینا درست ہے۔
مسئلہ۔ زکوٰۃ کا پیسہ کسی کافر کو دینا درست نہیں مسلمان ہی کو دے دے۔ اور زکوٰۃ اور عشر اور صدقہ فطر اور نذر اور کفارہ کے سوا اور خیر خیرات کافر کو بھی دینا درست ہے۔
مسئلہ۔ زکوٰۃ کے پیسہ سے مسجد بنوانا یا کسی لا وارث مردہ کا گور و کفن کر دینا یا مردے کی طرف سے اس کا قرضہ ادا کر دینا یا کسی اور نیک کام میں لگا دینا درست نہیں جب تک کسی مستحق کو دے نہ دیا جائے زکوٰۃ ادا نہ ہو گی۔
مسئلہ۔ اپنی زکوٰۃ کا پیسہ اپنے ماں باپ دادا دادی نانا نانی پر دادا وغیرہ جن لوگوں سے یہ پیدا ہوئی ہے ان کو دینا درست نہیں ہے۔ اسی طرح اپنی اولاد اور پوتے پڑپوتے نواسے وغیرہ جو لوگ اس کی اولاد میں داخل ہیں ان کو بھی دینا درست نہیں۔ ایسے ہی بی بی اپنے میاں کو اور میاں بی بی کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔
مسئلہ۔ ان رشتہ داروں کے سوا سب کو زکوٰۃ دینا درست ہے۔ جیسے بھائی بہن بھتیجی بھانجی چچا پھوپی خالہ ماموں سوتلی ماں سوتیلا باپ سوتیلا دادا ساس خسر وغیرہ سب کو دینا درست ہے۔
مسئلہ۔ نابالغ لڑکے کا باپ اگر مالدار ہو تو اس کو زکوٰۃ دینا درست نہیں اور اگر لڑکا لڑکی بالغ ہو گئے اور خود وہ مالدار نہیں لیکن ان کا باپ مالدار ہے تو ان کو دینا درست ہے۔
مسئلہ۔ اگر چھوٹے بچے کا باپ تو مالدار نہیں لیکن ماں مالدار ہے تو اس بچے کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔
مسئلہ۔ سیدوں کو اور علویوں کو اسی طرح جو حضرت عباس کی یا حضرت جعفر کی یا حضرت عقیل یا حضرت حارث بن عبدالمطلب کی اولاد میں ہوں ان کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں اسی طرح جو صدقہ شریعت سے واجب ہو اس کا دینا بھی درست نہیں جیسے نذر کفارہ عشر صدقہ فطر اور اس کے سوا اور کسی صدقہ خیرات کا دینا درست ہے۔
مسئلہ۔ گھر کے نوکر چاکر خدمت گار ماما دائی کھلائی وغیرہ کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے لیکن ان کی تنخواہ میں نہ حساب کرے بلکہ تنخواہ سے زائد بطور انعام اکرام کے دے دے اور دل میں زکوٰۃ دینے کی نیت رکھے تو درست ہے۔
مسئلہ۔ جس لڑکے کو تم نے دودھ پلایا ہے اس کو اور جس نے بچپن میں تم کو دودھ پلایا ہے اس کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے۔
مسئلہ۔ ایک عورت کا مہر ہزار روپیہ ہے لیکن اس کا شوہر بہت غریب ہے کہ ادا نہیں کر سکتا تو ایسی عورت کو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اور اگر اس کا شوہر امیر ہے لیکن مہر دیتا نہیں یا اس نے اپنا مہر معاف کر دیا تو بھی زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست ہے اور اگر یہ امید ہے کہ جب مانگوں گی تو وہ ادا کر دے گا کچھ تامل نہ کرے گا تو ایسی عورت کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا درست نہیں۔
مسئلہ۔ ایک شخص کو مستحق سمجھ کر زکوٰۃ دے دی پھر معلوم ہوا کہ وہ تو مالدار ہے یا سید ہے یا اندھیاری رات میں کسی کو دے دیا پھر معلوم ہوا کہ وہ تو میری ماں تھی یا میری لڑکی تھی یا اور کوئی ایسا رشتہ دار ہے جس کو زکوٰۃ دینا درست نہیں تو ان سب صورتوں میں زکوٰۃ ادا ہو گئی دوبارہ ادا کرنا واجب نہیں لیکن لینے والے کو اگر معلوم ہو جائے کہ یہ زکوٰۃ کا پیسہ ہے اور میں زکوٰۃ لنیے کا مستحق نہیں ہوں تو نہ لے اور پھرا دے۔ اور اگر دینے کے بعد معلوم ہوا کہ جس کو دیا ہے وہ کافر ہے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی پھر ادا کرے۔
مسئلہ۔ اگر کسی پر شبہ ہو کہ معلوم نہیں مالدار ہے یا محتاج ہے تو جب تک تحقیق نہ ہو جائے اس کو زکوٰۃ نہ دے۔ اگر بے تحقیق کیے دے دیا تو دیکھو دل زیادہ کدھر جاتا ہے اگر دل یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ فقیر ہے تو زکوٰۃ ادا ہو گئی اور اگر دل یہ کہے کہ وہ مالدار ہے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی پھر سے دے۔ لیکن اگر دینے کے بعد معلوم ہو جائے کہ وہ غریب ہی ہے تو پھر زکوٰۃ ادا ہو گئی۔
مسئلہ۔ زکوٰۃ کے دینے میں اور زکوٰۃ کے سوا اور صدقہ خیرات میں سب سے زیادہ اپنے رشتہ ناتہ کے لوگوں کا خیال رکھو کہ پہلے ان ہی لوگوں کو دو لیکن ان کو یہ نہ بتاؤ کہ یہ زکوٰۃ یا صدقہ اور خیرات کی چیز ہے تاکہ وہ برا نہ مانیں۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ قرابت والوں کو خیرات دینے سے دہرا ثواب ملتا ہے۔ ایک تو خیرات کا دوسرا اپنے عزیزوں کے ساتھ سلوک و احسان کرنے کا پھر جو کچھ ان سے بچے وہ اور لوگوں کو دو۔
مسئلہ۔ ایک شہر کی زکوٰۃ دوسرے شہر میں بھیجنا مکروہ ہے ہاں اگر دوسرے شہر میں اس کے رشتہ دار رہتے ہوں ان کو بھیج دیا یا یہاں والوں کے اعتبار سے وہاں کے لوگ زیادہ محتاج ہیں یا وہ لوگ دین کے کام میں لگے ہیں ان کو بھیج دیا تو مکروہ نہیں کہ طالب علموں اور دیندار عالموں کو دینا بڑا ثواب ہے۔

صدقہ فطر کا بیان


مسئلہ۔ جو مسلمان اتنا مالدار ہو کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہو یا اس پر زکوٰۃ تو واجب نہیں لیکن ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال و اسباب ہے جتنی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہو تو اس پر عید کے دن صدقہ دینا واجب ہے چاہے وہ سوداگری کا مال ہو یا سوداگری کا نہ ہو اور چاہے سال پورا گذر چکا ہو یا نہ گذرا ہو اور اس صدقہ کو شرع میں صدقہ فطر کہتے ہیں۔
مسئلہ۔ کسی کے پاس رہنے کا بڑا بھاری گھر ہے کہ اگر بیچا جائے تو ہزار پانسو کا بکے اور پہننے کے بڑے قیمتی قیمتی کپڑے ہیں مگر ان میں گوٹہ لچکا نہیں اور خدمت کے لیے دو چار خدمت گار ہیں۔ گھر میں ہزار پانسو کا ضروری اسباب بھی ہے مگر زیور نہیں اور وہ سب کام میں آیا کرتا ہے یا کچھ اسباب ضرورت سے زیادہ بھی ہے اور کچھ گوٹہ لچکہ اور زیور بھی ہے لیکن وہ اتنا نہیں جتنے پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو ایسے پر صدقہ فطر واجب نہیں ہے۔
مسئلہ۔ کسی کے دو گھر ہیں ایک میں خود رہتی ہے اور ایک خالی پڑا ہے یا کرایہ پر دے دیا ہے تو یہ دوسرا مکان ضرورت سے زائد ہے اگر اس کی قیمت اتنی ہو جتنی پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اس پر صدقہ فطر واجب ہے اور ایسے کو زکوٰۃ کا پیسہ دینا بھی جائز نہیں۔ البتہ اگر اسی پر اس کا گذارا ہو تو یہ مکان بھی ضروری اسباب میں داخل ہو جائے گا اور اس پر صدقہ فطر واجب نہ ہو گا اور زکوٰۃ کا پیسہ لینا اور دینا بھی درست ہو گا۔ خلاصہ یہ ہوا کہ جس کو زکوٰۃ اور صدقہ واجبہ لینا درست ہے اس پر صدقہ فطر واجب نہیں اور جس کو صدقہ اور زکوٰۃ کا لینا درست نہیں اس پر صدقہ فطر واجب ہے۔
مسئلہ۔ کسی کے پاس ضروری اسباب سے زائد مال اسباب ہے لیکن وہ قرض دار بھی ہے تو قرضہ مجرا کر کے دیکھو کیا بچتا ہے اگر اتنی قیمت کا اسباب بچ رہے جتنے میں زکوٰۃ یا صدقہ واجب ہو جائے تو صدقہ فطر واجب ہے اور اگر اس سے کم بچے تو واجب نہیں۔

قربانی کا بیان

قربانی کا بڑا ثواب ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اللہ تعالی کو پسند نہیں ان دونوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے اور قربانی کرتے وقت یعنی ذبح کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اللہ تعالی کے پاس مقبول ہو جاتا ہے تو خوب خوشی سے اور خوب دل کھول کر قربانی کیا کرو اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قربانی کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ہر ہر بال کے بدلے میں ایک ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ سبحان اللہ بھلا سوچو تو کہ اس سے بڑھ کر اور کیا ثواب ہو گا کہ ایک قربانی کرنے سے ہزاروں لاکھوں نیکیاں مل جاتی ہیں۔ بھیڑ کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں اگر کوئی صبح سے شام تک گنے تب بھی نہ گن پائے۔ پس سوچو تو کتنی نیکیاں ہوئیں بڑی دینداری کی بات تو یہ ہے کہ اگر کسی پر قربانی کرنا واجب بھی نہ ہو تب بھی اتنے بے حساب ثواب کے لالچ سے قربانی کر دنا چاہیے کہ جب یہ دن چلے جائیں تو یہ دولت کہاں نصیب ہو گئی اور اتنی آسانی سے اتنی نیکیاں کیسے کما سکے گی اور اگر اللہ نے مالدار اور امیر بنایا ہو تو مناسب ہے کہ جہاں اپنی طرف سے قربانی کرے جو رشتہ دار مر گئے ہیں جیسے ماں باپ وغیرہ ان کی طرف سے بھی قربانی کر دے کہ ان کی رو کو اتنا بڑا ثواب پہنچ جائے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آپ کی بیبیوں کی طرف سے اپنے پیر وغیرہ کی طرف سے کر دے اور نہیں تو کم سے کم اتنا تو ضرور کرے کہ اپنی طرف سے قربانی کرے کیونکہ مالدار پر تو واجب ہے جس کے پاس مال و دولت سب کچھ موجود ہے اور قربانی کرنا اس پر واجب ہے پھر بھی اس نے قربانی نہ کی اس سے بڑھ کر بدنصیب اور محروم اور کون ہو گا اور گناہ رہا سو الگ۔ جب قربانی کا جانور قبلہ رخ لٹا دے تو پہلے یہ دعا پڑھے۔
انی وجہت وجہی للذی فطر السموات والارض حنیفا وما انا من المشرکین ان صلوتی ونسلی ومحیای وممانی للہ رب العلمین لا شریک لہ وبذلک امرت وانا من المسلمین اللہم منک ولک پھر بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کرے اور ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے۔ اللہم تقبلہ منی کما تقبلت من حبیبک محمد وخلیلک ابراہیم علیہما الصلوۃ والسلام۔
مسئلہ۔ جس پر صدقہ فطر واجب ہے اس پر بقر عید کے دنوں قربانی کرنا بھی واجب ہے اور اگر اتنا مال نہ ہو جتنے کے ہونے سے صدق فطر واجب ہوتا ہے تو اس پر قربانی واجب نہیں ہے لیکن پھر بھی اگر کر دے تو بہت ثواب پائے۔
مسئلہ۔ مسافر پر قربانی واجب نہیں
مسئلہ۔ بقر عید کی دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام تک قربانی کرنے کا وقت ہے چاہے جس دن قربانی کرے لیکن قربانی کرنے کا سب سے بہتر دن عید کا دن ہے پھر گیارہویں تاریخ پھر بارہویں تاریخ۔
مسئلہ۔ بقر عید کی نماز ہونے سے پہلے قربانی کرنا درست نہیں ہے جب لوگ نماز پڑ چکیں تب کرے البتہ اگر کوئی کسی دیہات میں اور گاؤں میں رہتی ہو تو وہاں طلوع صبح صادق کے بعد بھی قربانی کر دینا درست ہے۔ شہر کے اور قصبہ میں رہنے والے نماز کے بعد کریں۔
مسئلہ۔ اگر کوئی شہر کی رہنے والی اپنی قربانی کا جانور کسی گاؤں بھیج دے تو اس کی قربانی بقر عید کی نماز سے پہلے درست ہے اگرچہ خود وہ شہر ہی میں موجود ہے۔ لیکن جب قربانی دیہات میں بھیج دے تو نماز سے پہلے قربانی کرنا درست ہو گیا۔ ذبح ہو جانے کے بعد اس کو منگوا لے اور گوشت کھائے۔
مسئلہ۔ بارہویں تاریخ سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے قربانی کرنا درست ہے جب سورج ڈوب گیا تو اب قربانی کرنا درست نہیں۔
مسئلہ۔ دسویں سے بارہویں تک جب جی چاہے قربانی کرے چاہے دن میں چاہے رات میں لیکن رات کو ذبح کرنا بہتر نہیں کہ شاید کوئی رگ نہ کٹے اور قربانی درست نہ ہو۔
مسئلہ۔ دسویں گیارہویں بارہویں تاریخ سفر میں تھی پھر بارہویں تاریخ سورج ڈوبنے سے پہلے گھرپہنچ گئی یا پندرہ دن کہیں ٹھیرنے کی نیت کر لی تو اب قربانی کرنا واجب ہو گیا اسی طرح اگر پہلے اتنا مال نہ تھا اس لیے قربانی واجب نہ تھی پھر بارہویں تاریخ سورج ڈوبنے سے پہلے کہیں سے مال مل گار تو قربانی کرنا واجب ہے۔
مسئلہ۔ اپنی قربانی کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا بہتر ہے اگر خود ذبح کرنا نہ جانتی ہو تو کسی اور سے ذبح کروا لے اور ذبح کے وقت وہاں جانور کے سامنے کھڑی ہو جانا بہتر ہے اور اگر ایسی جگہ ہے کہ پردہ کی وجہ سے سامنے نہیں کھڑی ہو سکتی تو بھی کچھ حرج نہیں۔
مسئلہ۔ قربانی کرتے وقت زبان سے نیت پڑھنا اور دعا پڑھنا ضروری نہیں ہے اگر دل میں خیال کر لیا کہ میں قربانی کرتی ہوں اور زبان سے کچھ نہیں پڑھا فقط بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کر دیا تو بھی قربانی درست ہو گئی لیکن اگر یاد ہو تو وہ دعا پڑھ لینا بہتر ہے جو اوپر بیان ہوئی۔
مسئلہ۔ قربانی فقط اپنی طرف سے کرنا واجب ہے اولاد کی طرف سے واجب نہیں بلکہ اگر نابالغ اولاد مالدار بھی ہو تب بھی اس کی طرف سے کرنا واجب نہیں نہ اپنے مال میں سے نہ اس کے مال میں سے۔ اگر کسی نے اس کی طرف سے قربانی کر دی تو نفل ہو گئی لیکن اپنے ہی مال میں سے کرے اس کے مال میں سے ہرگز نہ کرے۔
مسئلہ۔ بکری بکرا بھیڑ دنبہ گائے بیل بھنس  بھینسا اونٹ اونٹنی اتنے جانوروں کی قربانی درست ہے اور کسی جانور کی قربانی درست نہیں۔
مسئلہ۔ گائے بھینس اونٹ میں اگر سات آدمی شریک ہو کر قربانی کریں تو بھی درست ہے لیکن شرط یہ ہے کہ کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو اور سب کی نیت قربانی کرنے کی یا عقیقہ کی ہو صرف گوشت کھانے کی نیت نہ ہو۔ اگر کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم ہو گا تو کسی کی قربانی درست نہ ہو گی نہ اس کی جس کا پورا حصہ ہے نہ اس کی جس کا ساتویں سے کم ہے۔
مسئلہ۔ اگر گائے میں سات آدمیوں سے کم لوگ شریک ہوئے جیسے پانچ آدمی شریک ہوئے یا چھ آدمی شریک ہوئے اور کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہیں تب بھی سب کی قربانی درست ہے۔ اور اگر آٹھ آدمی شریک ہو گئے تو کسی کی قربانی صحیح نہیں ہوئی۔
مسئلہ۔ قربانی کے لیے کسی نے گائے خریدی اور خریدتے وقت یہ نیت کی کہ اگر کوئی اور ملے گا تواس کو بھی اس گائے میں شریک کر لیں گے اور ساجھے میں قربانی کریں گے۔ اس کے بعد کچھ اور لوگ اس گائے میں شریک ہو گئے تو یہ درست ہے۔ اور اگر خریدتے وقت اس کی نیت شریک کرنے کی نہ تھی بلکی پوری گائے اپنی طرف سے قربانی کرنے کا ارادہ تھا تو اب اس میں کسی اور کا شریک ہونا بہتر تو نہیں ہے لیکن اگر کسی کو شریک کر لیا تو دیکھنا چاہیے جس نے شریک کیا وہ امیر ہے کہ اس پر قربانی واجب ہے یا غریب ہے جس پر قربانی واجب نہیں۔ اگر امیر ہے تو درست ہے اور اگر غریب ہے تو درست نہیں۔
مسئلہ۔ اگر قربانی کا جانور کہیں گم ہو گیا اس لیے دوسرا خریدا پھر وہ پہلا بھی مل گیا۔ اگر امیر آدمی کو ایسا اتفاق ہوا تو ایک ہی جانور کی قربانی اس پر واجب ہے اور اگر غریب آدمی کو ایسا اتفاق ہوا تو دونوں جانوروں کی قربانی اس پر واجب ہو گی۔
مسئلہ۔ سات آدمی گائے میں شریک ہوئے تو گوشت بانٹتے وقت اٹکل سے نہ بانٹیں بلکہ خوب ٹھیک ٹھیک تول کر بانٹیں نہیں تو اگر کوئی حصہ زیادہ کم رہے گا تو سود ہو جائے گا۔ اور گناہ ہو گا البتہ اگر گوشت کے ساتھ کلہ پائے اور کھال کو بھی شریک کر لیا تو جس طرف کلہ پائے یا کھال ہو اس طرف اگر گوشت کم ہو درست ہے چاہے جتنا کم ہو۔ جس طرف گوشت زیادہ تھا اس طرف کلہ پائے شریک کیے تو بھی سود ہو گیا اور گنا ہوا۔
مسئلہ۔ بکری سال بھر سے کم کی درست نہیں۔ جب پورے سال بھر کی ہو تب قربانی درست ہے۔ اور گائے بھینس دو برس سے کم کی درست نہیں۔ پورے دو برس ہو چکیں تب قربانی درست ہے۔ اور اونٹ پانچ برس سے کم کا درست نہیں ہے اور دنبہ یا بھیڑ اگر اتنا موٹا تازہ ہو کہ سال بھر کا معلوم ہوتا ہو اور سال بھر والے بھیڑ دنبوں میں اگر چھوڑ دو تو کچھ فرق نہ معلوم ہوتا ہو تو ایسے وقت چھ مہینے کے دنبہ اور بھیڑ کی بھی قربانی درست ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو سال بھر کا ہونا چاہیے۔
مسئلہ۔ جو جانور اندھا ہو یا کانا ہو۔ ایک آنکھ کی تہائی روشنی یا اس سے زیادہ جاتی رہی ہو یا ایک کان تہائی یا تہائی سے زیادہ کٹ گیا۔ یا تہائی دم یا تہائی سے زیادہ کٹ گئی تو اس جانور کی قربانی درست نہیں۔
مسئلہ۔ جو جانور اتنا لنگڑا ہے کہ فقط تین پاؤں سے چلتا ہے چوتھا پاؤں رکھا ہی نہیں جاتا چوتھا پاؤں رکھتا تو ہے لیکن اس سے چل نہیں سکتا اس کی بھی قربانی درست نہیں اور اگر چلتے وقت وہ پاؤں زمین پر ٹیک کر چلتا ہے اور چلنے میں اس سے سہارا لگتا ہے لیکن لنگڑا کر کے چلتا ہے تو اس کی قربانی درست ہے۔
مسئلہ۔ اتنا دبلا بالکل مریل جانور جس کی ہڈیوں میں بالکل گودا نہ رہا ہو اس کی قربانی درست نہیں ہے اور اگر اتنا دبلا نہ ہو تو دبلے ہونے سے کچھ حرج نہیں اس کی قربانی درست ہے لیکن موٹے تازہ جانور کی قربانی کرنا زیادہ بہتر ہے۔
مسئلہ۔ جس جانور کے بالکل دانت نہ ہوں اس کی قربانی درست نہیں۔ اور اگر کچھ دانت گر گئے لیکن جتنے گرے ہیں ان سے زیادہ ہیں تو اس کی قربانی درست ہے۔
مسئلہ۔ جس جانور کی پیدائش ہی سے کان نہیں ہیں اس کی بھی قربانی درست نہیں ہے اور اگر کان تو ہیں لیکن بالکل ذرا ذرا سے چھوٹے چھوٹے ہیں تو اس کی قربانی درست ہے۔
مسئلہ۔ جس جانور کے پیدائش ہی سے سینگ نہیں یا سینگ تو تھے لیکن ٹوٹ گئے اس کی قربانی درست ہے البتہ اگر بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے تو قربانی درست نہیں۔
مسئلہ۔ خصی یعنی بدھیا بکرے اور مینڈھے وغیرہ کی قربانی درست ہے۔ جس جانور کے خارش ہو اس کی بھی قربانی درست ہے۔ البتہ اگر خارش کی وجہ سے بالکل لاغر ہو گیا ہو تو درست نہیں۔
مسئلہ۔ اگر جانور قربانی کے لیے خرید لیا تب کوئی ایسا عیب پیدا ہو گیا جس سے قربانی درست نہیں تو اس کے بدلے دوسرا جانور خرید کر کے قربان کرے۔ ہاں اگر غریب آدمی ہو جس پر قربانی کرنا واجب نہیں تو اس کے واسطے درست ہے وہی جانور قربانی کر دے۔
مسئلہ۔ قربانی کا گوشت آپ کھائے اور اپنے رشتہ ناتے کے لوگوں کو دے دے اور فقیروں محتاجوں کو خیرات کرے۔ اور بہتر یہ ہے کہ کم سے کم تہائی حصہ خیرات کرے۔ خیرات میں تہائی سے کمی نہ کرے لیکن اگر کسی نے تھوڑا ہی گوشت خیرات کیا تو بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔
مسئلہ۔ قربانی کی کھال یا تو یوں ہی خیرات کر دے اور یا بیچ کر اس کی قیمت خیرات کر دے وہ قیمت ایسے لوگوں کو دے جن کو زکوٰۃ کا پیسہ دنا درست ہے اور قیمت میں جو پیسے ملے ہیں بعینہ وہی پیسے خیرات کرنا چاہیے اگر وہ پیسے کسی کام میں خرچ کر ڈالے اور اتنے ہی پیسے اور اپنے پاس سے دے دیئے تو بری بات ہے مگر ادا ہو جائیں گے۔
مسئلہ۔ اس کھال کی قیمت کو مسجد کی مرمت یا اور کسی نیک کام میں لگانا درست نہیں۔ خیرات ہی کرنا چاہیے۔
مسئلہ۔ اگر کھال کو اپنے کام میں لائے جیسے اس کی چھلنی بنوائی یا مشک یا ڈول یا جائے نماز بنوالی یہ بھی درست ہے۔
مسئلہ۔ کچھ گوشت یا چربی یا چھیچھڑے قصائی کو مزدوری میں نہ دے بلکہ مزدوری اپنے پاس سے الگ دے۔
مسئلہ۔ قربانی کی رسی جھول وغیرہ سب چیزیں خیرات کر دی۔ مسئلہ۔ کسی پر قربانی واجب نہیں تھی لیکن اس نے قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا تو اب اس جانور کی قربانی واجب ہو گئی۔
مسئلہ۔ کسی پر قربانی واجب تھی لیکن قربانی کے تینوں دن گزر گئے اور اس نے قربانی نہیں کی تو ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت خیرات کر دے۔ اور اگر بکری خرید لی تھی وہی بکری بعینہ خیرات کر دے۔
مسئلہ۔ جس نے قربانی کرنے کی منت مانی پھر وہ کام پورا ہو گیا جس کے واسطے منت مانی تھی تو اب قربانی کرنا واجب ہے چاہے مالدار ہو یا نہ ہو اور منت کی قربانی کا سب گوشت فقیروں کو خیرات کر دے۔ نہ آپ کھائے نہ امیروں کو دے۔ جتنا آپ کھایا ہو یا امیروں کو دیا ہو اتنا پھر خیرات کرنا پڑے گا۔
مسئلہ۔ اگر اپنی خوشی سے کسی مردے کے ثواب پہنچانے کے لیے قربانی کرے تو اس گوشت میں سے خود کھانا کھلانا بانٹنا سب درست ہے جس طرح اپنی قربانی کا حکم ہے۔
مسئلہ۔ اگر کوئی مردہ وصیت کر گیا ہو کہ میرے ترکہ میں سے میری طرف سے قربانی کی جائے اور اس کی وصیت پر اس کے مال سے قربانی کی گئی تو اس قربانی کے تمام گوشت وغیرہ کا خیرات کر دینا واجب ہے۔
مسئلہ۔ اگر کوئی شخص یہاں موجود نہیں اور دوسرے شخص نے اس کی طرف سے بغیر اس کے امر کے قربانی کر دی تو یہ قربانی صحیح نہیں ہوئی اور اگر کسی جانور میں کسی غائب کا حصہ بدون اس کے امر کے تجویز کر لیا تو اور حصہ داروں کی قربانی بھی صحیح نہ ہو گی۔
مسئلہ۔ اگر کوئی جانور کسی کو حصہ پر دیا ہے تو یہ جانور اس پرورش کرنے والی کی ملک نہیں ہوا بلکہ اصل مالکہ کا ہی ہے۔ اس لیے اگر کسی نے اس پالنے والی سے خرید کر قربانی کر دی تو قربانی نہیں ہوئی۔ اگر ایسا جانور خریدنا ہو تو اصل مالک سے جس نے حصہ پر دیا ہے خرید لیں۔
مسئلہ۔ اگر ایک جانور میں کئی آدمی شریک ہیں اور وہ سب گوشت کو آپس میں تقسیم نہیں کرتے بلکہ یکجا ہی فقراء و احباب کو تقسیم کرنا یا کھانا پکا کر کھلانا چاہیں تو بھی جائز ہے اگر تقسیم کریں گے تو اس میں برابری ضروری ہے۔
مسئلہ۔ قربانی کی کھال کی قیمت کسی کو اجرت میں دینا جائز نہیں کیونکہ اس کا خیرات کرنا ضروری ہے۔
مسئلہ۔ قربانی کا گوشت کافروں کو بھی دینا جائز ہے بشرطیکہ اجرت میں نہ دیا جائے۔
مسئلہ۔ اگر کوئی جانور گابھن ہو تو اس کی قربانی جائز ہے پھر اگر بچہ زندہ نکلے تو اس کو بھی ذبح کر دے۔

عقیقے کا بیان

مسئلہ۔ جس کے کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا ہو تو بہتر ہے کہ ساتویں دن اس کا نام رکھ دے اور عقیقہ کر دے۔ عقیقہ کر دینے سے بچہ کی سب الا بلا دور ہو جاتی ہے اور فتنوں سے حفاظت رہتی ہے۔
مسئلہ۔ عقیقہ کا طریقہ یہ ہے کہ اگر لڑکا ہو تو دو بکری یا دو بھیڑ اور لڑکی ہو تو ایک بکری یا بھیڑ ذبح کرے یا قربانی کی گائے میں لڑکے کے واسطے دو حصے اور لڑکی کے واسطے ایک حصہ لے۔ اور سر کے بال منڈوا دے اور بال کے برابر چاندی یا سونا تول کر خیرات کر دے اور بچہ کے سر میں اگر دل چاہے تو زعفران لگا دے۔
مسئلہ۔ اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کرے تو جب کرے ساتویں دن ہونے کا خیال کرنا بہتر ہے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس دن بچہ پیدا ہوا ہو اس سے ایک دن پہلے عقیقہ کر دے۔ یعنی اگر جمعہ کو پیدا ہوا ہو تو جمعرات کو عقیقہ کر دے اور اگر جمعرات کو پیدا ہوا ہو تو بدھ کو کرے چاہے جب کرے وہ حساب سے ساتواں دن پڑے گا۔
مسئلہ۔ یہ جو دستور ہے کہ جس وقت بچہ کے سر پر استرا رکھا جائے اور نائی سر مونڈنا شروع کرے فورا اسی وقت بکری ذبح ہو۔ یہ محض مہمل رسم ہے۔ شریعت سے سب جائز ہے چاہے سر مونڈنے کے بعد ذبح کرے یا ذبح  کر لے تب سر مونڈے۔ بے وجہ ایسی باتیں تراش لینا برا ہے۔
مسئلہ۔ جس جانور کی قربانی جائز نہیں اس کا عقیقہ بھی درست نہیں اور جس کی قربانی درست ہے اس کا عقیقہ بھی درست ہے۔
مسئلہ۔ عقیقہ کا گوشت چاہے کچا تقسیم کرے چاہے پکا کر بانٹے چاہے دعوت کر کے کھلا دے سب درست ہے۔
مسئلہ۔ عقیقہ کا گوشت باپ دادا نانا نانی دادی وغیرہ سب کو کھانا درست ہے۔
مسئلہ۔ کسی کو زیادہ توفیق نہیں اس نے لڑکے کی طرف سے ایک ہی بکری کا عقیقہ کیا تو اس کا بھی کچھ حرج نہیں ہے۔ اور اگر بالکل عقیقہ ہی نہ کرے تو بھی کچھ حرج نہیں۔

حج کا بیان

جس شخص کے پاس ضروریات سے زائد اتنا خرچ ہو کہ سواری پر متوسط گزارن سے کھاتا پیتا چلا جائے اور حج کر کے چلا آئے اس کے ذمہ حج فرض ہو جاتا ہے اور حج کی بڑی بزرگی آئی ہے چنانچہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو حج گناہوں اور خرابیوں سے پاک ہو اس کا بدلہ بجز بہشت کے اور کچھ نہیں۔ اسی طرح عمرہ پر بھی بڑے ثواب کا وعدہ فرمایا گیا ہے چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کے دونوں گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کے میل کو دور کر دیتی ہے اور جس کے ذمہ حج فرض ہوا اور وہ نہ کرے اس کے لیے بڑی دھمکی آئی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جس شخص کے پاس کھانے پینے اور سواری کا اتنا سامان ہو جس سے وہ بیت اللہ شریف جا سکے اور پھر وہ حج نہ کرے تو وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر مرے خدا کو اس کی کچھ پرواہ نہیں۔ اور یہ بھی فرمایا ہے کہ حج کا ترک کرنا اسلام کا طریقہ نہیں ہے۔
مسئلہ۔ عمر بھر میں ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے۔ اگر کئی حج کیے تو ایک فرض ہوا اور سب نفل ہیں اور ان کا بھی بہت بڑا ثواب ہے۔
مسئلہ۔ جوانی سے پہلے لڑکپن میں اگر کوئی حج کیا ہے تو اس کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ اگر مالدار ہے تو جوان ہونے کے بعد پھر حج کرنا فرض ہے۔ اور جو حج لڑکپن میں کیا ہے وہ نفل ہے۔
مسئلہ۔ اندھی پر حج فرض نہیں ہے چاہے جتنی مالدار ہو۔
مسئلہ۔ جب کسی پر حج فرض ہو گیا تو فورا اسی سال حج کرنا واجب ہے بلا عذر دیر کرنا اور یہ خیال کرنا کہ ابھی عمر پڑی ہے پھر کسی سال حج کر لیں گے درست نہیں ہے۔ پھر دو چار برس کے بعد بھی اگر حج کر لیا تو ادا ہو گیا لیکن گنہگار ہوئی۔
مسئلہ۔ حج کرنے کے لیے راستہ میں اپنے شوہر کا یا کسی محرم کا ساتھ ہونا بھی ضروری ہے۔ بغیر اس کے حج کے لیے جانا درست نہیں ہے۔ ہاں البتہ اگر مکہ سے اتنی دور پر رہتی ہو کہ اس کے گھر سے مکہ تک تنہا منزل نہ ہو تو بے شوہر اور محرم کے ساتھ ہوئے بھی جانا درست ہے۔
مسئلہ۔ اگر وہ محرم نابالغ ہو یا ایسا بد دین ہو کہ ماں بہن وغیرہ سے بھی اس پر اطمینان نہیں تو اس کے ساتھ جانا درست نہیں۔
مسئلہ۔ جب کوئی محرم قابل اطمینان ساتھ جانے کے لیے مل جائے تو اب حج کو جانے سے شوہر کا روکنا درست نہیں ہے اگر شوہر روکے بھی تو اس کی بات نہ مانے اور چلی جائے۔
مسئلہ۔ جو لڑکی ابھی جوان نہیں ہوئی لیکن جوانی کے قریب ہو چکی ہے اس کو بھی بغیر شرعی محرم کے جانا درست نہیں اور غیر محرم کے ساتھ جانا بھی درست نہیں۔
مسئلہ۔ جو محرم اس کو حج کرانے کے لیے جائے اس کا سارا خرچ اسی پر واجب ہے کہ جو کچھ خرچ ہو دے۔
مسئلہ۔ اگر ساری عمر ایسا محرم نہ ملا جس کے ساتھ سفر کرے تو حج نہ کرنے کا گناہ نہ ہو گا۔ لیکن مرتے وقت یہ وصیت کر جانا واجب ہے کہ میری طرف سے حج کرا دینا۔ مر جانے کے بعد اس کے وارث اسی کے مال میں سے کسی آدمی کو خرچ دے کر بھیجیں کہ وہ جا کر مردہ کی طرف سے حج کرائے۔ اس سے اس کے ذمہ کا حج اتر جائے گا اور اس حج کو جو دوسرے کی طرف سے کیا جاتا ہے حج بدل کہتے ہیں۔
مسئلہ۔ اگر کسی کے ذمہ حج فرض تھا اور اس نے سستی سے دیر کر دی پھر وہ اندھی ہو گئی یا ایسی بیمار ہو گئی کہ سفر کے قابل نہ رہی تو اس کو بھی حج بدل کی وصیت کر جانا چاہیے۔ مسئلہ۔ اگر وہ اتنا مال چھوڑ کر مری ہو کہ قرض وغیرہ دے کر تہائی مال میں سے حج بدل کرا سکتے ہیں تب تو وارث پر اس کی وصیت کا پورا کرنا اور حج بدل کرانا واجب ہے۔ اور اگر مال تھوڑا ہے کہ ایک تہائی میں سے حج بدل نہیں ہو سکتا تو اس کا ولی حج نہ کرائے۔ ہاں اگر ایسا کرے کہ تہائی مال مردہ کا دے اور جتنا زیادہ لگے وہ خود دے تو البتہ حج بدل کرا سکتا ہے غرض یہ ہے کہ مردے کا تہائی مال سے زیادہ نہ دے۔ ہاں اگر اس کے سب وارث بخوشی راضی ہو جائیں کہ ہم اپنا حصہ نہ لیں گے تم حج بدل کرا دو تو تہائی مال سے زیادہ لگا دینا بھی درست ہے لیکن نابالغ وارثوں کی اجازت کا شرع میں کچھ اعتبار نہیں ہے اس لیے ان کا حصہ ہرگز نہ لے۔
مسئلہ۔ اگر وہ حج بدل کی وصیت کر کے مر گئی لیکن مال کم تھا اس لیے تہائی مال میں حج بدل نہ ہو سکا اور تہائی سے زیادہ لگانے کو وارثوں نے خوشی سے منظور نہ کیا اس لیے حج نہیں کرایا گیا تو اس بیچاری پر کوئی گناہ نہیں۔
مسئلہ۔ سب وصیتوں کا یہی حکم ہے۔ سو اگر کسی کے ذمے بہت روزے یا نمازیں قضا باقی تھیں یا زکوٰۃ باقی تھی اور وصیت کر کے مر گئی تو فقط تہائی مال سے یہ سب کچھ کیا جائے گا۔ تہائی سے زیادہ بغیر وارثوں کی دلی رضا مندی کے لگانا جائز نہیں ہے۔ اور اس کا بیان پہلے بھی ہوچکا ہے۔
مسئلہ۔ بغیر وصیت کے اس کے مال میں سے حج بدل کرانا درست نہیں ہے۔ ہاں اگر سب وارث خوشی سے منظور کر لیں تو جائز ہے۔ اور انشاء اللہ حج فرض ادا ہو جائے گا مگر نابالغ کی اجازت کا کچھ اعتبار نہیں۔
مسئلہ۔ اگر یہ عورت عدت میں ہو تو عدت چھوڑ کر حج کو جانا درست نہیں۔
مسئلہ۔ جس کے پاس مکہ آمدورفت کے لائق خرچ ہو اور مدینہ کا خرچ نہ ہو اس کے ذمہ حج فرض ہو گا بعضے آدمی سمجھتے ہیں کہ جب تک مدینہ کا بھی خرچ نہ ہو جانا فرض نہیں یہ بالکل غلط خیال ہے۔
مسئلہ۔ احرام میں عورت کو منہ ڈھانکنے میں منہ سے کپڑا لگانا درست نہیں۔ آج کل اس کام کے لیے ایسا جالی دار پنکھا بکتا ہے اس کو چہرہ پر باندھ لیا جائے اور آنکھوں کے روبرو جالی رہے۔ اس پر برقعہ پڑا رہے یہ درست ہے۔
مسئلہ۔ مسائل حج کے بدون حج کیے نہ سمجھ میں آ سکتے ہیں نہ یاد رہ سکتے ہیں۔ اور جب حج کو جاتے ہیں وہاں معلم لوگ سب بتلا دیتے ہیں۔ اس لیے لکھنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ اسی طرح عمرہ کی ترکیب بھی وہاں جا کر معلوم ہو جاتی ہے۔

زیارت مدینہ کا بیان

اگر گنجائش ہو تو حج کے بعد یا حج سے پہلے مدینہ منورہ حاضر ہو کر جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک اور مسجد نبوی کی زیارت سے برکت حاصل کرے۔ اس کی نسبت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی اس کو وہی برکت ملے گی جیسے میری زندگی میں کسی نے زیارت کی۔ اور یہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص خالی حج کر لے اور میری زیارت کو نہ آئے اس نے میرے ساتھ بڑی بے مروتی کی اور اس مسجد کے حق میں آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس میں ایک نماز پڑھے اس کو پچاس ہزار نماز کے برابر ثواب ملے گا۔ اللہ تعالی ہم سب کو یہ دولت نصیب کرے اور نیک کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

منت ماننے کا بیان

مسئلہ۔ کسی کام پر عبادت کی بات کی کوئی منت مانی پھر وہ کام پورا ہو گیا جس کے واسطے منت مانی تھی تو اب منت کا پورا کرنا واجب ہے اگر منت پوری نہ کرے گی تو بہت گناہ ہو گا لیکن اگر کوئی واہیات منت ہو جس کا شرع میں کچھ اعتبار نہیں تو اس کا پورا کرنا واجب نہیں جیسا کہ ہم آگے بیان کرتے ہیں۔
مسئلہ۔ کسی نے کہا یا اللہ اگر میرا فلانا کام ہو جائے تو پانچ روزے رکھوں گی تو جب کام ہو جائے گا پانچ روزے رکھنے پڑیں گے اور اگر کام نہیں ہوا تو نہ رکھنا پڑیں گے۔ اگر فقط اتنا ہی کہا ہے کہ پانچ روزے رکھوں گی تو اختیار ہے چاہے پانچوں روزے ایکدم سے لگاتار رکھے اور چاہے ایک ایک دو دو کر کے پورے پانچ کر لے دونوں باتیں درست ہیں اور اگر نذر کر تے وقت یہ کہہ دیا کہ پانچوں روزے لگاتار رکھوں گی یا دل میں یہ نیت تھی تو سب ایکدم رکھنے پڑیں گے اگر بیچ میں ایک آدھ چھوٹ جائے تو پھر سے رکھے۔
مسئلہ۔ اگر یوں کہا کہ جمعہ کا روزہ رکھوں گی محرم کی پہلی تاریخ سے دسویں تاریخ تک روزے رکھوں گی تو خاص جمعہ کو روزہ رکھنا واجب نہیں اور محرم کی خاص انہی تاریخوں میں روزہ رکھنا واجب نہیں جب چاہے دس روزے رکھ لے لیکن دسوں لگاتار رکھنا پڑیں گے چاہے محرم میں رکھے چاہے کسی اور مہینے میں سب جائز ہے اسی طرح اگر یہ کہا کہ اگر آج میرا یہ کام ہو جائے تو کل ہی روزہ رکھوں گی جب بھی اختیار ہو جب چاہے رکھے۔
مسئلہ۔ کسی نے نذر کرتے وقت یوں کہا محرم کے مہینے کو روزے رکھوں گی تو محرم کے پورے مہینے کے روزے لگاتار رکھنا پڑیں گے اگر بیچ میں کسی وجہ سے دس پانچ روزے چھوٹ جائیں تو اس کے بدلے اتنے روزے اور رکھ لے سارے روزے نہ دہرائے اور یہ بھی اختیار ہے کہ محرم کے مہینہ میں نہ رکھے اور مہینہ میں رکھے لیکن سب لگاتار رکھے۔
مسئلہ۔ کسی نے منت مانی کہ میری کھوئی ہوئی چیز مل جائے تو میں آٹھ رکعت نماز پڑھوں گی تو اس کے مل جانے پر آٹھ رکعت نماز پڑھنا پڑے گی چاہے ایکدم سے آٹھوں رکعتوں کی نیت باندھے یا چار چار کی نیت باندھے یا دو دو کی سب اختیار ہے اور اگر چار رکعت کی منت مانی تو چاروں ایک ہی سلام سے پڑھناہوں گی الگ الگ دو دو پڑھنے سے نذر ادا نہ ہو گی۔
مسئلہ۔ کسی نے ایک رکعت پڑھنے کی منت مانی تو پوری دو رکعتیں پڑھنی پڑیں گی اگر تین کی منت کی تو پوری چار۔ اگر پانچ کی منت کی تو پوری چھ رکعتیں پڑھے۔ اسی طرح آگے کا بھی یہی حکم ہے۔
مسئلہ۔ یوں منت مانی کہ دس روپے خیرات کروں گی یا ایک روپیہ خیرات کروں گی تو جتنا کہا ہے اتنا خیرات کرے۔ اگر یوں کہا کہ پچاس روپے خیرات کروں گی اور اس کے پاس اس وقت فقط دس ہی روپے کی کائنات ہے تو دس ہی روپے دینا پڑیں گے۔ البتہ اگر دس روپے کے سوا کچھ مال اسباب بھی ہے تو اس کی قیمت بھی لگا لیں اس کی مثال یہ سمجھو کہ دس روپے نقد ہیں اور سب مال اسباب پندرہ روپے کا ہے یہ سب پچیس روپے ہوئے تو فقط پچیس روپے خیرات کرنا واجب ہے اس سے زیادہ واجب نہیں۔
مسئلہ۔ اگر یوں منت مانی کہ دس مسکین کھلاؤں گی تو اگر دل میں کچھ خیال ہے کہ ایک وقت یا دو وقت کھلاؤں گی تب تو اسی طرح کھلا دے اور اگر کچھ خیال نہیں تو دو وقتہ دس مسکین کھلائے اور اگر کچا اناج دے تو اس میں بھی یہی بات ہے کہ اگر دل میں کچھ خیال تھا کہ اتنا اتنا ہر ایک کو دوں گی تو اسی قدر دے اور اگر کچھ خیال نہ تھا تو ہر ایک کو اتنا دے جتنا ہم نے صدقہ فطر میں بیان کیا ہے۔
مسئلہ۔ اگر یوں کہا ایک روپیہ کی روٹی فقیروں کو بانٹوں گی تو اختیار ہے چاہے ایک روپیہ کی روٹی دے چاہے ایک روپیہ کی کوئی اور چیز یا ایک روپیہ نقد دے دے۔
مسئلہ۔ کسی نے یوں کہا دس روپے خیرات کروں گی ہر فقیر کو ایک ایک روپیہ پھر دسوں روپے ایک ہی فقیر کو دے دے تو بھی جائز ہے ہر فقیر کو ایک ایک روپیہ دینا واجب نہیں۔ اگر دس روپے بیس فقیروں کو دے دیئے تو بھی جائز ہے اور اگر یوں کہا دس روپے دس فقیروں پر خیرات کروں گی تو بھی اختیار ہے چاہے دس کو دے چاہے کم زیادہ کو۔
مسئلہ۔ اگر یوں کہا دس نمازی کھلاؤں گی یا دس حافظ کھلاؤں گی تو دس فقیر کھلا دے چاہے وہ نمازی اور حافظ ہوں یا نہ ہوں۔
مسئلہ۔ کسی نے یوں کہ کہ دس روپے مکہ میں خیرات کروں گی تو مکہ میں خیرات کرنا واجب نہیں جہاں چاہے خیرات کرے۔ یا یوں کہا تھا جمعہ کے دن خیرات کروں گی فلانے فقیر کو دوں گی تو جمعہ کے دن خیرات کرنا اور اسی فقیر کو دینا ضروری نہیں اسی طرح اگر روپے مقرر کر کے کہا کہ یہی روپے اللہ تعالی کی راہ میں دوں گی تو بعینہ وہی روپے دینا واجب نہیں چاہے وہ دے یا اتنے ہی اور دے دے۔
مسئلہ۔ اسی طرح اگر منت مانی کہ جامع مسجد میں نماز پڑھوں گی یا مکہ میں نماز پڑھوں گی تو بھی اختیار ہے جہاں چاہے پڑھے۔
مسئلہ۔ کسی نے کہ اگر میرا بھائی اچھا ہو جائے تو ایک بکری ذبح کروں گی یا یوں کہا ایک بکری کا گوشت خیرات کروں گی تو منت ہو گئی اگر یوں کہا کہ قربانی کروں گی تو قربانی کے دنوں میں ذبح کرنا چاہئے اور دونوں صورتوں میں اس کا گوشت فقیروں کے سوا اور کسی کو دینا اور خود کھانا درست نہیں جتنا خود کھائے یا امیروں کو دے دے اتنا پھر خیرات کرنا پڑے گا۔
مسئلہ۔ ایک گائے قربانی کرنے کی منت مانی پھر گائے نہیں ملی تو سات بکریاں کر دے۔
مسئلہ۔ یوں منت مانی تھی کہ جب میرا بھائی آئے تو دس روپے خیرات کروں گی پھر آنے کی خبر پا کر اس نے آنے سے پہلے ہی روپے خیرات کر دیئے تو منت پوری نہیں ہوئی آنے کے بعد پھر خیرات کرے۔
مسئلہ۔ اگر ایسے کام کے ہونے پر منت مانی جس کے ہونے کو چاہتی اور تمنا کرتی ہو کہ یہ کام ہو جائے جیسے یوں کہے اگر میں اچھی ہو جاؤں تو ایسا کروں۔ اگر میرا بھائی خیریت سے آ جائے تو ایسا کروں۔ اگر میرا باپ مقدمہ سے بری ہو جائے یا نوکر ہو جائے تو ایساکروں تو جب وہ کام ہو جائے منت پوری کرے۔ اور اگر اس طرح کہا کہ اگر میں تجھ سے بولوں تو دو روزے رکھوں۔ یا یہ کہا اگر آج میں نماز نہ پڑھوں تو ایک روپیہ خیرات کروں پھر اس سے بولدی یا نماز نہ پڑھی تو اختیار ہے چاہے قسم کا کفارہ دے دے اور چاہے دو روزے رکھے اور ایک روپیہ خیرات کرے۔
مسئلہ۔ یہ منت مانی کہ ایک ہزار مرتبہ درود شریف پڑھوں گی یا ہزار مرتبہ کلمہ پڑھوں گی تو منت ہو گئی اور پڑھنا واجب ہو گیا اور اگر کہا ہزار دفعہ سبحان اللہ سبحان اللہ پڑھوں گی یا ہزار دفعہ لاحول پڑھوں گی تو منت نہیں ہوئی اور پڑھنا واجب نہیں۔
مسئلہ۔ منت مانی کہ دس کلام مجید ختم کروں گی یا ایک پارہ پڑھوں گی تو منت ہو گئی۔
مسئلہ۔ یہ منت مانی کہ اگر فلانا کام ہو جائے تو مولود پڑھواؤں گی تو منت نہیں ہوئی یا یہ منت کی کہ فلانی بات ہو جائے تو فلانے مزار پر چادر چڑھاؤں یہ منت بھی نہیں ہوئی یا شاہ عبدالحق صاحب کا توشہ مانا یا سہ منی یا سید کبیر کی گائے مانی یا مسجد میں گلگلے چڑھانے اور اللہ میاں کے طاق بھرنے کی منت مانی یا بڑے پیر کی گیارہویں کی منت مانی تو یہ منت صحیح نہیں ہوئی اس کا پورا کرنا واجب نہیں۔
مسئلہ۔ مولی مشکل کشا کا روزہ آس بی بی کا کونڈا یہ سب واہیات خرافات ہے۔ اور مشکل کشا کا روزہ ماننا شرک ہے۔
مسئلہ۔ یہ منت مانی کہ فلانی مسجد جو ٹوٹی پڑی ہے اس کو بنوا دوں گی یا فلانا پل بندھوا دوں گی تو یہ منت بھی صحیح نہیں ہے اس کے ذمہ کچھ واجب نہیں ہوا۔
مسئلہ۔ اگر یوں کہا کہ میرا بھائی اچھا ہو جائے تو ناچ کراؤں گی یا باجہ بجواؤں گی تو یہ منت گناہ ہے اچھا ہونے کے بعد ایسا کرنا جائز نہیں۔
مسئلہ۔ اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور سے منت ماننا مثلاً یوں کہنا اے بڑے پیر اگر میر اکام ہو جائے تو میں تمہاری یہ بات کروں گی یا قبروں اور مزاروں پر جانا یا جہاں جن رہتے ہوں وہاں جانا اور درخواست کرنا حرام اور شرک ہے بلکہ اس منت کی چیز کا کھانا بھی حرام ہے اور قبروں پر جانے کی عورتوں کے لیے حدیث میں ممانعت آئی ہے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔

قسم کھانے کا بیان

مسئلہ۔ بے ضرورت بات بات میں قسم کھانا بری بات ہے اس میں اللہ تعالی کے نام کی بڑی بے تعظیمی اور بے حرمتی ہوتی ہے جہاں تک ہو سکے سچی بات پر بھی قسم نہ کھانا چاہیے۔
مسئلہ۔ جس نے اللہ تعالی کی قسم کھائی اور یوں کہا اللہ قسم خدا قسم خدا کی عزت و جلال کی قسم خدا کی بزرگی اور بڑائی کی قسم تو قسم ہو گئی اب اس کے خلاف کرنا درست نہیں۔ اگر خدا کا نام نہی لیا فقط اتنا کہہ دیا میں قسم کھاتی ہوں کہ فلاں کام نہ کروں گی بھی قسم ہو گئی۔
مسئلہ۔ اگر یوں کہا خدا گواہ ہے خدا کو گواہ کر کے کہتی ہوں خدا کو حاضر و ناظر جان کے کہتی ہوں تب بھی قسم ہو گئی۔
مسئلہ۔ قرآن کی قسم کلام اللہ کی قسم کلام مجید کی قسم کھا کر کوئی بات کہی تو قسم ہو گئی اور اگر کلام مجید کو ہاتھ میں لے کر آیا اس پر ہاتھ رکھ کر کوئی بات کہی لیکن قسم نہیں کھائی تو قسم نہیں ہوئی۔
مسئلہ۔ یوں کہا اگر فلانا کام کروں تو بے ایمان ہو کر مروں مرتے وقت ایمان نہ نصیب ہو بے ایمان ہو جاؤں یا اس طرح کہا اگر فلانا کام کروں تو میں مسلمان نہیں تو قسم ہو گئی اس کے خلاف کرنے سے کفارہ دینا پڑے گا اور ایمان نہ جائے گا۔
مسئلہ۔ اگر فلانا کام کروں تو ہاتھ ٹوٹیں دے دے پھوٹیں کوڑھی ہو جائے بدن پھوٹ نکلے خدا کا غضب ٹوٹے آسمان پھٹ پڑے دانے دانے کی محتاج ہو جائے خدا کی مار پڑے خدا کی پھٹکار پڑے اگر فلانا کام کروں تو سور کھاؤں مرتے وقت کلمہ نہ نصیب ہو قیامت کے دن خدا اور رسول کے سامنے زرد رو ہوں ان باتوں سے قسم نہیں ہوتی اس کے خلاف کرنے سے کفارہ نہ دینا پڑے گا۔
مسئلہ۔ خدا کے سوا اور کسی کی قسم کھانے سے قسم نہیں ہوتی جیسے رسول اللہ کی قسم کعبہ کی قسم اپنی آنکھوں کی قسم اپنی جوانی کی قسم اپنے ہاتھ پیروں کی قسم اپنے باپ کی قسم اپنے بچے کی قسم اپنے پیاروں کی قسم تمہارے سر کی قسم تمہاری جان کی قسم تمہاری قسم اپنی قسم اس طرح قسم کھا کے پھر اس کے خلاف کرے تو کفارہ نہ دینا پڑے گا۔ لیکن اللہ تعالی کے سوا کسی اور کی قسم کھانا بڑا گناہ ہے۔ حدیث شریف میں اس کی بڑی ممانعت آئی ہے۔ اللہ کو چھوڑ کر اور کسی کی قسم کھانا شرک کی بات ہے اس سے بہت بچنا چاہیے۔
مسئلہ۔ کسی نے کہا تیرے گھر کا کھانا مجھ پر حرام ہے یا یوں کہا فلانی چیز میں نے اپنے اوپر حرام کر لی تو اس کہنے سے وہ چیز حرام نہیں ہوئی لیکن یہ قسم ہو گئی اب اگر کھائے گی تو کفارہ دینا پڑے گا۔
مسئلہ۔ کسی دوسرے کی قسم دلانے سے قسم نہیں ہوتی جیسے کسی نے تم سے کہا تمہیں خدا کی قسم یہ کام ضرور کرو تو یہ قسم نہیں ہوئی اس کے خلاف کرنا درست ہے۔
مسئلہ۔ قسم کھا کر اس کے ساتھ ہی انشاء اللہ کا لفظ کہہ دیا جیسے کوئی اس طرح کہے خدا کی قسم فلانا کام انشاء اللہ نہ کروں گی تو قسم نہیں ہوئی۔
مسئلہ۔ جو بات ہو چکی ہے اس پر جھوٹی قسم کھانا بڑا گناہ ہے جیسے کسی نے نماز نہیں پڑھی اور جب کسی نے پوچھا تو کہہ دیا خدا کی قسم میں نماز پڑھ چکی یا کسی سے گلاس ٹوٹ گیا اور جب پوچھا گیا تو کہہ دیا خدا کی قسم میں نے نہیں توڑا جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھا لی تو اس کے گناہ کی کوئی حد نہیں اور اس کا کوئی کفارہ نہیں۔ بس دن رات اللہ سے توبہ و استغفار کر کے اپنا گناہ معاف کرائے سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہو سکتا اور اگر غلطی اور دھوکہ میں جھوٹی قسم کھا لی جیسے کسی نے کہا خدا کی قسم ابھی فلانا آدمی نہیں آیا اور اپنے دل میں یقین کے ساتھ یہی سمجھتی ہے کہ سچی قسم کھا رہی ہوں پھر معلوم ہوا کہ اس وقت گیا تھا تو معاف ہے اس میں گناہ نہ ہو گا اور کچھ کفارہ بھی نہیں۔
مسئلہ۔ اگر ایسی بات پر قسم کھائی جو ابھی نہیں ہوئی بلکہ آئندہ ہو گی جیسے کوئی کہے خدا کی قسم آج پانی برسے گا خدا کی قسم آج میرا بھائی آئے گا پھر وہ نہیں آیا اور پانی نہیں برسا تو کفارہ دینا پڑے گا۔
مسئلہ۔ کسی نے قسم کھائی خدا قسم آج قرآن ضرور پڑھوں گی تو اب قرآن پڑھنا واجب ہو گیا نہ پڑھے گی تو گناہ ہو گا اور کفارہ دینا پڑے گا اور کسی نے قسم کھائی خدا کی قسم آج فلانا کام نہ کروں گی تو وہ کام کرنا درست نہیں اگر کرے گی تو قسم توڑنے کا کفارہ دینا پڑے گا۔
مسئلہ۔ کسی نے گناہ کرنے کی قسم کھائی کہ خدا قسم آج فلانے کی چیز چراؤں گی خدا قسم آج نماز نہ پڑھوں گی۔ خدا قسم اپنے ماں باپ سے کبھی نہ بولوں گی تو ایسے وقت قسم کا توڑ دینا واجب ہے توڑ کے کفارہ دے دے نہیں تو گناہ ہو گا۔
مسئلہ۔ کسی نے قسم کھائی کہ آج میں فلانی چیز نہ کھاؤں گی پھر بھولے سے کھا لی اور قسم یاد نہیں رہی یا کسی نے زبرستی منہ چیر کر کھلا دی تب بھی کفارہ دے۔
مسئلہ۔ غصہ میں قسم کھائی کہ تجھ کو کبھی ایک کوڑی نہ دوں گی پھر ایک پیسہ یا ایک روپیہ دے دیا تب بھی قسم ٹوٹ گئی کفارہ دے۔

قسم کے کفارہ کا بیان

مسئلہ۔ اگر کسی نے قسم توڑ ڈالی تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس محتاجوں کو دو وقتہ کھانا کھلائے یا کچا اناج دے اور ہر فقیر کو انگریزی تول سے آدھی چھٹانک اوپر پونے دو سیر گیہوں دینا چاہیے بلکہ احتیاطا پورے دو سیر دے دے اور اگر جو دیے تو اس کے دونے دے باقی اور سب ترکیب فقیر کھانے کی وہی ہے جو روزے کے کفارے میں بیان ہو چکی یا دس فقیروں کو کپڑا پہنا دے ہر فقیر کو اتنا بڑا کپڑا دے جس سے بدن کا زیادہ حصہ ڈھک جائے جیسے چادر یا بڑا لمبا کرتہ دے دیا تو کفارہ ادا ہو گیا۔ لیکن وہ کپڑا بہت پرانا نہ ہونا چاہیے۔ اگر ہر فقیر کو فقط ایک ایک لنگی یا فقط ایک ایک پاجامہ دے دیا تو کفارہ ادا نہیں ہوا اور اگر لنگی کے ساتھ کرتہ بھی ہو تو ادا ہو گیا۔ ان دونوں باتوں میں اختیار ہے چاہے کپڑا دے اور چاہے کھانا کھلائے ہر طرح کفارہ ادا ہو گیا۔ اور یہ حکم جو بیان ہوا جب ہے کہ مرد کو کپڑا دے اور اگر کسی غریب عورت کو کپڑا دیا تو اتنا بڑا کپڑا ہونا چاہیے کہ سارا بدن ڈھک جائے اور اس سے نماز پڑھ سکے اس سے کم ہو گا تو کفارہ ادا نہ ہو گا۔
مسئلہ۔ اگر کوئی ایسی غریب ہو کہ نہ تو کھانا کھلا سکتی ہے اور نہ کپڑا دے سکتی ہے تو لگاتار تین روزے رکھے اگر الگ الگ کر کے تین روزے پورے کر لیے تو کفارہ ادا نہیں ہوا تینوں لگاتار رکھنا چاہیے۔ اگر دو روزے رکھنے کے بعد بیچ میں کسی عذر سے ایک روزہ چھوٹ گیا تو اب پھر تینوں رکھے۔
مسئلہ۔ قسم توڑنے سے پہلے ہی کفارہ ادا کر دیا اس کے بعد قسم توڑی تو کفارہ صحیح نہیں ہوا۔ اب قسم توڑنے کے بعد پھر کفارہ دینا چاہیے اور جو کچھ فقیروں کو دے چکی ہے اس کو پھیر لینا درست نہیں۔
مسئلہ۔ کسی نے کئی دفعہ قسم کھائی جیسے ایک دفعہ کہا خدا قسم فلانا کام نہ کروں گی اس کے بعد پھر کہا خدا قسم فلانا کام نہ کروں گی۔ اسی دن یا اس کے دوسرے تیسرے دن غرض اسی طرح کئی مرتبہ کہا یا یوں کہا خدا کی قسم اللہ کی قسم کلام اللہ کی قسم فلانا کام ضرور کروں گی پھر وہ قسم توڑ دی تو ان سب قسموں کا ایک ہی کفارہ دے دے۔
مسئلہ۔ کسی کے ذمہ قسموں کے بہت کفارے جمع ہو گئے تو بقول مشہور ہر ایک کا جدا کفارہ دینا چاہیے۔ زندگی میں نہ دے تو مرتے وقت وصیت کر جانا واجب ہے۔
مسئلہ۔ کفارہ میں انہی مساکین کو کپڑا یا کھانا دینا درست ہے جن کو زکوٰۃ دینا درست ہے۔

دین سے پھر جانے کا بیان

مسئلہ۔ اگر خدانخواستہ کوئی اپنے ایمان اور دین سے پھر گئی تو تنہ دن کی مہلت دی جائے گی اور جو اس کو شبہ پڑا ہو اس شبہ کا جواب دے دیا جائے گا۔ اگر اتنی مدت میں مسلمان ہو گئی تو خیر نہیں تو ہمیشہ کے لیے قید کر دیں گے جب توبہ کرے گی تب چھوڑیں گے۔
مسئلہ۔ جب کسی نے کفر کا کلمہ زبان سے نکالا تو ایمان جاتا رہا اور جتنی نیکیاں اور عبادت اس نے کی تھی سب اکارت گئی نکاح ٹوٹ گیا۔ اگر فرض حج کر چکی ہے تو وہ بھی ٹوٹ گیا۔ اب اگر توبہ کر کے پھر مسلمان ہوئی تو اپنا نکاح پھر سے پڑھوائے اور پھر دوسرا حج کرے۔
مسئلہ۔ اسی طرح اگر کسی کا میاں توبہ توبہ بے دین ہو جائے تو بھی نکاح جاتا رہا اب وہ جب تک توبہ کر کے پھر سے نکاح نہ کرے عورت اس سے کچھ واسطہ نہ رکھے۔ اگر کوئی معاملہ میاں بی بی کا سوا تو عورت کو بھی گناہ ہو گا اور اگر وہ زبردستی کرے تو اس کو سب سے ظاہر کر دے شرمائے نہیں دین کی بات میں کیا شرم۔
مسئلہ۔ جب کفر کا کلمہ زبان سے نکالا تو ایمان جاتا رہا۔ اگر ہنسی دل لگی میں کفر کی بات کہے اور دل میں نہ ہو تب بھی یہی حکم ہے جیسے کسی نے کہا کیا خدا کو اتنی قدرت نہیں جو فلانا کام کر دے۔ اس کا جواب دیا ہاں نہیں ہے تو اس کہنے سے کافر ہو گئی۔
مسئلہ۔ کسی نے کہا اٹھو نماز پڑھو جواب دیا کون اٹھک بیٹھک کرے یا کسی نے روزہ رکھنے کو کہا تو جواب دیا کون بھوکا مرے یا کہا روزہ وہ رکھے جس کے گھر کھانا نہ ہو یہ سب کفر ہے۔
مسئلہ۔ اس کو کوئی گناہ کرتے دیکھ کر کسی نے کہا خدا سے ڈرتی نہیں جواب دیا ہاں نہیں ڈرتی تو کافر ہو گئی۔
مسئلہ۔ کسی کو برا کام کرتے دیکھ کر کہا کیا تو مسلمان نہیں ہے جو اییز بات کرتی ہے جواب دیا ہاں نہیں ہوں تو کافر ہو گئی اگر ہنسی میں کہا ہو تب بھی یہی حکم ہے۔
مسئلہ۔ کسی نے نماز پڑھنا شروع کی اتفاق سے اس پر کوئی مصیبت پڑ گی اس لیے کہا کہ یہ سب نماز ہی کی نحوست ہے تو کافر ہو گئی۔
مسئلہ۔ کسی کافر کی کوئی بات اچھی معلوم ہوئی اس لیے تمنا کر کے کہا ہم بھی کافر ہوتے تو اچھا تھا کہ ہم بھی ایسا کرتے تو کافر ہو گئی۔ مسئلہ۔ کسی کا لڑکا مر گیا اس نے یوں کہا یا اللہ یہ ظلم مجھ پر کیوں کیا مجھے کیوں ستایا تو اس کہنے سے وہ کافر ہو گئی۔ مسئلہ۔ کسی نے یوں کہا اگر خدا بھی مجھ سے کہے تو یہ کام نہ کروں۔ یا یوں کہا جبرئیل بھی اترآئیں تو ان کا کہا نہ مانوں تو کافر ہو گئی۔ مسئلہ۔ کسی نے کہا میں ایسا کام کرتی ہوں کہ خدا بھی نہیں جانتا تو کافر ہو گئی۔ مسئلہ۔ جب اللہ تعالی کی یا اس کے کسی رسول کی کچھ حقارت کی یا شریعت کی بات کو برا جانا عیب نکالا کفر کی بات پسند کی ان سب باتوں سے ایمان جاتا رہتا ہے اور کفر کی باتوں کو جن سے ایمان جاتا رہتا ہے ہم نے پہلے ہی حصہ میں سب عقیدوں کے بیان کرنے کے بعد بھی بیان کیا ہے وہاں دیکھ لینا چاہیے اور اپنے ایمان کو سنبھالنے میں بہت احتیاط کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہم سب کا ایمان ٹھیک رکھے اور ایمان ہی پر خاتمہ کرے۔ مین یا رب العالمین۔

ذبح کرنے کا بیان

مسئلہ۔ ذبح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جانور کا منہ قبلہ کی طرف کر کے تیز چھری ہاتھ میں لے کر بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کے اس کے گلے کو کاٹے یہاں تک کہ چار رگیں کٹ جائیں۔ ایک نرخرہ سے سانس لیتا ہے دوسری وہ رگ جس سے دانہ پانی جاتا ہے اور دو شہ رگیں جو نرخرہ کے دائیں بائیں ہوتی ہیں۔ اگر ان چار میں سے تین ہی رگیں کٹیں تب بھی ذبح درست ہے اس کا کھانا حلال ہے اور اگر دو ہی رگیں کٹیں تو وہ جانور مردار ہو گیا اس کا کھانا درست نہیں۔
مسئلہ۔ ذبح کے وقت بسم اللہ قصداً نہیں کہا تو وہ مردار ہے اور اس کا کھانا حرام ہے اور اگر بھول جائے تو کھانا درست ہے۔
مسئلہ۔ کند چھری سے ذبح کرنا مکروہ ہے اور منع ہے کہ اس میں جانور کو بہت تکلیف ہوتی ہے اسی طرح ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کی کھال کھینچنا ہاتھ پاؤں توڑنا کاٹنا اور ان چاروں رگوں کے کٹ جانے کے بعد بھی گلا کاٹے جانا یہ سب مکروہ ہے۔
مسئلہ۔ ذبح کرنے میں مرغی کا گلا کٹ گیا تو اس کا کھانا درست ہے مکروہ بھی نہیں البتہ اتنا زیادہ ذبح کر دینا یہ بات مکروہ ہے مرغی مکروہ نہیں ہوئی۔
مسئلہ۔ مسلمان کا ذبح کرنا بہرحال درست ہے چاہے عورت ذبح کرے یا مرد اور چاہے پاک ہو یا ناپاک ہو ہر حال میں اس کا ذبح کیا ہوا جانور کھانا حلال ہے اور کافر کا ذبح کیا ہوا جانور کھانا حرام ہے۔
مسئلہ۔ جو چیز دھار دار ہو جیسے دھار دار پتھر گنے یا بانس کا چھلکا سب سے ذبح کرنا درست ہے۔

حلال و حرام چیزوں کا بیان

مسئلہ۔ جو جانور اور جو پرندے شکار کر کے کھاتے رہتے ہیں یا ان کی غذا فقط گندگی ہے ان کا کھانا جائز نہیں جیسے شیر بھیڑ یا گیدڑ بلی کتا بندر شکرا باز گدھ وغیرہ۔ اور جو ایسے نہ ہوں جیسے طوطا مینا فاختہ چڑیا بٹیر مرغابی کبوتر نیل گائے ہرن بطخ خرگوش وغیرہ سب جائز ہیں۔
مسئلہ۔ بجو گوہ کچھوا خچر گدھا گدھی کا گوشت کھانا اور گدھی کا دودھ پینا درست نہیں۔ گھوڑے کا کھانا جائز ہے لیکن بہتر نہیں۔ دریائی جانوروں میں سے فقط مچھلی حلال ہے باقی سب حرام۔
مسئلہ۔ مچھلی اور ٹڈی بغیر ذبح کیے ہوئے بھی کھانا درست ہے ان کے سوا اور کوئی جاندار چیز بغیر ذبح کیے کھانا درست نہیں جب کوئی چیز مر گئی تو حرام ہو گئی۔
مسئلہ۔ جو مچھلی مر کر پانی کے اوپر الٹی تیرنے لگی اس کا کھانا درست نہیں۔
مسئلہ۔ اوجھڑی کھانا حلال ہے۔ حرام یا مکروہ نہیں۔
مسئلہ۔ کسی چیز میں چیونٹیاں مر گئیں تو بغیر نکالے کھانا جائز نہیں اگر ایک آدھ چیونٹی حلق میں چلی گئی تو مردار کھانے کا گناہ ہوا۔ بعضے بچے بلکہ بڑے بھی گولر کے اندر کے بھنگےسمیت گولر کھا جاتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ اس کے کھانے سے آنکھیں نہیں آتیں یہ حرام ہے۔ مردار کھانے کا گناہ ہوتا ہے۔
مسئلہ۔ جو گوشت ہندو بیچتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ میں نے مسلمان سے ذبح کرایا ہے اس سے مول لے کر کھانا درست نہیں البتہ جس وقت سے مسلمان نے ذبح کیا ہے اگر اسی وقت سے کوئی مسلمان برابر بیٹھا دیکھ رہا ہے یا وہ جانے لگا تو دوسرا کوئی اس کی جگہ بیٹھ گیا تب درست ہے۔
مسئلہ۔ جو مرغی گندی چیزیں کھاتی پھرتی ہو اس کو تین دن بند رکھ کر ذبح کرنا چاہیے بغیر بند کیے کھانا مکروہ ہے۔

نشہ کی چیزوں کا بیان

مسئلہ۔ جتنی شرابیں ہیں سب حرام اور نجس ہیں۔ تاڑی کا بھی یہی حکم ہے دوا کے لیے بھی ان کا کھانا پینا درست نہیں بلکہ جس دوا میں اییر چیز پڑی ہو اس کا لگانا بھی درست نہیں۔
مسئلہ۔ شراب کے سوا اور جتنے نشے ہیں جیسے افیون جائے چھل زعفران وغیرہ کا حکم یہ ہے کہ دوا کے لیے اتنی مقدار کھا لینا درست ہے کہ بالکل نشہ نہ آئے اور اس دوا کا لگانا بھی درست ہے جس میں یہ چیزیں پڑی ہوں اور اتنا کھانا کہ نشہ ہو جائے حرام ہے۔
مسئلہ۔ تاڑی اور شراب کے سرکہ کا کھانا درست ہے۔
مسئلہ۔ بعضی عورتیں بچوں کو افیون دے کر لٹا دیتی ہے کہ نشہ میں پڑے رہیں روئیں دھوئیں نہیں یہ حرام ہے۔

چاندی سونے کے برتنوں کا بیان

مسئلہ۔ سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا جائز نہیں بلکہ ان کی چیزوں کا کسی طرح سے استعمال کرنا درست نہیں جیسے چاندی سونے کے چمچہ سے کھانا پینا خلال سے دانت صاف کرنا گلاب پاش سے گلاب چھڑکنا سرمہ دانی سے یا سلائی سے سرمہ لگانا عطردان سے عطر لگانا خاصدان میں پان رکھنا ان کی پیالی سے تیل لگانا جس پلنگ کے پائے چاندی کے ہوں پر اس لیٹنا بیٹھنا چاندی سونے کی رسی میں منہ دیکھنا یہ سب حرام ہے۔ البتہ رسی کا زینت کے لیے پہنے رہنا درست ہے مگر منہ ہرگز نہ دیکھے غرض ان کی چیز کا کسی طرح استعمال کرنا درست نہیں۔

لباس اور پردے کا بیان

مسئلہ۔ چھوٹے لڑکوں کو کڑے ہنسلی وغیرہ کوئی زیور اور ریشمی کپڑا پہنانا مخمل پہنانا جائز نہیں اسی طرح ریشمی اور چاندی سونے کا تعویذ بنا کر پہنانا اور کسم و زعفران کا رنگا ہوا کپڑا پہنانا بھی درست نہیں۔ غرض جو چیزیں مردوں کو حرام ہیں وہ لڑکوں کو بھی نہ پہنانا چاہیے۔ البتہ اگر بانا سوت کا ہو اور تانا ریشمی ایسا کپڑا لڑکوں کو پہنانا جائز ہے۔ اسی طرح اگر کسی مخمل کا رواں ریشم کا نہ ہو وہ بھی درست ہے اور یہ سب مردوں کو بھی درست ہے اور گوٹہ لچکہ لگا کر کپڑے پہنانا بھی درست ہے لیکن وہ لچکہ چار انگل سے زیادہ چوڑا نہ ہونا چاہیے۔
مسئلہ۔ سچی کامدار ٹوپی یا کوئی کپڑا لڑکوں کو اس وقت جائز ہے جب بہت گھنا کام نہ ہو اگر اتنا زیادہ کام ہے کہ ذرا دور سے دیکھنے سے سب کام ہی کام معلوم ہوتا ہے کپڑا بالکل دکھائی نہیں دیتا تو اس کا پہنانا جائز ہیں۔ یہی حال ریشمی کام کا ہے کہ اگر اتنا گھنا ہو تو لڑکوں کو پہنانا جائز نہیں۔
مسئلہ۔ بہت باریک کپڑا جیسے ململ، جالی، بک، آب رواں ان کا پہننا اور ننگے رہنا دونوں برابر ہیں۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ بہتیری کپڑا پہننے والیاں قیامت کے دن ننگی سمجھی جائیں گی۔ اگر کرتہ دوپٹہ دونوں باریک ہوں اور بھی غضب ہے۔
مسئلہ۔ مردانہ جوتا پہننا اور مردانی صورت بنانا جائز نہیں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔
مسئلہ۔ عورتوں کو ان کے زیور پہننا جائز ہے لیکن زیادہ نہ پہننا بہتر ہے جس نے دنیا میں نہ پہنا اس کو آخرت میں ملے گا اور بجتا زیور پہننا درست نہیں جیسے جھانجھ چھاگل پازیب وغیرہ اور بجتا زیور چھوٹی لڑکیوں کو پہنانا بھی جائز نہیں چاندی سونے کے علاوہ اور کسی چیز کا زیور پہننا بھی درست ہے جسے پیتل گلٹ رانگا وغیرہ مگر انگوٹھی سونے چاندی کے علاوہ اور کسی چیز کی درست نہیں۔
مسئلہ۔ عورت کو سارا بدن سے سر پیر تک چھپائے رکھنے کا حکم ہے غیر محرم کے سامنے کھولنا درست نہیں۔ البتہ بوڑھی عورت کو صرف منہ اور ہتھیلی اور ٹخنے سے نیچے پیر کھولنا درست ہے باقی اور بدن کا کھولنا کسی طرح درست نہیں۔ ماتھے پر سے اکثر دوپٹہ سرک جاتا ہے اور اسی طرح غیر محرم کے سامنے جاتی ہیں یہ جائز نہیں۔ غیر محرم کے سامنے ایک بال بھی نہ کھولنا چاہیے بلکہ جو بال کنگھی میں ٹوٹے ہیں اور کٹے ہوئے ناخن بھی کسی ایسی جگہ ڈالے کہ کسی غیر محرم کی نگاہ نہ پڑے نہیں تو گنہگار ہو گی اسی طرح اپنے کسی بدن کو یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ کسی عضو کا نامحرم کے مرد کے بدن سے لگانا بھی درست نہیں۔
مسئلہ۔ جوان عورت کو غیر مرد کے سامنے اپنا منہ کھولنا درست نہیں۔ نہ ایسی جگہ کھڑی ہو جہاں کوئی دوسرا دیکھ سکے۔ اسی سے معلوم ہو گیا کہ نئی دلہن کا منہ دکھائی کا جو دستور ہے کہ کنبے کے سارے مرد منہ دیکھتے ہیں یہ ہرگز جائز نہیں اور بڑا گناہ ہے۔
مسئلہ۔ اپنے محرم کے سامنے منہ اور سر اور سینہ اور باہیں اور پنڈلی کھل جائے تو کچھ گناہ نہیں اور پیٹ اور پیٹھ اور ران ان کے سامنے بھی نہ کھلنا چاہیے۔
مسئلہ۔ ناف سے لے کر زانوں کے نیچے تک کسی عورت کے سامنے بھی کھولنا درست نہیں بعضی عورتیں ننگی سامنے نہاتی ہیں یہ بڑی بے غیرتی اور ناجائز بات ہے۔ چھٹی چھلے میں ننگی کر کے نہلانا اور اس پر مجبور کرنا درست نہیں۔ ناف سے زانو تک ہرگز بدن کو ننگا نہ کرنا چاہیے۔
مسئلہ۔ اگر کوئی مجبوری ہو تو ضرورت کے موافق اپنا بدن دکھلا دینا درست ہے مثلاً ران میں پھوڑا ہے تو صرف پھوڑے کی جگہ کھولو زیادہ ہرگز نہ کھولو۔ اس کی صورت یہ ہے کہ پرانا پائجامہ یا چادر پہن لو اور پھوڑے کی جگہ کاٹ دو اس کو جراح دیکھ لے۔ لیکن جراح کے سوا اور کسی کو دیکھنا جائز نہیں کسی مرد کو نہ عورت کو البتہ اگر ناف اور زانو کے درمیان نہ ہو کہیں اور ہو تو عورت کو دکھلانا درست ہے۔ اسی طرح عمل لیتے وقت صرف ضرورت کے موافق اتنا ہی بدن کھولنا درست ہے زیادہ کھولنا درست نہیں۔ یہی حکم دائی جنائی کا ہے کہ ضرورت کے وقت اس کے سامنے بدن کھولنا درست ہے لیکن جتنی ضرورت ہے اس سے زیادہ کھولنا درست نہیں۔ بچہ پیدا ہونے کے وقت یا کوئی دوا لیتے وقت فقط اتنا ہی بدن کھولنا چاہیے بالکل ننگی ہو جانا جائز نہیں اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی چادر وغیرہ بندھوا دی جائے اور ضرورت کے موافق دائی کے سامنے بدن کھول دیا جائے رانیں وغیرہ نہ کھلنے پائیں اور دائی کے سوا کسی اور کو بدن دیکھنا درست نہیں بالکل ننگی کر دینا اور ساری عورتوں کا سامنے بیٹھ کر دیکھنا حرام ہے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ستر دیکھنے والی اور دکھلانے والی دونوں پر خدا کی لعنت ہو۔ اس قسم کے مسئلوں کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔
مسئلہ۔ زمانہ حمل وغیرہ میں اگر دائی سے پیٹ ملوانا ہو تو ناف سے نیچے بدن کا کھولنا درست نہیں۔ دوپٹہ وغیرہ ڈال لینا چاہیے۔ بلا ضرورت دائی کو بھی دکھانا جائز نہیں۔ یہ دستور ہے کہ پیٹ ملتے وقت دائی بھی دیکھتی ہے اور دوسری گھر والی ماں بہن وغیرہ بھی دیکھتی ہے یہ جائز نہیں۔
مسئلہ۔ جتنے بدن کا دیکھنا جائز نہیں وہاں ہاتھ لگانا بھی جائز نہیں اس لیے نہاتے وقت اگر بدن بھی نہ کھولے تب بھی نائن وغیرہ سے رانیں ملوانا درست نہیں اگرچہ کپڑے کے اندر ہاتھ ڈال کر ملے البتہ اگر نائن اپنے ہاتھ میں کیسہ پہن کر کپڑے کے اندر ہاتھ ڈال کر ملے تو جائز ہے۔
مسئلہ۔ کافر عورتیں جیسے اہیرن تنبوان تیلن کولن دھوبن بھنگن چماری وغیرہ جو گھروں میں جاتی ہیں ان کا حکم یہ ہے کہ جتنا پردہ نامحرم مرد سے ہے اتنا ہی ان عورتوں سے بھی واجب ہے سوائے منہ اور گٹے تک ہاتھ اور ٹخنے تک پیر کے اور کسی ایک بال کا کھولنا بھی درست نہیں اس مسئلہ کو خوب یاد رکھو سب عورتیں اس کے خلاف کرتی ہیں غرض سر اور سارا ہاتھ اور پنڈلی ان کے سامنے مت کھولو اور اس سے یہ بھی سمجھ لو کہ اگر دائی جنائی ہندو یا میم ہو تو بچہ پیدا ہونے کا مقام تو اس کو دکھلانا درست ہے اور سر وغیرہ اور اعضا اس کے سامنے کھولنا درست نہیں۔
مسئلہ۔ اپنے شوہر سے کسی جگہ کا پردہ نہیں ہے تم کو اس کے سامنے اور اس کو تمہارے سامنے سارے بدن کا کھولنا درست ہے مگر بے ضرورت ایسا کرنا اچھا نہیں۔
مسئلہ۔ جس طرح خود مردوں کے سامنے آنا اور بدن کھولنا درست نہیں اسی طرح جھانک تاک کے مردوں کو دیکھنا بھی درست نہیں۔ عورتیں یوں سمجھتی ہیں کہ مرد ہم کو نہ دیکھیں ہم ان کو دیکھ لیں تو کچھ حرج نہیں یہ بالکل غلط ہے۔ کواڑ کی راہ یا کوٹھے پر سے مردوں کو دیکھنا دولہا کے سامنے جانا یا اور کسی دولہا کو دیکھنا یہ سب ناجائز ہے۔
مسئلہ۔ نامحرم کے ساتھ تنہائی کی جگہ بیٹھنا لیٹنا درست نہیں اگرچہ دونوں الگ الگ اور کچھ فاصلہ پر ہوں تب بھی جائز نہیں۔
مسئلہ۔ اپنے پیر کے سامنے نا ایسا ہی ہے جیسے کسی غیر محرم کے سامنے آنا اس لیے یہ بھی جائز نہیں۔ اسی طرح لے پالک لڑکا بالکل غیر ہوتا ہے لڑکا بنانے سے سچ مچ لڑکا نہیں بن جاتا سب کو اس سے وہی برتاؤ کرنا چاہیے جو بالکل غیروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس طرح جو نامحرم رشتہ دار ہیں جیسے دیور جیٹھ بہنوئی نندوئی چچا زاد پھوپھی زاد ماموں زاد بھائی وغیرہ یہ سب شرع میں غیر ہیں سب سے گہرا پردہ ہونا چاہیے۔
مسئلہ۔ ہیجڑے خوجے اندھے کے سامنے آنا بھی جائز نہیں۔
مسئلہ۔ بعضی بعضی منہیار سے چوڑیا پہنتی ہیں یہ بڑی بیہودہ بات ہے اور حرام ہے بلکہ جو عورتیں باہر نکلتی ہیں ا نکو بھی اس سے چوڑیاں پہننا جائز نہیں۔

متفرقات

مسئلہ۔ ہر ہفتہ نہا دھو کر ناف سے نیچے اور بغل وغیرہ کے بال دور کر کے بدن کو صاف ستھرا کرنا مستحب ہے۔ ہر ہفتہ نہ ہو تو پندرہویں دن سہی زیادہ سے زیادہ چالیس دن اس سے زیادہ کی اجازت نہیں اگر چالیس دن گزر گئے اور بال صاف نہ کیے تو گناہ ہوا۔
مسئلہ۔ اپنے ماں باپ شوہر وغیرہ کو نام لے کر پکارنا مکروہ اور منع ہے کیونکہ اس میں بے ادبی ہے لیکن ضرورت کے وقت جس طرح ماں باپ کا نام لینا درست ہے اسی طرح شوہر کا نام لینا بھی درست ہے اسی طرح اٹھتے بیٹھتے بات چیت کرتے ہر بات میں ادب تعظیم کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
مسئلہ۔ کسی جاندار چیز کو آگ میں جلانا درست نہیں جیسے بھڑوں کا پھونکنا۔ کھٹمل وغیرہ پکڑ کر آگ میں ڈال دینا یہ سب ناجائز ہے البتہ اگر مجبوری ہو کہ بغیر پھونکے کا م نہ چلے تو بھڑوں کا پھونک دینا یا چارپائی میں کھولتا ہوا پانی ڈال دینا درست ہے۔
مسئلہ۔ کسی بات کی شرط باندھنا جائز نہیں جیسے کوئی کہے سیر بھر مٹھائی کھا جاؤ تو ہم ایک روپیہ دیں گے اور اگر نہ کھا سکے تو ایک روپیہ ہم تم سے لیں گے غرض جب دونوں طرف سے شرط ہو تو جائز نہیں البتہ اگر ایک ہی طرف سے ہو تو درست ہے۔
مسئلہ۔ جب کوئی دو آدمی چپکے چپکے باتیں کرتے ہوں تو ان کے پاس نہ جانا چاہیے۔ چھپ کران کو سننا بڑا گناہ ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے جو کوئی دوسروں کی بات کی طرف کان لگائے اور ان کو ناگوار ہو تو قیامت کے دن اس کے کان میں گرم گرم سیسہ ڈالا جائے گا اس سے معلوم ہوا کہ بیاہ شادی میں دولہا دلہن کی باتیں سننا دیکھنا بہت بڑا گناہ ہے۔
مسئلہ۔ شوہر کے ساتھ جو باتیں ہوئی ہوں جو کچھ معاملہ پیش آیا ہو کسی اور سے کہنا بڑا گناہ ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ان بھیدوں کے بتلانے والے پر سب سے زیادہ اللہ تعالی کا غصہ اور غضب ہوتا ہے۔
مسئلہ۔ اسی طرح کسی کے ساتھ ہنسی اور چہل کرنا کہ اس کو ناگوار ہو یا تکلیف ہو درست نہیں۔ آدمی وہیں تک گدگدائے جہاں تک ہنسی آئے۔
مسئلہ۔ مصلحت کے وقت موت کی تمنا کرنا اپنے کو کوسنا درست نہیں۔
مسئلہ۔ پچیسی، چوسر، تاش وغیرہ کھیلنا درست نہیں اور اگر بازی بد کر کھیلے تو یہ صریح جوا اور حرام ہے۔
مسئلہ۔ جب لڑکا لڑکی دس برس کے ہو جائیں تو لڑکوں کو ماں بہن بھائی وغیرہ کے پاس اور لڑکیوں کو بھائی اور باپ کے پاس لٹانا درست نہیں۔ البتہ لڑکا اگر باپ کے پاس اور لڑکی ماں کے پاس لیٹے تو جائز ہے۔
مسئلہ۔ جب کسی کو چھینک آئے تو الحمد للہ کہہ لینا بہتر ہے اور جب الحمد للہ کہہ لیا تو سننے والے پر اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا واجب ہے نہ کہے گی تو گنہگار ہو گی اور یہ بھی خیال رکھو کہ اگر چھینکنے والی عورت یا لڑکی ہے تو کاف کا زیر کہو اور اگر مرد یا لڑکا ہے تو کاف کا زبر کہو۔ پھر چھینکنے والی اس کے جواب میں کہے یغفراللہ لنا ولکم لیکن چھیننے والی کے ذمہ یہ جواب واجب نہیں بلکہ بہتر ہے۔
مسئلہ۔ چھینک کے بعد الحمد للہ کہتے کئی آدمیوں نے سنا تو سب کو یرحمک اللہ کہنا واجب نہیں اگر ان میں سے ایک کہہ دے تو سب کی طرف سے ادا ہو جائے گا لیکن اگر کسی نے جواب نہ دیا تو سب گنہگار ہوں گے۔
مسئلہ۔ اگر کوئی بار بار چھینکے اور الحمدللہ کہے تو فقط تین بار یرحمک اللہ کہنا واجب ہے اس کے بعد واجب نہیں۔
مسئلہ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لے یا پڑھے یا سنے تو درود شریف پڑھنا واجب ہو جاتا ہے اگر نہ پڑھا تو گناہ ہوا لیکن اگر ایک ہی جگہ کئی دفعہ نام لیا تو ہر دفعہ درود شریف پڑھنا واجب نہیں ایک ہی دفعہ پڑھ لینا کافی ہے البتہ اگر جگہ بدل جانے کے بعد پھر نام لیا یا سناتو پھر درود پڑھنا واجب ہو گیا۔
مسئلہ۔ بچوں کی بابری وغیرہ بنوانا جائز نہیں یا تو سارا سرمنڈوا دو یا سارے سر پر بال رکھواؤ۔
مسئلہ۔ عطر وغیرہ کسی خوشبو میں اپنے کپڑے بسانا اس طرح کہ غیر مردوں تک اس کی خوشبو جائے درست نہیں۔
مسئلہ۔ ناجائز لباس کا سی کر دینا بھی جائز نہیں مثلاً شوہر ایسا لباس سلوا دے جو اس کو پہننا جائز نہیں تو عذر کر دے اسی طرح درزن سلائی پر ایسا کپڑا نہ سئے۔
مسئلہ۔ جھوٹے قصے اور بے سند حدیثیں جو جاہلوں نے اردو کتابوں میں لکھ دیں اور معتبر کتابوں میں ان کا کہیں ثبوت نہیں جسے نور نامہ وغیرہ اور حسن و عشق کی کتابیں دیکھنا اور پڑھنا جائز نہیں اسی طرح غزل اور قصیدوں کی کتابیں خاص کر آجکل کے ناول عورتوں کو ہرگز نہ دیکھنا چاہیے۔ ان کا خریدنا بھی جائز نہیں اگر اپنی لڑکیوں کے پاس دیکھو جلا دو۔
مسئلہ۔ عورتوں میں بھی السلام علیکم اور مصافحہ کرنا سنت ہے اس کو رواج دینا چاہیے پس میں کیا کرو۔
مسئلہ۔ جہاں تم مہمان جاؤ کسی فقیر و غیرہ کو روٹی کھانا مت دو بغیر گھر والے سے اجازت لیے دینا گناہ ہے۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers