قصہ ہماری مونچھ تراشی کا :
مونچھیں ہمارے معاشرے میں مردانگی کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ یہ نہ صرف آج کے دور میں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں بلکہ زمانہ قدیم ہی سے لوگ مونچھوں کی اہمیت و افادیت سے بخوبی واقف ہیں۔ مونچھیں رُعب و دبدبہ ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ مردانگی کی شان بھی سمجھی جاتی ہیں۔ ہم نے چونکہ ایک ایسے ہی گھرانے میں نہ صرف آنکھیں کھولیں بلکہ ٹانگیں پساریں جہاں ہر طرف مونچھوں کا راج تھا۔ نائی کا استرا ہمارے خاندان کے کسی بھی فرد کی مونچھ کاکبھی کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکا۔ ہمارے ابا جی کی مونچھیں بھی کیا مونچھیں ہیں ان کی طوالت اور مضبوطی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ بچپن میں جب ہم چھوٹے تھے تو چارپائی کاسہارا لے کر کھڑے ہونے کے بجائے ابا جی کی گود میں اُن کی مونچھیں پکڑ کر کھڑے ہوتے۔ کبھی کبھی عالمِ جوش میں ان کی مونچھوں کو پکڑ کر اٹھک بیٹھک کرتے اور کبھی تو اُن کے ساتھ لٹک کر جھولے بھی لے لیا کرتے تھے۔ انھیں مونچھوں کو پکڑ کر ہم جوان ہوئے اور ہوتے چلے گئے۔  تفصیل سے پڑھیے
ہمارے اباجی کی مونچھیں کوئی عام مونچھیں نہیں ہیں۔ جتنی شہرت ابا جی کو علاقے میں ان کی مونچھوں نے دلوائی، اتنا ان کے نام یا کام نے نہیں دلوائی۔اپنے محلے، گائوں تو دور کی بات پورے ضلع میں کسی سے ہمارے ابا جی کا نام پوچھ لو مگر ساتھ مونچھوں کا لاحقہ لگانا ضروری ہے۔ ہر کوئی آپ کو ہمارے گھر کاپتا بتا دے گا۔ بچپن میں جب ہم کہیں جاتے، تو لوگ پوچھتے کس کے بیٹے ہو؟ ہم کہتے فلاں کے وہ کہتے کون فلاں؟ ہم پھر بتاتے جناب وہ فلاں جو وہ کام کرتے ہیں، تو وہ بڑی بھیانک سی ہنسی کے ساتھ قہقہہ بلند کرتے اور فرماتے، اچھا! وہ مونچھوں والے، اچھا اچھا! یوں کہو نا بھئی! آپ تو ہمارے بھتیجے ہیں، آئو آئو! بیٹھو وغیرہ وغیرہ۔ اور ابا جی کی مونچھوں کے صدقے ہماری خوب آئو بھگت ہوتی۔
مونچھیں نہ صرف ابا جی کی ہیں بلکہ بڑے بھائی جان کی مونچھیں بھی کمال کی ہیں۔ بڑے بھائی نے بھی مونچھوں پر بڑی محنت کی، خوب کھلایا پلایا، دیسی گھی کی مالش کی، بادام روغن، گری کے تیل میں ملا کر مونچھوں پر لگایا۔ ابا جی سے اپنی مونچھیں دو ہاتھ لمبی کیں مگر جو نام ابا جی کی مونچھوں نے کمایا، وہ بھیا جی کی مونچھوں کو نصیب نہ ہوا۔ خیر تاحال مقابلہ جاری ہے، جانے کون ’’گولڈ میڈل‘‘ جیت پاتا ہے۔
مونچھوں سے ازلی شناسائی اور پیار محبت کے باوجود ہمیں مونچھوں سے خدا واسطے کا بیر تھا اور ہے۔ وجہ معلوم نہیں۔ ابا جی کی مونچھیں ہمیں پیاری ہی نہیں، آئیڈیل بھی لگتی ہیں، مگر خیال میں، لیکن جب ہم آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے چہرے پر مونچھوں کا نقشہ کھینچتے ہیں، تو کچھ دہل سے جاتے ہیں۔
اپنے چہرے پر مونچھوں سے ہمیں ایسے نفرت ہے جیسے مور کو اپنے پیروں سے۔ اسی لیے آج تک اپنے چہرے کوشرمندۂ مونچھ نہیں ہونے دیا۔ جب ہم نے عالم شباب میں قدم رکھا اور چہرے پر ہلکی ہلکی مسیں بھیگنا شروع ہوئیں تو ابا کا سینہ فخر سے چوڑا اور اماں کا ماتھا خوشی سے دمکنے لگا کہ ہمارا پُتر جوان ہو گیا ہے۔ جب کہ عین اسی وقت ہمارا سر جھکنا شروع ہو گیا کہ لوگ ہماری مونچھیں دیکھیں گے تو کیا کہیں گے۔ کیونکہ تازہ تازہ نکلتی ہماری مونچھیں ایسے لگتی تھیں جیسے ریلوے لائن کے کنارے اُگے خود رُو سرکنڈے ہوں، ایک یہاں اور ایک وہاں!
ہم سارا سارا دن آئینے کے سامنے اپنی بُوتھی لے کر بیٹھے رہتے اور اپنی نئی نویلی مائل بہ روئیدگی مونچھوں کے ایک ایک بال کو گنتے رہتے۔ ارادہ تھا کہ موقع ملتے ہی ان کا قلع قمع کردیا جائے، مگر اس سے پہلے کہ ہمارا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا ابا جی کو ہمارے خفیہ مشن کا پتا چل گیا کہ برخوردار اپنی معصوم مونچھوں کو ملیا میٹ کرنے والا ہے۔بس پھر کیا تھا، ابا نے اپنی مونچھوں کو کھڑا اور آنکھوں کو بڑا کر کے ہمیں ہمارے کان سے پکڑ کے متنبہ کیا کہ اگر مونچھوں کے ساتھ کوئی غیراخلاقی یا سفاکانہ حرکت کی، تو تمھاری ٹانگیں توڑ کے گھر سے نکال دوں گا۔ بس پھر کیا تھا ہماری ٹانگیں تو اسی وقت کانپنا شروع ہو گئیں۔ خیر! مونچھوں کے ساتھ ہم نے کوئی واردات تو نہ کی، مگر اندر ہی اندر ہماری مونچھ مخالف بغاوت پروان چڑھتی گئی۔
بی۔اے کر کے ہم اپنے ہی ضلع میں ملتان یونیورسٹی سے الحاق شدہ کالج میں ایم۔ اے کرنے کی نیت سے داخل ہو گئے۔ کالج اپنے ہی علاقے میں تھا، اس لیے سارے لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے سے واقف تھے۔ انگلش کی کلاس میں لٹریچر پڑھ کے ہمارے مونچھ مخالف جذبات شدت اختیار کر گئے۔ نہ صرف مونچھ مخالف جذبات بلکہ روایتی لباس شلوار قمیص کی جگہ پینٹ شرٹ سے بھی محبت کے جراثیم ہمارے نہاں خانۂ دل میں پرورش پانے لگے۔
ایم۔اے انگلش کی کلاس کے پہلے ہی سال ہماری پوری کلاس ٹِرپ پر گئی۔ ہمارے استاد محترم نے دو دن پہلے تقریر کی کہ اس ٹرپ پر ہر لڑکا اور لڑکی بہت مختلف اور پہلے سے ذرا ہٹ کے نظر آنا چاہیے۔ بس پھر کیا تھا! ہم نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ برخوردار! اب وہ وقت آ پہنچا ہے کہ اپنی دیرینہ خواہش پوری کی جائے۔ پوری کلاس کو حیران کرنا اور لڑکیوں کو Impress کرنا ہے۔ دل اور دماغ دونوں نے ہماری تائید کی۔ دل کے ایک کونے سے سرسید احمد خان کا نعرہ گونجا ’’اب یا پھر کبھی نہیں!‘‘ ہم اپنے فیصلے پر ڈٹ گئے اور پوری کلاس کو مخاطب کر کے کہا کہ ٹرپ والے دن سب سے مختلف نظر آ کر آپ سب کو حیران کر دوں گا۔ سب نے پوچھا بھئی ایسا کیا کرنا ہے، ہم نے کہا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
ٹِرپ سے ایک دن پہلے ہم اپنے دوست کے پاس پہنچے، جو Comset یونیورسٹی اسلام آباد میں کمپیوٹر انجینئرنگ کر رہا تھا۔ اسے ہم نے اپنے منصوبے سے آگاہ کیا، تو اس نے بھی ہماری نہ صرف تائید کی بلکہ ہمارا ساتھ دینے کا بھی پورا پورا وعدہ کیا۔ فوری طور پر اندر کمرے میں جا کر اپنی ڈھیر ساری پینٹیں اور شرٹیں نکال لایا۔
ہم نے باری باری تمام شرٹس پہنیں جو ہمیں بالکل فٹ آتی چلی گئیں مگر جب پینٹ پہننے کی کوشش کی تو اس نے کولھوں سے اوپر جانے سے انکار کر دیا۔ آخر ایک دو پینٹوں کی زِپ خراب کرنے کے بعد ہمارے دوست نے کہا کہ لگتا ہے، تمھاری ویسٹ زیادہ ہے۔چناںچہ نئی پینٹ خریدنے پر اتفاق ہوا۔ ہم نے بائیک اسٹارٹ کی اور بازار پہنچ گئے۔ دکاندار سے فرمائش کی کہ حضور پینٹ چاہیے۔ اس نے کہا ’’جینز یا ڈریس!‘‘ اس کی بات ہمارے سر سے گزر گئی۔ ہم نے کہا بھئی ہمیں پینٹ چاہیے جینز یا ڈریس سے کیا واسطہ! دکاندارسمجھ گیا۔ ’’پینڈو نیا نیا، بابو بننے چلا ہے۔‘‘ خیر اللہ اللہ کر کے پینٹ پسند کی وہیں پہن کر چیک کی اور بغل میں دبائے گھر آ گئے۔
صبح سویرے نائی کی دکان پر پہنچے۔ وہ بھی ہمارا ہمدرد نکلا۔ کہنے لگا برخوردار! گھبرائو نہیں ایسی صفائی سے استرا چلائوں گا کہ پتا ہی نہیں چلے گا۔ واقعی پتا ہی نہیں چلا اور کام ہو گیا۔ ہم نے آنکھیں بند کیں اور پھر بند ہی رہ گئیں، دوبارہ کھولنے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی۔ پہلے ہم نے ایک آنکھ کھولی پھر دوسری، جب دونوں آنکھیں کھولیں تو خود کوڈھونڈنے لگے، آئینے کے سامنے تو کوئی اور بیٹھا تھا۔ ہم تو وہاں تھے ہی نہیں! بڑی پریشانی کا سامنا ہوا۔ خیر دوست نے بڑی بحث کے بعد آخر یقین دلاہی دیا کہ جب 2منٹ پہلے آپ کو یہاں بٹھایا تھا، تو اس کے بعد اب تک آپ ہی یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، تو پھر اور کون یہاں آ جائے گا۔ خیر ہم نے جب بغور اپنے نین نقش دیکھے تو یقین آ ہی گیا کہ ناک سے نیچے اور منہ سے اوپر کے علاوہ باقی تو سارا اپنا ہی ’’تھوبڑا‘‘ ہے۔
نائی کی دکان سے باہر آ کے ہم ایسے منہ چھپاتے پھر رہے تھے، جیسے پہلی رات کی سہاگن شرماتی پھرتی ہے۔ ہم بڑی شان سے کالج پہنچے کہ سارے فیلوز بلکہ ساری فیلوز دیکھتے ہی حیران ہو جائیں گی مگر وہاں تو کچھ اور ہو گیا۔ لڑکیاں ہمیں دیکھیں اور اپنے پلو میں منہ چھپا کے کھِی کھِی ہنسیں۔ ہم نے کہا کہ یہ کیا ہو گیا!
یہاں تو کچھ الٹا اثر ہو گیا ہے۔ خیر! جب وہ کھسیانی کھسیانی ہنسی، قہقہوں کا روپ دھارنے لگی، تو ہم جلال میں آ گئے سب کو دو چار الٹی سیدھی سنائیں او ر اپنا ٹرپ کینسل کرکے گھر آ براجمان ہوئے۔ مگر گھر میں ہمارے داخل ہوتے ہی جیسے بھونچال سا آ گیا۔ ہمارا حلیہ دیکھتے ہی اماں نے ماتھے پر ہتھڑ مارا اور سر پکڑ کر بیٹھ گئیں، بھیا جی غضبناک آنکھوں سے دیکھنے لگے اور ابا جی نے ڈنڈا اُٹھا کر دو ہتھڑ نہیں چار رسید کیے اور ساتھ میں گالیوں کی بوچھاڑ آئی۔
نکمے، نامعقول، کمبخت! اسی دن کے لیے پال پوس کر بڑا کیا تھا کہ ہماری ناک ہی کٹوا دو۔ ہم نے دل میں کہا ابا جی! غصے میں لفظ تو ٹھیک بولیں ہم نے مونچھیں کٹوائی ہیں ناک تھوڑی کٹوائی ہے۔ ہم نے بہتیرا ہاتھ جوڑے، معافی مانگی کہ ابا جی غلطی ہو گئی دوبارہ نہیں ہو گی۔ مگر ابا جی تو جیسے آپے سے باہر ہو گئے تھے۔ بہت کوشش کے باوجود جب معاملہ سنبھلتا محسوس نہ ہوا، امی کی منت سماجت کی،
کیونکہ وہی مجھے اُن کے عتاب سے بچا سکتی تھیں۔ آخر خوب ہنگامی آرائی کے بعد ابا جی نے بس اتنا کہا ’’دور ہو جائو میری نظروں سے‘‘ ہماری جان میں جان آئی اور ہم گھر سے باہر نکل آئے۔ پورا محلہ دروازے کے سامنے ایسے اکٹھا ہوا کھڑا تھا جیسے سینما ہال کی کھڑکی پر ٹکٹ لینے والوں کی بھیڑ۔ سب ہمیں دیکھ دیکھ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ وہ رات ہم نے اپنی ایک خالہ کے گھر بسر کی۔
ابا جی کا پیغام ملا کہ اگر آج کے بعد مونچھوں کو چھوا بھی تو جان سے مار دوں گا۔ ابا جی نے کہا کہ اس شرط پر گھر آ جائو کہ آیندہ مونچھوں کا خون نہیں کرو گے۔ ہم نے دل میں کہا ابا جی مونچھوں سے تو اب ہے معذرت! مونچھوں کی تو ہم نے اب کبھی شکل نہیں دیکھنی، باقی جیسے آپ کی مرضی… امی نے کافی معاملہ سلجھا لیا اور فیصلہ کیا کہ ہمیں کسی یونیورسٹی میں داخلہ دلا دیا جائے تاکہ یہاں رہ کر ہمارے نام کو بٹا نہ لگائے۔
یوں ہماری جان کی خلاصی ہوئی۔
ہم یونیورسٹی پہنچ گئے۔ وہاں تو اپنی مرضی اور شان کے مطابق خوب پینٹ شرٹ پہنی اور بڑے ڈھنگ سے پہنی، بلکہ دبنگ ہو کر پہنی اور ابا جی کی لاڈلی مونچھوں سے گن گن کر بدلے لیے۔ روز کلین شیو کی بلکہ کبھی کبھی تو رات کو نیند سے اٹھ اٹھ کر بھی مونچھوں کو رگڑ ڈالا۔ یونیورسٹی میں گئے ہوئے ایک سال ہو گیا تھا۔ اچانک گھر والوں کو خیال آیا کہ برخوردار! یونیورسٹی پہنچ گیا ہے کہیں وہیں سے کوئی دُبلی پتلی ’’طوطی‘‘ جیسی ٹیں ٹیں کرتی انگریزی بولتی میم ہی نہ بیاہ کر لے آئے۔ کیوں نا برخوردار کو کسی کھونٹے سے باندھ دیا جائے۔ ہمیں فون کر کے گھر بلایا گیا اور اباجی نے اپنے ارادے سے آگاہ فرمایا۔ ہم نے کہا ابا جی جیسے آپ کی مرضی ویسے ہم ماڈرن جتنے ہو جائیں، شادی کے معاملے میں دیسی ہی رہیں گے۔
دوچار دن بعد ہمیں لڑکی سے ملوانے کے لیے دوسرے گائوں بھیجا گیا۔ لڑکی بھی دور پرے کے رشتے میں خالہ کی بیٹی تھی۔ ہم نے خوب رگڑ کے شیو کی، پینٹ شرٹ پہنی، زُلفوں کو خم دیا کہ لڑکی ہمیں دیکھتی ہی رہ جائے۔ خوب سج دھج کے ساتھ خالہ کے گھر پدھارے۔ لڑکی سامنے سے گزری… وہ کیا گزری، ہم پہ تو جیسے قیامت ہی گزرگئی، ہم ابھی اس کے سحر ہی سے نہیں نکل پائے تھے کہ جیسے بھونچال آگیا۔ ہم صحن میں براجمان تھے اور خالہ صاحبہ ہمارے پاس بیٹھی ہماری تعریفیں کیے جا رہی تھیں کہ انھیں اچانک کمرے میں بلایا گیا۔
خالہ اندر گئیں اور کھسرپھسر شروع ہو گئی۔ ہم پریشان کہ کیا ہو گیا؟ تھوڑی دیر بعد آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔ پہلے تو ہم تجسس میں تھے کہ ہوا کیا ہے پھر کانوں کو لمبا کر کے کچھ سننے کی جسارت کی اور بعد میں اپنی جسارت پہ غصہ آیا۔ غصہ آتا بھی کیوں نا! وہاں تو ہماری عزت کی دھجیاں اڑائی جا رہی تھیں۔ وہ ’’حُسن بانو‘‘ جس کو دیکھنے کے لیے بلکہ جس کو دکھانے کے لیے ہمیں بلایا گیا تھا۔
وہ ہماری مونچھوں پر نالاں تھی۔ حضور ’’نالاں‘‘ بھی کیا لفظ ہے اس نے تو اخلاق کی تمام حدیں پار کر دیں۔ وہ ہمیں دیکھتے ہی غضبناک ہو گئی اور غصے میں بولے جا رہی تھی کہ میں اس سے شادی نہیں کروں گی جس کی مونچھیں ہی نہیں ہیں، جو شکل ہی سے مرد نہیں لگتا۔ میں اپنی سہیلیوں سے کیا کہوں گی کہ میں نے ’’کھسرے‘‘ سے شادی کی ہے۔ اس کی شکل تو لڑکیوں جیسی ہے۔
منحوس نامراد کہیں کا! بڑا پڑھائی کر رہا ہے اس کو تو ’’دین‘‘ کا پتا بھی نہیں ہے، پڑھائی کیا کرے گا، بے دین کہیں کا! بھلا جس کی مونچھیں نہ ہوں وہ بھی کوئی مرد ہوتا ہے۔ اماں میں نے اپنی ناک نہیں کٹوانی سہیلیوں میں‘ اس ’’ہیجڑے‘‘ سے شادی کر کے!
ہم سے اس سے زیادہ کچھ سنا نہ گیا اور چپ کر کے عزت بچا کر گھر کی راہ لی۔ راستے میں کئی بار شدت جذبات سے روہانسے ہو گئے، مگر ہماری بن مونچھوں کی مردانگی آڑے آئی اور آنسو ضبط کر گئے۔ اسی دن ہم نے اپنا بوریا بستر گول کیا اور واپس یونیورسٹی جا سدھارے۔
وقت آہستہ آہستہ کٹتا گیا، ہماری ماسٹر کی ڈگری مکمل ہو گئی اور ہم یونیورسٹی کو ہمیشہ کے لیے اللہ حافظ کہہ کر اکیلے ہی گھر لوٹ آئے۔ کچھ دن گزرے تھے کہ ہمارے گائوں میں کسی معاملے پر پنچایت اکٹھی ہوئی۔ ابا جی بھی جارہے تھے۔ ہم نے اباجی سے فرمائش کی کہ ہمیں بھی ساتھ لے چلیں۔ پہلے تو وہ کسمسائے مگر پھر ہامی بھر لی۔ ہم پنچایت میں پہنچے تو ہمارے لیے خاص طور پر کرسی منگوائی گئی۔ باقی لوگ چارپائیوں پر براجمان تھے۔ ہم احساس فخر سے پھول کے کُپا ہو گئے۔بڑے اور بچے ہمیں کن انکھیوںسے دیکھیں اور بغلوں میں منہ چھپا کے ہنسیں۔
خیر! ہم سینہ تان کر بیٹھے رہے۔ تھوڑی دیر بعد بحث مباحثہ شروع ہوا اور شور بلند ہوتا چلا گیا۔ ہم بھی فریقین کو بغور سنتے رہے۔ اچانک ہمیں محسوس ہوا کہ ہم پڑھے لکھے ایم۔ اے پاس بے روزگار نوجوان ہیں۔ یہ جاہل لوگ بحث کو لمبا کیے جا رہے ہیں، اب جب ہمیں مسئلے کی نوعیت کا پتا بھی چل گیا ہے، تو کیوں نہ ہم بھی اپنی رائے سے انھیں نوازیں۔
ہم نے بڑے حاکمانہ انداز میں سب کو چپ کرایا اور بولنا شروع کیا۔ باقی تو سب چپ کر گئے مگر نمبردار صاحب غضبناک ہو کر بولے’’چپ کر اوئے کھودے!‘‘ تمھیں کیا پتا کہ پنچایت میں کیسے بولا جاتا ہے۔مونچھیں تو رکھ نہیں سکتے، نامرد کہیں کے اور آ گئے پنچایت میں فیصلہ کرنے۔ پہلے مردوں میں بیٹھنے کے قابل تو بنو، تم تو شکل سے مسلمان بھی نہیں لگتے اور ہمارے منہ لگتے ہو۔ اتنے بڑے بڑے مونچھوں والے بزرگ بیٹھے ہیں یہاں پر اور تمھیں شرم نہیں آئی، ان کے سامنے بولتے ہوئے۔
بس جناب! پھر کیا تھا ہم اٹھے اپنے کپڑے جھاڑے اوراپنا سا منہ لے کر گھر کو چل دیے۔ دو دن بعد سامان پیک کیا اور روزگار کی تلاش میں لاہور کا رخ کیا۔
الحمد للہ لاہور آتے ہی ہم ایڈجسٹ ہو گئے۔ روز گار بھی مل گیا اور مونچھوں کو بلاناغہ رگڑنے کا موقع بھی! اب کبھی کبھار گھر جاتے ہیں اور رشتہ داروں کے ہاں بھی تشریف لے جاتے ہیں۔ مرد تو ہمارے ساتھ بیٹھنا اپنی شان کے خلاف ہی سمجھتے ہیں جب کہ عورتیں ہمیں اپنی محفل میں بٹھانا فرضِ عین سمجھتی ہیں۔ ابا جی بھی ہمیں گھر میں دو دن سے زیادہ برداشت نہیں کرتے۔ حیلے بہانے سے مونچھوں کی طرف ہماری توجہ دلانا شروع کر دیتے ہیں جب کبھی وہ ایسا کرتے ہیں تو ہم اپنا بوریا بستر گول کرکے لاہور چلے آتے ہیں۔
ابا جی نے مونچھیں منڈوانے کے بعد ہمیں کبھی اپنے گلے نہیں لگایا۔ خیر! ہمیں بھی ابا جی کے گلے لگتے شرم آتی ہے اور ویسے بھی گلے لگنے کے بعد جب وہ ہمیں ماتھے اور گالوں پر چومیں گے تو ان کی بڑی بڑی مونچھیں ہمیں چبھیں گی۔ یہ سوچ کے ہم بھی ذرا کنی کتراتے رہتے ہیں۔ ابا جی نے آج تک اپنی مونچھوں پہ آنچ نہیں آنے دی اور ہم نے آج تک اپنی آنچ پہ مونچھیں نہیں آنے دیں، میرا مطلب ہے منہ پہ مونچھیں نہیں آنے دیں۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers