توکیانام نہ ہوگا
ایک دور تھا جب لفظ شہرت اور بدنامی الگ الگ مفہوم رکھتے تھے۔لیکن نجانے کب لفظ ”بدنام“ اپنی خفت مٹانے کی خاطر ایساگم ہوا کہ اردو زبان ہی سے متروک ہو گیا ہے۔لہٰذا اب مشہور رقاصائیں بھی ملتی ہیں اور مشہور گائیک بھی‘ مشہور ڈاکو بھی نظر سے گزرتے ہیں، مشہور ادکارائیں تو ہماری نگاہوں، دل و دماغ اور گھروں کا حصہ ہیں اور رہ گئے مشہور سیاستدان اور بیوروکریٹ تو وہ ہر وقت ہمارے اعصاب پر سوار رہتے ہیں۔الحمدللہ بدنام ڈاکوؤں، ظالم حکمرانوں اور اُن کے بدنام گماشتوں کا زمانہ ختم ہوا۔ اب سب نامور اور مشہور ہیں۔ یہ بھی طے ہے کہ نام کا زبان زد عام ہونا ضروری ہے نیک و بد کا سابقہ اہم نہیں رہا۔     تفصیل سے پڑھیے

بدنامی کے اسی خوف نے اتنے عرصے تک ہمیں ادیب بننے سے باز رکھا۔ لیکن ہوا یوں کہ ِادھرہم عزت کی خاطر گوشہئ گمنامی اور تنہائی میں محو رہے اور اُدھر میدان ادب خالی دیکھ کر کئی لوگ مشہور ہو گئے۔ ان ادیبوں میں سے چند نے تو بجا طور پر شہرت پائی لیکن
کئی ایسے بھی ہیں جو اللہ معاف کرے اور خطائے بزرگاں گرفتن خطا نہ باشد، اپنے سطحی خیالات کے باعث واقعی لائقِ بدنامی تھے لیکن اس لفظ کے لغت سے غائب ہونے کے سبب شہرت پا گئے۔ شہرت ہماری زندگی کا مقصود کبھی بھی نہیں رہا لیکن دنیا میں اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ باقی عیبوں پر اور دوسروں کی آنکھوں پر ایسا پردہ پڑتا ہے کہ انسان دنیا کے اس پار ستار العیوب کے پاس پہنچ بھی جائے تو لوگ اس شہرت کے سحر میں گرفتار اُس کی کسی خطا کا ذکر نہیں کرتے۔ اپنے ملک کے کئی سیاستدانوں کی مثالیں دے کر اس مضمون کا مزہ کرکرا کرنے کا موقع نہیں اس لیے آمدم بر سر مطلب۔
ادیب بننے کا شوق کسے نہیں ہوتا؟ سیدھی سی بات ہے جس نے ادب کو ہاتھ ہی نہ لگایا ہو اسے شوق نہیں ہو گا۔ ہمارا معاملہ عام لوگوں سے مختلف ہے۔ ادب ہمارا اوڑھنابچھوناہے۔ بچپن میں رات کو ایک ڈائجسٹ ہمارے سر کے نیچے ہوتا تھا اور صبح کا ناشتا انگریزی اخبار پر رکھ کرکیا کرتے تھے۔ جب تک تکیہ اور دسترخوان گھرمیں نہیں آیا ہمارا یہی دستور رہا۔ اپنے اس معمول اور ادب میں شغف کے بارے میں ایک دوست سے ذکر کیا کہ اچھی تحریر اور ادب تو ہماری کمزوری ہے۔
وہ کہنے لگے ”تختی لکھا کیجیے تحریر بہترہو جائے گی اور یہ آپ کو غلط فہمی ہے ا دب آپ کی کمزوری ہے، کمزوری آپ کی تعلیم میں ہے ادب تو اس سے بھی آگے کی منزل ہے۔“
خیر وہ ابتدائی زمانہ تھا، دوستوں اور غیروں کی تنقید کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔کشتی ساحل کو چھوڑ کر بیچ سمندر میں جائے گی تو ہچکولے توکھائے گی۔ ہم بھی ان سے مشورہ نہ لیتے توکس سے لیتے۔ کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے کہ ناخدا بھنور سے ہی ساحل کا پتا پوچھتا ہے۔ ایک روز میں نے کہا ”میری خالہ مجھے کتابی کیڑا کہتی تھیں۔“ جواب آیا تم کتابوں کو خراب کیا کرتے تھے اس لیے یوں کہتی تھیں۔
ہمارے یہ دوست شیخ صغیر، دراصل ہمارا ضمیرہیں جنھیں قدرت نے ہمارے اندر رکھنے کے بجائے باہر پیدا کردیا ہے۔
ایک دن کہنے لگے ”تم نے کون کون سے ادیبوں کو پڑھا ہے اور کتنے شاعروں سے واقف ہو۔“
میں نے جو نام لیے توکہنے لگے ”یہ تو وہ تمام لوگ ہیں جو ا سکول کی درسی کتابوں میں موجودہیں۔“
ہم نے انجان بنتے ہوئے کہا ”اچھا اُن کی تحریریں اسکول کی کتابوں میں بھی ہیں؟“
وہ امتحان لینے کی خاطرکہنے لگے ”کسی غیر ملکی ادیب کے ادب پارے سے نظر گزری ہے؟“
ہم نے ایک طویل ناول کا اقتباس سنا دیا، وہ تو اچانک آخر میں ”ویوئین لی“کا نام دل سے نکل کر لبوں پر آگیا، فوراً غصے سے بولے:
”تم مجھے ’Gone with the wind‘ کی فلمی کہانی سنا رہے تھے یا تم نے ناول پڑھا ہے؟“
ہم نے کہا ”آپ نے ادب پارے کے نظر سے گزرنے کی بات کی تھی اور اکثر انگریزی ناول ہم نے بس ایسے ہی سینما ہاؤس میں پڑھے ہیں۔“
کہنے لگے ”مجھے شک ہے اردو ناول بھی آپ نے بس ایسے ہی نظر سے گزارے ہوں گے۔“
ہم بھی زچ ہونے والے کہاں تھے۔ہم نے کہا
”سچ یہ ہے کہ ہمیں خطرہ یہ ہے کہ ہم ان ادیبوں کو پڑھیں گے تو ا ُن کے الفاظ اور خیالات ہمارے دماغ میں بھی گردش کریں گے اور یوں ہماری تخلیق پر چھاپ اس ادیب کی لگ جائے گی۔ یوں ادب کو ایک اچھوتا خیال، نادر نکتہ اور لطیف بات نہیں مل سکے گی۔“
کہنے لگے ”ادیب بننے کی شرائط کیا ہوتی ہیں؟“
ہم نے گلا صاف کرتے ہوئے توقف کیا اور کہا ”ایک حساس دل جو معاشرے کے مسائل کا شعور رکھتا ہو، زبان اور بیان پر قدرت اور …… اور بس۔“
حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر عین ہماری آنکھوں کے سامنے آگئے۔
عجیب فریکوئنسی پر بولے  ’’بس؟“
ہم نے یقین سے کہا ”ہاں بس“
ہاتھ نچاتے ہوئے کہنے لگے ”خلوص اور نیک نیتی کہاں گئی؟اس طرح تو کمرشل ادب پیدا ہو گا، مسائل کی رپورٹ میں اور ادب میں کوئی فرق ہے آپ کے یہاں؟“
ایک ہی سانس میں اتنی ڈھیرساری تنقید نے ہمارا بال بھی بیکا نہ کیا۔
ہم نے کہا ”یہ جو بڑے بڑے ادیب ہیں انھوں نے خود کون سے بڑے ادیبوں کو پڑھا تھا؟ جنگل کا ہر درخت پرانے درخت سے تھوڑی اُگتا ہے۔ کبھی کوئی پہلا نیا درخت خود سے بھی تو اُگ جاتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ بڑے نامور ادیب گزرے ہیں لیکن وہ تو یاد ماضی ہوئے، کچھ چراغ سحری ہیں کچھ موجود ہیں سو وہ بھی راہیئ عدم ہو رہے ہیں ضرورت ہے کہ چراغ سے چراغ جلے۔“
کہنے لگے ”میرے خودرو ادیب، ادب کے اس انبار میں آپ یہ چنگاری کیوں لگانا چاہتے ہیں؟“
ہم نے بے باکی سے کہا ”نامور ہونے کے لیے۔“
وہ کہنے لگے ”آپ جانتے ہیں کہ نامور، جانور کا ہم وزن لفظ ہے۔“
ان جیسے زہریلے ناقد سے ہمارا مسلسل رابطہ صرف اور صرف ایک وجہ سے تھا اور وہ یہ کہ صغیر اپنے وسیع مطالعہ،یونیورسٹی میں بزم ادب اور تقریر نویسی میں
مہارت اور شاید فطری ذہانت کے سبب ہمارے دوستوں میں منفرد تھا۔ اگر یہ وجوہات ایک سے زائد ہو گئی ہیں تو اسے ہمارے علم ریاضی کی کمزوری کے بجائے دوسروں کی خوبیوں کے اعتراف میں بخیلی کی قوی عادت سمجھا جائے۔ کہ اس سے بہتر انتقام ہم کیا لے سکتے ہیں۔
ہماری ہرگفتگو ادب کے حوالے سے ہونے لگی تو ایک دن سنجیدگی سے کہنے لگا:
”میری جان آخر تجھے الہام ہوا ہے یا خواب آیا ہے کہ ادیب بن۔“ پھر خود ہی جواب دیا کہ الہام تو ہو نہیں سکتا کہ تیرے روحانی درجات ہم سب دوستوں کو معلوم ہیں۔ اگر خواب ہے تو اُس کا سبب رات کے کھانے میں بے احتیاطی ہو سکتی ہے۔
ہم نے کہا ”کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری ممکنہ شہرت سے خائف ہو کر آپ ہمیں ادیب بننے سے روک رہے ہیں۔“
محبت سے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگے ”بُوم سر پر تاج رکھ کر مور تو بننے سے رہا۔ ویسے آپ کے سر پر شہرت کا تاج سجے تو ہم سے زیادہ کون خوش ہو گا، لیکن خطرہ یہ ہے کہ آپ کا سر اس بڑے تاج میں فٹ نہیں آئے گا، ڈھیلا رہا تو یہ تاج طوق بن کر آپ کی نازک گردن سے لپٹ جائے گا، بدنامی کا طوق۔“ یہ کہتے ہوئے نجانے کب اُن کی انگلیاں ہماری گردن پر پھرنے لگیں اور ہمارا سانس رکتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ اس برے خیال کو جھٹکتے ہوئے ہم نے کہا ”ادب معاشرے میں اصلاح، روایات اور اخلاقی اقدار کو تازہ رکھنے کے لیے تخلیق کیاجاتاہے، دوسرے یہ کہ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں حساس بہت ہوں، کیونکہ معاشرے کی ہر کجی میرے دل کو کچوکے لگاتی ہے۔“
اس جواب کے بعد اسے خاموش دیکھ کر ہمیں امید ہوئی کہ یہ جن رام ہو گیا ہے۔ لیکن کہاں۔ ذرا سوچ کر بولے ”یہ معاشرے کی کون کون سی کجی پر نظر ہے آپ کی؟“
ہم نے کہا ”بوڑھے لوگوں کا بے گھر ہو جانا، چھوٹے بچوں کا اسکول جانے کے بجائے سڑک پر بھیک مانگنا، بڑی بڑی گاڑیوں والوں کا سڑک پر خالی لفافے پھینکنا، پڑوسیوں کی اجنبیت، رشتہ داروں سے صرف جنازوں اور شادیوں پر ملاقات ہونا، اپنے وقت اور اثاثوں کو صرف اپنی ذات کے لیے مخصوص کر لینا وغیرہ وغیرہ۔“
اس بار اُس کی سوچ اور گہری ہوئی اور خاموشی مزید طویل تھی۔ کہنے لگا ”تو کتنے یتیم خانوں کو چندہ دیتا ہے، اور کتنے غریب رشتہ داروں کو زکوٰۃ دیتا ہے، کیا تیرے بیوی بچے ددھیال والوں سے بھی اتنا ہی ملتے ہیں جتنا اپنے ننھیال والوں سے؟“
میں ان سوالوں کا جواب دینے ہی والا تھا کہ وہ خود ہی بولا ”میرے بھائی یہ کام تو میں خود بھی نہیں کرتا ہوں تجھ سے کیا تقاضا۔ اگر تم اس معاشرے میں پہلے سے موجود منافقت کو تحریری طور پر فروغ دینا چاہتے ہو تو میدان حاضر ہے لیکن احتیاط کیجیے گا اس معاشرے کا غم کھانے والے بہت سے ادیب یہی کام بڑی تندہی سے انجام دے رہے ہیں۔ لیکن عملی طور پر کوئی دھیلا خرچ کرنے کو تیار نہیں۔ تجھے یاد ہے جو ہم ایک ادیب کا انٹر ویو کرنے گئے تھے، وہی جس نے ایک پوش کالونی کی ایک بوسیدہ قبراور سمٹتے قبرستان کے حوالے سے شاندار تحریر لکھی تھی۔ کل اُس نے اپنے نئے گھر پر
میڈیا کو چائے پر بلایا تھا۔ اسی کتاب کے حوالے سے ایک نجی محفل تھی جس میں کتاب سے اقتباس سنائے گئے، ادیب کی سوچ کو دوستویوسکی کا تسلسل قرار دیا گیا، ایک گائیکہ نے چند نغمے بکھیرے جنھیں تمام محفل نے غور سے دیکھا، چند خاص لوگوں نے معاشرے کی اسی کجی اور غم کو سوفٹ ڈرنک میں گھول کر پیا کچھ نے نیٹ ہی پی لیا۔ واپسی پر ہم اس راستے سے گزرے جہاں وہ قبر مزید بوسیدگی کا شکار، اپنے جھکے ہوئے نصف کتبے سے ہمیں خدا حافظ کہہ رہی تھی اور وہ مختصر ہوتا قبرستان اپنی سائیں سائیں سے ہم سب کا شکریہ ادا کر رہا تھا کہ آپ کی بڑی مہربانی کہ آپ نے اس اہم مسئلہ کی طرف عوام اور خواص کی توجہ دلائی۔“
ہم نے اس ادیب کی دولت، خوبصورت ذریعہ آمدنی، ترقی اور شہرت پر بہت رشک کیا اور معاشرے کی اس بے حسی پر افسوس کا اظہار کیا تو صغیر نے سر پکڑ لیا۔ ہم سمجھے سر میں درد ہے۔
کہنے لگے ”مجھے لگتا ہے آپ ا س دور کے ادیب بن سکتے ہیں۔“ ہم نے اس طنز کو اپنی صلاحیت کا اعتراف سمجھا۔
وہ کہنے لگے”آج سے پہلے کچھ لکھا ہے؟“
ہم نے کہا ”سائنسی ترقی اور موجودہ ایجادات کے حوالے سے ایک کتابچہ لکھا تھا۔ بہت سے پبلشر، جن میں چند نامی گرامی ادارے بھی شامل ہیں، متاثر بھی ہوئے لیکن سب نے ایک ہی بات کہی ’آپ ایسے موضوع پر لکھیں جو آج کل مقبول ہے‘ اُس کی وضاحت انھوں نے تو نہیں کی لیکن کتابوں کے اسٹال پر سفرناموں اور شاعری کے مجموعوں کی بھرمار دیکھ کر کچھ اندازہ ہوا کہ ہوا کا رخ کیا ہے۔ اسٹال والے سے پوچھا کہ سب سے زیادہ کونسی کتابیں بکتی ہیں؟کہنے لگا اب کتابیں خریدتا کون ہے۔ ہاں اسٹال پر سب سے زیادہ رش فلمی رسائل خریدنے والوں کا ہوتا ہے، ہر روز ایک تصویر کم ہو جاتی ہے۔ میں تو تنگ آگیا ہوں۔“
ہم نے صغیر سے کہا ”موجودہ ادب میں معیاری ادب کی کمی اور کتابوں کی گرانی نے لوگوں کو پڑھنے سے دور کردیا ہے۔ ہم اس کمی کو دور کرنے کا عزم لے کر اس میدان میں اترے ہیں۔“
وہ کہنے لگا ”آپ سے کس عقلمند نے کہا ہے کہ کتاب سستی ہو گی تو پڑھی جائے گی۔ آج کل کسی بھی بڑے ادیب کی کتاب کی قیمت ایک مزدور کی تنخواہ سے کم نہیں۔ محنت کش کو اس کی محنت کی قیمت اتنی نہیں ملتی جتنی اُس کے دکھوں کی داستان کی قیمت ادیب وصول کر لیتاہے۔ مزدور کے پسینے اور زخمی ہاتھوں سے رستے خون کے مقابلے میں ادیب کی روشنائی کی قیمت زیادہ ملتی ہے۔ ویسے آپ نے کیا سوچا تھا کہ کون سے موضوع پر لکھیں گے۔“
ہم نے کہا ”پبلشر کی نصیحت دیکھیں تو فلمی ستاروں کے معاشقوں پر لکھ سکتے ہیں، اپنے دماغ کو ٹٹولیں توسائنس کی اہمیت پر لکھیں پر دل کہتا ہے کہ معاشرے کے مسائل پر لکھیں۔“
وہ بولے”آخر لکھنا ہی کیوں ضروری ہے، کتب خانے بھرے پڑے ہیں، ہر شخص نے توفیق کے مطابق اچھی اچھی باتیں لکھ ڈالی ہیں۔ مزید لکھنا اس سمندر میں ایک قطرے سے زیادہ کیا ہوگا اور اس طرح مسائل کم ہو جائیں گے کیا؟ کیا مسائل کم کرنے کے لیے عملی

اقدام ضروری ہیں یا فضول تحریروں کا ایک اور انبار؟“
ہم نے ڈھٹائی سے کہا ”دونوں ہی ضروری ہیں کیونکہ عمل کے لیے آگہی اہم ہے۔“
صغیر نے ہوا میں دعا کے لیے ہاتھ بلند کر دیے۔ ہم سمجھے ہمارے لیے دعا مانگ رہا ہے، ہم بھی شامل ہو گئے۔ لمبی سی آمین کے بعد کہنے لگا:
”میں ادب کی حفاظت کے لیے دعا کر رہا تھا کہ اللہ اسے بلاؤں سے بچائے۔“ اللہ کہتے ہوئے اُس کے منہ کا رخ آسمان کی طرف اور جملے کے آخر میں ہماری طرف تھا۔ یقین کریں ہم اس بات چیت سے نہ تو نادم ہوئے نہ مغموم۔ کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ یہ ضمیر، معاف کیجیے گا، صغیر ہمارے سب دوستوں میں یہ خبر پھیلا دے گا کہ ہم راہی ادب ہونے والے ہیں، کسی میں ہمت ہے تو روک لے۔
یہ اندازہ زیادہ غلط بھی نہ نکلا۔ اگلے ہی روز ایک دوست بازار میں مل گئے۔ ہم نے خیریت دریافت کی تو لپٹ گئے اور دیر تک لپٹے رہے۔ ہم نے اس غیر معمولی محبت کا سبب دل میں یہ جانا کہ ادھار کی ضرورت ہے یا بیوی نے گھر سے نکال دیا ہے۔ہم نے اپنے سے جدا کیا تو ہمارا منہ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا۔ اور غور سے آنکھوں میں دیکھ کر کہا
”یار صغیر سچ کہہ رہا تھا کیا؟“
ہم نے پوچھا کہ اس نے کیا کہا۔
کہنے لگا ”وہ کہہ رہا تھا کہ تو باؤلا ہو گیا ہے۔ لیکن تُو تو بالکل ٹھیک نظر آرہا ہے۔“
باؤلے پن کے ساتھ کاٹنے کا لفظ بہت جچتا ہے لیکن نامہ بر اور سفیر کو گزند پہچانا ہمارا شیوہ نہیں لہٰذا اُسے ہم نے کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھا۔ اس نے منہ چھوڑا تو اس کے نیچے ہماری ایک بڑی سی مسکراہٹ موجود تھی۔ یوں اسے ہماری معصومیت اور ذہنی صحت کی درستی کا یقین آگیا۔ ہم نے حال چال پوچھا اور آگے چل پڑے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ وہیں کھڑا ہمیں بغور دیکھ رہا تھا کہ شاید ہم اب کوئی پاگل پن کی حرکت کریں گے۔
ہم اس رویے پر بھی نالاں نہیں ہوئے کہ اچھا ادب فرزانگی سے نہیں دیوانگی سے پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ دونوں میں فرق بھی بال برابر کا ہے کہ ہر دور کے فرزانوں کو دیوانہ ہی سمجھا گیا ہے۔ یہ فیصلہ تو تاریخ کرتی ہے۔ لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب تاریخ بنتی ہے اور پڑھی جاتی ہے تو وہ شمع دانش و حکمت کب کی بجھ چکی ہوتی ہے۔ اب جو دنیا میں شہرت کا طالب ہو اس کے لیے اتنا انتظار تو ایک قیامت ہے۔ ادیب بننے کی راہ میں ہم دوستوں کی باتوں سے اتنا زِچ نہیں ہوئے تھے جتنا اپنی نوکری یا یوں کہیں اپنے ڈائریکٹر کی نوکری سازی سے عاجز تھے، اگلے گریڈ میں ان کی ترقی بس ایک آنچ کی منتظر تھی لیکن اس ایک آنچ کے لیے جو آگ انھوں نے ہمارے دفتر میں بھڑکا رکھی تھی۔ اس میں جھلسے بغیر کوئی رہ نہیں سکتا تھا۔ خیر ایسا دو ر ہم کئی بار دیکھ چکے تھے جب افسران اپنی ترقی کے ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہوتے ہیں جہاں سے آگے ایک راستہ جنت ارضی کی طرف جاتا ہے جہاں طاقت، شہرت، عظمت، عزت اور دولت اُن کی باندی بننے کے لیے بے تاب ہوتی ہے اور رہ گیا دوسرا راستہ، اس کے لیے تو کوئی سوچتا بھی نہیں، قدرت اس طرف دھکیل دے تو ٹھیک
ہے۔ ایک جانب چشمہئ حیوانی اور دوسری طرف چاہِ گمنامی۔ اس خاص دور میں افسران کی محنت بلکہ غیرمعمولی محنت عام سی بات ہے۔ ہم تو اُن کے ماتحت تھے۔ ایک دن دفتر کا ایک عام ڈرائیور کہنے لگا ”صاب جی گاڑی نے چڑھائی چڑھنی ہو تو پہلے ہی سے موشن بنانا پڑتا ہے۔ آخیر ٹیم (آخروقت) پہ گیئربدلیں تو یا تو گراری ٹوٹ جاتی ہے یا گاڑی بند ہو جاتی ہے۔“
بہر حال چند ہفتوں بعد حالات معمول پر تو نہ آئے ہم ہی صیاد سے مانوس ہو کر زندگی کی اسی ڈگر پر لوٹ آئے۔ ڈگر بھی وہ جو اس شہرت کی شاہراہ کی جانب   جا رہی تھی، وہ شہرت جو ہماری منتظر تھی۔
ورق گردانی اور کتاب بینی کا جو راستہ صغیر نے دکھایا تھا وہ طویل لگا، استاد کی تلاش کرنا اور ایک ایسا استاد جو ادب کے اسرار و رموز سے آشنا ہو اس سے بھی دشوار نظر آیا لیکن جب قدرت ہی آپ کو ادیب بنانے پر مصر ہو تو عاجز انسان کیا کرے۔
ہمارے پڑوس میں ایک جمیل صاحب اپنی بیگم اور دو بچوں کے ساتھ منتقل ہوئے۔ ہم اپنی روایتی سستی اور اس خیال سے کہ نجانے کس مزاج کے ہوں گے، اُن کا انتظار کرتے رہے۔ ادھر ہماری بیگم نے ہمیں پڑوسی کے حقوق والا سبق پھر یاد کروایا۔ ہم پڑوسی کے حقوق ادا کرنے اگلے ہی روز صبح سویرے چائے، ناشتے کی ٹرے کے ساتھ ان کے دروازے پر دستک دینے جا پہنچے۔ سلام دعا ہوئی۔ اُن کی آنکھوں میں حیرت اور غیر یقینی کی کیفیت رات کے خمار پر غالب تھی۔ کبھی وہ ایک ہاتھ بڑھائیں کبھی معانقے کے لیے دونوں ہاتھ آگے کریں لیکن ہر بار ٹرے آڑے آ رہی تھی۔ زبان سے الفاظ ادا نہیں ہو رہے تھے۔
”ارے صاحب یہ…… یہ آپ نے…… یہ کیا تکلف کر دیا …… میں ……میں۔“
ہم نے کہا”معذرت خواہ ہوں رات کو جلد سو گیا ورنہ رات ہی کو پوچھ لیتا کہ آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔“
کہنے لگے ”بھئی یقین نہیں آرہا کہ یہاں ایسا دستور باقی ہے۔ آپ نے ناحق زحمت فرمائی۔ ہم رات کو سامان
کھولنے میں اتنی دیر مصروف رہے کہ تھکن سے صبح آنکھ ہی نہیں کھلی۔ آپ کی دستک نہ ہوتی تو نجانے کب تک سوئے رہتے۔ خیر آپ یہ ٹرے مجھے دیجیے میں اندر رکھتا ہوں۔ آپ چند لمحے انتظار کیجیے میں ابھی آیا۔“
اُن کے گھر کے دالان میں پلاسٹک کی بالٹیاں،گتے کے ڈبے، لوہے کے کنستر، جستی صندوق، مٹی کے گملے اور لکڑی کے کریٹ بے ترتیبی سے بکھرے تھے۔یہ گھر کم اور ردی کی دکان زیادہ لگ رہی تھی۔ ہم محویت سے سامان کا جائزہ لے رہے تھے کہ وہ خالی ٹرے اور خوان پوش لے کر واپس آئے۔
کہنے لگے ”وہ ایسا ہے کہ پہلے تو باورچی خانہ ہی نہیں ملا کہ ہر طرف ایک ہی طرح کا سامان بکھرا ہوا ہے۔ وہ تو گیس اوون نظر آیا تو خیال آیا کہ یہی باورچی خانہ ہو گا۔سچ پوچھیں تواندر ایک حشر سا بپا ہے۔ دیگچیوں کا سر کھلا ہے، ڈھکنے اپنی مادر دیگچیوں سے ملنے کو بے تاب ہیں، چمچے ایک کونے میں منہ بسورے پڑے ہیں۔ چھری کانٹے آپس میں گتھم گتھا ہیں، ہلدی مرچوں کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی ہے اور اُن کے اختلاط سے ایک نارنجی رنگ کا سفوف بکھرا پڑا ہے، گرم مسالا نمک چکھ رہا ہے، کیتلی سل کے نیچے سسک رہی ہے، پلیٹیں صوفے کے اندر استراحت فرما رہی ہیں، نجانے یہ کس نے دست پناہ کو صندوق کی کنڈی میں پھنسا دیا۔ کل رات کو نمک کے پانی کی کلی کی نیت کی تھی اور میدے کی چٹکی گھول لی شکر ہے کاسٹک سوڈا نہیں تھا۔رات بھر منہ میں خمیری نان جیسا مزہ آتا رہا۔صبح جوتے میں سے گلاس نکالا، ہمارے برتن نجانے کس صندوق میں رکھے ہیں۔ آپ کون سے گھر میں رہتے ہیں میں واپس کروا دوں گا۔“
ہم نے کہا ”آپ کو مزید کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو ہمارا گھر حاضر ہے۔ باقی معاملات اپنی بیگمات پر چھوڑ دیتے ہیں۔ میری اہلیہ ابھی بچوں کو اسکول بھیج کر ہماری بھابی سے مل بھی لیں گی۔“
کہنے لگے ”شکریے کے الفاظ نہیں مل رہے۔“
ہم نے کہا ”کیا سامان میں بند کر رکھے ہیں؟“ ایک لمحہ رک کر ایک فلک شگاف قہقہہ لگا یا اور گلے لگ گئے۔کہنے لگے ”اچھا بولتے ہیں۔خوب گزرے گی یہاں۔“
ناموں کا تبادلہ ہوا اور ہم ایک احساس شادمانی کے ساتھ گھر واپس آئے۔ شاید ہر نیکی کرنے کے بعد ایسی ہی شادمانی ہوتی ہوگی۔ہماری بیگم نے بھی ابتدا میں بقول اُن کے اس حشر سامانی کو ٹھکانے لگانے میں خوب مدد کی۔
چند دن بعد سامان اور وہ بالکل کھل گئے۔ بے ساختہ گفتگو، زبان میں رچاؤ، پر خلوص رویہ اور انتہائی ملنسار طبیعت۔اور اُن کی بیگم ان سے بھی زیادہ شفیق۔
ہماری بیگم ایک دن کہنے لگیں ”مجھے تو ان سے اپنی والدہ جیسی خوشبو آتی ہے۔“
ہمیں ایسے پڑوسی ہونے کی خوشی ہوئی۔ شیخ صاحب خود تو فارن سروس سے حال ہی میں ریٹائر ہوئے تھے اور آج کل اپنے گھر کی تعمیر میں مصروف تھے۔ اُن کا پلاٹ اس موجودہ گھر سے بس دو کلو میٹر دور تھا یوں آسانی کے پیش نظر وہ ایک برس کے لیے یہاں آ گئے تھے۔ اُن کی بیگم کالج میں پڑھا رہی تھیں۔ یوں سامان کھلا تو کتابیں اور تزئین و آرائش کا سامان گھر کے ہر کونے میں پھیل گیا۔ ابتدائی دنوں میں جو خدمت ہو سکی وہ ہم نے بخوشی کی اور ادھر اُنھوں نے
بھی شفقت اور محبت نچھاور کرنے میں بخیلی نہیں کی۔ نمک مرچ، پلاسٹک کے برتنوں اور عام سے کھانے کی اشیا کے عوض یہ سودا برا نہیں تھا، محبت کی یہ ادنیٰ قیمت ہمیں پہلی بار معلوم ہوئی۔
ہمارے گھروں کے لان کے بیچ ایک دیوار تھی جس پر ایک قطار میں رکھے گملے اسے قابل احترام بلندی عطا کرتے تھے۔ ہمیں انکی دلچسپ گفتگو سنائی دیتی اور یقینا ہماری باتیں وہ سنتے ہوں گے۔دونوں پڑھے لکھے تھے، دنیا دیکھی ہوئی تھی اس لیے نکھرے ہوئے بلند خیالات اور اس پر الفاظ کا چناؤ ہمیں مار گیا۔ ہمیں تو ایسے ہی شخص کی تلاش تھی جس سے ہمارے اندر کا ادیب فیض حاصل کر سکے۔ جب ہماری بیگمات کی دوستی پختہ ہوئی تو گملوں کی دیوار برلن کمزور ہونے لگی۔ کھانوں اور دوسری ضرورت کی اشیا کی درآمد اور برآمد اسی راستے ہونے لگی۔ آنے جانے کے لیے البتہ بڑا دروازہ ہی استعمال ہوتا تھا۔ وہ اکثر آپس میں ہماری تعریف کرتے، بارہا پہلے ناشتے کا ذکر کرتے اور ہم پہلے تو دل میں خوش ہوتے لیکن بعد میں شرمندہ ہوتے کہ یہ تو ہمارا ایک معمولی فرض تھا جو ہم نے اپنی بیگم کے کہنے پر ادا کیا تھا۔
جمیل صاحب بہت ہی دلچسپ آدمی نکلے۔ چند روز پہلے اپنے لان میں بہت انہماک سے اخبار پڑھ رہے تھے۔ اور وہ بھی اس طرح کہ چائے کی پیالی طشتری سے کچھ بلند وہیں معلق تھی۔
میں نے کہا کوئی خطرناک خبر پڑھ رہے ہیں کیا؟
کہنے لگے غضب ہو گیا فلاں ایکٹریس نے شادی کرلی۔
میں نے کہا اس میں آپ کا افسوس تو بجا ہے لیکن ایکٹریس کی خوشی بھی تو دیکھیے اور یہ تو اُس کا پرائیویٹ معاملہ ہے کہ جہاں چاہے شادی کرے۔
کہنے لگے۔”آپ سمجھ نہیں رہے ہیں یہ شو بز کے لوگ دراصل پبلک پراپرٹی ہوا کرتے ہیں۔ ان پر پرائیویٹ قانون لاگو نہیں ہوتا۔ کل کلاں کو آپ کے ٹو پہاڑ بھی کسی کو کرایے پر دے ڈالیں اور وہ مزے سے اُس کی برف کے گولے بنا کر بیچنا شروع کر دے اور ادھر آپ بغل میں ہاتھ ڈال کر کہتے رہیں کہ یہ تو اُس کا پرائیویٹ معاملہ ہے۔ واہ خوب رہی۔“
بڑے افسروں کی ترقی کے حوالے سے ایک نادر پلاٹ ذہن میں کروٹیں لے کر طوفان مچا رہا تھا۔ ہم نے اس موقع کو غنیمت جان کر قلم کاغذ سنبھالا اور خوشگوار فضا میں باہر آ بیٹھے۔ قلم کاغذ پر رکھ کر دماغ پر بار بار زور ڈالا لیکن صاحب کہاں۔ جب وہ نقطہ ایک بڑا روشنائی کا دھبّا بن گیا تو ناچار چھوڑ دیا لیکن قلم نہیں۔
گڈمڈ خیالات اور الجھن نے جھنجھلاہٹ کی شکل اختیار کی ہی تھی کہ پڑوس سے شیخ صاحب کی آواز آئی ”بیگم بڑے بڑے مبلغ، واعظ، مقرر اور ادیب ایک طرف لیکن تم ان ہمسایوں کا اخلاق تو دیکھو، انسانیت اور ادب کا عملی نمونہ۔اور بولتے کتنا اچھا ہیں۔ جتنا بے ساختہ بولتے ہیں وہی لکھنا شروع کر دیں تو ادب میں کتنا اضافہ ہو۔ مگر یہ تو اخلاقیات کو عمل سے پھیلا رہے ہیں، میرا تو دل چاہتا ہے کہ پند و نصائح کی یہ سب کتابیں لکھنا پڑھنا بند کردوں اور اُن کی طرح خود بھی عملی طور پر کوئی نیکی کا کام کروں “
کا غذ پر بنی روشنائی کی سیاہ آنکھ ہمیں گھور رہی تھی۔

Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers