آج ہمارا وطن شدید اندرونی اور بیرونی خطرات کا شکار ہے۔ مشرقی سرحدوں پر بھارت کے ساتھ جھڑپیں شدت اختیار کرتی جارہی ہیں اور آئے دن دونوں اطراف جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ طویل اور دشوارگزار افغان بارڈر پر محاذ سرد ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا اور اس کے بعد کی صورت حال ابھی تک واضح نہیں ہو پا رہی۔ بھارت، افغانستان میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کر چکا ہے اور مستقبل میں افغانستان میں اپنے کردار کے حوالے سے مضطرب ہے جس کے تانے بانے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات سے ملتے ہیں۔ بلوچستان کے حالات پر حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی خاطر خواہ لائحہ عمل سامنے نہیں آ سکا جبکہ ہماری افواج اور سیکیورٹی ادارے سپریم کورٹ کے سامنے لاپتا افراد کے حوالے سے جوابدہی کے مرحلہ سے گزر رہے ہیں۔کراچی کے حالات پر ہر محب وطن کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ہر روز دس، بارہ افراد کا قتل معمول بن چکا ہے۔ ڈی آئی خان میں جیل توڑ
کر قیدیوں کے فرار کا واقعہ ہو یا اسلام آباد میں ایک شخص کا جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح ہو کر قانون کے رکھوالوں کو چیلنج کرنا، ہماری اندرونی سیکیورٹی پر بڑے سوالیہ نشان ہیں۔ امریکی افواج کا ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن ہو یا ڈرون حملوں کے ذریعے بے گناہوں کی ہلاکت… قوم کو اعتماد میں نہیں لیا جارہا۔ اب تک دشمن کا تعین کیوں نہیں کیا گیا؟ پچاس ہزار معصوم شہریوں کی شہادت کے ذمہ دار کون ہیں؟ تفصیل سے پڑھیے
بات بظاہر کچھ بھی نہیں تھی مگر میں اندر تک لرز گیا تھا۔ میں نے اپنی دونوں بیٹیوں کی طرف دیکھا وہ جوس اپنے اپنے بیگوں میں ٹھونس رہی تھیں۔ بسکٹ کے ڈبے وہ بیک پاکٹ میں رکھ چکی تھیں ،مجھے گاڑی چلانا مشکل ہورہا تھا۔ پائوں کلچ پررکھتا تو بریک دب جاتی اور بریک دباتا تو ریس بڑھ جاتی۔ یہ بالکل اچانک ہوا تھا۔ تفصیل سے پڑھیے
چودھری صاحب لاہور کے ایچی سن کالج میں جونیئر ہائوس ماسٹر تھے۔ جب پہلی مرتبہ میں نے انھیں دیکھا تھا۔ لمبا قد، بھرا ہوا بدن، بلند آواز، وہ میرے عم زاد بھائی کے پرانے کلاس فیلو اور دوست تھے اور انھیں کے ساتھ گاہے گاہے ہمارے یہاں آتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد انھوں نے آنا بند کر دیا، تو میں نے بھائی صاحب سے پوچھا۔
معلوم ہوا چودھری صاحب ضلع ڈیرہ غازی خاں میں نواب مزاری کے پرائیویٹ سیکرٹری ہوگئے ہیں۔ نواب صاحب کے دیوانی اور فوجداری مقدمات چلتے رہتے تھے اور چودھری صاحب کا بیشتر وقت ان مقدمات کی پیروی میں صرف ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنا تھی۔ ملک برکت علی مرحوم کو انھوں نے وکیل کیا تھا۔ لیکن فیس کے پورے پیسے پاس نہ تھے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر یار محمد خان مرحوم نے ان کی کچھ مدد کی۔ یہیں سے چودھری صاحب اور ڈاکٹر صاحب کی دوستی شروع ہوئی۔ تفصیل سے پڑھیے
حضرت روم سے منسوب ہے ، " اپنی آواز کی بجائے اپنے دلائل کو بلند کیجیے، پھول بادل کے گرجنے سے نہیں، بادل کے برسنے سے اگتے ہیں"۔ رضا احمد کا نام حضرت رومی کی نسبت سے ہی جانا جاتا ہے، ، میرا ان سے پہلا باقاعدہ تعارف ایک جرمن مصنف کی صوفی موسیقی پر لکھی گئی کتاب کے حوالے سے ہوا، جہاں مصنف خود موجود تھے اور اس نشست کا اہتما م رضا رومی کی جانب سے ہی کیا گیا تھا، جرمن مصنف ڈاکٹر جورگن وسیم اس دھرتی کے صوفیا اور ان سے منسوب موسیقی پر گہری دسترس رکھتے ہیں، لیکن اس محفل میں رضا رومی سے صوفیا اکرام او ر سلاسل طریقت پر ہوئی گفتگو ناچیز کے لیے خوشگوار حیرت کا باعث ثابت ہوئی، اور پھر ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا، عموما آرا میں ہم آہنگی ہی دیکھنے کو ملی لیکن اختلاف بھی مسکراہٹوں کا مرہون منت رہا۔ ۔تفصیل سے پڑھیے
بیوٹی پارلرمیں کام کرنے والےغیرتربیت یافتہ عملے اورغیرمعیاری مصنوعات کے اثرات بڑھتے ہوئے جلدی امراض میں نظر آتے ہیں۔
اب بَنّو کالی ہو یا گوری شادی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ بَنّو کا بَنّا چاہے جیسا ہو، اب حور کے پہلو میں لنگور والی کسی مثال کا وجود نہیں۔ حُسن کو نکھارنے کے کارخانے گلی گلی قائم ہیں۔ حسن کے کارخانوں کی بھٹی میں جس کسی کو بھی ڈالیے ایسا روپ نکھر کر سامنے آتا ہے کہ یقین ہی نہیں آتا یہ وہی چہرہ تھا۔ تفصیل سے پڑھیے
کوئی بھی قوم ایک اچھی قیادت ہی سے تعمیر وترقی کی منازل طے کرتی ہے جو اس قوم کی منزل مقصود متعین کرتی ہے اوراپنی اعلیٰ قائدانہ صلاحیتوں کے بل بوتے پرقوموں کی تاریخ میں ایک ارفع واعلیٰ مقام حاصل کرتی ہے۔
برصغیر کے مسلمانوں کوایک پلیٹ فارم پرمتحد کرنے والے قائداعظم محمد علی جناح بھی ایسے ہی ایک عظیم اورتاریخ ساز شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے بعد سے اب تک کسی لیڈر کو اتنی پذیرائی، محبت ،عوام کی چاہت اوراعتماد حاصل نہ ہوسکاہاں اگرزمینی حقائق سچائی کے ساتھ بیان کئے جائیں توحضرت قائداعظم کے بعد عوام نے اگرکسی لیڈر کواتنی عزت ،محبت اوراعتماد دیاتووہ بلاشبہ ذوالفقارعلی بھٹو کوہی یہ اعزاز حاصل ہے جنہوں نے پاکستانی تاریخ کے اوراق پرانمٹ نقوش مرتب کئے۔ امریکی صدر کینیڈی نے کہاتھاکہ بھٹوبیسوی صدی کے سب سے بڑے سیاسی مدبر ہیں۔بھٹو نے انتہائی نامساعد حالات میں ایک شکست خوردہ اورمنتشر قوم کوسنبھالا ،حوصلہ دیا بلکہ ایک قلیل مدت میں ایک متفقہ آئین پر متحد بھی کردیاتھا۔    تفصیل سے پڑھیے
ہماری روز مرہ زندگی میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھنے سے زندگی مزید پیچیدہ ہوتی جارہی ہے، ہر سال ٹی وی کا بڑھتا سائز پہلے سے زیادہ ٹیکنالوجی والے سمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس اور اب جدید سمارٹ واچ، ان سب نے ہمارے گھروں میں خاص جگہ حاصل کرلی ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ آنے والی نئی ٹیکنالوجی آپ کو حیرت کے کس دور سے واقف کروائے گی۔ ٹیکنالوجی کی دنیا کی کامیاب کمپنیوں میں سے ایک نام ”سام سنگ“ کا بھی ہے جو کہ اب صرف ٹی وی کے لئے ہی نہیں بلکہ سمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس کے لئے بھی جانا جاتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سام سنگ کا مطلب کیا ہے؟ ہم سب سے پہلے آپ کو بتانا چاہیں گے کہ اس کمپنی کی بنیاد سیﺅل، جنوبی کوریا میں رکھی گئی اور اسی وجہ سے اس کا نام بھی خالص کورین زبان میں رکھا گیا ہے۔ سام سنگ دراصل دو لفظوں کا مجموعہ ہے ۔ سام کا مطلب ہے ”تین“ جبکہ ’سنگ ‘کا مطلب ہے ”ستارے“ یعنی تین ستارے۔ کورین زبان میں سام سنگ کا مطلب کچھ ایسا جو بہت بڑا اور بہت طاقت والا ہے۔ 30ءکی دہائی میں جب اس کمپنی کو متعارف کرایا گیا تھا تو اس کے لوگو کے ساتھ ”تین ستارے“ کا نشان بھی نظر آتا تھا۔ اب یہ کمپنی کوریا کے علاوہ دنیا کی 79 ممالک میں موجود ہے اور اس کے ورکرز کی تعداد 2 لاکھ 36 ہزار سے زیادہ ہے۔ یہ دنیا کے 10قیمتی برانڈز میں سے ایک ہے۔


سان فرانسسکو- اگر آپ انٹر نیٹ استعمال کرنے کیلئے مائیکرو سافٹ کا انٹر نیٹ ایکسپلور ر استعمال کرتے ہیں تو حملے کے لئے تیار رہئے۔ سافٹ ویئر بنانے والی مشہور زمانہ کمپنی مائیکرو سافٹ نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے وسیع پیمانہ پر استعمال ہونے والے سافٹ ویئر”انٹر نیٹ ایکسپلورر“میں ایک ایسی خامی ہے کہ جس کا فائدہ اٹھاکر کوئی بھی ہیکر آپ کے کمپیوٹر پر حملہ آور ہو سکتا ہے اور مزید پریشانی کی بات یہ ہے کہ کمپنی ابھی تک اس خامی کا کوئی علاج دریافت نہ کر سکی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس خامی کی وجہ سے آپ کے کمپیوٹر کی میموری متاثر ہو سکتی ہے اور کوئی ہیکر اپنی مرضی کی ویب سائٹ آپ کے کمپیوٹر پر چلاکر معلومات بھی چوری کر سکتا ہے۔

سنتے آئے ہیں کہ بڑے لوگوں کی عنائتیں بھی بڑی ہوا کرتی ہیں اور عداوتیں بھی۔ پچاس کی دہائی تھی، استاد بڑے غلام علی خان نے کچھ گا کر سنایا تو ذوالفقار علی بخاری نے ٖغلطی نکالی، خان صاحب گویا ہوئے کہ بخاری صاحب آپ ٹھہرے سید اور اوپر سے پٹھان، بھلا آپ کو کیا علم کہ سُر سنگیت کی کیا رام کہانی ہے۔ ؟ کہا جاتا ہے کہ بخاری صاحب ویسے تو ایک قد آور شخصیت تھے اور پاکستان کے کئی نامور فنکاروں کو متعارف کروانے کا سہرا بھی انہی کے سر ہے، لیکن موصوف رتی برابر ظرف کے بھی حامل نہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ استاد بڑے غلام علی خان کا جواب زیڈ اے بخاری صاحب کو سخت ناگوار گزرا۔ تفصیل سے پڑھیے
موبائل فون کے نئے اور اچھوتے ماڈل بنانے میں سام سنگ کا جواب نہیں، اب اس کمپنی کی طرف سے ایک ایسا نیا موبائل فون متعارف کروادیا گیا ہے کہ جس میں ایک ایسا شاندار کیمرہ لگاہے کہ جو کسی پیشہ ور فوٹو گرافر کے کیمرہ سے کم نہیں ہے۔ نئے ماڈل ’گلیکسی Kزوم‘ میں نصب کیمرہ 20.7 میگا پگزل کا ہے اور یہ 10گنا زوم کی طاقت رکھتا ہے۔ اس فون میں انتہائی اعلیٰ کوالٹی کی تصویریں اور ویڈیو بنانے کے علاوہ انہیں سٹور کرنے اور ایڈیٹنگ کیلئے بھی خصوصی سافٹ ویئر موجود ہے۔ اس موبائل فون کا ڈیزائن بھی خوبصورت ہے اور اس میں ایک طاقتور کیمرے کو سام سنگ کی بہترین دیگر سہولتوں کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ نیا فون تصویریں اور ویڈیو بنانے اور اسے انٹرنیٹ پر اور دیگر الیکٹرانک آلات پر بھیجنے کیلئے ایک بہترین آلہ ثابت ہوگا۔

 عرب لیگ کے بنیادی ایجنڈے میں عرب اقوام کا معیار زندگی بلند کرنے کا نکتہ شامل ہونے کے باوجود تنظیم کے ایجنڈے پرسیاسی معاملات ہمیشہ چھائے رہے ،

خلیج، مشرق وسطیٰ اور افریقا کی مکمل آزاد اور نیم خود مختار عرب ریاستوں کی مجموعی تعداد تیس کے قریب ہے ، لیکن ان میں سے 22 ممالک سعودی عرب، بحرین، مصر ، کویت، جزائر القمر، اردن، عراق، یمن، جیبوتی، لبنان، لیبیا، موریتانیہ،مراکش، اومان ، قطر، سومالیہ، سوڈان، فلسطین، شام، تیونس اور متحدہ عرب امارات لیگ کے رُکن ہیں۔
البتہ شام میں جاری موجودہ خانہ جنگی کے باعث عارضی طور پر اس کی رکنیت معطل ہے ۔ زبان، کلچر، مذہب، تہذیب وثقافت کی یکجائی کے باوجود وسائل اور معیار زندگی کے اعتبار سے ان ملکوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دولت و ثروت اور غربت وافلاس میں ان دو درجن عرب ممالک میں ایک گہری خلیج حائل ہے۔ عرب برادری میں پائے جانے والے اس منفرد تضاد میں ایک ملک کی دولت کا کوئی حساب نہیں اور دوسرے کے عوام زندگی کی سانسیں بحال رکھنے کے لیے روٹی کے ایک ایک لقمے کو ترس رہے ہیں۔    تفصیل سے پڑھئے
 فسوں گر مصنف، گیبریل گارسیا مارکیز کی موت برسوں کی اداسی چھوڑ گئی۔

طلسم، وقت سے جدا ہوا۔ تنہائی نے آخری سانس لیا۔ دنیائے ادب پر یاسیت چھا گئی۔ اُس کے آبائی وطن میں پرچم سرنگوں کردیا گیا۔ اگلے روز میکسیکو، جہاں اُس نے موت قبول کی، زلزلے سے لرز رہا تھا۔
17 اپریل کو موصول ہونے والی گیبریل گارسیا مارکیز المعروف ’’گابو‘‘ کی موت کی خبر، کرب ناک ضرور تھی، مگر غیرمتوقع نہیں۔ وہ اپنے بوڑھے کرداروں سا دکھائی دینے لگا تھا۔ بیماری نے اُسے گھیر رکھا تھا۔ ہم 2000 میں بھی اُس کی رخصتی کی بازگشت سن چکے ہیں، مگر اُس خبر کی جلد ہی تردید ہوگئی تھی۔ البتہ اِس بار تردید نہیں ہوئی۔ ہاں، وہ اپنی طبعی زندگی پوری کرچکا تھا۔ اور اب عشروں تک زندہ رہ سکتا تھا، اُن بے بدل ناولوں کی صورت، جو قاری کو اُس طرز احساس تک رسائی فراہم کرتے، جہاں اُنھیں کوئی اور ناول نگار نہیں لے جاسکا۔ ایک مبصر کے بہ قول؛ 82ء میں نوبیل انعام اپنے نام کرنے والے اِس ادیب کو موت نے ایک بڑا اعزاز بخشا؛ وہ امر ہوگیا!! تفصیل سے پڑھیے
فرائی برگ سے بلیک فاریسٹ جانے کا ایک دوسرا راستہ بھی تھا‘ یہ ٹی ٹی سی کی مخالف سمت تھی‘ اس سائیڈ پر کیبل کار تھی‘ آپ کیبل کار پر بیٹھتے ہیں‘ کیبل کار صنوبر اور چیڑھ کے گھنے جنگلوں سے ہوتی ہوئی ٹاپ پر پہنچ جاتی ہے‘ کیبل کار کی آخری منزل پر ایک ریستوران ہے اور اس ریستوران کے بعد نیا سفر شروع ہوتا ہے‘آپ ڈھلوانوں پر اترتے ہیں تو بلیک فاریسٹ کی وادیاں شروع ہو جاتی ہیں‘ وادیوں میں چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں‘ آپ کو دور دور تک لکڑی کے خوبصورت گھر‘ جانوروں کے باڑے‘ کسانوں کی ورکشاپس اور تاحد نظر کھیت نظر آتے ہیں‘ ہم کیبل کار کے ذریعے ایروا شیسن پہنچے‘ وہاں سے واک شروع کی اور مختلف دیہات سے ہوتے ہوئے رنڈ ویگ پہنچ گئے‘رنڈ ویگ میں فور اسٹار ہوٹل تھا‘ ہوٹل کے چاروں اطراف جنگل تھا‘ جنگل میں باقاعدہ سڑکیں اور واکنگ ٹریکس تھے‘ آپ کو پوری وادی میں گاڑیاں آتی اور جاتی نظر آتی ہیں‘ دیہات تک بسیں بھی آجا رہی تھیں‘ برف ابھی تک موجود تھی‘ دھوپ سے برف پگھل رہی تھی اور یہ پگھلتی ہوئی برف چھوٹی چھوٹی ندیوں‘ چھوٹے چھوٹے نالوں اور چھوٹے چھوٹے جھرنوں کی شکل میں پوری وادی میں سرکتی پھر رہی تھی‘ آپ کو تاحد نظر پھول ہی پھول دکھائی دیتے تھے‘ سبز گھاس دکھائی دیتی تھی‘ صحت مند گائیں اور گھروں کی سرخ چھتیں دکھائی دیتی تھیں اور صنوبر اور چیڑھ کے سیاہ گھنے جنگل نظر آتے تھے‘ ان جنگلوں سے خوشبو آتی تھی اور نیلے اور سبز پروں والے ہزاروں پرندے دکھائی دیتے تھے۔  تفصیل سے پڑھیے
پاکستانی وہ بدنصیب قوم ہے جو اپنے حکمرانوں، بیورو کریسی اور ڈاکٹرز کی غفلت کے کوڑے سہہ سہہ کر اب قریب المرگ ہو چکی ہے
بلاشبہ تندرستی ہزار نعمت اور انسان کی وہ دولت ہے جو لٹ جائے تو پھر زندگی موت سے بدتر ہو جاتی ہے۔
اسی لئے دنیا بھر میں شہریوں کو صحت عامہ کی مفت اور بہترین سہولیات کی فراہمی حکومتوں کے اولین فرائض میں شامل ہے، لیکن 18کروڑ پاکستانی وہ بدنصیب قوم ہے جو اپنے حکمرانوں، بیورو کریسی اور ڈاکٹرز کی غفلت کے کوڑے سہہ سہہ کر اب قریب المرگ ہو چکی ہے۔ دنیا بھر کے طعنوں سے چڑ کر حکمرانوں نے باتوں تک ہی سہی لیکن تعلیم کو تو کچھ اہمیت دینا ضرور شروع کر دی ہے مگر صحت کا شعبہ تاحال اپنے علاج کا منتظر ہے۔ پاکستانی کبھی ڈینگی، سوائن فلو اور خسرہ جیسی وباؤں سے مر رہے ہیں تو کبھی پولیو جیسی بیماری عمر بھر کی معذوری دے کر ان کی زندگی کو موت سے بھی بدتر بنا دیتی ہے۔ ملک بھر میں سرکاری علاج گاہوں پر مشتمل جال کی رسیاں اس قدر بوسیدہ ہو چکی ہیں کہ ہاتھ میں آتے ہی راکھ بن جائیں ۔ تفصیل سے پڑھیے
یہ ناول “Crow Eaters” جب شائع ہوا تھا تو اس وقت میں نے اسے پڑھ لیا تھا اور اخبار میں اس پر تبصرہ بھی کر چکا تھا لیکن اب جب سالوں بعد اس کا ترجمہ اردو میں شائع ہوا تو میں نے اسے یہ سوچ کر پڑھا کہ ناول میرے حافظہ میں اب محفوظ نہیں ہے اور یہ بھی ٹھیک طرح یاد نہیں کہ اس کے بارے میں میں نے کیا لکھا تھا۔ بس اتنا یاد ہے کہ میں نے اس کی تعریف کی تھی۔ تفصیل سے پڑھیے
پا ک بھارت کرکٹ میچ ہوا بنگلا دیش میں، مگر کسے جیتنا ہے اور کون ہارے گا؟ اس کا انکشاف کیا پاکستان کے ایک چھوٹے سے قصبے کی تنگ گلی میں رہنے والی pp’’بی بی شکورن‘‘ نے۔ بی بی شکورن کرکٹ کی بے تاج ملکہ ہیں، جب کسی میچ پر نوجوانوں کو شرط لگانی ہو تو بی بی شکورن کے دروازے پر ’’پرچی‘‘ لینے والوں کی ایک لمبی قطار لگ جاتی ہے۔ یہی نہیں بی بی شکورن بگڑی سنوارنے میں بھی ماہر ہیں۔ محلے والوں کے گھر چاہے ایک   وقت کا چولہا نہ جلے، لیکن بی بی شکورن کے تعویز کے لیے دو سو روپے دینے میں انھیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔تفصیل سے پڑھیے

حال  ہی میں دئیے گئے عمران خان کے بیان کے بعد الیکشن میں دھاندلی کا معاملہ دوبارہ سے ٹی وی اور اخباروں کی زینت بنا ہوا ہے اور
کے بعد معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے.خدشہ یہ ہے کہ اس افراتفری میں کہیں ہم نجم سیٹھی کو نہ بھول جائیں، یہی معاملہ میں آج اپنے قارئین کے سامنے اٹھانا چاہتا ہوں.گزشتہ انتخابات کے بعد نجم سیٹھی کے اوپر کئی سنگین مگر ’بے بنیاد‘ الزامات لگےلہذا ان الزامات کی وضاحت ضروری ہے. تفصیل سے پڑھیے
یہ سیالکوٹ بارڈر ہے جہاں پر پاکستان اور بھارت دونوں نے ہی اپنی اپنی سرحد میں جھنڈوں کے اوپر علامہ اقبال کا شعر لکھا ہوا ہے.
بھارت بارڈر : سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
پاکستانی بارڈر: مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
اب آپ خود بتائیے کون سا ملک بازی لے گیا ہے.
Like ·  ·  · 6,2991,3101,526
اورنگ زیب عالمگیربڑا مشہور مغل شہنشاہ گزرا ہے اس نے ہندوستان پر تقریباً 50سال حکومت کی تھی۔ ایک دفعہ ایک ایرانی شہزادہ اسے ملنے کے لئے آیا۔ بادشاہ نے اسے رات کو سلانے کا بندوبست اس کمرے میں کرایا جو اس کی اپنی خوابگاہ سے منسلک تھا۔
ان دونوں کمروں کے باہر بادشاہ کا ایک بہت مقرب حبشی خدمت گزار ڈیوٹی پر تھا۔ اس کا نام محمد حسن تھا۔ اور بادشاہ اسے ہمیشہ محمد حسن ہی کہا کرتاتھا
ھا۔ اس رات نصف شب کے بعد بادشاہ نے آواز دی’’حسن! ‘‘۔ نوکر نے لبیک کہا اور ایک لوٹا پانی سے بھرکر بادشاہ کے پاس رکھا اور خود واپس باہر آگیا۔ ایرانی شہزادہ بادشاہ کی آواز سن کر بیدار ہوگیا تھا اور اس نے نوکر کو پانی کا لوٹا لیے ہوئے بادشاہ کے کمرے میں جاتے دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ نوکر لوٹا اندر رکھ کر باہر واپس آگیا ہے۔ اسے کچھ فکر لاحق ہوگئی کہ بادشاہ نے تو نوکر کو آواز دی تھی اور نوکر پانی کا لوٹا اس کے پاس رکھ کر واپس چلا گیا ہے۔ یہ کیا بات ہے؟
صبح ہوئی شہزادے نے محمد حسن سے پوچھا کہ رات والا کیا معاملہ ہے؟ مجھے تو خطرہ تھا کہ بادشاہ دن نکلنے پر تمہیں قتل کرادے گا کیونکہ تم نے بادشاہ کے کسی حکم کا انتظار کرنے کی بجائے لوٹا پانی سے بھر کر رکھ دیا اور خود چلے گئے۔
نوکر نے کہا:’’عالی جاہ !ہمارے بادشاہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم گرامی بغیر وضو نہیں لیتے۔ جب انہوں نے مجھے حسن کہہ کر پکارا تو میں سمجھ گیا کہ ان کا وضو نہیں ہے ورنہ یہ مجھے ’’محمد حسن‘‘ کہہ کر پکارتے
اس لیے میں نے پانی کا لوٹا رکھ دیا تاکہ وہ وضو کرلیں۔

                                       حصہ سوم 

 بلا ضرورت قرض کی مذمت

حدیث ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا اعوذ باللہ من الکفروالدین۔ ترجمہ میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں کفر اور دین یعنی قرض سے۔ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ کیا آپ قرض کو کفر کے برابر کرتے اور اس کے ساتھ ذکر کرتے ہیں فرمایا ہاں۔ رواہ النسائی والحاکم وقال صحیح الاسناد
حدیث2 عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے قرض خدا کا جھنڈا ہے زمین میں جب وہ کسی بندے کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں اس کی گردن پر قرض کا بوجھ رکھ دیتے ہیں۔ رواہ الحاکم وقال صحیح علی شرط مسلم قال الحافظ بل فیہ بشر بن عبیدالدارسی حدیث3عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ ایک شخص کو اس طرح وصیت فرما رہے تھے کہ گناہ کم کیا کرو تم پر موت آسان ہو جائے گی اور قرض کم لیا کرو کہ آزاد ہو کر جیو گے۔ تفصیل سے پڑھیے

میں ایک پاکستانی ہوں۔ میں چند سال پہلے روز گار کی خاطر اپنے ملک سے باہر نکلنے پر مجبور ہوا۔ آج اس بات کو 10 سال سے زیادہ عرصہ ہونے کو آرہا ہے ۔ میں اور میرا وجود پچھلے کئی سالوں سے اس اجنبی خاک پہ ضرور رہ رہا ہے۔ لیکن میرا دل آج بھی پاکستان کے سینے میں دھڑکتا ہے۔
اور میرے سینے میں پاکستان دھڑکتا ہے۔ میری رگوں میں لہو بن کر پاکستانیت دوڑتی ہے۔ میری روح آج بھی پاکستان کی انہی گلیوں میں موجود ہے جہاں میں پلا بڑھا، لکھنا پڑھنا سیکھا جہاں ماں مجھے سینے لگائی رکھتی تھی۔ جہاں میرے استاد شفقت سے پڑھاتے ہوئے کبھی کبھی میرے کان بھی کھینچا کرتے تھے۔ جہاں مولوی صاحب سے میں نے قرآن پڑھنا سیکھا۔   تفصیل سے پڑھیے
یہ یہ بات کب ،کیوںاور کیسے معلوم ہوئی یاد نہیں، لیکن سمجھ خوب آئی۔ایک شخص نے اپنی مشکلوں سے تنگ آکراللہ علیم الخبیرکی خدمت میں عرض کیا کہ وہ بہت ہی مصیبت زدہ ہے،سب سے زیادہ تکلیف میںہے، اُس کو مصیبتوں سے نجات دلائی جائے۔ حکم ہو اکہ پاس پڑی دوسروں کی مصیبتوں ،اور مشکلات کی گٹھڑیوں میں سے جونسی سب سے زیادہ ہلکی لگے وہ گٹھڑی اُٹھا لو۔فرداً فرداً سب گٹھڑیوں کو جانچنے کے بعد وہ شخص اس نتیجے پر پہنچا کہ اُس کی اپنی گٹھڑی ہی اس کے لیے سب سے مناسب ہے۔ یہاں یہ ارشاد باری تعالیٰ بھی ذہن میں رہے کہ : تفصیل سے پڑھیے

ڈالر گردی کے 100 سال
یہ 22نومبر1910ء کی بات ہے، امریکی و یورپی بینکاروں اور سرمایہ کاروں کے پانچ نمائندے ایک جزیرے، جیکال میں جمع ہوئے۔ ان کی قیادت امریکی سرکاری ادارے، نیشنل مونیٹری کمیشن کا یہودی سربراہ اور جان راک فیلر کا سمدھی، نیلسن آلڈرچ کر رہا تھا۔ امریکی محکمہ خزانہ کا یہودی اسسٹنٹ سیکرٹری ابراہام اینڈریوز اس کا نائب تھا۔
دیگر پانچ افراد میں پال واربرگ، فرینک وینڈرلیپ، ہنری ڈیویسن، چارلس نارئن اور بنجمن اسٹرانگ شامل تھے۔ یہودی پال واربرگ جرمن بینکار، روتھ شیلڈ کے ملکیتی امریکی بینک کوہن یوب کمپنی سے منسلک تھا۔ فرینک وینڈرلپ راک فیلر کے ملکیتی، نیشنل سٹی بینک کا سربراہ تھا۔ چارلس نارئن امریکی بینکار، جے پی مورگان کے بینک فرسٹ نیشنل بینک کا صدر تھا۔ ہنری ڈیویسن اور بنجمن سٹرانگ بھی جے پی مورگان کے نمائندے تھے۔   تفصیل سے پڑھیے

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ایک صاحب تقریر سے جی چراتے تھے (جی ہاں، آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں)۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات کچھ ہی کیوں نہ ہوں وہ تقریر کے بغیر کام چلا سکتے ہیں۔ ان کے دوستوں نے ان سے ایک ہزار روپے کی شرط لگائی کہ وہ انھیں تقریر کرنے پر مجبور کر دیں گے۔چناںچہ ایک جلسۂ عام کا اہتمام کیا گیا اور ان صاحب کو اس کا صدر بنا دیا گیا۔ جلسے کی کارروائی شروع ہوئی۔ پہلے چند مقررین نے اپنی اپنی حسرت نکالی۔ پھر جلسے کے ناظم اعلیٰ نے صدر کی شان میں خطبۂ استقبالیہ پیش کیا اور انھیں خطاب کی دعوت دی۔ تفصیل سے پڑھیے
دوسرا سینگ
ساون بھادوں کا وہی مینہ برس رہا تھا جو بھینسے کا ایک سینگ خشک چھوڑ دیتا ہے تو دوسرا پانی سے شرابور کردیتا ہے۔ سڑک کے ایک طرف تڑاکے کی بارش تھی تو دوسری جانب بالکل خشک سماں تھا۔ میں نے موٹر بائیک ایک بوڑھے اور تناور درخت کے نیچے کھڑی کرکے پناہ لے رکھی تھی۔ مجھے اس علاقے میں جانا تھا، جدھر بارش نے جل تھل کردیا تھا۔
بادل بھی بڑے مصروف تھے، قدرت نے ان دنوں ان کے فرائض میں نجانے کون کون سے خطے شامل کر رکھے تھے کہ وہ جلد ہی تیز ہوا کے دوش پر سوار ہونے لگے۔ شاید کہیں اور برسنے جارہے تھے، شاید پانی پینے جارہے تھے۔ شدید بارش تھم گئی۔ میں نے موٹر بائیک کا انجن چالو کیا اور سڑک پر آگیا۔ سڑک کے عین بیچ میں ایک حدِفاصل بن گئی تھی۔ آدھی سڑک خشک اور آدھی پانی پانی تھی۔ میں سڑک کے خشک حصے پر موٹر بائیک چلانے لگا کہ وہاں دور دور تک ٹریفک نام کی کوئی شے نہیں تھی۔ تفصیل سے پڑھیے

جب میری پہلی ملاقات ہوئی، تو جمیل یوسف مجھے پست قامت مگر چاق چوبند شخصیت نظر آئے۔ قمیص پتلون میں ملبوس تھے اور چال ڈھال سے معاشیات کے کوئی پروفیسر نظر آتے۔ دوسرے کو دیکھتے تو اُسے اُن کی نگاہیں اپنے رگ و پے میں اترتی محسوس ہوتیں۔ ان کی سحر انگیز شخصیت سے بخوبی اندازہ ہوتا کہ وہ ایک وقت کراچی کے ایسے سخت جان محافظ تھے جن کی شکل دیکھتے ہی مجرم کانپنے لگتے۔
تاہم حددرجہ ذہین اور دلیر ہونے کے باوجود  جمیل یوسف منکسرالمزاج ہیں اور خود کو ”عام صنعت کار“ سمجھتے ہیں۔ جمیل یوسف کا تعلق خوجہ برادری سےہے۔ بانیئ پاکستان، قائداعظم محمد علی جناحؒ بھی اسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔
یونیورسٹی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ خاندانی ٹیکسٹائل مل میں کام کرنے لگے اور کاروبار کو مزید ترقی دی۔ آپ ہی نے 1985ء میں پہلا شاپنگ مال (Mall)تعمیر کیا۔ تب تک وہ کامیاب بزنس مین بن چکے تھے۔ تفصیل سے پڑھیے

11حفاظتی ٹیکے
خالد دوسال کا تھا کہ نمونیے کا شکار ہو گیا۔ وہ اپنے ناتجربے کار اور نوجوان والدین کا پہلا بچہ تھا۔ یہی امر خالد کے لیے بڑی بدقسمتی کا باعث ثابت ہوا۔ اس کے والدین نے بیماری کو بے توجہی سے لیا، لہٰذا وہ بڑھتی چلی گئی۔ جب خالد نمونیے کے باعث اللہ کو پیارا ہوا، تبھی والدین کو ہوش آیا۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت! یہ دیکھا گیا ہے کہ عموماً والدین نہیں جانتے کہ جب ان کا پہلا بچہ بیمار ہوجائے، تو اس کی کس طرح دیکھ بھال کی جائے۔ بچوں میں بیماریوں کی روک تھام کا ایک عمدہ گُر یہ ہے کہ انھیں بروقت مطلوبہ حفاظتی ٹیکے لگوائے جائیں۔ یوں نوزائیدہ بچوں کا نازک بدن اس قابل ہو جاتا ہے کہ کئی خطرناک امراض کا مقابلہ کرسکے۔ زندگی کے پہلے 15 ماہ ایک بچے کو مختلف اقسام کے حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ انھیں یاد رکھنا اور ان کا حساب کرنا خاصا کٹھن مرحلہ ہے۔ اسی لیے ذیل میں ان 11 بنیادی حفاظتی ٹیکوں کا تذکرہ پیش ہے جن کی ضرورت ہر بچے کو پڑتی ہے۔ تفصیل سے پڑھیے
دس باتوں کے باعث آپ 100 سال کی عمر پا سکتے ہیں
طویل عمر پانے کا خواب ہر انسان دیکھتا ہے، لیکن کوئی کوئی ہی اسے پورا کر پاتا ہے۔ جدید سائنس کا تازہ انکشاف ہے کہ ہر دس ہزار انسانوں میں سے ”ایک“ تقریباً سو برس زندہ رہتا ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ عمر کی سنچری کرنے والے ان خوش قسمت انسانوں میں کئی مرد و زن بُری عادات رکھتے ہیں۔ مثلاً سگریٹ نوشی کرتے اور ورزش سے منہ موڑے رہتے ہیں۔ پھر بھی وہ طویل عمر پاتے ہیں۔  تفصیل سے پڑھیے
ڈھاکہ براستہ دہلی
میچ دیکھنے جب شیر بنگلہ اسٹیڈیم کے باہر پہنچے تو بنگلہ دیشیوں کو ہاتھوں میں سبز ہلالی پاکستانی پرچم لہراتے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑا دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی۔ کئی خواتین بچے اور نوجوان اپنے چہروں پر پاکستانی جھنڈے برش سے پینٹ کرا رہے تھے۔ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا پاک بھارت میچ اور وہ بھی ڈھاکہ میں ……!  ایک خاص اہمیت اختیار کر گیا تھا۔ میچ سے قبل جمعہ کی نماز ہم نے اپنی ٹیم کے ساتھ ایک مسجد کی بالائی منزل پر ادا کی۔ مقامی نمازیوں کو پاکستانی ٹیم کی آمد کا علم تھا اسی لیے وہاں معمول سے کہیں زیادہ رش تھا اور وہ ٹیم کی ایک جھلک دیکھنے کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ پوری ٹیم کو اکٹھے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرتے دیکھ کر بہت اطمینان ہوا۔ جیسے ہی ہم ٹیم کے ہمراہ مسجد کے باہر پہنچے تو مقامی بنگلہ دیشیوں نے بڑے ادب اور احترام سے پاکستانی ٹیم اور وفد کے اراکین کے لیے راستہ بنایا اور ان سے ہاتھ ملائے۔ شیرِ بنگلہ اسٹیڈیم ڈھاکہ کے سٹی سینٹر سے 10کلو میٹر دور ہے۔ تفصیل سے پڑھیے
حکومت پاکستان نے ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر کے عوض موبائل انٹرنیٹ کی تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی کے لائسنس فروخت کر دیے ہیں۔ اس پیشرفت کو پاکستان میں ٹیکنالوجی کے روشن مستقبل کی نوید قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک سو پچاس سے زائد ممالک میں استعمال ہونے والی تھری جی اور فور جی موبائل ٹیلی کمیونیکیشن ٹیکنالوجی اب بہت جلد پاکستانی صارفین کو بھی دستیاب ہو گی۔ پاکستانی حکومت نے بدھ 24 اپریل کو ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر کے عوض تھری جی اور فور جی کے مجموعی طور پر پانچ لائسنس فروخت کیے ۔ تفصیل سے پڑھیے
سن 2010 میں ایک سپر نووا یا پھٹ جانے والے ستارے کی بے پناہ روشنی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اب تک یہ ایک معمہ تھا کہ اس دھماکے سے اس قدر روشنی کس طرح برآمد ہوگئی۔ تاہم اب یہ معمہ حل ہو گیا ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس دھماکے سے برآمد ہونے والی اصل روشنی سے کہیں زیادہ زمین پر اس لیے ریکارڈ کی گئی تھی، کیوں کہ اس سپرنووا اور زمین کے درمیان ایک گریویٹی لینز پایا جاتا ہے۔ تفصیل سے پڑھیے
یہ بات ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک سروے سے معلوم ہوئی ہے۔ سائنسی طرز کے سوالات کی بجائے اس سروے میں لوگوں سے پوچھا گیا تھا کہ وہ سائنس اور طب کے شعبوں کے حوالے سے مختلف بیانات پر اپنے یقین کی درجہ بندی کریں۔
بعض معاملات پر تو شک وشبہ نہ ہونے کے برابر ہے مثلاﹰ صرف چار فیصد لوگوں نے اس بیان پر شک کا اظہار کیا کہ سگریٹ نوشی کینسر کا سبب بنتی ہے۔ چھ فیصد کو اس بات پر شبہ تھا کہ ذہنی بیماری دراصل ایک طبی مسئلہ ہے جو دماغ کو متاثر کرتا ہے جبکہ صرف آٹھ فیصد لوگ اس بات کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں کہ خلیے یا سیل کے اندر ڈی این کی صورت میں ایک ناقابل یقین کوڈ موجود ہوتا ہے۔ مزید پڑھیں
قائد اعظم بھی شاعر تھے؟ :
قائد اعظم بھی شاعر تھے؟مختلف رسالوں میں متن کے ساتھ ساتھ جا بجا چوکھٹوں میں دلچسپ واقعات، لطیفے یا اشعار دیے جاتے ہیں۔ پہلے تو صحافت کی زبان میں انھیں Fillerکہتے تھے اور یہ صرف وہیں استعمال کے جاتے تھے جہاں ایک مضمون مکمل ہونے کے بعد جگہ بچ جائے اور دوسرا مضمون شروع نہ کیا جاسکے۔ آج کل باکس آئٹم (Box Item) چوکھٹے کی شکل میں رنگا رنگی اور تنوع پیدا کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں گویا قارئین کے لیے ایک ٹکٹ میں دو مزوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک اخبار میں دیکھا کہ صفحے کے ایک کونے پر علامہ اقبال کے چند اشعاردرج ہیں لیکن نیچے علامہ اقبال کے نام کے بجائے لکھا تھا۔ ’’قائد اعظم‘‘ ایڈیٹر سے تعلقات اچھے تھے۔ رگ ظرافت پھڑکی تو انھیں لکھ بھیجا ’’قائد اعظم شاعر بھی تھے؟ تفصیل سے پڑھیے
لیڈی ڈیانا کا قاتل کون ہے؟ :
اگست 1997ء کی رات لیڈی ڈیانا اپنے محبوب، دودی فائد کے ساتھ رٹنر ہوٹل، پیرس سے لندن جانے کو نکلی۔ گاڑی رٹنر ہوٹل میں سیکیورٹی کا ڈپٹی چیف ہنری پال چلا رہا تھا۔
ہوائی اڈے جاتے ہوئے پیلس ڈی لا کونکورڈ نامی زیر زمین گزر گاہ سے گزر ے۔ اس گزر گاہ میں ایسا خوفناک واقعہ پیش آیا کہ اس کی وجہ سے کار ہنری پال کے قابو سے باہر ہوئی اور وہاں موجود ستون سے ٹکرا گئی۔
دودی فائد اور ہنری پال تو فوراً ہلاک ہوگئے۔ لیڈی ڈیانا ہسپتال جاتے ہوئے جاں بحق ہوئی۔ اس واقعے کی خبر پھیلتے ہی برطانوی و فرانسیسی میڈیا راگ الاپنے لگا کہ یہ ’’حادثہ‘‘ تھا۔ فرانسیسی و برطانوی پولیس نے بھی بالآخر اِسے ’’حادثہ ‘‘ ہی قرار دیا۔ پولیس تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ ہنری پال نشے میں تھا۔ لہٰذا وہ تیز رفتاری میں کار سنبھال نہ سکا اور حادثہ انجام پایا۔  تفصیل سے پڑھیے
مصر کے محمد مرسی کے 11 سچ
ایک کسان کے فرزند، محمد مرسی کو مصری فوج نے بتاریخ 3جولائی 2013ء برطرف کیا اور جیل میں ڈال دیا۔ فوجی جنتا محمد مرسی پر الزام لگاتی ہے کہ مصر کے صدر بن کر وہ آمر بن گئے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فوج، عدلیہ اور افسر شاہی پر مشتمل حکمران ٹولے نے انھیں حکومت ہی نہیں کرنے دی اور ان کی راہ میں روڑے اٹکائے۔ تبھی باقیاتِ حسنی مبارک سے جان چھڑانے کے لیے صدر مرسی کو بعض ناگزیر اقدامات کرنے پڑے۔ مگر انھیں آمریت کا نام دے کر مصری فوج نے محمد مرسی کی حکومت ختم کر ڈالی۔
مصری فوج نے پھر صدر مرسی کے خلاف زبردست پروپیگنڈا کیا اور یہ بھرپور کوشش کی کہ سچ کو قتل کر دیا جائے۔ وجہ یہی ہے کہ سچائی کے قتلِ عام سے آمروں اور غاصبوں کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنے مفادات پورے کرنے کی خاطر حقائق اُلٹ پُلٹ کر سکیں۔ تفصیل سے پڑھیے

بارہ سال میں تیار ہونے والی شداد کی جنت؟
ان  لوگوں کا تعلق قومِ عاد سے تھا اور وہ اِرم نام کی بستی کے رہنے والے تھے۔ وہ بستی بڑے بڑے ستونوں والی تھی۔ عماد جمع ہے عمد کی اور عمد کے معنی ستون کے ہیں۔ عاد کے نام سے دو قومیں گزری ہیں۔ ایک کو عادِ قدیمہ یا عادِاِرم کہتے ہیں۔ یہ عاد بن عوض بن اِرم بن سام بن نوحؑ کی اولاد میں سے تھے۔ ان کے دادا کی طرف منسوب کرکے ان کو عادِ اِرم بھی کہا جاتاہے۔ اپنے شہر کا نام بھی انھوں نے اپنے دادا کے نام پر رکھا تھا۔ ان کا وطن عدن سے  متصل تھا۔تفصیل سے پڑھیے
آج27مارچ 2014کا اخباراردو نیوز دیکھ رہا تھا کہ اس میں شام کی صورت حال کے تعلق سے چھٹے جنیوا کنونشن کے موقع پر شائع ہونے والے ایک کارٹون پر نگاہیں جم گئیں۔ایک تصویر میں پہلے جنیوا کنونشن کے بورڈ کے نیچے ایک مردہ شخص کی کھوپڑی دکھائی گئی تھی۔ دوسرےکنونشن کے بورڈ کے نیچے دس کے قریب کھوپڑیاں، تیسرے کے نیچے کوئی سو سے اوپر کھوپڑیاں،چوتھے کے نیچے دس ہزار کے قریب اور پانچویں کے نیچے لاکھ کے قریب کھوپڑیاں دکھا کر چھٹے کنونشن کے بورڈ کے نیچے لکھا گیا تھا:
”معاف کیجیے گا! شام میں سارے لوگ ختم ہو گئے ہیں اب کسی جنیوا کنونشن کی ضرورت نہیں رہی“۔
اس کارٹون نے سرزمین شام کے حوالے سے میرے زخموں کو تازہ کردیا ہے۔ میں اس ملک شام کو یاد کرنے لگا جس سے میں شدید محبت کرتا ہوں۔پھر میں نے سوچا کہ ایسا وقت کب آئے گا جب میں ایک بار پھر پر امن دمشق میں جاسکوں گا۔ مسجد اموی میں نماز ادا کروں گا۔ ”جبل قاسیون“ پر جاکر شاورما کھاؤں گا۔ آئیے میرے ساتھ، اس ملک کے حوالے سے کچھ سنہری یادیں تازہ کرتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھیے

وکی پیڈیا کو گزشتہ کچھ عرصے سے ایک نئی پریشانی کا سامنا بھی ہے۔ اس ویب سائٹ کے لیے رضاکارانہ طور پر لکھنے والوں کی تعداد بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔
آج کے دور میں جب کسی کو کسی موضوع کے بارے میں جاننا ہوتا ہے اور اس کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت بھی موجود ہو تو وہ کتابیں چھاننے کے بجائے وکی پیڈیا کا سہارا لیتا ہے۔ یہ ویب سائٹ اس قدر مقبول ہو چکی ہے کہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی وجہ سے وکی پیڈیا ڈجیٹل دور کی لائبریری بھی کہلاتا ہے۔ یہاں سے مفت میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ ایک اوپن سورس ویب سائٹ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں پر مختلف لوگ معلومات شامل کر سکتے ہیں۔ یہ مختلف زبانوں میں موجود ہے۔ تفصیل سے پڑھیے

| Links to this post
Reactions: 
اہو! اپنی سابقہ کھوئی ہوئی عزت اور مقام کمانے کے لئے مسلسل ہاتھ پائوں ماررہا ہے۔ گوگل اور فیس بک نے یاہو! کے سنہرے دور کا بالکل خاتمہ کردیا ہے اور یاہو! شاید اسی بات کا غصہ نکالنے کے لئے اپنی تمام سروسز پر گوگل اور فیس بک کے یوزر نیم / پاس ورڈ سے لاگ ان ہونے کی سہولت ختم کرنے جارہا ہے۔ ابتداء میں یہ کام یاہو! اسپورٹس سے شروع کیا گیا ہے اور جلد ہی یاہو! کی دیگر تمام سروسز پر بھی فیس بک اور گوگل کے سائن ان بٹنز ہٹا دیئے جائیں گے۔
صارفین کے لئے اب یہ لازم ہوجائے گا کہ وہ یاہو! کی کسی بھی سروس بشمول یاہو! میل، Flickr استعمال کرنے کے لئے یاہو! کی آئی ڈی سے لاگ ان ہوں۔ اس سے پہلے صارفین کو یہ سہولت حاصل تھی کہ وہ اپنا فیس بک یا گوگل کا اکائونٹ بھی یاہو! کی سروسز پر لاگ ان ہونے کے لئے استعمال کرسکتے تھے۔ یہ سہولت جنوری 2011 ء سے فعال ہے۔ جب یوزر فیس بک یا گوگل کی آئی ڈی سے یاہو! کی سروسز استعمال کرتا ہے تو یاہو! کے پاس صارف کی انتہائی محدود معلومات ہی جمع ہو پاتی ہیں اور وہ انٹرنیٹ پر صارف کی سرگرمیوں سے مکمل طور پر بے خبر رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یاہو! نے اپنے صارفین کی زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھی کرنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے تاکہ صارف کی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے یاہو! کی سروسز کو خاص طور پراس صارف کے لئے بہتر کرکے پیش کیا جائے۔
Labels: | Links to this post
Reactions: 

فیس بک کی مالکیت میں آتے ہی کچھ گھنٹوں کے لیے وٹس ایپ کی سروس ڈاؤن ہونے نے کافی لوگوں کو شبہات میں مبتلا کر دیا۔ وٹس ایپ نئے فیچرز کے ساتھ تو سامنے آگیا لیکن اس دوران لوگوں نے اس کا متبادل دیکھنا شروع کر دیا، کیونکہ سکیوریٹی خدشات کی بِنا پر فیس بک پہلے ہی کافی بدنام ہے۔ ’’ٹیلی گرام‘‘ ایپلی کیشن کو وٹس ایپ کا بہتر متبادل قرار دیا گیا ہے۔   تفصیل سے پڑھیے
کائنات کی تمام تر مخلوق گھر بنانے میں جتی رہتی ہے۔ پرندے خاص طور پر خوبصورت گھونسلے بناتے ہیں۔ تنکا تنکا جوڑ کر ان کا آشیانہ بنتا ہے۔ یہی حال انسانوں کا ہے۔ وہ بھی محبت سے گھرکی بنیاد رکھتے ہیں۔ ان گھروں کے مکین مل جل کر ساتھ رہتے ہیں۔ گھر بن تو جاتے ہیں، مگر انھیں چلانا اور قائم و دائم رکھنا آزمائش طلب مرحلہ ہوتا ہے۔ گھر ایثار و قربانی کے جذبے سے قائم رہتے ہیں۔ محبت و اتفاق نہ رہے تو گھر بکھرنے لگتے ہیں۔ گھر وہی رہتے ہیں مگر مکین بدل جاتے ہیں۔
بیٹیاں وداع ہو جاتی ہیں اور بہوئیں آ کر گھر سنبھالتی ہیں۔ پھر گھروں کے طور طریقے بدل جاتے ہیں۔ لڑکیاں ماں باپ کے گھر سے عجیب سی انسیت رکھتی ہیں۔ بیاہ کر چلی بھی جائیں، مگر ان کا احساس والدین کے قریب بھٹکتا رہتا ہے۔ بھائیوں کو دیکھنے کی لگن انھیں بے چین کیے رکھتی ہے۔ عمر بھر ماضی ٹھنڈی آہوں میں سانس لیتا ہے۔ بچھڑ کے ملنے کی ایک عجیب سی خوشی ہوتی ہے۔ آنسوؤں میں جھلملاتی ہوئی۔ قریبی رشتے جن سے خوبصورت احساس جڑا ہو، زندگی کی تپتی دھوپ میں چھاؤں جیسے ہیں۔ چہرے بھی ایسے کہ جبیں دیکھ کر انسان تمام دکھ بھول جاتا ہے۔ تفصیل سے پڑھیے
ہوسکتا ہے ان دنوں میں زود رنج اور غیر ضروری طور پر حساس ہوچکا ہوں۔ مگر کچھ واقعات ایسے ہوجاتے ہیں جن کا صحافتی Treatmentخوش گوار موڈ میں بھی دیکھوں تو خون کھول جاتا ہے۔ 21اپریل کو اقبال کی برسی تھی۔ ان کا مزار اپنے صحن کے اعتبار سے دُنیا کی سب سے بڑی مسجد کی سیڑھیوں کے بائیں ہاتھ لاہورمیں بنایا گیا ہے۔ تخت لاہور پر ان دنوں شہباز شریف صاحب براجمان ہیں۔
انھیں گڈگورننس کی بھرپور علامت کے طور پر ان کے بے تحاشا مداحین بڑی شدت کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش میں دن رات مصروف رہتے ہیں۔ تعلق شہباز صاحب کا اس پاکستان مسلم لیگ سے ہے جو خود کو قائد اعظم اور نظریہ پاکستان کا اصلی تے وڈی وارث کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اسی جماعت کے بہت سارے مفکرین ہمیں دن رات یہ ’’خبر‘‘ بھی دیتے رہتے ہیں کہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بنائے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کا تصور اقبال نے پہلی بار اپنے خطبات کے ذریعے پھیلایا۔ قائد اعظم نے ان کے خواب کو بالآخر حقیقت بنا دیا۔ تفصیل سے پڑھیے
کرکٹر عمر اکمل کی شادی سے متعلق خبر شایع ہوئی کہ نکاح مسجد میں ہو گا، شادی نہایت سادگی سے کم خرچ اور مثالی ہو گی، ہنی مون کی بجائے عمرہ پر جائینگے۔ خبر پڑھ کر خوشی ہوئی کہ اس مثالی اور قابل تقلید شادی سے لوگوں کو سادگی، کفایت شعاری اور کم خرچی کی ترغیب ملے گی کیونکہ شوبز اور کھیلوں کی دنیا سے تعلق رکھنے والے اسٹارز کا طرز عمل ان کے پرستاروں پر بڑا اثرانداز ہوتا ہے اسے وہ ہنسی خوشی اپناتے بھی ہیں مگر بعد کی آنیوالی خبروں نے اس کی نفی کر دی جن کے مطابق فارم ہاؤس میں پر تکلف رسم حنا دیر تک جاری رہنے پر عمر اکمل اور فارم ہاؤس کے مالک کے خلاف ون ڈش کی پابندی نہ کرنے، دیر تک تقریب جاری رکھنے پر شادی ایکٹ کی خلاف ورزی کے ارتکاب پر مقدمہ قائم کر کے 2 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ دلہن کی بہنوں کا کہنا تھا کہ عمر اکمل نے ستانے کے لیے جعلی نوٹ تھما دیے تھے۔ بعد ازاں ہم نے ان سے دو لا کھ روپے بٹور لیے ابھی کافی رسمیں باقی ہیں (یعنی مزید آمدنی متوقع ہے)۔ تفصیل سے پڑھیے
انسان ترقی کی منازل طے کرتا ہوا اس مقام تک جا پہنچا ہے، ماضی میں جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ انسان کا یوں مسلسل ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے چلے جانا اس کے غوروفکر اور تدبر کی واضح دلیل ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ غوروفکر اور علوم و فنون کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی بہت سے لوگ جہالت پر مبنی اقدامات کی بدولت تنزلی کی گہری گھاٹیوں میں گرتے جارہے ہیں اور جعلی عاملوں کے ہاتھوں استعمال ہوکر بلاسوچے سمجھے جان، عزت و آبرو اور مال برباد کرنے میں مشغول ہیں۔
آئے روز ملک میں جعلی عاملوں اور پیروں کے حوالے سے ایسے ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں، جنھیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، بلکہ ایسے واقعات کی صداقت پر یقین ہی نہیں آتا، کیونکہ کسی بھی عقل مند انسان سے ایسے گھنائونے افعال کا صادر ہونا ناممکن معلوم ہوتا ہے، لیکن کیا کیا جائے،کسی انسان سے جن احمکانہ حرکتوں کے صدور کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، جعلی عاملوں کی ’’برکت‘‘ سے وہ سب کچھ ہورہا ہے۔  تفصیل سے پڑھیے

سنگ مرمر کی تختی سکول کی دیوار میں اس جگہ نصب ہے، جہاں خوشونت سنگھ کی باقیات رکھی گئی ہیں۔ 
 دھرتی ماں کا ایک بیٹا ننانوے برس کے بعد اسی دھرتی پر لوٹ آیا۔
معروف مصنف خوشونت سنگھ کی مٹھی بھر راکھ خوشاب سے بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہڈالی میں اس سکول کی دیوار میں رکھ دی گئی، جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔
پاکستان کے معروف مصنف فقیر سید اعجاز الدین اس عظیم انسان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ان کی راکھ ہندوستان سے لے کر آئے تھے۔ جن کی خواہش تھی کہ ’انہیں ان کی جڑوں سے دوبارہ جوڑ دیا جائے۔‘
انہوں نے یہ راکھ ہڈالی کے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کی ایک دیوار کے طاق میں رکھ دی۔ اس سکول میں خوشونت سنگھ کا بچپن میں داخلہ ہوا تھا۔ اس طاق کو سنگ مرمر کی ایک تختی سے بند کردیا گیا ، جس پر تحریرہے:
’’یہ وہ جگہ ہے، جہاں میری جڑیں ہیں۔ میں پرانی یادوں کے آنسوؤں سے جنہیں پروان چڑھایا۔‘‘ تفصیل سے پڑھیے
مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں- 
مجھے خبر ملی اور میں جیسے سکتے میں بیٹھا رہ گیا- اسے سینے پر گولی لگی تھی، وہ اسپتال میں تھا اور اس کی حالت نازک تھی-
میں اس سب کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا- خاص طور پر اس لئے کہ اس نے تو ہر وہ چیز کی تھی جو میں نے اس سے کہی تھی- وہ تو ایک مصالحت پسند شخص ہے جو کبھی میرے مشورے کے خلاف نہیں گیا-
اس نے ہر وہ چیز کی جو میں پہلے ہی سے کرتا آ رہا ہوں- اور اگر میں بچ گیا ہوں تو اسے بھی بچنا چاہئے-
میں فوری طور پر اسپتال کی طرف بھاگا جہاں وہ تھا- وہاں میں نے غصے میں بھرے، حیران و پریشان اور انجانے چہروں کا ایک سمندر فیسلٹی کے باہر جمع دیکھا-   تفصیل سے پڑھیے

اپنے گزشتہ دور میں پنجاب کے چیف منسٹر جناب شہباز شریف نے فرمایا کہ کلچر کے نام پر عریانیت اور فحاشی کسی صورت برداشت نہیں کی جاۓ گی اور اگر کسی نے نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جاۓ گی-
چیف منسٹر پنجاب جناب شہباز شریف کا فحاشی کے خلاف فتح پر ایک انداز-
اپنے حالیہ دور حکومت میں بھی انہوں نے ناصرف اپنے گزشتہ موقف کا اعادہ کیا بلکہ این جی اوز کو بھی تنبیہ کی کہ وہ 'اسکولوں میں جنسی تعلیم' عام نہ کریں-
انہوں نے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ درجے کی کمیٹی بھی تشکیل دی جو اسٹیج اور ٹی وی پر فحش رقص کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے اور لوگوں سے کہا کہ وہ ایسی این جی اوز پر نظر رکھیں جو نصاب میں 'نامناسب جنسی تعلیم ' متعارف کروا رہی ہیں-
چیف منسٹر کا یہ اقدام قابل تحسین ہے- خصوصاً لاہور جیسے پرہیز گار شہر میں جہاں لوگ سیکس نہیں کرتے اور بچے، ماؤں کی گود میں آسمان سے ٹپکتے ہیں-    تفصیل سے پڑھیے
آج ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کو جو آزادیاں نصیب ہیں اس میں اک بڑا حصہ اس "بغاوت" کی دین ہے جو تیزی سے بدلتے بین الاقوامی منظرنامے میں نیتا جی سبھاش چندر بوس نے بروقت کی تھی۔
جس شدید دباؤ کے تحت 1940 کی دہائی میں "لازوال" سلطنت برطانیہ کو کرپس مشن (1942)، کابینہ مشن (1946) اور پھر ماؤنٹ بیٹن (1947) کو بھیجنا پڑا، اس دباؤ کا بین الاقوامی سطح پر اظہار اٹلانٹک چارٹر (14 اگست 1941) تھا تو خطّے کی سطح پر انڈین نیشنل آرمی (INA) جس کی وجہ سے برٹش انڈین آرمی تاریخ میں پہلی دفعہ واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔   تفصیل سے پڑھیے
ہاتھی انسان کی پہلی سواری تھا اور بھیڑیا پہلا پالتو جانور۔ ہاتھی کو سدھانا‘ اشاروں پر چلانا اور اس سے سواری اور جنگ کا کام لینا انتہائی ٹیکنیکل کام تھا‘ انسان نے سب سے پہلے یہ فن سیکھا۔ ہاتھی روز نہاتے ہیں‘ یہ رات کے وقت جنگل سے دریائوں‘ ندیوں اور جھیلوں کی طرف جاتے ہیں‘ ہاتھی پکڑنے والے لوگ ان کے راستے میں گڑھا کھود کر اس پر گھاس اور شاخیں رکھ دیتے ہیں‘ ہاتھی چلتے چلتے گڑھے میں گر جاتا ہے‘ یہ گڑھے میں چنگاڑنے لگتا ہے‘ ہاتھی کی کوشش ہوتی ہے یہ گڑھا توڑ کر باہر آ جائے لیکن دنیا کا طاقتور ترین جانور بھی ایک خاص حد پر پہنچ کر بے بس ہو جاتا ہے‘ ہاتھی گڑھے سے نکلنے کی کوشش ترک کر دیتا ہے۔  تفصیل سے پڑھیے

سسٹم کا کبھی بھی خراب ہو جانا ایک عام سی بات ہے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ سسٹم کی عام خرابیوں سے نمٹنے کی اہلیت ہم میں موجود ہو، بلکہ اس سلسلے میں ہم اپنے عزیز و اقارب کی مدد کرنا بھی پسند کرتے ہیں۔ چاہے اس کے پیچھے واقعی مدد کا جذبہ ہو یا اگلے کو متاثر کرنا کہ ہمیں کمپیوٹر کی کافی معلومات ہے۔ بہرحال کسی کا کمپیوٹر ٹھیک کرنے کی نیت سے جاتے ہوئے ہمیں بالکل اندازہ نہیں ہوتا کہ کس طرح کی گمبھیر صورت حال ہماری منتظر ہے۔ اپنے بارے میں ہمیشہ اچھا تاثر چھوڑنے کے لیے ضروری ہے کہ بندہ پوری تیاری کے ساتھ جائے مثلاً کوئی ایسی ڈی وی ڈی یا خاص کر یو ایس بی ساتھ لے جائے جس میں کئی یوٹیلیٹی سافٹ ویئر، ونڈوز اپ ڈیٹس، مختلف قسم کے ٹربل شوٹنگ ٹولز اور اینٹی وائرسز وغیرہ موجود ہوں۔    تفصیل سے پڑھیے
2000ء کی بات ہے، چودہ سالہ امریکی لڑکا ڈیوڈ ہولز کمپیوٹروں میں ازحد دلچسپی لینے لگا۔ دراصل ریاضی اس کا پسندیدہ مضمون تھا لہٰذا وہ خودبخود پیچیدہ ریاضیاتی مسئلے حل کرنے میں کمپیوٹر سے مدد لینے لگا۔ جلد ہی اسے احساس ہو گیا کہ یہ علم سکھانے والا بڑا طاقتور آلہ ہے۔ چناں چہ وہ کمپیوٹر پر من پسند اشیا کے تھری ڈی ڈیزائن بنانے لگا۔
لیکن رفتہ رفتہ اسے محسوس ہوا کہ کمپیوٹر کا دائرہ کار لامحدود نہیں… بلکہ بعض اوقات وہ کام میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس ضمن میں ڈیوڈ بتاتا ہے ’’میں مٹی سے چند منٹ میں کوئی شے تیار کر لیتا۔ لیکن وہ شے کمپیوٹر میں تخلیق کرتے اکثر گھنٹے لگ جاتے۔ اسی بنا پر میں سوچنے لگا کہ مسئلہ کیا ہے؟ کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں کس جگہ خرابی ہے؟‘‘
ڈیوڈ ہولز (David holz) سوچنے لگا کہ کمپیوٹر پر مٹی کی ورچوئل شے بنانے کا بہتر طریق کار ہونا چاہیے۔ غوروفکر سے اسے احساس ہوا کہ اگر کمپیوٹر مائوس و کی بورڈ کے بجائے صرف انگلیوں کے اشاروں سے چلایا جائے، تو یقینا کام تیزی سے ہو گا۔ یہ خیال چودہ سالہ ڈیوڈ کے ذہن سے چپک کر رہ گیا۔ تفصیل سے پڑھیے

کیسا انعام دینے آئے ہو
اس نے کلاشنکوف پر اپنی گرفت مضبوط کی، پھر چہرے پر بندھے ڈھاٹے کو مزید کسا۔ اس کے ساتھ بیٹھے دیگر تین ساتھیوں نے بھی اس کی تقلید کی۔ وہ سب پوری طرح تیار تھے۔ ان کی ہائی روف گلی کی نکڑ پر نسبتاً ایک اندھیرے حصے میں کھڑی تھی۔ ہائی روف کا رنگ بھی سیاہ تھا اور شیشے بھی کالے تھے۔ اس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو باہر سے دیکھنا تقریباً ناممکن تھا لیکن وہ سب اندر سے باہر کے مناظر بخوبی دیکھ رہے تھے۔ ان کی عقابی نگاہیں سامنے والے مکان پر ٹکی ہوئی تھیں۔ وہ مکان دو منزلہ تھا۔ اس کے باہر ایک سفید رنگ کی فوکسی کھڑی تھی۔ تبھی دروازہ کھلا اور ایک خوبرو نوجوان باہر نکلا اور اس فوکسی میں بیٹھ کر کہیں چلا گیا۔ جیسے ہی وہ فوکسی گلی کے نکڑ پر مڑ کر نظروں سے اوجھل ہوئی۔ ہائی روف اپنی جگہ سے رینگنے لگی۔ دھیرے دھیرے آگے بڑھتے ہوئے وہ اسی مکان کے سامنے جا رُکی۔ پھر دروازہ کھلا اور ایک شخص چادر اوڑھے نیچے اترا اور سیدھا جاکر دروازے کے سامنے کھڑا ہوگیا، اس کی انگلی کال بیل کے سوئچ پر تھی۔ مگر آنکھیں آس پاس کا جائزہ لے رہی تھیں ……اندر کہیں دور گھنٹی بجی تھی……اور پھر ذرا سی دیر بعد دروازے کے پیچھے آہٹ سنائی دی تھی۔ دروازہ ایک نوعمر سی لڑکی نے کھولا تھا۔ اپنے سامنے ڈھاٹا باندھے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ بری طرح چونک اُٹھی۔ اس نے چیخنے کی کوشش کی تھی۔ مگر اسے موقع نہیں ملا۔ اس کے منہ پر اسی شخص نے ہاتھ رکھ دیا تھا۔ لڑکی کے پہلو سے کلاشنکوف کی نال لگا کراس نے غرا کرکہا ”اگر آواز نکالی تو گولی مار دوں گا۔“  تفصیل سے پڑھیے
مگرمچھ کا شِکار
مجھے   ملائیشیا آئے دو ہفتے ہوچکے تھے جب ہم نے پہلی بار عظیم پہاڑ اوفر(Mount Ophir)کی پہلی جھلک دیکھی۔ 1276میٹر بلند یہ چوٹی اس وقت بادلوں میں گھری ہوئی تھی اور صبح کے سورج کی کرنیں ان بادلوں کو چیرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ بے انتہا خوب صورت منظر تھا۔ میں شکار بھول کر منظر میں گم ہوگیا۔ ہماری کشتی چوٹی کے قریب ہوتی جا رہی تھی۔ یہ ملاکا کا ساحلی علاقہ تھا۔ جہاں پام کے درختوں سے گھِرا پیغمبر حضرت سلیمانؑ کا محل بھی تھا۔ سبز اور نیلے فریم میں جُڑی چوٹی اب ہمارے بہت قریب تھی۔ بعض مؤرخین اسے ہی بائبل میں مذکور اوفر پہاڑ مانتے ہیں جبکہ بعض افریقا میں موجود ماؤنٹ اوفر کو بائبل کی مذکورہ چوٹی تسلیم کرتے ہیں۔ بحث سے قطع نظر کہ بائبل کی ماوئنٹ اوفر کون سی ہے اس وقت تو ہم صرف یہ جانتے تھے ہماری کشتی کانسی کی طرح چمکتی اس سرخ چوٹی کے بالکل قریب ہوگئی تھی۔ جھاڑیوں اور انواع و اقسام کی بیلوں نے چوٹی کو ڈھانپ رکھا تھا اور اس کے اردگرد بھی گھنا جنگل تھا۔ دریائے مور اس کے بالکل قریب سے گزر رہا تھا اور یہاں ٹمبر کے گھنے جنگلوں کے قریب ہی وہ تاریخی سونے کی کانیں ہیں جو حضرت سلیمانؑ کے دور میں سونے کے لیے مشہور تھیں۔   تفصیل سے پڑھیے
Labels: , | Links to this post
Reactions: 
میرے اللہ جی
جب میں اپنے اللہ جی کی مرضی سے دنیا میں وارد ہوا‘ تو ماں کی گود ہی میری کل کائنات تھی۔ نرم‘ گرم اور سرد موسموں کا اِسی گود میں مجھ سے پالا پڑا۔ میں اِس میں ہر طرح سے محفوظ و مامون تھا۔ پھر میرے اللہ جی نے مجھے پاؤں پاؤں چلنا سکھایا‘ تو میری دنیا وسیع ہو گئی۔ میں اِس میں کلکاریاں مارتا دوڑنے پھرنے لگا۔ میرے ماں باپ نے سب سے پہلے مجھے جس لفظ سے آشنا کرایا وہ ”اللہ“ تھا۔ پھر اُس میں ”لااِلہ“ کا اضافہ ہو گیا اور میں تھوڑے ہی عرصے میں پورا کلمہ طیبہ پڑھنے لگا‘ تو میری دنیا مزید پھیل گئی۔ اب میری دنیا کا محور ایک چھوٹا سا گھروندہ تھا۔ ماں باپ‘ بہن بھائی سب مجھ سے پیار کرتے۔ اِس سے زیادہ خوبصورت دنیا کیا ہو گی؟ لیکن میرے پیارے اللہ جی کو مجھے بہت کچھ دکھانا مقصود تھا جو دو چار برس پلک جھپکتے ہی گزر گئے۔ میں ماں کی چھاتی کا دودھ چھوڑ کر پیارے اللہ جی کی پیدا کردہ دوسری نعمتوں سے سیر ہونے لگا۔ اللہ جی نے میری خواہشیں ہر دم پوری کیں۔ جب میں نے شیرِمادرسے منہ موڑا اور اُن نعمتوں سے لطف اندوز ہونا چاہا جنھیں میں کھانے اور چبانے کی استطاعت ہی نہیں رکھتا تھا‘  تفصیل سے پڑھیے

سپاہی لال حسین
اور ان کے ساتھیوں کی سچی کہانیاں
جنگِ عظیم دوم کے سپاہی لال حسین نیوبرٹش جزیرے کی باتیں سناتے تھے یہ مشرقی ایشیا میں واقع ہے۔ جاپان کے قیدی وہیں رہے۔ جاپانی زبان کا ان کے پاس کافی علم تھا اور روانی سے بولتے تھے۔ کئی دفعہ میرے گھر آئے اور جاپانیوں کی قید میں جو وقت گزارا تھا اس کے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔ ایک روز انھوں نے ایک رونگٹے کھڑے کرنے والا واقعہ سنایا۔ کہنے لگے ہم قیدی تھے اور جاپانی ہم سے بیگار لیتے تھے۔ کھانے کے لیے خوراک بھی ناکافی اور گھٹیا ہوتی تھی اس لیے بعض جوان بیمار پڑ جاتے تھے۔ ہمارا ایک ساتھی شدید بیمار ہوگیا۔ ہم قیدیوں نے جاپانی سنتری کی توجہ اپنے بیمار ساتھی کی طرف دلائی اور دوائی کے لیے التجا کی۔ سنتری دوائی کی ایک شیشی لے آیا دوا جونہی بیمار کے منہ میں انڈیلی اس کا کلیجہ پھٹ کر باہر آگیا۔ ہم قیدیوں کو اپنے قیدی ساتھی کی اس تکلیف دہ موت کا بہت افسوس ہوا۔   تفصیل سے پڑھیے

Labels: | Links to this post
Reactions: 
  سوشل میڈیا کا مطلب عوام کے درمیان مختلف ذرائع سے مواصلاتی روابط پیدا کرنا ہے۔ جس کا موجودہ دور معاشرے کے مزاج، خیالات، ثقافت اور عام زندگی کی کیفیات پر دورس اثرات کا حامل ہے۔ اس کا بہاو انتہائی وسیع اور لامحدود ہے۔سوشل میڈیا ذرائع کی طرف سے سماج میں ہر شخص کو زیادہ سے زیادہ اظہاررائے و آزادی اظہار کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ آزادشوشل میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔یعنی جس ملک میں سوشل میڈیا کے ذرئع آزاد نہیں ہیں وہاں ایک صحت مند جمہوریت کی تعمیر ہونا ممکن نہیں ہے۔سوشل میڈیا کا جال اتنا وسیع ہے کہ اس کے بغیر ایک مہذب معاشرے کا تصور بھی نا ممکن ہے۔ تفصیل سے پڑھیے
دھوپ شدت کی تھی، اتنی زیادہ کہ ایک قدم بھی چلنے کی ہمت نہ تھی۔ شاید اسی وجہ سے جو سڑک کل تک اژدحام کا منظر ہوا کرتی تھی آج بالکل خالی خالی تھی، اکا دکا آدمی ہی نظر آ رہے تھے۔ انھیں بھی میری ہی طرح ہی کہیں اہم کام کے لئے جانا ہوگا۔ ورنہ اتنی گرمی میں گھروں سے لوگ باہر عموماً نہیں نکلتے بلکہ اپنے اپنے مکانوں میں دبکے پڑے اے۔سی اور کولر کے کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔ آج رکشے والے بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ پسینے سے شرابور میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ جب ضرورت نہ ہو تو کم بخت رکشے والے ہر جگہ چیختے نظر آئیں گے: ”بٹلہ ہاوس“ ، ”اوکھلا ہیڈ“ ، ”غفار منزل“ ، لیکن پتا نہیں آج انھیں کیا ہو گیا ہے؟ اگر ضروری کام نہ ہو تا تو اتنی چلچلاتی دھوپ اور چہروں کو جھلسا دینے والی گرمی میں میں کبھی باہر نہ نکلتا، لیکن کبھی کبھی بہت ساری چیزوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ میں بھی یہی سوچ کر نہ چاہتے ہوئے بھی بدقت تمام پیدل چل کر ”لاجپت نگر“ کے لئے جامعہ کے بس اسٹاپ پر پہنچا تھا۔ دھوپ سے بچنے کے لئے میں اسٹاپ پر بنی کرسی نما سیٹ پر بیٹھ گیا۔ تفصیل سے پڑھیے
Labels: | Links to this post
Reactions: 
انہیں پتھروں کو سجدہ کرتےدیکھ تمہیں ہنسی نہیں آتی ۔
پہلےآتی تھی اب نہیں آتی ۔
کیوں اب کیوں نہیں آتی ؟ کیا اب تم انہیں پاگل نہیں سمجھتے؟
پہلےسمجھتا تھا اب نہیں سمجھتا ۔
لیکن تم ان سےنفرت تو کرتےہونا؟
پہلےکرتا تھا ، اب نہیں کرتا۔
مجھےتمہاری ذہنی حالت پر شک ہورہا ہے۔
افسوس مجھےبھی کچھ ایسا ہی محسوس ہورہا ہے۔
Labels: | Links to this post
Reactions: 
مذہب کو سیاست کے طابع رہنا چاہیے یا سیاست کو مذہب کے طابع ہونا چاہیے یا پھر ان انتہاؤں کے بجائے درمیانہ راستہ اپنانا چاہیے؟
یہ بحث عرصہ دراز سے جاری ہے، اسی حوالے سے یہاں میں پاکستانی سیاسی تاریخ کے دو اہم واقعات کا تزکرہ کرنا چاہتا ہوں کہ جب دو اہم مذہبی سیاسی جماعتوں نے ایک ہی مسئلہ پر مختلف ادوار میں سیاسی ترجیحات کے تحت مذہب کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے دو مختلف طریقوں سے استعمال کیا۔
یہ مسئلہ تھا “عورت کی حکمرانی” کہ جس پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے مگر یہ مسئلہ بہت ٹیڑھا ہے، دفتروں کے دفتر لکھے جا چکے ہیں مگر یہ ٹیڑھا کا ٹیڑھا ہی ہے کیونکہ اس کی بنیادیں مذہب سے زیادہ “منفی سماجی روایات” میں گڑی ہوئی ہیں۔     تفصیل سے پڑھیے
عام طور پر بڑھک تو یہی ماری جاتی ہے کہ افغانستان اور قبائلی علاقے یعنی فاٹا کبھی کسی کے زیر تسلط نہیں رہے مگر تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈیورینڈ لائن بنانے کے بعد اس تھیوری کو بڑی مہارت سے بوجوہ پھیلایا گیا۔
انیسویں صدی سے جاری برطانیہ-روس سرد جنگ (دی گریٹ گیم) ہو یا پھر بیسویں صدی کی امریکہ-روس سرد جنگ، اس تھیوری کو پھیلانے والوں میں باہر والے، قوم پرست اور جہادی سبھی پیش پیش رہے۔
کابل مغلوں کا اک صوبہ رہا اور کنڑ، باجوڑ اور خیبر کے خان، مہاراجہ رنجیت سنگھ کے “لہور دربار” سے نا صرف تعلقات رکھتے تھے بلکہ مراعات بھی لیتے رہے اور باج (ٹیکس) بھی دیتے رہے، یہ کہانی قیام پاکستان سے محض 107 سال پرانی ہی ہے۔ اس سے بھی پہلے سکندر اعظم اور نادر شاہ سرزمین افغانستان کو جی بھر کے روند چکے تھے جو سب تاریخ کا حصّہ ہے.      مزید پڑھیے

آجکل تو وطن عزیز میں ہر طرف 'ترکی' اور 'ترقی' کا دور دورہ ہے۔ ڈرامے ترکی کے، بسیں ترکی کی، دورے ترکی کے، یہاں تک کہ کوڑا اٹھانے والی مشینیں بھی ترکی ہی کی ہیں۔
ویسے ترکوں اور ترکستان سے ہمارے رشتے عربوں سے بھی پرانے ہیں کہ جب نہ ہم مسلمان ہوئے تھے نہ ہی ترک۔ بس ان کے اور ہمارے درمیان "ہندو قفقاز" ہے جسے ہم "ہندو کش" بھی کہتے ہیں۔ ان پہاڑوں میں موجود درّوں سے گذر کر جانے کتنی صدیوں سے لوگ یا لشکر آتے جاتے رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک بابر کا لشکر بھی تھا۔
ظہیرالدین بابر، شیخ مرزا کے گھر 1483 کو پیدا ہوئے اور 1530 میں محض 47 برس کی عمر میں انتقال کیا۔ 1494 میں محض گیارہ سال کی عمر میں بابر اپنی چھوٹی سی سلطنت "فرغانہ" کا حکمران بنا۔ آئندہ 36 برسوں میں 31 برس تو وہ وسط ایشیا (ثمرقند، بخارا، بدخشاں وغیرہ) ہی میں اپنے ہی رشتے داروں اور دیگر طاقتور سرداروں سے لڑتا رہا جبکہ 1526 میں اس نے بہت دفعہ لشکر کشیاں کرنے کے بعد ہمارے علاقہ میں اقتدار سنبھالا۔  تفصیل سے پڑھیے
نریندر مودی کی ان کہی کہانی
یہ 26دسمبر 2013ء کی بات ہے، بھارتی شہر احمدآباد میں ایک مجسٹریٹ نے ذکیہ جعفری کی درخواست مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ یہ سنتے ہی بیگم ذکیہ جعفری کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ غش کھا گئیں۔ مگر 74سالہ خاتون نے جلد ہی خود کو سنبھالا اور اعلان کیا کہ وہ نریندر مودی کے خلاف جہاد جاری رکھیں گی۔ یہ ذکیہ جعفری کی غیر معمولی دلیری ہی تھی کہ انھوں نے انتہا پسند ہندوؤں کے گڑھ میں ان کے سب سے اہم اور خطرناک لیڈر کو سرِعام للکارا تھا۔
جب ارضی قیامت آئی-   تفصیل پڑھیے

Labels: , | Links to this post
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers