شدید گرمی کی ایک دوپہر کو چارپائی پر کروٹیں بدلتی سَت بھرائی کو کچھ بے نام سے اندیشے تڑپائے دے رہے تھے۔ اس کی گیارہ سالہ ریشم صحن میں لگے جامن کی گھنیری چھائوں میں چارپائی پر بے بے کے ساتھ بے خبر سو رہی تھی۔
لال دین ماں کے ساتھ چِمٹا ٹکر ٹکر چھت کو دیکھ رہا تھا۔ اچانک دھڑ سے دروازہ کھلا۔ داخل ہونے والا اس کا شوہر اِمام دین تھا۔ جلوہ ہونے والا ہے… جلدی کرو… چیزیں سمیٹو… نہیں، بچے اُٹھائو… نِکلو … اری کیا دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی ہے… جلدی کر… سمجھ لے آگئے سر پر… وہ آنے والے ہیں… آ رہے ہیں…  تفصیل سے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
سَت بھرائی اُسے روکتی رہ گئی مگر وہ یہ کہہ کر رُکا نہیں بلکہ باہر نکلتا چلا گیا اور گلی میں جاکے شور مچانے لگا۔ تقسیم کے اعلان نے بہت سے لبوں سے مسکراہٹیں چھین لی تھیں اور جو کرخت چہرے، تبسم کا ٹھنڈا سویرا لبوں پر سجائے پھر رہے تھے اُن کے دِل دھڑکنوں سے عاری تھے اور روحیں پیاسی اپنی جڑیں خود کاٹنا پیڑوں کے لیے کتنا کربناک ہوتا ہے، اس لیے نہیں کہ کسی اور گُلشن میں آبیاری نہیں بلکہ اس لیے کہ جو جڑیں ایک مخصوص مٹی کی تاریکیوں میں پنپتی ہیں، زندگی کے کٹھن لمحات میں شریک اس آغوش کو تا عمر بھلا نہیں سکتیں۔
کسی اور مٹی میں جذب نہیں ہوسکتیں، ان کی مخصوص مہک خون کی بُو میں گم ہوجاتی ہے اور آنے والا زمانہ کبھی اس دُکھ اور کرَب کو دِل میں اُتار نہیں پاتا جو ایسے موقعوںپر روحوں کو تار تار کر دیتا ہے۔
تقسیم کے اعلان کے بعد ہنگامے تو معمول بن گئے تھے لیکن گورداسپور؟یہ تو ہندوستان میں تھا پھر شور اُٹھا کہ یہ پاکستان میں شامل ہوگیا ہے۔ پھر سرگوشیاں بلند ہوئیں کہ سازش ہوگئی ہے، گورداسپور ہندوستان میں ہی رہے گا۔
ست بھرائی کو کچھ سمجھ نہ آئی کہ ایک علاقہ، ایک ہی جگہ ہوتے ہوئے کبھی ہندوستان اور کبھی پاکستان میں؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے اور پھر اِمام وین کا تقاضا، جلدی کرو جلدی کرو… ارے بھئی کیسے؟ کیسے چھوڑ جائوں سب کو؟ اتنی جلدی؟
میرا گھر، میری گلیاں، میرے بچپن کی ہمجولیاں، ٹھنڈے پانی کے کنوئیں اور ان کے پیچھے بلند ہوتے مندر کے کلس جو غروب ہوتے سورج کی روشنی میں کیسے سونا بن جاتے ہیں…

ارے ان ٹیلوں کی مٹّی تو سونگھ لینے والے اِمام دین جو میرے بچپن کی شرارتوں کے امین ہیں۔ ان پیڑوں کی گھنیری جھائوں میں ایک بار صرف ایک بار جی بھر کے ٹھنڈک اپنے اندر سمو لینے دے کہ میرا باقی جیون سپھل ہوجائے، دھوپ ڈھل جائے۔
لیکن وہ یہ سب کچھ زبان پر نہ لا سکی۔ ان کہے جذبے دِل میں اُترتی چاندنی ہوتے ہیں جو لبریز جاموں کی طرح آپ ہی آپ انسان کی باتوں سے چھلک پڑتے ہیں لیکن ایسے موقعوں پر توبہ دو دھاری تلوار بن جاتے ہیں جو دل و دماغ کے ساتھ ساتھ روح کی بھی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیتی ہے اور آج سات بھائیوں پر مان رکھنے والی ست بھرائی اسی دو دھاری تلوار پر چل رہی تھی۔
بے بے کا ہاتھ پکڑے، امام دین کے پیچھے بھاگتی اور گود میں چھے ماہ کے بچے کو سنبھالتی ست بھرائی نے جب کنویں کے پاس ایک جوان کی مسخ شدہ لاش دیکھی تو، اسے بے اختیار اپنے کڑیل بھائی کی یاد ستا گئی، کیسے تلوار لے کر محلے کی حفاظت کا دم بھرتا تھا۔
امام دین نے بتایا تھا کہ ظالموں نے کرپان لے کر اُس کی گردن کاٹ دی تھی۔ ہائے ہائے… ست بھرائی کی آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑی جاری تھی۔ پھر اسے اپنا اپنا سرخ سرخ اینٹوں والا گھر یاد آیا جو اس نے اور اِمام دین نے کس چائو سے بنایا تھا… اور اس کی گائے بھی تو بیاہنے والی تھی۔ اس نے منَت مانی تھی کہ اگر بچھیا ہوئی تو میٹھے چاول بانٹے گی۔
ابھی پچھلے برس ہی تو گوری نے کٹّا دیا تھا۔ کیسی گابھن گائے تھی اُس کی۔ اس نے دُکھ سے اس سفید اور کالے رنگ کے نٹ کھٹ بچھیرے کے بارے میں سوچا۔ سب کچھ پیچھے رہ گیا۔ سب کچھ… چند آزاد سانسوں کی اُمید پر کیا کچھ کھونا پڑتا ہے۔ اپنے پیاروں کو چاہنے والوں کو چاہے جانے والوں کو۔
بچپن اور جوانی کی، شرارتوں، لازوال محبتوں پُرخلوص باتوں اور خوشگوار لمحوں کی یادیں سمیٹنے والے درو دیوار اور مضبوط تنوں والے درختوں کو اور کبھی تو ایسے میں اپنا آپ بھی کہیں پیچھے ہی رہ جاتا ہے لیکن سادہ دل ست بھرائی بھلا یہ سب باتیں کیسے سمجھ پاتی۔
اسے کُوں کُوں کی آواز سنائی دی۔ لڑکے نے دیکھا تو اس کی کُتیا ’’لالی‘‘ تھی۔ ہائے کم بخت تجھے ہی آنا تھا، کاش میری گوری میرے پیچھے آئی ہوتی اُس نے دکھ سے سوچا اور دوپٹے سے ناک صاف کرکے بے بے کو سنبھالنے لگی۔
چلنے والے وہ اکیلے نہ تھے۔ آگے پیچھے ایک قافلہ رواں تھا۔ تیز تیز دھڑکتے دلوں میں جذبوں کا ایک عجیب سا اُبلتا، ٹھاٹھیں مارتا اور کبھی ایک دم ساکت ہوجانے والا سمند ر لیے۔

اپنوں سے بچھڑنے کا غم، درودیوار کے گُم ہوجانے کا الم، حملے کا خوف، عصمت دری کا خطرہ اور پاکستان جانے کی تڑپ یا کچھ کے نزدیک مجبوری۔ پیچھے سے آنے والے لوگوں نے جو کافی دیر بعد قافلے کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔
بتایا کہ ہندوئوں نے گائوں پر حملہ کر دیا ہے وہ بڑی مشکل سے جانیں بچا کر آئے ہیں اور وہ سب دور پیچھے اُفق پر گائوں کی سمت سے اُٹھنے والا دھواں دیکھ سکتے تھے۔ امام دین کو اُن چند لوگوں کا خیال آیا جو قافلے کے ساتھ نہیں آئے تھے بلکہ اپنے بچوں کو پاگلوں کا خیال آیا جو قافلے کے ساتھ نہیں آئے تھے بلکہ اپنے بچوں کو پاگلوں کی طرح ڈھونڈتے پھر رہے تھے جو کھیلتے کھیلتے شاید دور نکل گئے تھے۔ کیا وہ… اور یہ دھواں… اس کے شَ ہوتے دماغ نے اس سے آگے سوچنے سے اِنکار کردیا۔
حملے کے خوف سے سب کے قدم تیز سے تیز تر ہوتے جا رہے تھے۔ جن کمزور بوڑھوں اور معذوروں کی وجہ سے قافلے کی رفتار سست پڑ رہی تھی وہ خود ہی بخوشی قربانی دے دیتے اور کسی درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنوں کو ہمیشہ کے لیے خدا حافظ کہہ دیتے اور جب ان کے اپنے آنسو بہاتی آنکھوں اور بوجھل دل و دماغ کے ساتھ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوجاتے تو وہ اسی درخت کے ساتھ سر ٹکرا ٹکرا کر رونے لگتے۔
زندگی سے محبت رشتوں کو کیسے جھٹلا دیتی ہے۔ کون جانے کہ آزادی کے چند لمحوں کی خاطر کتنے ہی گمنام بوڑھوں نے اس آس پر کہ شاید وہ کبھی اپنوں سے جا ملیں، تڑپ تڑپ کر جانیں دی ہوں گی اور ان کی کھلی رہ جانے والی آنکھیں مرنے کے بعد بھی شاید ان کی راہ تکتی رہی ہوں۔
راستے میں کوئی چھوٹے چھوٹے گروہ ان سے آ کر ملتے گئے موت کے خوف نے ان سے سونے کی طلب بھی چھین لی تھی۔ رات کے پچھلے پہر اس قافلے نے ایک میدان میں پڑائو ڈالا۔
کمزور بوڑھے اور جوان مرد سب عورتوں اور بچوں کے تمام اطراف بکھر گئے زرد چاند کی میلی میلی چاندنی ہر طرف بکھری ہوئی تھی جیسے ان کے غم میں شریک ہونے آئی ہو۔ صحن میں پھیلی ہوئی ٹھنڈی چاندنی ست بھرائی کو کیسی اچھی لگا کرتی تھی۔
لیکن اب یہی چاندنی اسے خوفزدہ کیے دے رہی تھی اس کا بھوک سے بلکتا ہوا بچہ اب چُسر چُسر ماں کا دودھ پینے میں مشغول تھا کبھی وہ اس کوشش میں ناکام ہوتا تو مان کو بھنبھوڑنے لگتا اور وہ خود آنے والے دنوں کے سپنے بُننے کی بجائے بیتے دنوں کی راکھ کرید رہی تھی کہ شاید کہیں کوئی چنگاری دبی ہوئی ہو جو ایسی بھڑکے کہ حال اور مستقبل کے سب اندھرے دور کر دے۔ ریشم اپنی پھٹی پھٹی آنکھوں سے کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

پلو میں بندھی روٹی بے بے نے پہلے ہی اسے کھلا دی تھی اور اب اس کی نظر روٹی کے اس ٹکڑے پر تھی جو لالی نہ جانے کہاں سے اُٹھا لائی تھی۔ ریشم نے بظاہر سب سے نظر بچا کر وہ ٹکڑا کھینچا اور چبانے کی کوشش کرنے لگی لیکن چٹختے حلق نے سوکھا ٹکڑا نگلنے سے انکار کر دیا۔
وہ سب بہت پیاسے تھے۔ کہیں پانی نہ ملا تھا۔ راستے میں ایک جلی ہوئی بستی کے قریب ایک کنواں آیا، تو مگر وہ عورتوں کی لاشوں سے بھرا ہوا تھا اور اس میں ٹھنڈے میٹھے پانی کی بجائے گلتے گوشت کی بُو تھی۔
صبح کے آثار کے ساتھ ہی خوف کے دھندلکوں میں چھپا ہوا اُمیدوں کا سورج بھی ذرا سا بلند ہوا کیونکہ ابھی تک وہ کسی متوقع آفت سے دوچار نہیں ہوئے تھے، آگے کیا ہوگا کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا…
اپنوں کو خوف کی وجہ سے پیچھے چھوڑ ؤنے والوں کا ایک ایک قدم پہاڑ تھا اور وہ بار بار پیچھے مُڑ کر دیکھتے تھے کہ شاید ان کے بوڑھے اور اپاہج ماں باپ کے ساتھ کوئی معجزہ رونُما ہو جائے اور وہ آتے دِکھائی دے جائیں۔
شاید اسی طرح کے جذبے رہ جانے والوں کی سسکتی اور دم توڑتی ہوئی آنکھوں میں بھی پنہاں ہوں۔ منزل کی لگن انسان کو کیا کچھ چھوڑنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ پھر ساری حسّیات سمٹ کر ایک لفظ ’’منزل‘‘ پر مرکوز ہوجاتی ہیں اور ماسوا جذبے باطل ٹھہرتے ہیں۔
ایک پنجابی جوان جو رات کو ان کے ساتھ آملا تھا۔ چیخ چیخ کر سب کا حوصلہ بڑھا رہا تھا۔ غلامی اور آزادی کا فرق بتا رہا تھا۔ یہ باتیں ست بھرائی کی سمجھ میں تو نہ آئیں ہاں اتنا ضرور ہوا کہ اب اس کے دل نے پاکستان کے نام کے ساتھ دھڑکنا سیکھ لیا تھا اور شاید سب کا ہی یہ حال تھا۔
حواس شکستہ تھے اور روحیں بے قرار، اسی عالم میں عقب سے ایک دھیما دھیما شور سنائی دینے لگا۔ سب کے دل دھڑکنے لگے لیکن زیادہ دیر نہیں گزری اور کرپانوں کی جھنکار نے جیسے سب کچھ سمجھا دیا ہو۔
پنجابی جوان کی آواز جو پہلے بڑی شدّومد کے ساتھ سُنائی دے رہی تھی اب شاید اس کے حلق میں ہی گھٹ کر رہ گئی تھی۔ بے بے اپنی خمیدہ کمر کے ساتھ تیزی سے اُٹھی ریشم کا ہاتھ پکڑا اور بھاگنے کی کوشش کی۔
ست بھرائی نے لال دین کو سینے سے چمٹایا اور چیخ چیخ کر اِمام دین کو بُلانے لگی لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ وہ سر پر آن پہنچے تھے۔ کئی ننگی نظریں، ننگی کرپانوں کے ساتھ ریشم کی طرف بڑھیں اور ست بھرائی کے ہاتھ کے کڑھے ہوئے کُرتے کی دھجیاں فضا میں بکھر گئیں۔

یوں لگتا تھا کہ جیسے دنیا میں چیخ و پکار اور خون کی بُو کے سوا کچھ بھی نہ رہا ہو۔ لیکن کون جانے کہ اس دن اور اس جیسے بہت سے دنوں میں زمین نے آنے والے وقت کی مستحکم بنیادوں کے لیے کتنا گرم اور جوان خون پیا تھا۔
دِن کے دوسرے پہر سسکتی روحوں اور بھوکے پیاسے اور زخمی جسموں کے ساتھ گھسٹتے گھسٹتے انھیں پھر اِک شور سُنائی دیا لیکن ست بھرائی کا دل نہ دھڑکا شور بلند ہوا اور مانوس سے الفاظ کانوں میںپڑنے لگے۔ پانی… پانی… نہر… پانی…
دو دن بعد آج پانی کی شکل دِکھائی دی تھی۔پانی کیا بس ایک چھوٹا سا نالہ تھا جس میں کیچڑ زیادہ اور پانی کم تھا لیکن چٹختے ہوئے حلقوں کے لیے یہی پانی آبِ حیات تھا۔ ست بھرائی نے دوپٹے کا پلّو بھگو کر لال دین کے ہونٹوں پر رکھا، تو بچّے نے آنکھیں کھول دیں۔
بے بے وہیں بیٹھ کر پائون کے آبلے پھوڑ کر ان میں کیچڑ بھرنے لگی۔ اس کی گدلی ڈگر ڈگر کرتی آنکھوں میں گزری زندگی کے ہر خوشگوار لمحے کی چتا جل گئی تھی اور ان سے آنسو نکل نکل کر اس کی سانولی اور گدلائی ہوئی جھریوں میں یوں پھیل رہے تھے جیسے بارش کے بعد پانی ویران میدانوں کے اونچ نیچ میں راہ بناتا نیچے کی طرف روا ہوجاتا ہے۔
اس کے بالوں کی خون میں لتھڑی ہوئی لَٹ اس کے بوڑے چہرے کے ساتھ چپک کر رہ گئی تھی لیکن اب منزل تک پہنچنے کی لگن شاید اس کے بوڑھے دل میں بھی پیدا ہوچکی تھی۔ تبھی تو وہ کسی درخت کے نیچے بیٹھ کر انھیں خدا حافظ کہہ دینے کی بجائے اُن کے ساتھ ہی گھسٹ رہی تھی۔
’’پَر پُتّرَ‘‘ بے بے نے سرکتے ہوئے پوچھا۔
’’اب ہم جائیں گے کہاں۔‘‘
’’اگر زندہ رہے، تو پاکستان‘‘ اِمام دین کی آواز جیسے کسی کنوئیں سے آ رہی تھی۔
’’پر ہور کتنے دیہاڑے چلیں گے‘‘ اس نے اِمام دین کا سخت کھردرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر پوچھا۔
’’جب تک زندہ رہے۔‘‘
’’ ہے پت، سیدھی بات کیوں نہیں کرتا۔‘‘
جی بھر کے پانی پینے کے بعد وہ چلے تو نہ جانے کسی نے بتایا کہ چند کوس چلنے کے بعد ایک نہر آئے گی۔ اسے پار کرتے ہی وہ اپنی منزل پر جا پہنچیں گے پھر کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔پاکستانی مجاہد سب سنبھال لیں گے۔

یہ سب کچھ سُن کر بھی ست بھرائی کو نہ خوشی ہوئی اور نہ ہی سکون ملا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے تو بس ایک منظر ساکت ہوگیا تھا۔ اس کی ریشم کا خوف سے سفید اور خون سے رنگا ہوا بدن۔ ست بھرائی کا زخمی جسم پھوڑے کی طرح دُکھ رہا تھا اس کی کمر اور کندھوں پر شدید زخم آ چکے تھے۔
لیکن وہ زندہ تھی پتا نہیں کس لیے؟ لال دین دودھ کرنے کی سعیٔ کے بعد تھک ہار کے سو چکا تھا یا شاید بے ہوش تھا۔ گورداسپور سے چلنے والا وہ قافلہ اب آدھا بھی نہ رہا تھا۔ ست بھرائی کے کتنے ہی جاننے والے پتا نہیں کہاں گم ہوگئے تھے۔
صرف لالی تھی۔ جو وفاداری سے ساتھ نبھا رہی تھی اور اپنی دوزخ بھی بھر رہی تھی۔ شاید مُردہ گوشت اور ہڈیوں سے۔ کاش وہ ’’لالی‘‘ ہوتی۔ ست بھرائی نے دُکھ سے سوچا۔ سورج آسمان کی چوٹی سے اُتر کر خونی اُفق کی جانب گامزن ہوا تو زمین پر ایک نیا خونی اُفق کھل گیا۔
کچھ نعرے اور خوف سے بھرپور کچھ چیخیں بلند ہوئیں۔ کرپانوں کی جھنکار اور ست سری اکال کے نعرے سُنائی دیے اور بڑھتے ہی گئے۔ ایک انجانے جذبے کے تحت وہ بھی دوسروں کے ساتھ بھاگنے لگی۔
بے بے نے بھی یہی کوشش کی لیکن گر گئی اور پھر اُٹھ نہ سکی ارے اب تو پاکستان آنے والا ہے۔ ہمارے مجاہد سنبھال لیں گے۔ اِمام دین…! اِمام دین لیکن اِمام دین وہاں کہاں۔
وہ شاید کہیں پیچھے رہ گیا تھا… اِمام دین… اس نے آخری مرتبہ چیخ کر اسے پکارا اور پھر مایوس ہو کر لال دین کو دھڑکتے سینے سے لگایا اور ایک سمت بے تحاشا بھاگ اُٹھی۔
اسے کچھ پتا نہ تھا کہ وہ کس سمت بھاگ رہی ہے۔ اسے صرف پچنا تھا، اسے محفوظ ہاتھون میں پہنچنا تھا اب اس کے دماغ میں صرف وہ الفاظ گونج رہے تھے۔ میرا بچہ… پاکستان… مگر بھوکی نظروںاور تیز کرپانوں کا مقابلہ کرنا اس کے بس کی بات کہاں۔
وہ منہ کے بَل نیچے گری اور لال دین چھوٹ کر دور جا گرا۔ دوڑتے قدم کچھ دیر بعد اُسے مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے لیکن شاید زندگی آج اپنی تمام تلخیاں عیاں کرنے پر تل گئی تھی۔ اس کے دم توڑتے دماغ میں کچھ مانوس خیالات آنے لگے۔
سفید اور کالا بچھیرا، نیا گھر، اِمام دین، پاکستان، ریشم… ریشم… یہ خیال اسے حقائق کی تلخ دنیا میں گھسیٹ لایا۔ اب تو منزل آنے والی تھی۔ اب یہ کیا ہوا؟
اور … لال دین… لال دین اس کا زخمی دھڑکا، وہ بمشکل سر اُٹھا کر سامنے دیکھ سکی تو پتھرا گئی۔ سامنے ایک نہر کے کنارے سسکے ہوئے لال دین کا ہاتھ لالی کے گرم تھنوں پر پڑچکا تھا اور وہ ان کی طرف ہمک رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھیں بند ہوگئیں۔ اس سے زیادہ دیکھنے کی اس میں تاب ہی کہاں تھی۔
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers