ڈالر گردی کے 100 سال
یہ 22نومبر1910ء کی بات ہے، امریکی و یورپی بینکاروں اور سرمایہ کاروں کے پانچ نمائندے ایک جزیرے، جیکال میں جمع ہوئے۔ ان کی قیادت امریکی سرکاری ادارے، نیشنل مونیٹری کمیشن کا یہودی سربراہ اور جان راک فیلر کا سمدھی، نیلسن آلڈرچ کر رہا تھا۔ امریکی محکمہ خزانہ کا یہودی اسسٹنٹ سیکرٹری ابراہام اینڈریوز اس کا نائب تھا۔
دیگر پانچ افراد میں پال واربرگ، فرینک وینڈرلیپ، ہنری ڈیویسن، چارلس نارئن اور بنجمن اسٹرانگ شامل تھے۔ یہودی پال واربرگ جرمن بینکار، روتھ شیلڈ کے ملکیتی امریکی بینک کوہن یوب کمپنی سے منسلک تھا۔ فرینک وینڈرلپ راک فیلر کے ملکیتی، نیشنل سٹی بینک کا سربراہ تھا۔ چارلس نارئن امریکی بینکار، جے پی مورگان کے بینک فرسٹ نیشنل بینک کا صدر تھا۔ ہنری ڈیویسن اور بنجمن سٹرانگ بھی جے پی مورگان کے نمائندے تھے۔   تفصیل سے پڑھیے

اس زمانے میں روتھ شیلڈ، راک فیلر اور جے پی مورگان خاندان مغرب کی آدھی دولت کے مالک تھے۔ 23نومبر کے دن ان امیر ترین خاندانوں کے نمایندے اس لیے جمع ہوئے تھے کہ مالیاتی قوانین کا مجموعہ تیار کرکے امریکی حکومت پر قبضہ کرلیں۔
قبضے کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہی 1907ء میں یہودی اور ان کے ایجنٹ امریکی بینکاروں و سرمایہ کاروں نے مالیاتی بحران پیدا کیا۔ اس کا اصل مقصد ٹرسٹ کمپنیوں کا زور توڑنا تھا۔
اس زمانے میں ٹرسٹ کمپنیاں ایک قسم کا بینک تھیں۔ عام لوگ ان میں سرمایہ کاری کرتے۔ ٹرسٹ کمپنیاں سرمائے کو مختلف کاروباروں میں لگاتیں اور جو منافع ہوتا، وہ سرمایہ کاروں میں تقسیم کر دیا جاتا۔
امریکا میں یہ ٹرسٹ کمپنیاں انیسویں صدی کے اواخر میں قائم ہوئیں اور انھوں نے دیکھتے ہی دیکھتے امریکی عوام میں بہت مقبولیت حاصل کر لی۔ خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے بینکوں کے کاروبار کو بہت نقصان پہنچایا جو بنیادی طور پر امریکی و یورپی یہود کے ہاتھوں میں تھا۔ مزیدبرآں بیشتر ٹرسٹ کمپنیوں کے مالک سفید فام امریکی تھے۔
سو یہودی سود خوروں، بنیوں، بینکاروں اور سرمایہ داروں نے امریکی ڈالر ذخیرہ کر لیے۔ مالیاتی مارکیٹ میں کرنسی کم ہوئی، تو ٹرسٹ کمپنیاں رفتہ رفتہ بیٹھتی چلی گئیں۔ یوں یہود نے ایک تیرسے دو شکار کیے …… اوّل اپنے کاروبار کو بچایا، دوسرے مارکیٹ سے سفید فام حریفوں کا پتا صاف کر دیا۔
یہود کی کٹھ پُتلی
1908ء میں امریکی و یورپی بینکاروں و سرمایہ داروں کے اِصرار پر امریکی حکومت نے نیشنل مونیٹری کمیشن کے یہودی سربراہ، نیلسن آلڈرچ کو یہ کام سونپا کہ وہ کرنسی جاری کرنے کا نیا نظام وضع کرے۔ آلڈرچ دو برس تک یہ نظام تیار کرنے کی خاطر تحقیق کا مطالبہ کرتا رہا۔ یہاں تک کہ 22نومبر 1910ء کو اس نے روتھ شیلڈ، جے پی مورگان اور راک فیلر کے نمایندوں کو بلوا لیا۔
یہود و نصاریٰ کے انہی سود خوروں نے پھر ایسا مالیاتی نظام وضع کیا جو بینکاروں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں امریکی حکومت دے ڈالے۔ اس زمانے میں ریپبلکن ولیم ٹافٹ امریکی صدر تھا۔ اس نے یہودی بنیوں کا تیار کردہ نظام لاگو کرنے سے انکار کر دیا۔ سو یہود و نصاریٰ بینکار ایسے راہنما کی تلاش میں سرگرم ہوئے جو صدر بن کر ان کے اشاروں پر چل سکے۔ انھیں ووڈرو ولسن کی صورت میں ایسی کٹھ پُتلی مل گئی۔
ووڈرو ولسن پرنسٹن یونیورسٹی میں پروفیسر تھا۔ جب وہ ریٹائر ہوا، تو امریکا میں یہود کے لیڈروں نے اُسے اپنے سایہ عاطفت میں لے لیا۔ ان لیڈروں میں کوہن لیوب بینک کا سربراہ جیکب شیف، پال وار برگ، وال سٹریٹ کا مشہور مغل برنارڈ بروچ اور سرمایہ دار ایڈورڈ مینڈل ہاؤس نمایاں تھے۔ ان کے سرمائے اور اثرو رسوخ کے باعث ہی ریٹائرڈ پروفیسر ولسن 1911ء میں ریاست نیو جرسی کا گورنر بن گیا۔
1912ء میں امریکی صدارتی انتخابات ہوئے۔ یہودی سرمایہ داروں نے ووڈرو ولسن کو ڈیمو کریٹک پارٹی کا امیدوار بنایا۔ مخالف ریپبلکن پارٹی کے ووٹ توڑنے اور ولسن کی جیت پکی کرانے کی خاطر انھوں نے ایک انوکھی چال چلی۔ جیکب شیف نے بل موز (Bill Moose) نامی سیاسی جماعت بنائی اور اس کا سربراہ مشہور سابق صدر، تھیو ڈور روز ویلٹ کو بنا دیا۔
بل موز پارٹی بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ریپبلکن ووٹروں کے ووٹ روزویلٹ اور ٹافٹ کے درمیان تقسیم ہوجائیں۔ یہود کی سازش کامیاب رہی اور ولسن ڈالے گئے ووٹوں میں سے صرف 41.8فیصد ووٹ لے کر بھی نیا امریکی صدر بن گیا۔ وجہ یہی ہے کہ ریپبلکن ووٹروں کے ووٹ روزوَیلٹ 27.4)فیصد) اور ٹافٹ 23.2)فیصد) کے درمیان بٹ گئے۔
یوں یہود اور بے ضمیر و بے مذہب امریکی سرمایہ داروں و بینکاروں کا ایجنٹ، وائٹ ہاؤس میں جاپہنچا۔
اب یہود اپنی تین خواہشات پوری کرسکتے تھے…… اوّل امریکی عوام پر انکم ٹیکس لگانا(جو خانہ جنگی ختم ہونے کے بعد امریکی حکومت نے 1872ء میں ختم کر دیا تھا) دوم اپنی مرضی کے مرکزی بینک کی تشکیل اور سوم عالمی جنگوں میں امریکی شمولیت۔
ووڈرو ولسن حکومت سنبھالتے ہی اپنے آقاؤں کے ایجنڈے پر عمل کرنے لگا۔ اس نے جون 1913ء میں کانگریس کا خصوصی اجلاس بلوایا تاکہ وہ ”فیڈرل ریزرو ایکٹ“ پر بحث کرسکے۔ اسی ایکٹ کی منظوری کے بعد مرکزی بینک کا قیام عمل میں آنا تھا۔
یہود کے ایما پہ ولسن حکومت ایکٹ کو برائے منظوری پیش کرنے سے کترانے لگی۔ دراصل یہ پروگرام بنا تھا کہ ایکٹ دسمبر کے اواخر میں کانگریس میں پیش کیا جائے تاکہ بہت سے مخالف ارکان کرسمس کی چھٹیوں پر چلے جائیں۔ یوں ایکٹ کو مخالفت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
یہود کے شیطانی دماغ سے نکلے اس منصوبے پر بھی عمل ہوا۔ جب بہت سے ارکان کانگریس کرسمس کی سرگرمیوں میں محو ہوئے، تو اچانک 22نومبر1913ء کو ایکٹ برائے منظوری ایوان نمایندگان (امریکی اسمبلی) میں پیش کر دیا گیا۔ ایکٹ منظور ہوا۔ اس سے اگلے ہی دن سینٹ نے بھی اُسے منظور کر ڈالا۔ تب صدر ولسن نے اپنے دستخط کرنے میں دیر نہ لگائی، یوں امریکی فیڈرل ریزرو سسٹم کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی۔
یہ دراصل دنیا میں اس ڈالر دہشت گردی کے دور کا آغاز تھا جس کی ایک سوویں سالگرہ 23نومبر 2013ء کو منائی گئی…… وہ مالی دہشت گردی جس نے پاکستان سمیت دنیا کے تمام ترقی پذیر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
انہی بینکاروں و سرمایہ داروں کے متعلق فرانس کے مشہور انقلابی راہنما،نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا: ”جب کوئی حکومت بینکاروں پر انحصار کرے، تو آخرکار وہی قوم پر حکمرانی کرنے لگتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ دینے والا ہاتھ لینے والے سے اوپر ہوتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے بینکار و سرمایہ دار
جذبہ حب الوطنی اور اخلاقیات سے محروم ہوتے ہیں۔“ انکم ٹیکس کا قانون
1913ء ہی میں اپنے آقاؤں کے حکم پر صدر ولسن نے امریکی عوام پر انکم ٹیکس عائد کر دیا۔ تاہم یہ قانون نافذ کرتے ہوئے یہود و نصاریٰ بینکاروں و سرمایہ داروں کو کثیر رقم خرچ کرکے ارکانِ کانگریس کو خریدنا پڑا۔ وجہ یہ ہے کہ 1894ء میں امریکی سپریم کورٹ  انکم ٹیکس قانون کو غیر آئینی قرار دے چکی تھی۔
سو انکم ٹیکس لاگو کرنے کی خاطر یہود و نصاریٰ بینکاروں کے خریدے گئے ارکان کانگریس نے امریکی آئین میں ترمیمات کر ڈالیں۔ چناں چہ ووڈرو ولسن نے عوام پر نیا ٹیکس تھوپ دیا۔ یوں کانگریس اور صدر، دونوں نے امریکی عوام کو دھوکا دیا اور وال سٹریٹ کے بینکاروں و سرمایہ کاروں کو تمام تر مالی قوت دے ڈالی۔
رفتہ رفتہ جب امریکا مختلف وجوہ کی بنا پر دنیا کی سُپرپاور بنا، تو یہ بینکار و سرمایہ کار کوشش کرنے لگے کہ پیسے اور طاقت کے بل پر دیگر ممالک کی حکومتوں پر بھی حاوی ہوجائیں۔
سابق امریکی صدور کا انتباہ
تھامس جیفرسن کو بانیانِ امریکا میں یوں ممتاز حیثیت حاصل ہے کہ انھوں نے ہی ”اعلان آزادی“ تحریر کیا تھا۔ بعدازاں امریکا کے تیسرے صدر منتخب ہوئے۔ ذرا دیکھیے کہ تھامس جیفرسن بینکاری کے متعلق کیسے خیالات رکھتے تھے:
”میں پوری دیانت داری سے سمجھتا ہوں کہ بینکاری کے ادارے ہماری آزادی کے لیے دشمن افواج سے زیادہ خطرناک ہیں۔ ابھی سے وہ ایسے امرا تخلیق کر چکے جو حکومت پہ قابض ہونا چاہتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ بینکوں سے رقم جاری کرنے کی طاقت لے کر عوام کو دی جائے۔ وہی اس طاقت کے حقیقی مالک ہیں۔“
امریکا کے چوتھے صدر، جیمز میڈیسن بھی ان خطرات سے آگاہ تھے جو بینکاروں کو رقم جاری کرنے کی اجازت دینے پر جنم لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ”تاریخ افشا کرتی ہے کہ بنیئے اور سور خود دھوکے، فریب سے کام لیتے ہیں تاکہ کرنسی کا کاروبار اپنے ہاتھوں میں رکھ کر حکومت کو بھی کنٹرول کر سکیں۔“
1791ء میں پہلے امریکی بینک، بینک آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس کی بنیاد پڑی۔ اس زمانے میں فلاڈلفیا امریکی دارالحکومت تھا۔ تاہم تب کے امریکی صدور کو یہ بینک ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ ساتویں امریکی صدر، اینڈریو جیکسن نے اس بینک کو ”ہائڈراکے سر والا دیو“ (Hydra-headed monster)قرار دیا تھا۔ وہ بینکاروں کو ”سانپ“ (Vipers)اور ”چور“ (Thieves)کہا کرتے تھے۔
بینکاروں کی حکومت ختم کرنے کے لیے ہی صدر لنکن نے 1862ء میں ایک قانون (لیگل ٹینڈر ایکٹ) تشکیل دیا۔ اس قانون نے وزارت خزانہ کو یہ اختیار دے ڈالا کہ وہ ڈالر چھاپ سکے۔ یوں امریکی حکومت سود کے زہریلے بندھن سے آزاد کرنسی چھاپنے لگی۔
لیکن جلد ہی صدر لنکن کو قتل کر دیا گیا۔ ان کے ہٹتے ہی امریکی بیوروکریسی نے ڈالر چھاپنے کی ذمے داری پھر بینکاروں کو سونپ دی اور آج تک یہ عوام دشمن چلن رائج ہے۔
دنیا بینکاروں کی غلام بن گئی
بیسویں صدی میں جب امریکا بطور سُپر پاور اُبھرا، تو بینکاروں و سرمایہ کاروں کی دولت دن دُگنی رات چوگنی کی رفتار سے بڑھنے لگی۔ انھوں نے پھر سرمایہ داری کو رواج دیا اور ترقی پذیر ممالک کو قرضے دینے والے ادارے (عالمی بینک اور آئی ایم ایف) قائم کیے۔ یوں انھوں نے دوبارہ ترقی پذیر ممالک کو اپنا غلام بنا لیا۔
پاکستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ فی الوقت پاکستان پر 60ارب ڈالر کا قرضہ چڑھا ہوا ہے۔ اندرونی قرضہ بھی کھربوں روپے میں ہے اور حکومت پاکستان مجبور ہے کہ بینکوں سے سود پر قرضے لے۔ سو پاکستانیوں کا بال بال قرضوں اور سود کے شکنجے میں کسا جا چکا۔
یہود و نصاریٰ بینکاروں و سرمایہ کاروں کی سازشوں سے اب ایسا بین الاقوامی مالی نظام وجود میں آچکا ہے جسے مُٹھی بھر افراد کنٹرول کر رہے ہیں۔ اس کی بدولت انھیں موقع مل گیا کہ ہر ملک کی سیاست میں حکمرانی کریں اور عالمی معیشت کو جو مرضی رُخ دیں۔
پچھلی ایک صدی میں پیسا دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن چکا۔ جس کے پاس پیسا ہو وہی معیشت، تجارت، کاروبار، سیاست اور حکومت کو کنٹرول کرتا ہے۔ اسی لیے یہودی روتھ شیلڈ خاندان کے بانی، اسے
امٹیل روتھ شیلڈ نے ایک بار کہا تھا:
”مجھے ایک قوم کی کرنسی جاری اور کنٹرول کرنے کی اجازت دے دو، میں پھر یہ پروا نہیں کروں گا کہ کون اس کے قانون بناتا ہے۔“
سب سے پُراسرار ادارہ
امریکا کا فیڈرل ریزرو سسٹم نجی بینک دنیا کے چار بڑے مرکزی (سنٹرل) بینکوں میں سے ایک ہے۔ بقیہ تین میں بینک آف انگلینڈ، یورپین سنٹرل بینک اور بینک آف جاپان شامل ہیں۔
سوئٹزر لینڈ کے شہر، باسل میں واقع بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمینٹس دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کا بینک ہے۔ چاروں بڑے بینکوں سمیت 60مرکزی بینک اسی ادارے کے رُکن ہیں۔ گویا یہ آقاؤں کا آقا ہے…… اور اسی لیے ہر قانون سے ماورا بھی!
بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمینٹس کی طاقت کا اندازہ یوں لگائیے کہ امریکا سمیت دنیا کی کسی بھی عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ نہیں چل سکتا۔ ماہرین معاشیات کے مطابق یہ نہ صرف طاقتور بلکہ دنیا کا سب سے پُراسرار ادارہ بھی ہے۔ اس کا انتظام مُٹھی بھر طاقت ور مرکزی بینک چلاتے ہیں۔
افراد کے ہاتھوں میں کرنسی کنٹرول
جدید بینکاری کی بنیاد چودھویں اور پندرھویں صدی میں یہودی سود خوروں نے ڈالی۔ وجہ یہ ہے کہ یہود کے خودساختہ مذہبی قوانین کی رو سے وہ غیریہودیوں سے سود لے سکتے ہیں۔ سو وہ قیمتی اشیا لے یا گروی رکھ کر عیسائیوں کو رقم دینے لگے۔ ہندوستان میں یہی طریقہ مسلمانوں کے ساتھ ہندو بنیوں نے اپنایا۔
چناں چہ یہ دیکھ کر حیرت نہیں ہوتی کہ اٹلی، جرمنی اور برطانیہ میں یہودی سود خوروں نے بینک قائم کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اور یہ روتھ شیلڈ خاندان ہے جس نے برطانوی حکومت کے لیے سویز نہر خرید کر عالمی بینک کاری کو رواج دیا۔
اس کے بعد سرمایہ کاروں اور بینکاروں کو پیسے کی چاٹ لگ گئی۔ وہ پھر ایسے طریقے اپنانے لگے جن سے ان کا کاروبار پھل پھول سکے، مثلاً جنگیں کرانا، حکومتوں پر قرضے چڑھانا، معاشی عدم استحکام پیدا کرنا وغیرہ۔ غرض پیسے کا عالمی کنٹرول افراد کے پاس چلے جانے سے خصوصاً دنیا بھر کے عوام کو نقصان ہوا۔
امریکا میں مشہور عوامی راہنما، رون پال نے بہت کوشش کی کہ فیڈرل ریزرو سسٹم کا خاتمہ ہوسکے۔ جب وہ رُکن کانگریس بنا، تو اس نے قانون سازی بھی کی، مگر دیگر ارکان نے رون پال کا ساتھ نہ دیا۔ آج بھی اس کی خواہش ہے کہ پیسے کی طاقت عوام کے ہاتھوں میں آ جائے۔
فیڈرل ریزرو سسٹم کی ایک سوویں سالگرہ کے موقع پر رون پال نے احتجاجی جلسے کا اہتمام کیا۔ اس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی راہنما نے کہا:
”ہمارے ملک میں سازش کے تحت بینکوں کا ”کارٹل“ وجود میں آیا۔ پچھلے سو برس میں وہ بہت طاقتور اور خودمختار ہوچکا ہے۔ لیکن وہ معاشی و مالیاتی بحران ختم کرنے کے بجائے مزید پیدا کرتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ بینکار اور سیاست داں رل مل چکے۔ وہ اپنے اتحاد سے خوب کمائی کر رہے ہیں، جبکہ عوام معاشی مسائل سے لڑنے میں مصروف ہیں۔ ایک سو سال بہت ہیں، اب پیسے کی طاقت عوام کو مل جانی چاہیے۔“ مگر کوئی نہیں جانتا اس خواب کو تعبیر کب ملے گی۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers