قلعہء لاہور، جسے مقامی طور پر شاہی قلعہ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے صوبہء پنجاب کے شہر لاہور میں واقع ہے۔ یہ قلعہ شہر کے شمال مغربی کونے پر واقع ہے۔ گو کہ اس قلعہ تاریخ زمانہء قدیم سے جا ملتی ہے لیکن اس کی ازسرِ تعمیر مغل بادشاہ اکبر اعظم (1605-1556) نے کروائی جبکہ اکبر کے بعد آنے والی نسلیں بھی تزئین و آرائش کرتی رہیں۔ لہذٰا یہ قلعہ مغلیہ فنِ تعمیر و روایت کا ایک نہایت ہی شاندار نمونہ نظر آتاہے۔
آپ میں سے اکثر لوگوں نے یہ شاہی قلعہ لاہور دیکھا ہوگا۔ لیکن آپ میں سے اکثر دوستوں کو اس کے بیشتر تاریخی پہلوں کے بارے میں علم نہیں ہوگا۔ آئیے اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو اس کے متعلق کچھ دلچسپ معلومات دیتا ہوں۔
اگر میں آپ سے یہ پوچھوں کہ شاہی قلعہ لاہور کس نے تعمیر کروایا تھا۔ تو آپ میں سے اکثر کا جواب ہوگا۔ شہنشاہ اکبر نے۔ ویسے تو یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ لیکن آپ کے لئے یہ بات حیران کن ہو کہ یہ قلعہ اکبر سے سینکڑوں سال پہلے بھی موجود تھا۔ ہاں اکبر نے اس کو از سرنو تعمیر کروایا تھا۔ اور جو موجودہ حالت اس کی نظر آرہی ہے اس کو اکبر کے دور میں ہی تزئین و آرائش کروائی گئی تھی۔
قلعہء لاہور کی تعمیر کے حوالے سے مختلف مبہم اورروایتی حکایات موجود ہیں۔ تاہم 1959ء کی کھدائی کے دوران جو کہ محکمہء آثارِ قدیمہ نے دیوان عام کے سامنے کی، جس میں محمود غزنوی (1025ء )کے دور کا سونے کا سکہ ملا۔جو کہ باغیچہ کی زمین سے تقریبا 62 .7 میٹر گہرائی میں ملا۔ جبکہ پانچ میٹر کی مزید کھدائی سے ملنے والے قوی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں پر آبادی محمود غزنوی کے لاہور فتح کرنے سے بھی پہلے تقریباً 1021ء میں موجود تھی۔مزید یہ کہ اس قلعہ کی نشانیاں شہاب الدین غوری کے دور سے بھی ملتی ہیں جب اُس نے 1180ء تا 1186ء لاہور پر حملوں کئے تھے۔
یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ قلعہء لاہور کی بنیاد کس نے اور کب رکھی تھی چونکہ یہ معلومات تاریخ کے اوراق میں دفن ہوچکی ہیں۔ تاہم محکمہء آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران ملنے والے اشارات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ 1025ء سے بھی بہت پہلے تعمیر کیا گیا تھا، جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:
1241ء - منگولوں کے ہاتھوں تباہ ہوا۔
1267ء - سلطان غیاث الدین بلبن نے دوبارہ تعمیر کرایا۔
1398ء - امیر تیمور کی افواج کے ہاتھوں تباہ ہوا۔
1421ء - سلطان مبارک شاہ سید نے مٹی سے دوبارہ تعمیرکروایا۔
14322ء - قلعے پر کابل کے شیخ علی کا قبضہ ہوگیا اور اُس نے قلعے کو شیخا کھوکھر کے تسلط کے دوران پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرتے ہوئے اس کی مرمت کروائی۔
15666ء - مغل فرمانروا اکبر نے پکی اینٹوں کی کاریگری سے، اس کی پرانی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کروائی اور شاید اسی وقت اس کو دریائے راوی کی سمت وسعت دی تقریباً 1849ء میں جب راوی قلعہء لاہور کی شمالی دیوار کے ساتھ بہتا تھا۔ اکبر نے “دولت کدہء خاص و عام“ بھی تعمیر کروایا جوکہ “جھروکہء درشن“ کے نام سے مشہور ہے اور اس کے علاوہ مسجد دروازہ وغیرہ بھی بنوایا۔
1618ء - جہانگیر نے “دولت کدہء جہانگیر“ کا اضافہ کیا۔
1631ء - شاہجہاں نے شیش محل تعمیر کروایا۔
1633ء - شاہجہاں نے “خوابگاہ“، “حمام“، “خلوت خانہ“ اور “موتی مسجد“ تعمیر کروائی۔
1645ء - شاہجہاں نے “دیوان خاص“ تعمیر کروایا۔
1674ء - اورنگزیب نے انتہائی جسیم عالمگیری دروازہ لگوایا۔
1799ء یا 18399ء - اس دوران شمالی فصیل جوکہ کھائی کے ساتھ واقع ہے، سنگ مرمر کا “ہتھ ڈیرہ“، “حویلی مائی جنداں“، “بارہ دری راجہ دھیاں سنگھ“ کی تعمیر رنجیت سنگھ نے کرائی، ایک سکھ حکمراں جوکہ 1799ء تا 1839ء تک حاکم رہا۔
1846ء - برطانیہ کا قبضہ
19277ء - قلعے کی جنوبی فصیل کو منہدم کرکے، اس کی مضبوط قلعے کی حیثیت کو ختم کرکے اسے برطانیہ نے محکمہء آثارِ قدیمہ کو سونپ دیا۔
-----------------
محل وقوع
 قلعہ جس کے لغوی معانی استحکام اور حفاظت کے ہوتے ہیں، فوجی مقاصد یا شاہی رہائش گاہ کے لیے دنیا بھر میں بنائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں کئی قلعے مختلف ادوار میں تعمیر ہوئے۔ مثلاً روہتاس، رانی کوٹ، قلعہ اٹک، قلعہ دراوڑ اور شاہی قلعہ لاہور وغیرہ۔ اس قلعہ کے لیے جو جگہ منتخب کی گئی وہ ایک اونچا مصنوعی ٹیلہ تھا جس کی سطح لاہور شہر سے کافی بلند، دریائے راوی کے جنوبی کنارے پر واقع کافی محفوظ تھی جو اس وقت لاہور کے شمال مغرب میں واقع ہے۔
 شاہی قلعہ لاہور جو مغلوں کے فنِ تعمیر کا ایک بے نظیر شاہکار ہے جو انہوں نے اپنے رہائشی مقاصد کے لیے تعمیر کروایا مگر ساتھ ساتھ فوجی مقاصد کو بھی مدِنظر رکھا گیا۔ اس کی باقاعدہ بنیاد 1566ء میں مغل بادشاہ جلال الدین اکبر نے رکھی۔ اس کی لمبائی 466 میٹر اور چوڑائی 370 میٹر ہے۔ اس کی شکل تقریباً مستطیل ہے۔ دیواریں سرخ پختہ اینٹوں سے بنی ہوئی ہیں جن کی چنائی مٹی گارے سے کی گئی ہے ان دیواروں پر بندوقچیوں کے لیے سوراخ ہیں جن کے آثار مشرقی دیوار میں اب تک موجود ہیں۔ جن سے وہ محاصرہ کرنے والی فوج پر گرم پانی اور گولیاں برساسکتے تھے۔ یہ قلعہ اپنی وسعت، فنِ تعمیر اور شہرت کے لحاظ سے پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا میں مشہور ہے۔ اس قلعہ کے اندر مختلف ادوار میں مختلف عمارات تعمیر ہوئیں جن کو چھ حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں:
۔1۔ عہدِ اکبری کی عمارات
۔2۔ نورالدین جہانگیر کی عمارات
۔3۔ شاہجہاں کی تعمیر کردہ عمارات
۔4۔ اورنگزیب عالمگیر کی عمارات
۔5۔ سکھ دور کی عمارات
۔66۔قلعہ بَعہد انگریز
عالمگیری دروازہ:
شاہی قلعہ کی مغربی دیوار سے منسلک یہ دروازہ اورنگزیب عالمگیر نے 74-16733ء میں تعمیر کروایا۔ اسی جگہ پر اکبری دور میں بھی ایک دروازہ موجود تھا اورنگ زیب عالمگیر نے اس کو از سِرنو تعمیر کروایا جس کی وجہ سے یہ عالمگیری دروازہ کہلوایا۔ اس کی تعمیر پرانے فوجی اصولوں کے مطابق کی گئی ہے۔ خوبصورتی اور رعب کے لحاظ سے اس کا کوئی ثانی نہیں۔ اس کے بڑے بڑے مثمن برج کنول کی پتیوں سے آراستہ ہیں جبکہ گنبد نما برجیاں اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگائے ہوئے ہیں۔ اس دروازے کے اندر نیچے اور اوپر، محراب دار دو منزلہ کمرے بنے ہوئے ہیں اور سامنے ٹکٹ گھر ہے۔ اسی دروازے سے آج کل عوام کی آمدورفت ہوتی ہے۔ اس دروازے کے اندر داخل ہونے کے بعد دائیں جانب ایک راستہ ملتا ہے جس کے نیچے اوپر محافظوں کے کمرے بنے ہوئے ہیں جبکہ بالکل سامنے ایک چھوٹے سے کمرے میں بانی لاہور “ لوہ “ کا مندر ہے۔ اس مندر کے شمال میں بلندی پر ایک مثمن دروازہ ہے۔ جس پر جانے کے لیے بڑی بڑی سیڑھیاں تھیں جو کہ عہدِ برطانوی میں ختم کردی گئیں۔ دروازے کے آثار ابھی تک باقی ہیں۔
شاہی باورچی خانہ و اصطبل:
 شاہی قلعے کے جنوب مغرب کی طرف ایک وسیع علاقہ ہے جہاں پر عہدِ مغلیہ میں شاہی باورچی خانہ و اصطبل تھا۔ یہ جگہ لوہ کے مندر کی پچھلی جانب اور مثمن دروازہ کی جنوبی طرف واقع ہے۔ یہ بورچی خانہ ایک بہت بڑے ہال اور چھوٹے چھوٹے کمروں پر مشتمل تھا جس کے کئی دروازے تھے۔ اس میں کئی ایک انواع کے کھانے تیار ہوتے جو کہ شاہی دسترخوان کی زینت بنتے تھے جبکہ شاہی اصطبل میں اچھی نسل کے گھوڑے رکھے جاتے تھے۔
 برطانوی عہد میں اس شاہی باورچی خانہ اور اصطبل کی حیثیت کو ختم کرکے یہاں پر پولیس کی بارکیں بنادی گئیں اور کچھ اضافی عمارات بنا کر اس کو جیل میں تبدیل کردیا گیا اور کچھ عرصہ تک یہ جیل زیر استعمال رہی۔
 آثارِقدیمہ کی انتھک کوششوں کے بعد اس جیل اور پولیس کی بارکوں کو ختم کردیا گیا اور باورچی خانہ کو اصلی صورت میں لانے کی کوشش کی۔ اس کے آدھے حصے پر محکمہ آثارِ قدیمہ نے ایک نیا خوبصورت کیمپس بنایا جس کا نام “ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف آرکیالوجی ٹریننگ اینڈ ریسرچ سنٹر “ ہے۔ یہاں پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر آثارِقدیمہ کے مختلف شعبہ جات میں لوگوں کو سکالرز کے ذریعے تربیت دی جاتی ہے
قلعہ کی جنوبی دیوار:
 پاکستان انسٹیٹیوٹ آف آرکیالوجی اینڈ ریسرچ کی عمارت کے مشرق میں ایک سر سبز و شاداب سبزہ زار ہے جس کو روش کے ذریعے چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس سبزہ زار کے جنوب میں قلعہ کی جنوبی دیوار ہے۔ جسے عہدِ برطانوی میں توڑ دیا گیا تھا اور یہاں پر سیڑھیاں اور چبوترے بنادیے گئے تھے تاکہ قلعہ دوبارہ دفاعی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہوسکے۔ اس دیوار کے بجانب شمال دھیان سنگھ کی بارہ دری تھی جو اب منہدم ہوچکی ہے اس بارہ دری اور دیوار کے اوپر مختلف قسم کے فوارے لگے ہوئے تھے ( جنمیں سے ابھی کچھ باقی ہیں)۔اس وقت یہاں پر بچوں کے کھیلنے کے لیے جھولے وغیرہ بنائے گئے ہیں۔
دیوان عام:
 عہدِ اکبری کے دولت خانہ خاص و عام کی جنوبی دیوار سے متصل دیوان عام جو آصف خان کی زیرِ نگرانی شاہجہاں کے حکم پر 32-1631ء میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ جو کہ مستی ( مسجدی ) دروازہ کے مغرب میں واقع ہے۔ یہ سنگِ سرخ کے چالیس ستونوں پر مشتمل خوبصورت عمارت ہے جس کی لمبائی 62 میٹر، چوڑائی 20 میٹر اور اونچائی 11 میٹر ہے۔ یہ دیوان 1.5 میٹر اونچے چبوترے پر بنایا گیا ہے۔ جس کی تین اطراف میں سنگِ سرخ کی جھالر / کٹہرا بنا ہوا ہے اور ہر طرف سے راستہ چبوترے پر جاتا ہے۔ جس سے امراء، وزراء اور دیگر ملازمین دیوان میں داخل ہوتے تھے۔ (تصویر نمبر 2 ) سکھ دور حکومت 1841ء میں اس دیوان کے حسن کو کافی نقصان پہنچا جس کی وجہ سکھوں کی باہمی چپقلش اور لڑائی تھی چنانچہ اسی وجہ سے سکھ سردار شیر سنگھ نے قلعہ پر بادشاہی مسجد کے میناروں سے گولہ باری کی جس سے اس کا کافی حصہ گر گیا جس کی بعد میں انگریزوں نے مرمت کر کے اس دیوان کو ہسپتال کی حیثیت دے دی اور کافی عرصہ یہ عمارت بطور ہسپتال استعمال ہوتی رہی۔ آخر 1927ء کو محکمہ آثارِ قدیمہ نے اسے اپنی تحویل میں لیکر اصلی صورت بخشی۔
دولت خانہ خاص و عام ( اکبری محل ):
 دیوان عام میں سے ایک زینہ جھروکہ درشن میں جاتا ہے۔ اس جھروکے کے پیچھے اکبری عہد کے دولت خانہ خاص و عام کی عمارت ہے یہ ایک دو منزلہ عمارت چار گوشہ عمارت، دولت خانہ خاص و عام، اکبری محل کے نام سے مشہور ہے۔ جو اکبر کے حکم پر 1587ء کو تعمیر ہونا شروع ہوئی اور 18- 1617ء میں عہد جہانگیری میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ اس پر سات لاکھ روپیہ خرچ ہوا۔ وسیع علاقے پر مشتمل یہ محل 116 کمروں پر مشتمل تھا جس کا کافی حصہ بالکل ختم ہوچکا ہے صرف بنیادوں کے آثار باقی ہیں۔ اس وقت جو حصہ بچا ہوا ہے اس میں دولت خانہ خاص، جھروکہ اور کچھ رہائشی کمرے ہیں۔ دولت خانہ چار کمروں پر مشتمل ہے۔ جن میں ‌ایک مستطیل، ایک ہشت پہلو اور دو شش پہلو ہیں جب کہ ان کی شمال اور مغربی جانب برآمدے ہیں جن میں دوہرے سنگ مر مر کے ستون ہیں جبکہ دیواروں اور چھتوں کو چونے کی رنگین گلکاری اور منبت کاری سے سجایا گیا ہے۔
کھڑک سنگھ کا محل:
 دولت خانہ خاص و عام کی مشرقی جانب اور احاطہ جہانگیری کے جنوب مشرقی جانب ایک دو منزلہ عمارت ہے اس عمارت کا زیریں حصہ عہدِ اکبری کا ہے۔ جبکہ اوپر والی عمارت راجہ رنجیت سنگھ نے اپنے بیٹے کھڑک سنگھ کے لیے بنوائی۔ اسی لیے یہ کھڑک سنگھ کی حویلی کے نام سے مشہور ہے۔ کھڑک سنگھ کا یہ محل آتھ کمروں اور ایک بڑے ہال پر مشتمل تھا جس کی چھت لکڑی اور دیواروں پر چونے کا پلستر کیا گیا تھا۔ جو اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے ایک اعلٰی نمونہ تھا۔ آج کل عمارت کے اس حصے میں ڈائریکٹر حلقہ شمالی آثارِ قدیمہ کا دفتر ہے۔
 اس حویلی کی نچلی منزل دراصل عہدِ اکبری کے دولت خانہ خاص و عام کا ایک حصہ ہے۔ آج کل اس میں محکمہ آثارِقدیمہ کی ایک خوبصورت لائبریری ہے جو تقریباً پندرہ ہزار کتابوں پر مشتمل ہے۔ اس میں بیٹھ کر مختلف اسکالرز استفادہ علم کرتے ہیں۔ یہ لائبریری ایک بڑے ہال پر مشتمل ہے جس کو الماریوں کے ذریعے مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس کی پچھلی جانب کمروں کا ایک سلسلہ ہے جو محکمہ آثارِقدیمہ کے اسٹور کے طور ہر استعمال ہوتا ہے۔
مسجدی یا مستی دروازہ:
جہانگیر کی والدہ مریم زمانی نے 16144ء کو قلعہ کے مشرقی دروازے کے باہر ایک عظیم الشان مسجد تعمیر کروائی جو اسی کے نام سے موسوم ہوئی۔ قلعے کا یہ دروازہ مسجد کے قریب ہونے کی وجہ سے “ مسجدی دروازہ “ کہلایا جو بعد میں بگڑ کر “ مستی “ دروازہ بن گیا۔ یہ دروازہ قلعہ کی مشرقی دیوار کے وسط میں واقع ہے جو ایک مضبوط اور پائیدار دروازہ ہے۔ جو اپنی خوبصورتی اور جاہ و جلال بکھیرے عہدِ اکبری کے عظیم فن ِ تعمیر کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ دروازہ 1566ء میں تعمیر ہوا جس کے دونوں جانب مثمن برج ہیں اور مدافعت کے لیے دندانے دار فصیل ہے جن میں مستطیل نما سوراخ ہیں۔ اس قسم کی سوراخ دار فصیل قلعے کے کسی اور حصے میں نہیں ملتی۔ اس دروازے کا اندرونی حصہ گنبد نما ہے جن کے دونوں جانب بڑے بڑے دو منزلہ کمرے ہیں۔ یہ کمرے محافظوں کے لیے مخصوص تھے۔ اس دروازے کے اندرونی جانب شمال اور بجانب جنوب عہدِاکبری کی عمارات منسلک تھیں جو اب ختم ہوچکی ہیں اور اب صرف ان کی بنیادیں ہی باقی ہیں۔
احاطہ جہانگیری:
اکبر کی وفات کے بعد جہانگیر (1605-16277ء) نے عنانِ حکومت سنبھالا تو اس کے خلاف بے شمار شورشیں اٹھ کھڑی ہوئیں یہاں تک کہ اس کے بیٹے خسرو نے باپ کے خلاف بغاوت کردی اور قلعہ لاہور کا محاصرہ کرلیا مگر صوبے دار لاہور دلاور خان نے اس کی ایک نہ چلنے دی تو اس نے راہِ فرار اختیار کی۔ دریں اثنا خسرو اپنے سات سو ساتھیوں کے ساتھ دریائے چناب کے قریب پکڑا گیا۔ اسی دوران جہانگیر لاہور آیا اور تقریباً ایک سال تک یہیں شاہی قلعے میں قیام کیا اور اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شاہی قلعہ لاہور میں نہایت عمدہ عمارات تعمیر کروائیں اور ساتھ ساتھ ان عمارات کی تکمیل بھی کروائی جن کی بنیادیں اس کے باپ اکبر نے رکھی تھی۔
 دیوانِ عام کی شمالی جانب ایک وسیع اور خوبصورت سبزہ زار ہے مغلیہ طرز کا یہ باغ برطانوی دورِ حکومت میں ختم کردیا گیا اور یہاں ٹینس کھیلنے کے لیے جگہ بنادی گئی جسے بعد میں دوبارہ اصل حالت میں تعمیر کیا گیا۔ اس کی لمبائی 123 میٹر اور چوڑائی 82 میٹر ہے۔ باغ کی روشیں چھوٹی اینٹ کی بنی ہوئی ہیں۔ یہ روشیں سبزہ زار کو مختلف حصوں میں تقسیم کیے ہوئے ہیں۔ جسے چہار باغ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس سبزہ زار کے وسط میں مربع شکل کا حوض ہے جس میں 32 فوارے لگے ہوئے ہیں۔ حوض کے درمیان میں سنگ مرمر کا چبوترہ ( مہتابی ) ہے اور شرقاً غرباً راہداری ہے۔
خوابگاہ جہانگیری و عجائب گھر:-
 اکبری محل کے شمالی جانب ایک بہت بڑی عمارت ہے جسے خوابگاہ جہانگیری کہتے ہیں۔ زمانہ قدیم میں یہاں پر جہانگیر بادشاہ آرام فرمایا کرتے تھے یہ عمارت دو چھوٹے کمروں اور ایک درمیانی بڑے ہال پر مشتمل ہے جب کہ سامنے جنوب کی طرف برآمدہ ہے۔ یہ عمارت 46 میٹر لمبی اور 18 میٹر چوڑی ہے۔ اس عمارت کا اندرونی حصہ پچی کاری، غالب کاری، منبت کاری اور جیومیٹریکل نقش و نگار سے آراستہ کی گئی ہے۔ اس عمارت کا ایک ہی دروازہ ہے جو درمیانی ہال سے برآمدے میں کُھلتا ہے
سہ دریاں:
 خواب گاہ جہانگیری کے مشرقی اور مغربی جانب دو سہ دریاں تھیں جن میں اس وقت مشرقی سہ دری باقی ہے۔ یہ سہ دری ایک کماندار چھت والا ( برج ) چھوٹا سا کمرہ ہے۔ جو جہانگیری دور کی تعمیر ہے۔ اس کی مشرقی جانب عہدِ مغلیہ کی عمارات کو انگریزی دور میں چرچ کی حیثیت حاصل تھی جو بعد میں ختم ہوگئی اس عمارت سے ایک زینہ منزل زیریں کی طرف جاتا ہے جہاں آج کل لیبارٹری ہے۔ اس سہ دری کے سامنے ایک چھوٹا سا حوض ہے جس میں فوارہ لگا ہوا ہے۔ اس عمارت کے تین دروازے اور دو چھتری نما گنبدیاں ہیں۔ درمیان میں کمان دار چھت اور چاروں طرف چھجہ ہے۔ یہ فنِ مصوری کے مختلف نمونوں سے مزین تھی جن کے نقوش اب تقریباً مٹ چکے ہیں۔
محل رانی جنداں و عجائب گھر:
 احاطہ جہانگیری کے جنوب مغربی طرف ایک بلند و بالا عمارت رانی جنداں کے محل کے نام سے مشہور ہے۔ رانی جنداں راجہ رنجیت سنگھ کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیوی تھی۔ راجہ نے اس کے لیے مغل بادشاہ جہانگیر کی تعمیر کردہ عمارت کے اوپر ایک اور منزل تعمیر کروائی اور اس عمارت کو اپنی بیوی کا محل قرار دے دیا۔ کافی عرصہ تک یہ عمارت رانی جنداں کی رہائش گاہ (محل ) کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔
 عجائب گھر ( آرمری گیلری ) اس عمارت کا نچلا حصہ جو کہ عہدِ جہانگیری کی تعمیر ہے۔ مختلف کمروں پر مشتمل ہے اس کا مشرقی حصہ عہدِ اکبری کی یاد تازہ کرتا ہے۔ اس وقت یہ پوری عمارت محکمہ آثارِقدیمہ نے عجائب گھر میں تبدیل کر رکھی ہے جسے آرمری گیلری کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گیلری چار کمروں پر مشتمل ہے جو کہ سکھ دور حکومت میں استعمال ہونے والے اسلحہ جات کے لیے مخصوص کی گئی ہے۔ اس گیلری کے ایک چھوٹے سے کمرے میں مختلف سکھ سرداروں کی تصاویر۔ رنجیت سنگھ کی بیوی کے سنگ مرمر کے ہاتھ وغیرہ کی نمائش کی گئی ہے۔ جب کہ اس کے ساتھ بڑے ہال میں پستول، تلواریں، توپیں، ڈھالیں، تیر کمان، لوہے کے گولے، فوجی سازوسامان اور بینڈ باجے وغیرہ کی نمائش کی گئی ہے۔ اس سے آگے ایک اور چھوٹا سا کمرہ ہے جس میں سکھ دورِ حکومت میں لڑی گئی لڑائیوں کی تصاویر دیوار پر آویزاں کی گئی ہیں۔ ان لڑائیوں میں چلیانوالہ لڑائی 1849ء، موڈکے 1843ء میں رام نگر 1848ء، گجرات 1849ء جب کہ سب سے آخر میں راجہ رنجیت سنگھ کی حنوط شدہ گھوڑی کی ایک بہت بڑے شو کیس میں نمائش کی گئی ہے۔ اس گھوڑی کے ماتھے، سینے اور دُم کو اصلی سونے کے زیور سے سجایا گیا ہے۔ جبکہ اس کے اوپر راجہ رنجیت سنگھ ہاتھ میں سونے کی چھتری لیے بیٹھا دکھایا گیا ہے۔ یہ چھتری سرخ کپڑے اور سونے کے تاروں سے مزین ہے۔ یہ چیزیں سکھ دورِ حکومت کی خوشحالی اور عظمت کی یاد تازہ کرتی ہیں۔
سکھ گیلری:
 اس عمارت کے اوپر والی منزل جو کہ رانی جنداں کی رہائش گاہ تھی۔ اور سکھ دور کی تعمیر ہے۔ اس خوبصورت ہال میں سکھ امراء شہزادوں اور سرداروں کی تصاویر کی نمائش کی گئی ہے جو “شہزادی بمبا کولیکشن“ کے نام سے مشہور ہے۔ ان کو حکومتِ پاکستان نے پیر کریم بخش سے مبلغ 50 ہزار روپے میں حاصل کیا اور محکمہ آثارِ قدیمہ نے ان کو محفوظ کیا۔ ان خوبصورت تصاویر میں 18 آئل پینٹنگ، 14 واٹر کلر، 22 پر ہاتھی دانت کا کیا ہوا کام، 17 فوٹو گراف، دس دھاتی چیزیں اور 7 مختلف فن پارے شامل ہیں۔
 ان تصاویر پر زیادہ تر کام یورپی فن کاروں نے کیا ہے۔ یہ تصاویر سکھ دورِحکومت کے فن کی بہترین عکاسی کرتی ہیں۔ ان تصاویر میں راجہ رنجیت سنگھ کا دربار خاص طور پر نمایاں ہے۔
موتی مسجد:
 برصغیر پاک و ہند میں اس وقت چار موتی مسجدیں ہیں جو اپنی بناوٹ، ساخت اور فن تعمیر کے لحاظ سے کافی مشابہت رکھتی ہیں مگر ان کے سن تعمیر میں فرق ہے۔ ان چار مساجد میں ایک گرہ میں ہے جسے شاہجہاں نے 1654ء میں تعمیر کروایا، دوسری 1659ء میں لال قلعہ دہلی میں اورنگ زیب عالمگیر نے تعمیر کروائی، تیسری مہرالی (دہلی کے قریب) شاہ عالم بہادر شاہ 12-1707ء میں قطب الدین بختیار کاکی کے مزار کے ساتھ بنوائی، چوتھی اور سب سے قدیم موتی مسجد شاہی قلعہ لاہور میں واقع ہے۔
 مکاتب خانہ کی مغربی دیوار سے متصل ایک خوبصورت ننھی سی مسجد ہے چونکہ یہ تمام کی تمام سنگ مر مر کی بنی ہوئی ہے اس لئے اس کو موتی مسجد کہتے ہیں۔ یہ مسجد عہد جہانگیری میں ایک مشہور انجینئر معمور خان کی زیر نگرانی جہانگیری محل کے بیرونی دروازے کے ساتھ 1618ء میں تعمیر ہوئی۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ یہ فن تعمیر کی مناسبت سے شاہ جہاں کے دور کی عمارت ہے۔ اور 1645ء میں تعمیر ہوئی۔ تاریخی حقیقت یہی ہے کہ اسے عہد جہانگیری کے ایک معمار نے مکاتب خانہ کے ساتھ ہی تعمیر کیا تھا۔ یہ پوری مسجد سفید سنگ مر مر کی بنی ہوئی ہے اس کے صحن کی لمبائی تقریباًً 5۔18 میٹر اور چوڑائی 5۔10 میٹر ہے اور 3۔2 میٹر اونچے پلیٹ فارم پر بنائی گئی ہے۔ جس کی پانچ محرابوں کو قوسی شکل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ درمیان میں مربع نما نفیس ستون ہیں۔ کمان دار چھت کے اوپر گول موتی نما تین گنبد ہیں۔ فرش پر کندہ کاری، نقش شدہ دیواریں، جیومیٹریکل ڈیزائن اور بیل بوٹے اس مسجد کی خوبصورتی کو چار چاند لگائے ہوئے ہیں۔ اس مسجد کے چاروں اطراف چار دیواری ہے جس کی شمال اور مشرقی دیوار میں حجرے ہیں جو امام مسجد اور طلباء کے رہنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ سکھ دور کی حکومت میں اس مسجد کا نام بدل کر “موتی مندر“ رکھ دیا گیا اور اس خوبصورت مسجد کو شاہی خزانہ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ اس کے مرکزی دروازہ کو مضبوط آہنی تختوں سے بند کر کے بڑے بڑے قفلوں سے سر بمہر کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے اس خوبصورت مسجد کے مذہبی تقدس اور ظاہری حسن کو کافی نقصان پہنچا۔ انگریز کے دور حکومت نے بھی اس روش کو جاری رکھا اور انتہائی بے توجہی اور مجرمانہ غفلت سے اس مسجد کی عظمت کو ٹیس پہنچائی آخر وائسرائے لارڈ کرزن کے احکامات پر اس مسجد کا تقدس از سر نو بحال کر دیا گیا۔
آپ نے لاہوریوں کا من پسند مقولہ یقیناً سنا ہوگا کہ لاہور لاہور ہے، یایہ کہ
"جنھے لاہور نئی ویکھیا او جمیا ای نئی"
 (مطلب جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوا۔)
مگر آپ کو یہ جان کر شاید تعجب ہو کہ امریکہ کی ریاست ورجینیا میں بھی ایک قصبہ لاہور کے نام سےموجود ہے۔ اس قصبے کانام کیسے پڑا، کس نے رکھا، اس کے پیچھے بڑی دل چسپ کہانی ہے۔
اور وہ کہانی کچھ یوں ہے کہ 1857ء کی جنگِ آزادی کی خبریں جب امریکہ پہنچیں اور لاہور کا نام بار بار سننے اور پڑھنے کو ملتا رہا، تو اس علاقے میں رہنے والے ایک خاندان کو، جو جیکسن خاندان کے نام سے جاناجاتا تھا، یہ نام بڑا پسند آیا۔ اور انہوں نے اپنے قصبے کا نام لاہور رکھ لیا۔
اگر کولمبس نے براعظم امریکہ دریافت کیا تھا تو اس امریکی لاہور کی دریافت کا سہرا نام ور صحافی اکمل علیمی صاحب کے سر ہے۔ یہ لاہور کے باسی رہے ہیں اور اب کافی عرصے سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ ایک دن اپنی گاڑی میں جاتے جاتے یہ کسی غلط موڑ پر مڑ گئے اور اب جو چلے ہیں تو اچانک سامنے لاہور کا سائن بورڈ نظر آگیا۔ پہلے تو انہیں اپنی بصارت پر شبہ ہوا کہ ابھی لمحہ بھر قبل تو امریکہ میں تھے، اب یک لخت داتا کی نگری میں کیسے جاپہنچے۔ گاڑی سے اترے اور ایک دو لوگوں سے بات چیت کی تو اس لاہور کا احوال معلوم ہوا۔
وائس آف امریکہ کے عمران صدیقی کو جب اس لاہور کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اس قریہٴ جاں فزا کا رخ کیا۔ انہیں اس قصبے کی سیر اور اس کے باسیوں سے بات چیت کے دوران کئی دل چسپ باتوں کا پتا چلا۔
مائیک جو پچھلے چھبیس برسوں سے لاہور میں مقیم ہیں، اور اس اعتبار سے پکے لاہوریےکہلائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شروع میں جب لوگ گاڑیوں میں لدے لدے یہاں آتے تھے اور قصبے کے سائن بورڈ کے سامنے کھڑے ہوکر تصویریں کھنچواتے تھے تو ان کو بڑی حیرت ہوتی تھی کہ آخر ماجرا کیا ہے۔
کافی عرصے بعد انہیں معلوم ہوا کہ دراصل اسی نام سے ایک شہر پاکستان میں بھی ہے اور یہ لوگ اس کی یاد میں یہاں آتے ہیں۔لاہور کا نام سن کر کشاں کشاں یہاں آنے والےزائرین کی والہانہ محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ایک دن ان میں سے کوئی زندہ دل قصبے کا سائن بورڈ ہی اکھاڑ کر لے گیا۔نورنغمی صاحب ورجینیا ہی میں آباد ہیں۔ان کی پیدائش لاہور کی ہے اس لیے اس نام کے قصبے سے ان کی رغبت فطری ہے۔ ان کا منصوبہ ہے کہ اس لاہور میں زمین خرید کر یہاں ایک ’منی لاہور‘قائم کریں۔
انہوں نے ایک دل چسپ بات یہ سنائی کہ کئی دفعہ ایسا بھی ہواہے کہ امریکہ میں رہنے والے کسی شخص نے
 پاکستانی لاہور کے پتے پر خط لکھا لیکن ملک کا نام لکھنا بھول گیا، اور وہ خط سیدھا اس لاہور کے ڈاک خانے میں پہنچ گیا۔ یہاں کے رہنے والے ایسے لفافوں پر پاکستان لکھ کر دوبارہ ڈاک خانے کے حوالے کردیتے ہیں۔اگر نور نغمی صاحب کاامریکی لاہور میں پاکستانی لاہورکی رونقیں آبادکرنے کا منصوبہ پایہٴ تکمیل تک پہنچ جائے تو واشنگٹن ڈی سی اور ورجینیا میں اتنے پاکستانی شہری آباد ہیں کہ شہرِ لاہور کی گلیوں کی ہوا امریکی فضاؤں میں بھی مہک سکتی ہے۔ (بشکریہ وائس آف امریکہ)
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

محمد شاہ رنگیلا کانام تو ہر سوجھ بوجھ رکھنے والے شخص نے سن رکھا ہو گا مگر صرف نام ،بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ کون تھا ،اس کا اصل نام کیا تھا اور تاریخ میں یہ محمد شاہ رنگیلا کے نام سے کیوں مشہور ہے،تو جناب یہ صاحب کوئی چھوٹا موٹا کردار نہیں اپنے وقت میں ہندوستان کا بڑا نامور بادشاہ تھا ،اس کا اصل نام روشن اختر تھا،وہ شاہ جہاں اختر کا بیٹا تھااور شہنشاہ عالم بہادر شاہ اول کا پوتا تھا،یہ 17ستمبر 9 171کوتخت نشین ہوا، یہ مغل سلطنت کا چودھواں بادشاہ تھا۔ اس نے بادشاہ بننے کے بعد اپنے لیے ناصر الدین شاہ کا لقب پسند کیا مگر تاریخ میں یہ محمد شاہ رنگیلا کے نام سے مشہور ہے، آپ اس کی شہنشاہانہ طبیعت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس نے اپنے دور میں اپنے سب سے پسندیدہ گھوڑے کو بھی وزیر کا درجہ دے دیا تھا اور یہ گھوڑا شاہی دربار خلعت فاخرہ پہن کر شریک ہوتا وزیروں کے ساتھ کھڑا ہوتا اور ایک وزیر کا پورا پروٹوکول انجوائے کرتا، اور گھوڑے کو وزارت عطا کرنے والا یہ غالباً پہلا اور آخری شخص تھا، محمد شاہ رنگیلا ایک دن ایک قانون بناتا اگلے دن خود سب سے پہلے اس کی پامالی کرتا اور اسے فی الفور ختم کر دیتا،دن رات شراب پیتا اور بعض اوقات تو طوائفوں اور خوبصورت عورتو ں کو لٹا کر ان کے اوپر بیٹھ کر دربار کی سر پرستی فرماتا،کبھی زنانہ کپڑوں میں ملبوس ہو کر تمام امراء وزراءاور روﺅسا کو بھی لیڈیز لباس زیب تن کرنے کا حکم دیتا اور یہ تمام واہ واہ کرتے ہوئے ہر حکم من و عن بجا لاتے،کسی میں بھی کسی بھی قسم کے ا نکار کی رتی بھر بھی گنجائش نہیں تھی،یہ اپنے قاضی کو شراب سے وضو کرنے کا حکم دیتا اور نظریہ ضرورت کا مارا قاضی ایک منٹ کی بھی دیر نہ لگاتا،اس کا حکم تھا کہ ملک بھر کی تمام خوبصورت عورتیں اس کی ملکیت اور امانت ہیں اور جو بھی اس امانت میں خیانت کرتا اور اس کا علم رنگیلے کو ہو جاتا تو وہ اسی وقت قابل گردن زنی قرار پاتا،روازانہ ایک حکم پر سینکڑوں قیدیوں کو جیل سے رہا کرنے کا حکم دیتا ساتھ ہی جیلر کو گنتی پوری کرنے کا حکم دیتا ،نتیجتاً جیلر اتنے ہی بے گناہ افراد پکڑ کر جیل میں بند کر دیتا،یہ شراب پی پی کر اپنے گردے جگر،اور اپنے جسم کا پورا نظام تباہ کر بیٹھا اور یہ رنگیلا ترین شہنشاہ26اپریل1748کو انتقال کر گیا،اس نے لگ بھگ 29 برس حکمرانی کی اور تاریخ میں اپنا نام ایک غلیظ کردار کے نام پر لکھوا کر اس دار فانی سے کو چ کر گیا-
 اسی رنگیلا شاہ کے دور میں نادر شاہ درانی نے دلی میں بد ترین قتل عام کے بعد ، جب دلی فتح کر لیا تو مفتوح بادشاہ محمد شاہ رنگیلا نے شاہی محل میں فاتح بادشاہ کا گرم جوشی سے استقبال کیا ۔ کہتے ہیں کہ نادر شاہ درانی نے دلی کے اس قتل عام کا حکم صرف ایک لفظ کہہ کر دیا تھا اور وہ لفظ تھا ’’بزن ‘‘ فارسی کا یہ لفظ انگریزی کے لفظ BEGIN کا ہم وزن ہے، جس کا مطلب ہے شروع کرو یا شروع ہو جاؤ۔ جب ایرانی لشکر کے گھوڑوں کی سُمیں خون سے سرخ ہو گئیں، تو نادر شاہ فاتح کی حیثیت سے شاہی محل میں داخل ہوا اور محمد شاہ رنگیلے کی جانب سے خود کو ملنے والی اس شاندار مہمان نوازی پر حیران رہ گیا۔
 لوگوں نے دیکھا کہ محمد شاہ رنگیلے نے اسے اپنے تخت پر ساتھ بٹھا لیا ۔ گویا ایک نیام میں دو تلواریں سما گئیں تھیں۔ فاتح بادشاہ نے مفتوح بادشاہ کے تخت پر اس کے ساتھ بیٹھنے کے بعد اپنی شرائط منوانا شروع کیں۔ محمد شاہ رنگیلا نے اپنا مشہور و معروف خاندانی ہیرا کوہ نور اپنی پگڑی میں چھپا لیا تھا۔ نادر شاہ کو اس کی اطلاع پہلے ہی مل چکی تھی کہ ہیرا کہاں ہے؟ کیونکہ مخبر کب اور کہاں نہیں ہوتے؟ اس زمانے میں بھی موجود تھے۔ نادر شاہ نے تخت پر بیٹھتے ہی محمد شاہ رنگیلا کو اپنا منہ بولا بھائی بنا لیا اور بولا ’’جس طرح عورتیں دوپٹہ بدل کر آپس میں بہنیں بن جاتی ہیں، کیوں نا ہم دونوں بھی پگڑی بدل کر آپس میں بھائی بن جائیں‘‘؟ یہ کہہ کر نادر شاہ نے محمد شاہ کی پگڑی اتار کر اپنے سر پر رکھ لی اور اپنی پگڑی محمد شاہ کے سر پر سجا دی ۔ اس طرح کوہ نور ہیرا بڑی صفائی کے ساتھ نادر شاہ کی تحویل میں پہنچ گیا۔ نا اہل اور مفتوح مغل بادشاہ اپنی کمزوری پر پیج و تاب کھا کر رہ گیا، لیکن کچھ کہہ نہ سکا
’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘
 جنگ کے تاوان کے علاوہ نادر شاہ وہ تاریخی تخت طاؤس بھی اپنے ساتھ ایران لے گیا جو محمد شاہ کے جد امجد شاہ جہاں نے بڑے چاؤ سے بنوایا تھا۔ ان سب کے علاوہ اب فاتح بادشاہ نے مطالبہ کیا کہ محمد شاہ رنگیلا اپنی بیٹی کا نکاح نادر شاہ کے بیٹے سے پڑھوا دے تا کہ دونوں ’’بھائیوں‘‘ کے درمیان یہ رشتہ مزید مضبوط ہو جائے۔ چونکہ مفتوح کے پاس فاتح کی بات ماننے کے سوا دوسرا کوئی آپشن ہی نہیں ہوتا لہذا نکاح کی تقریب کے لیے پنڈال سجا دیا گیا۔ محمد شاہ رنگیلا بہرحال ایک خاندانی بادشاہ تھا۔ اہلیت اور نا اہلیت سے قطع نظر بادشاہت اس کے خاندان میں پشتوں سے چلی آ رہی تھی ، جب کہ نادر شاہ درانی ایک چرواہے کا بیٹا تھا، ( ایک روایت کے مطابق موچی کا بیٹا تھا) جس نے اپنے زور بازو سے یہ بادشاہت حاصل کی تھی۔ محمد شاہ کے کسی ہمدرد نے اس کے کان میں یہ ’’جڑ‘‘ دیا کہ نکاح کے وقت نادر شاہ سے اس کے خاندانی شجرے کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں، اس طرح اسے کم سے کم زبانی طور پر ہی سہی ذلیل کرنے کا ایک موقع تو حاصل ہو ہی جائے گا۔ لہذا جب نکاح کی تقریب شروع ہوئی تو رواج کے مطابق دلہن کے والد نے اپنا نام لکھوا کر اپنا شجرہ سنانا شروع کر دیا اور اس خاندانی نسب نامے کو اکبر اعظم سے ظہیر الدین بابر تک، بابر سے امیر تیمور تک اور امیر تیمور سے چنگیز خان تک بیان کرتا چلا گیا۔ اب نادر شاہ درانی کی باری آئی اور دولہا کا جب شجرہ یا حسب نسب پوچھا گیا تو نادر شاہ نے دولہا کا نام لکھوا کر ولدیت میں اپنا نام لکھوایا پھر وہ پنڈال میں یکایک کھڑا ہو گیا اور اپنی تلوار سونت کر بولا ’’ لکھو! ابن شمشیر، بن شمشیر، بن شمشیر اور جہاں تک چاہو لکھتے چلے جاؤ۔‘‘
زیر نظر پینٹنگ سلطنت عثمانیہ کے ایک حرم کی منظر کشی ہے جہاں ایک شہزادہ خوبصورت کنیزوں کے ساتھ داد عیش دے رہا ہے۔ 
سلطنت عثمانیہ یا خلافت عثمانیہ 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔ سلطنت عثمانیہ کے دور میں مملکت کو شہزادوں کی بغاوت سے بچانے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ بہترین حرم تیار کئے گئے جہاں خوبصورت ترین دوشیزائیں اور طرح دار کنیزیں اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ موجود ہوتی تھیں۔ راگ رقص و موسیقی اور شراب و شباب سے بھرپور ان حرموں میں شہزادوں کی زندگے گزر جاتی تھی۔
قارئین کو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ عثمانی سلاطین کے دور می شہزادوں کے حرم میں زندگی گزارنے کا سب سے بڑا مقصد یہ ہوتا تھا کہ ان کو اقتدار سے دور رکھا جائے اسطرح وہ حرم کی رنگینیوں میں اس قدر گم ہوجائیں کہ ان کو بغاوت اور اقتدار پر قبضہ کرنے کا خیال تک نہ آئے - ان شہزادوں کو امور مملکت سے دور رکھا جاتا۔ پچھلے سلاطین نے شہزادوں کو بے دریغ قتل کرنے کی روایت قائم کی تھی - مگر اس کے بعد شہزادوں کو حرم کی زندگی تک محدود کرکے رکھ دیا جاتا تھا۔
 کچھ تاریخ دانوں نے سلطنت عثمانیہ کے حرم کے بارے میں بالکل مختلف رائے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان حرام سے منسوب تمام تر غلط داستانیں یورپ کو پروپیگنڈہ تھا۔ اس قسم کے فحش واقعات نہ صرف شاہی حرم سرا میں پیش نہیں آئے،بلکہ مالدار طبقے کے حرم سرا بھی ان سے محفوظ رہے ہیں،کیونکہ ہمارے ہاں حرم سرا نہ صرف پاکدامنی اور پاکیزگی کا نمونہ ہے،بلکہ وہ ہمارے ہاں عورت کے خصوصی مقام و مرتبے کی عکاسی بھی کرتاہے۔ہماری تاریخ کی خوبیوں کا انکار کرنے والوں نے ہمیں اپنی تاریخ کے درخشاں پہلوؤں کو دیکھنے سے محروم کر رکھا ہے۔درحقیقت عورتوں اور مردوں کی اجتماع گاہیں جدا رکھنا اور انہیں ناجائز میل جول کی اجازت نہ دینا مرد اور عورت میں موجود ضعف کے نتیجے میں توازن قائم کرنے کی ایک کوشش ہے۔حرم سرا نہ صرف تقدس و حرمت کی حامل جگہ تھی،بلکہ وہ خاندانی فساد اور نسبوں کے اختلاط کی راہ میں رکاوٹ اور ترکی کی اسلامی روایات کے حسن و جمال کا مظہر تھا۔
‎حرم سرا ایسا گلدستہ ہے،جس سے پھولوں کی مہک اور اخلاق واقدار کی خوشبو پھوٹتی ہے۔ہمارے ہاں خوابگاہ کی خصوصی حیثیت ہوتی ہے،کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں نسب کا تعین اور اس کی حفاظت ہوتی ہے اور جہاں پوری رازداری اور خصوصیت کے ساتھ خاندان کی داغ بیل پڑتی ہے،یہی وجہ ہے کہ اسے مہمانوں کے لیے کھولا جاتا ہے اور نہ ہی یہاں کسی کو بلایا جاتا ہے،نہ صرف اجنبی بلکہ خاندان کے دوسرے افرد بھی جب چاہیں وہاں نہیں جا سکتے۔خوابگاہ کو اس قدر رازداری (Privacy) حاصل ہوتی ہے کہ ہمیں تربیت دی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص ہماری تکریم کی خاطرہمیں سونے کے لیے اپنی خوابگاہ پیش کرے تو ہم اس کی دعوت کو قبول نہ کریں۔خوابگاہ بھی دوسرے کمروں کی طرح ایک سادہ سا کمرہ ہوتا ہے،لیکن اس کے باوجود اس قدر رازداری برتنے میں کیا راز ہے؟ہمارے ہاں ہر چیز کا رنگ مختلف ہے۔ہم چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی آداب کا خیال رکھتے ہیں۔اس لحاظ سے حرم سرا صرف عثمانیوں کا ہی امتیاز نہیں،بلکہ ہم میں سے ہر ایک کے گھرمیں حرم سرا ہے۔جو لوگ اس بارے میں اپنے آباء واجداد پر تنقیدکرتے ہیں وہ دراصل اپنے اوپر تنقید کر رہے ہوتے ہیں۔
‎عثمانیوں کے ہاں حرم سرا کو اور بھی زیادہ رازداری (Privacy) حاصل ہوتی تھی اور ہر کسی کو حرم سرا میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔جیساکہ بعض محلات میں دیکھا گیا ہے حرم سرا کے گرد اونچی اونچی دیواریں کھڑی کی جاتی تھیں،مثلاً توپ کاپے کے محل میں حرم سرا کے حصے کو باقی محل سے جدا رکھنے میں بڑی احتیاط برتی گئی ہے، جہاں محل کی خواتین اور کنیزیں باغیچوں اور باغات میں شرعی حدود میں رہتے ہوئے سیر و تفریح اور آرام کرتی تھیں۔اس بندوبست سے خواتین اور کنیزوں کی کسی نامناسب چیز پر نظر پڑنے سے حفاظت کرنا مقصود ہوتا تھا۔ان خواتین اور کنیزوں کی عام زندگی اور سیر و تفریح شریعت کی حدود میں ہوتی تھی۔وہ باہر جھانکتیں تھیں اور نہ ہی ان کی نظر اپنے خاوندوں اور محرموں کے سوا کسی پر پڑتی تھی۔
‎دراصل محل سے وابستہ مرد بھی ایسی ہی زندگی بسر کرتے تھے اور یہ تمام پابندیاں ان پر بھی عائد تھیں۔ان کی زندگی بھی دیواروں کے پیچھے گزرتی اور وہ صرف حلال تفریح سے محظوظ ہوتے تھے۔اگر یہ زندگی محل کی قید سے عبارت ہے تو مرد بھی اس قید میں برابر کے شریک تھے۔اگر لوگ اس بات پر تنقید کرتے ہیں تو میرے خیال میں وہ ایسی چیز پر تنقید کر تے ہیں،جس کا انہیں علم ہی نہیں،تاہم اگر اس تنقید کا رخ محل میں خواتین کی کثرت کی طرف ہے تو اس کا جواب قدرے تفصیل طلب ہے۔
‎یہ درست ہے کہ بعض عثمانی سلاطین کی دو دو یا تین تین بیویاں تھیں،لیکن اس کے خلاف ہم کچھ کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی ہمیں اس کی ضرورت ہے۔مغرب،اس کے نظریات اور آراء معیار ہیں اور نہ ہی سب کچھ ہیں۔ایک دور تھا جب اہل مغرب مختلف انداز سے سوچتے تھے۔آج وہ تعددِازواج پر اعتراض کرتے ہیں۔ہو سکتا ہے کل وہ آج کے طرزِفکر پر تنقید کرنے لگیں۔

ایک دن بہادرشاہ ظفر کے ساتھ مغل بادشاہ کے آنکھوں دیکھے شب وروز بادشاہ کیسی زندگی گزارتے تھے!
 مغلوں کے کھانے اور ان کے نام.
اورنگ زیب عالمگیر کے بعد سے مغلوں کے اقتدار کو گُھن تو لگنا شروع ہو گیا لیکن وضع داریاں باقی تھیں، اچھی بری رسمیں جاری تھیں، جو بہادر شاہ ظفر نے آخردم تک نبھائیں اور رعایا کے دل میں بادشاہ کی محبت بھی آخر دم تک جاری رہی۔ وضع داری کی بات میں نہیں کہتا۔ چشم دید گواہ کہتے ہیں کہ جہاں پناہ کے معمولات میں فرق نہ آیا۔ ادھر صبح کی توپ چلی، ادھر بادشاہ بیدار ہوئے، غسل خانے گئے۔
 جہاں جونپوری کھلی، خوشبو دار بیسن، چنبیلی، شبو، بیلا، جوہی، گلاب کے تیل سے بھری بوتلیں، چاندی، سونے کے جگ، جگمگ کرتے لوٹے لٹیاں رکھی ہیں۔ غسل کیا، لباسی محل گئے، رستم بیگ سردار، نے لکھنو کی چکن کا کرتہ، لٹھے کا ایک برکا پائے جامہ، دلّی کا کمر بند پیش کیا، مخملی کفش پائیاں( مخملی جوتیاں) پہنیں، شمیم خانے کے داروغہ نے سر میں تیل ڈالا، کنگھی کی۔ پھر کچھ دیر گلگشت( چہل قدمی) کیا تسبیح خانے میں تشریف لائے۔ ۲ رکعت نفل پڑھے۔
 ایوانِ خلعت میں مہتمم ادویات نے حکیم احسن اللہ کی دستخطی سر بہ مُہرشیشی کی مُہر توڑی اور یاقوتی ( طب مشرق کی ایک دوا جو دل و دماغ کی فرحت کے لئے کھائ جاتی ہے) کی پیالی پیش کی۔ اسے پی کر چنوں سے منہ صاف کیا( یعنی دوا سے منہ کا خراب ذائقہ بدلنے کے لئے بھنے ہوئے چنے چبائےحالانکہ یاقوتی بہت خوشذائقہ ہوتی ہے) ۔ اے لیجئے۔ ۱۰ بج گئے افسرانِ محکمہ کاغذات اور مسلیں لے کر حاضر ہوئے، ان پر احکام عالی کیے، سرمہ کے قلم سے دستخط ثبت ہوئے۔ ۱۱ بجتے بجتے کام ختم کر کے جہاں پناہ محل کی طرف تشریف لے گئے۔ جسولنی( وہ عورتیں جو شاہی محل میں خبر پہنچاتی ہیں۔ چوبدارنی) نے آواز لگائی۔
 ’’پیر و مرشد! حضور عالی، بادشاہ سلامت، عمر دراز، ظل سبحانی تشریف لاتے ہیں۔ زنانے میں معلوم ہو گیا۔ بیگمات اور شہزادیاں سر و قد کھڑی ہو گئیں۔ بادشاہ سلامت نے انہیں دیکھا، مسکرائے، کشمیری داروغہ نے کسنو کی مہر توڑی، بھنڈا (حقہ) تیار کیا۔ بادشاہ نے نوش کیا اور محل والیوں سے کچھ دیر باتیں کیں۔ خادمہ مہتاب نے عرض کیا ’’دستر خوان تیار ہے۔‘‘ حکم ہوا ’’اچھا، لیجئے صاحب! خاصے والیوں نے پھرتی سے ۷ گز لمبا، ۳ گز چوڑا، چمڑے کا ٹکڑا بچھایا۔ اس کے اوپر لمبی سی چوکی، اس پر پھر چمڑا پھیلایا، اس کے اوپر دستر خوان، کھانا چنا جا رہا ہے۔
لین ڈوری لگی ہے۔ ۲۰، ۲۲ قسم کی روٹیاں، چپاتیاں، پھلکے، پراٹھے، ۲۲ ۲۳۳ قسم کے چاول، پلائو، بریانی مز عفر، نرگسی کوفتے،شولہ کھچڑی وغیرہ۔ قورمے آئے تو وہ بھی درجنوں قسم کے مرغ، مچھلی، ہرن کے کباب، مٹھائیاں، جن کے نام بھی اب صرف کتابوں میں رہ گئے ہیں مثلاً دُرّ بہشت اور موتی پاک۔ مشک زعفران اور کیوڑے کی خوشبو سے فضا مہک اٹھی...
کھانوں کے نام:
 چپاتیاں، پھلکے، پراٹھے، روغنی روٹی، برہی روٹی( دال یا بھرتہ بھری روٹی) ، بیسنی روٹی، خمیری روٹی، نان، شیرمال، گائودیدہ، گائو زبان، قلچہ، باقر خانی، غوصی روٹی ( کیک یا پیسٹری نما روٹی) ، بادام کی روٹی، پستے کی روٹی، چاول کی روٹی، گاجر کی روٹی، مصری کی روٹی، نان پنبہ( ایک قسم کی ولایتی روٹی، میدے کی بنی نرم ڈبل روٹی جو دلی کے آخری بادشاہ اور امراء و نوابین کے کھانوں میں شامل تھی) ۔ ، نان گلزار( ایک قسم کی ولایتی روٹی، پھول یا ستارے کی شکل کی بنی ہوئی روٹی)
 ، نان قماش ( ایک قسم کی روٹی جو بہت باریک اور خستہ ہوتی ہے) ۔، بادام کی نان ختائ، پستے کی نان ختائ، چھوارے کی نان ختائ، یخنی پلائو، موتی پلائو، نور محل پلائو، نکتی پلائو، فالسائ پلائو، آبی پلائو، سنہری پلائو،روپہلی پلائو، بیضہ پلائو، انناس پلائو، کوفتہ پلائو، بریانی پلائو، چلائو( مختلف سبزیوں کا پلائو جیسے کہ مٹر چلائو، ) ، سارے بکرے کا پلائو، بونٹ پلائو( هرے چنوں کو پلائو) ، شولہ( گوشت آمیز کھچڑی) ، کھچڑی، کشمش پلائو، نرکسی پلائو، زمردی پلائو، لال پلائو، مزعفر پلائو، قبولی، تاہری، متنجن، زردہ، مزعفر ( زعفران کی آمیزش والی سویاں ) ، سویاں، من و سلوی، فرنی ، کھیر، بادام کی گھیر، کدو کی کھیر، گاجر کی کھیر، کنگنی کی کھیر، یاقوتی، نمش، دودھ کا دلمہ، بادام کا دلمہ، سموسے سلونے میٹھے، شاخین، کھجلے، قتلمے، قورمہ، قلیہ ( گوشت کا بھنا سالن جس میں خشخاش لازمی جز ہوتی ہے)، دوپیازہ، ہرن کا قورمہ، مرغ کا قورمہ، مچھلی، بورانی( یہ ایک افغانی ڈش ہے جو کدو ، پنیر، کھٹی کریم اور پودینے سے بنائ جاتی ہے، ایران اور افغانستان میں مقبول عام ہے) ، رائتہ،دوغ( دہی کا پتلا لسی نما رائتہ) کھیرے کی دوغ، ککڑی کی دوغ، پنیر کی چٹنی، سمنی، آش، دہی بڑے، بینگن کا بھرتا، آلو کا بھرتا، چنے کی دال کا بھرتہ, ( دلمہ جنوبی بھارت کی ڈش ہے جس میں مختلف دالوں اور سبزیوں کا ملا کر سالن بنایا جاتا ہے۔ گوشت سے پرہیز کرنے والے ہندو کا روزانہ کا کھاجا ہے) آلو کا دلمہ، بینگن کا دلمہ،کریلوں کا دلمہ، بادشاہ پسند دال، بادشاہ پسند کریلے، سیخ کے کباب، شامی کباب، گولیوں کے کباب، تیتر کے کباب، بٹیر کے کباب، نکتی کباب، نورات کے کباب، ختائ کباب، حسینی کباب، روٹی کا حلوہ، گاجر کا حلوہ، کدو کا حلوہ، ملائ کا حلوہ، پستے کا حلوہ، رنگترے کا حلوہ، آم کا مربہ، سیب کا مربہ، بہی کا مربہ، ترنج کا مربہ، کریلے کا مربہ، رنگترے کا مربہ، لیموں کا مربہ، انناس کا مربہ، گڑھل کا مربہ، بادام کا مربہ، ککروندے کا مربہ، بانس کا مربہ، ان ہی سب قسموں کے اچار، بادام کے نقل، پستے کے نقل، سونف کے نقل، خشخاش کے نقل، مٹھائ کے رنگترے، شریفے، جامنیں امرود ، انار پھل وغیرہ اپنے اپنے موسم میں ۔۔۔۔۔ گیہوں کی بالیں مٹھائ کی بنی ہوئ، حلوہ سوہن گری کا، پپڑی کا، گوندے کا، حبشی، لڈو موتی چور کے، بادام کے، پستے کے، ملائ کے، لوزات بادام کی، مونگ کی، پستے کی، ملائ کی، (لوزات قتلیوں والے حلوے کو کہتے ہیں)، پیٹھے کی مٹھائ، پستہ مغزی، امرتی، جلیبی، پھینی، برفی، قلاقند، موتی پاک( ناریل سے بنی مٹھائ پاک کہلاتی ہے) ، در بہشت، بالو شاہی، اندرسے کی گولیاں، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب چیزیں قابوں ، طشتریوں، رکابیوں، پیالوں پیالیوں میں قرینے سے چنی گئیں۔ بیچ میں سفلدان( ایک برتن جو دسترخوان پر رکھا جاتا ہے جس میں ہڈیاں وغیرہ ڈالی جاتی ہیں) رکھ دئیے گئے، اوپر نعمت خانہ کھڑا کردیا تاکہ مکھیاں وغیرہ تنگ نہ کریں، مشک ، زعفران کیوڑے کی مہک سے مکان مہک رہا ہے، دستر خوان چاندی کے ورقوں سے جگمگا رہا ہے۔ چلمچی ( بڑا کٹورے نما برتن جس میں ہاتھ دھوئے جاتے ہیں، آفتابہ ( لوٹا)، بیسندانی، چنبیلی کی کھلی، صندل کی ٹکیوں کی ڈبیاں ایک طرف زیر انداز پر لگی ہوئ،
بادشاہ کے دائیں طرف ملکہ وہ بیگمات اور بائیں طرف شہزادے شہزادیاں۔
 رومال خانے والیوں نے زانوپوش گھٹنوں پر ڈال دئیے، دست پاک آگے رکھدئے۔ ہر خاصہ مہر بند، داروغہ خاصے کی مہر بادشاہ کے سامنے توڑتا اور بادشاہ کو پیش کرتا۔ بادشاہ سمیت سب آلتی پالتی مارکے نظریں جھکائے بیٹھے ہیں۔
، آج کل کھانے والے صرف ایک نیپکن رکھتے ہیں۔ یہاں زانو پوش، دست پاک، بینی پاک لیے رومال خانے والیاں کھڑی ہیں بادشاہ نے کسی کو
 اُلش( اپنا جھوٹا یا چھوڑا ہوا کھانا) مرحمت فرمایا تو اس نے سرو قد کھڑے ہو کر آداب کیا۔ کھانے کے بعد دعا مانگی گئی۔ بیسن، کھلی اور صندل کی ٹکیوں سے ہاتھ دھلائے گئے۔
بھِنڈا نوش کیا گیا۔ دوپہر کی نوبت بجی، بادشاہ خواب گاہ میں تشریف لے گئے۔ پلنگ خانے والیوں نے پلنگ پوش، تکیے ، گائو تکئے، دلائ اور پائنتی لگا کر پلنگ تیار کیا۔ بادشاہ خواب گاہ میں آئے، بھنڈا نوش کیا، کوئ گھنٹے بھر بعد آب حیات مانگا۔ آبدار خانے کے داروغہ نے گنگا کا پانی جو صراحیوں میں بھرا برف لگا ہے جھٹ ایک توڑ کی صراحی نکال مہر لگا کر گیلی صافی میں لپیٹ کر خوجے کے حوالے کی۔ اس نے بادشاہ کے سامنے مہر توڑی اور چاندی کے برتن میں پانی نکال کر پیش کیا۔ بادشاہ کے پانی پیتے وقت سب ادب سے کھڑے ہو گئے۔ اس کے بعد سب مجرا( جھک کر سلام کرنا) بجا لائے۔ ایلو وہ دوپہر بجی ( دن کے بارہ بجے) بادشاہ پلنگ پر دراز ہوگئے۔ خوابگاہ کے پردے گرادئیے گئے۔ مٹھی چاپی والیاں( مساج مالش کرنے والی خادمائیں) آ بیٹھیں۔ ایسی چپ طاری ہو گئی کہ مجال کوئ ہونہہ بھی کر سکے۔ لو اب ڈیڑھ پہر باقی رہ گیا ہے۔ بادشاہ بیدار ہوئے، وضو کیا، ظہر کی نماز ادا کی، کچھ لوگوں کی عرغ و معروض سنی، کچھ بات چیت کی کہ اتنے عصر کا وقت ہوگیا۔ عصر کی نماز پڑھی، وظیفہ پڑھا، ( شکر ہے کی مغلوں کے آخری دور تک چائے کا رواج عام نہ ہوا تھا ورنہ بعد عصر بادشاہ سلامت کی چائے کے ساتھ بھی جانے کون کون سے انواع اقسام کے لوازمات پیش کئے جاتے!!) اس کے بعد جسولنیوں نے عرض کیا کہ عملہ خاص حاضر ہے۔ یہ سن کر بادشاہ جھروکے میں آ بیٹھے۔ جسولنی نے سب کو خبردار کیا، سپاہیوں نے سلامی اتاری، امیر امرا ء جھروکے کے نیچے بادشاہ کے دیدار کو آ کھڑے ہوئے۔ مغرب کی اذان پر بادشاہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ مغرب کی نماز پڑھی، وظیفہ پڑھا۔ اتنے جھروکے کے نیچے کھڑے سپاہیوں نے دردیان( شام کے وقت بجایا جانے والا باجا) بجانا شروع کیا۔ نقار خانے میں نوبت( نقارہ) بجنا شروع ہوئ۔
 لو جی رات ہوئ، مشعلچیوں نے روشنی کی تیاری کی، جھاڑ فانوس، فلتیل سوز ( تیل میں فلیتہ جلانے والے چراغ) یک شاخی، دو ساخی، سہ شاخی اور پنج شاخی روشن کئے گئے۔ پنچیاں ، مشعل اور لالٹینیں روشن ہوئیں۔ چار گھڑی رات آئ۔ روشن چوکی کا گشت شروع ہوا۔ طبلہ نفیری ساتھ بجتی ہوئ۔ مشعل بردار ساتھ ساتھ۔ دیوان عام اور اور دیوان خاص سے ہوتا ہوا جھروکوں کے نیچے آیا۔ عشاء کا وقت ہوا۔ نماز وظیفے سے فارغ ہوئے تو ناچ گانے کی تیاری شروع ہوئ۔ تان رس خان چوکی کے طائفے حاضر ہوئے۔ قناتوں کے پیچھے سازندے طبلہ، سارنگی تال کی جوڑی بجا رہے ہیں، ناچنے والی بادشاہ کے سامنے ناچ رہی ہے۔ وہ ڈیڑھ پہر رات کی توپ چلی. دھائیں۔ پھر اسی طرح خاصے کی تیاری ہوئی۔ خاصہ کھایا، بھنڈا نوش کیا۔ وہی ایک گھنٹے بعد آب حیات طلب کیا۔آدھے رات کی نوبت بجی۔ آرام فرمانے لیٹ گئے۔ پھر وہی مٹھی چاپیاں والی۔ داستان گو حاضر ہوئے۔داستان ہونے لگی۔ حبشنیاں، ترکنیاں، قلمقانیاں پلنگ کے پہرے کو آ موجود ہوئیں۔ حبشی، قلار( عصا بردار جو بادشاہ کی سواری کے آگے چلتے تھے) ، پیادے اور دربان ڈیوڑھیوں میں اپنی اپنی جگہ ایستادہ ہوگئے۔حکیم، طبیب خواص اپنی اپنی چوکی میں حاضر ہوئے۔ صبح ہوئ۔
حوالہ:
یہ خلاصہ منشی فیاض الدین کی کتاب بزم آخر سے لیا گیا ہے جو کہ 19200 میں شائع ہوئی تھی۔ شروع کے دو پیرا گراف ظفر شوق رنگ سے بھی لئے گئے جو دراصل بزم آخر ہی سے اخذ کردہ ہے۔ منشی فیاض الدین صاحب مرزا محمد ہدایت افزا عرف مرزا الہی بخش کے ملازم تھے۔ شہزادہ الہی بخش نے اپنا بچپن و جوانی قلعہ معلہ میں گزرا۔ انہوں نے ہی منشی صاحب کو قلعہ کی زندگی کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا جسے منشی صاحب نے جوں کا توں قلمبند کردیا۔ اصل کتاب زرا نستعلیق اردو اور فارسی کے الفاظ پر مشتمل ہے اس لئے میں نے اس مضمون کو سادہ زبان میں تحریر کیا ہے اور جہاں جہاں ضرورت محسوس کی نامانوس الفاظ کے معنی بھی دے دئے ہیں...آپ کے کمنٹس کا انتظار رہے گا۔ شکریہ۔
روس کی افغانستان میں شکست کے بعد اگلہ مرحلہ،
امریکہ نے عرب اور افریقی مسلم ممالک میں روسی بلاک یا روس نواز ممالک میں قیادتوں کی تبدیلی کا فیصلہ کیا، اور اپنے جمہوریت پسند حکمران لانے کا پلان ترتیب دیا گیا، نام اسے نیو ورلڈ آڈر کا دیا،
سوڈان کے ذریعہ اسلحہ گاڑیاں دیگر ضروریات اور افرادی قوت اخوان المسلمین کی استعمال ہوئیں، اور اخوان کے اہل علم نے راہ شریعت عطا کی،
سب سے پہلے تیونس اور پهر مصر کو ٹارگٹ کیا گیا، تیونس اور مصر غریب ممالک میں سے ہیں، اور ان ممالک میں اخوان المسلمین کا اثر رسوخ کافی مضبوط بهی ہے، نعرہ دیا گیا کہ بادشاہت ختم کرنا ہے اس لیے کہ یہ بادشاہتیں ظلم پر قائم ہیں اور انہیں ہٹا کر شریعت کا نظام لانا ہے وغیرہ، یہ نعرہ وہاں بہت مقبول ہوا، اخوانیوں نے مسلسل یہ پراپیگنڈا کیا کہ ان ممالک کے سربراہ دین دشمن ہیں حالانکہ اصل وجہ امریکی مفادات تھے، یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ لیبیا اور مصر دونوں کے روس کے ساتھ تعلقات بنسبت امریکہ کے زیادہ اچھے تھے، اس لئے انہیں روسی بلاک بھی سمجھا جاتا تها، جنوبی ایشیا کی جنگ کمیونزم کے خلاف تھی، وہ جنگ روس کی شکست کے بعد ختم ہوئی تو اگلا مرحلہ تھا روس کے ان حلیف ممالک کو ختم کرنا جو کسی بھی وقت دوبارہ سوشلزم کو سہارا دے سکتے ہیں، شام وہ ملک ہے جو دنیا بھر میں روس کا واحد دیرینہ دوست ملک ہے، ملک روس کا روس کے باہر سب سے بڑا اسلحہ اور سب سے بڑی طاقت ملک شام ہی میں ہے، اور شام ہی عرب ممالک کے لئے یورپ کا دروازہ بھی ہے، شام ہی مشرق وسطی کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے، شام ہی سے تمام عرب ممالک کنٹرول ہو سکتے ہیں، اور شام کی سرحدیں خاص کر سمندری سرحدیں اسرائیل سے لگتی ہیں اس لیے یہ خطہ میں بہت اہمیت کا حامل ملک ہے،
اگر ہماری یادداشت اچهی ہے تو یاد کریں کہ عرب اسرائیل جنگ میں سعودیہ، مصر وغیرہ سب مار کھا رہے تھے، اکیلا شام تھا جس نے کچھ بھرم رکھا تھا، ورنہ اسرائیل سعودیہ تک گھس آتا،،،،
شام کے عرب ممالک سے تعلقات___
سعودیہ اور شام کے مابین ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ہیں_ لیکن سعودیہ کو__ شام کے ایران کے ساتھ تعلقات کبھی پسند نہیں تھے، جس طرح آج پاکستان اور سعودیہ کے تعلقات اچهے ہیں_ لیکن__ پاکستان کو سعودیہ اور بھارت کے تعلقات بالکل پسند نہیں__
شام کی وجہ سے عرب ممالک ایران کے ساتھ بھی گزارہ کر لیتے تھے، اور شام کی پالیسی اتنی اچھی رہی ہے کہ نہ اس نے صدام حسین کے ساتھ خرابی پیدا کی تهی حالانکہ صدام ایران دشمن اور شام ایران کا دوست تھا، اور نہ ہی اس نے موجودہ عراق کی نئی حکومت کے ساتھ خرابی پیدا کی، اسی طرح اس نے سعودیہ یا کسی دوسرے مسلمان ملک کے ساتھ بھی تعلقات خراب نہیں کیے__ آپ لوگ شاید جانتے ہوں کہ مصر کے ساتھ ان کے اتنے اچھے تعلقات تھے کہ ایک زمانے میں یہ دونوں ملک ایک ہی تقریباً ہوگئے تھے__ لیکن وہ تجربہ ناکام رہا_!

ملک شام کی آبادی ________
شام میں شیعہ سنی یہودی اور عیسائی رہتے ہیں، سارے عرب ہیں، اور عربوں کے سب سے زیادہ خوبصورت اور تعلیم یافتہ لوگ شام کے ہیں، اردن کا نمبر بعد میں آتا ہے_
لیکن شامی حکومت سیکولر حکومت رہی ہے، اور ڈکٹیٹر شپ ہے، وہاں مذہب کا حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا، شیعہ تعداد میں زیادہ ہیں لیکن وہاں شیعہ اور سنی کی تفریق ایسی کبھی نہیں رہی جیسی عراق اور ایران میں ہے، اس جنگ سے پہلے کبھی بھی کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس کی وجہ سے شیعہ سنی کی بحث چلی ہو______
ایک دوست کا کہنا ہے کہ بیرون ملک میرے ساتھ دو ڈاکٹر شام کے تھے،اور دونوں حلب کے رہنے والے ہیں، اور دونوں سنی ہیں، لیکن ایک بشار الاسد کا حامی اور دوسرا مخالف تھا، اسی طرح شام میں بے شمار سنی بشار کے حامی ہیں، بشار الاسد کو اپنے باپ حافظ الاسد کے مقابلے میں بہت اچھا حکمران مانا جاتا تھا،
حافظ الاسد کے زمانے میں پارلیمنٹ پر شیعہ لابی کا اثر زیادہ تھا، لیکن بشار الاسد نے آ کر بہت سے اس کے قریبی لوگوں کو ہٹایا، اور توازن پیدا کیا، امن و امن بہتر کیا جس کی وجہ سے عوام میں اس کا اچها اثر گیا،
کہتے ہیں عرب ممالک میں شام کا پاسپورٹ سب سے طاقتور تها،
شام کی معیشت ______
پہلے نمبر پر سیاحت تھی، شام کے کھانے ہوٹلنگ، پھر انڈسٹریز اور تیل پر مشتمل ہے،

اب آتے ہیں شام کہ عوامی مظاہروں اور خون خرابے کی طرف __
وہاں ہوا یہ کہ ابتدا میں عوامی مظاہرے شروع ہوئے ڈکٹیٹر شپ کے خلاف چار ماہ مظاہرہ ہوئے، دمشق میں شیعہ علاقوں میں بھی مظاہرے ہوئے تھے، بہت باریکی سے تمام مذاہب والوں کو ان مظاہروں شامل کیا گیا،
دوران مظاہرے ایک بار گولیاں چلیں کچھ بچے مارے گئے،
حکومت نے تردید کی ہم نے نہیں چلائی گولی اور مظاہرین بهی تردید کرتے رہے،
لیکن وہاں جب بات مظاہروں سے لڑائی کی طرف گئی تو سعودیہ کو خیال آیا کہ اگر ایسا چلتا رہا تو کل کو سعودیہ میں بھی آمریت کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں آواز اٹھے گی____________!
اگر یاد ہو تو کچھ سال پہلے سعودیہ میں جب اخوانیوں پر پابندی لگی تو اس کی وجہ بھی یہی فکر تھی،
سعودیہ کے لئے سب سے آسان طریقہ اپنے آپ کو بچانے کا یہی تھا کہ اس لڑائی کو" شیعہ سنی " لڑائی بنا کر خود قیادت اپنے ہاتھ میں لے لے___
پہلے یہ عام لڑائی تھی، یعنی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف عوام کی پھر سعودیہ نے آ کر اسے جہاد بنایا ____!
سعودیہ نے فری سیرین آرمی کی حمایت کی تو انہوں نے خود کو سعودی مسلکی چهاپ سے بچانے کی خاطر کہا کہ ہمیں کسی بیرونی آشیرباد کی ضرورت نہیں،
سیرین آرمی بشار الاسد کی اصل اپوزیشن ہے، جس میں حکومتی فوج کے باغی لوگ ہیں، ان کے سیاسی لوگ فرانس اور یورپ میں ہیں، اسی کو اپوزیشن مانا گیا ہے، یہی گروپ ہے جس کو یورپ اور اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے،
جہادی فیکٹر _______!
تیونس، مصر، لیبیا اور یمن میں لڑنے والے یا لڑوائے جانے والے یا یوں کہیں کہ خلافت کہ قیام سے فارغ ہونے والوں نے جوک درجوک شام کے نئے محاذ کا بهرپور طریقہ سے رخ کیا، اور قریب 17 سے لے کر 20 کے قریب گروپس وہاں کبهی اتحاد کی صورت میں کبهی انفرادی طور پر حکومت شام کے خلاف انہوں نے لڑنا شروع کیا، اور خاطر خواہ کامیابیاں سمیٹتے رہے، جہاں جہاں کامیابیاں حاصل کرتے رہے وہاں وہاں عوام الناس نے ان تنظیموں کا بهرپور استقبال کیا،
اس دوران عراق کی نئی حکومت کی گرفت ڈهیلی پڑی، اس کا فائدہ اٹها کر صدام کے بقیہ وفادار افسروں اور سابقہ فوجیوں نے عراق کے شدت پسندوں کو ساتھ ملا کر داعش کی بنیاد رکهی، عراق میں خود کو مضبوط کرنے کے بعد داعش شام میں داخل ہوئی، اور شام میں حکومت کے خلاف اپنے طور پہ محاذ گرم کیا اور خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کیں، اور پهر ابوبکر بغدادی کے خلیفہ ہونے کا اعلان کردیا، یہاں پہلے سے برسرِ پیکار 18، 20 مسلح تنظیموں کا داعش سے شدید تر اختلاف پیدا ہوا، یا پیدا کیا گیا، اس اختلاف نے مسلح تنظیموں کی آپس میں اینٹ سے اینٹ بجا دی، تفصیل سے ہم آپ یقیناً باخبر ہیں،
اس موقع پر ایران اور روس نے داعش کی راہ میں روڑے اٹکانے سے خود کو باز رکها، اور روس نے داعش کو مضبوط ہونے میں تیل کی بلیک میں فروخت کے لیے راہداری بهی عطا کی، تاکہ برسرپیکار تنظیموں اور داعش ایک دوسرے کےخون کہ پیاسے بنیں، روس اور ایران اپنے مقصد میں کامیاب رہے،
اور تهوڑے وقت میں داعش دنیا بهر کی غیر سرکاری تنظیموں میں سب سے زیادہ اثاثوں کی مالک بن گئی، پڑهنے میں آیا ہے کہ داعش کے پاس تین ارب ڈالر سے زیادہ کے اثاثے ہیں، اور پهر شام میں لڑنے والے دیگر تنظیموں کے بہت سے جنگجو داعش سے آملے، جس سے وہاں القاعدہ سمیت دیگر تنظمیں شدید تر کمزور ہوئیں، کہتے ہیں داعش شام میں وہ واحد تنظیم ہے جس کا نظریہ صرف مارو یا مرجاو ہے، وہ کسی کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرتی، واللہ اعلم )
داعش اور دیگر تنظیموں کی آپسی جنگ نے حکومتِ شام کو سنهبلنے کا موقع دیا اور شام حکومت کی پشت پر روس کهل کر آگیا، اور ایران سعودی دشمنی میں کیوں پیچهے رہتا _!
اس کے بعد شام میں جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے___!
انا للہ و انا الیہ راجعون
انسانی تاریخ میں شاید کے ایک ہی ملک کی زمین نے تهوڑے وقت میں انسانوں کا دریا کی مانند خون پیا ہو_ وہ ہے ملک شام کی زمین __!!!!
اور نا جانے آگے یہ زمین مذید کتنا خون انسانیت پیئے گی _!
اللہ تعالیٰ شام کے عام مسلمانوں کے حال پر رحم فرمائے اور شام میں برسرِ پیکار مسلح جهتوں کے ماسٹر مائنڈ لوگوں کو عقل سلیم عطا فرمائے،
یہ روداد بیان کرنے کا مقصد قطعاً یہ نہیں کہ شام کے قتل عام میں بےگناہ افراد کے مارے جانے کے لیے دلیل گهڑی جارہی ہے بلکہ یہ وہ حقائق ہیں کہ جو ہم میں سے اکثریت اس سے ناواقف ہیں اب تک ______!
ممکن ہے بہت سی باتیں مبالغہ آرائی لگیں یا ہوں، میری تصحیح کی پوری گنجائش موجود ہے،
اللہ تعالیٰ پورے دنیا کے مسلمانوں کی جان و مال عزت و ناموس کی حفاظت فرمائے،
سیاہ تاج محل :BLACK TAJ MAHAL- ‏The Emperor's Missing Tomb
تاج محل کی تعمیر مکمل ہوچکی تھی. قصر یاسمین سے تاج محل کو دیکھتے ہوئے شاہجہاں کو جمنا کے پانی میں اس کا عکس نظر آتا تھا. اس عکس کو دیکھتے ہوئے شاہجہاں کو یہ خیال آیا کہ اگر جمنا کے شمالی کنارے پر بھی کوئی عمارت تعمیر کر دی جائے تو جمنا کے پانی میں دونوں عمارتوں کا عکس ایک خوبصورت سماں پیش کرے گا، چنانچہ اس نے جمنا کی شمالی سرے پر تاج محل کے مدّمقابل ایک اور تاج محل کی تعمیر کا ارادہ کیا جو تاج محل کے طرز پر بالکل من و عن تعمیر کیا جانا تھا، فرق صرف اتنا کہ اس کی تعمیر میں سفید کے بجائے سیاہ سنگِ مرمر استعمال کیا جاتا. وہ سنگِ مرمر جس سے تختِ جہانگیری بنایا گیا تھا. سیاہ تاج محل کی تعمیر کا آغاز بھی ہوگیا اور اس کی بنیادیں بھی دوسری جانب جا چکیں تھیں کہ شاہجہاں کو بیماری نے آ لیا، اس کے بڑے بیٹے داراشکوہ نے آگے بڑھ کر قبضہ کر لیا، اس کے سگے چھوٹے بھائ اورنگزیب نے اس قبضے کو تسلیم نہ کیا، دونوں کے درمیان دو جنگیں ہوئیں جس میں دارا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، ایران میں پناہ کی غرض سے قندھار کا قصد کیا مگر راستے میں گرفتار ہو کر دہلی لایا گیا جہاں‌ بغاوت اور الحاد و زندقہ کے جرم میں اس کی گردن مار دی گئی.
‎ جب ضعیف شاہِ جہاں نے اپنے چہیتے بیٹے دارا شکوہ کے کٹے ہوئے سر کو اپنے سامنے طشت میں دیکھا تو کون جانے اس کی آنکھوں سے لہو کا جو قطرہ ٹپکا وہی لہو کا سیلاب بن گیا اور اس سیلاب نے سلطنتِ مغلیہ کے خوبصورت نظام کا وجود ہی ختم کر دیا ہو!‘‘
‎ یہ واقعہ اگست 1659 کا ہے، محمد دار اشکوہ کی عمر اُس وقت صرف 44 سال تھی۔
‎ محمد دارا شکوہ کی پیدائش کی تاریخ 20؍مارچ1615 ہے۔ 30؍اگست 1659 کو اُسے قتل کر دیا گیا۔ کٹا ہوا سر شاہِ جہاں کے سامنے رکھا گیا اور دھڑ کو مقبرۂ ہمایوں میں دفن کر دیا گیا، کہاں؟ کسی کو معلوم نہیں، کوئی نہیں جانتا دار اشکوہ کو مقبرۂ ہمایوں میں کہاں دفن کیا گیا ہے۔
‎ شاہِ جہاں کی دو بیٹیاں تھیں حور الانسا بیگم اور جہاں آرا بیگم (دارا شکوہ نے تین بہنوں کا ذکر کیا ہے) ایک بیٹے کی آرزو لیے شہنشاہ درگاہِ عالیہ حضرت غریب نواز خواجہ معین الدین چشتیؒ پہنچا اور اللہ پاک کے رحم و کرم کی بھیک مانگی، دعا قبول ہوئی۔ ۳۰؍مارچ ۱۶۱۵ء (سوموار کی شب، ۲۹؍صفر ۱۰۲۴ھ) کی پیاری خوبصورت شب تھی۔ بیگم ممتاز محل نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ شہزادہ خرم (شاہِ جہاں) اور بیگم ممتاز محل کی مسرتوں میں اضافہ ہوا۔دادا شہنشاہ جہانگیر نے ننھے خوبصورت فرشتے کا نام رکھا دارا شکوہ! ابوطالب کلیم نے قصیدہ کہا ’’گل اوّلین شاہی‘‘ سے تاریخ نکالی یعنی باغِ شاہی کا پہلا پھول!
دارا شکوہ کو قتل کروانے کے بعد اورنگزیب نے شاہجہاں کو نظربند کردیا. اس سیاہ تاج محل کی بنیادیں اب بھی ہیں لیکن اب اسے ایک گارڈن کی شکل دے دی گئی ہے. بالی وڈ فلموں میں تاج محل کو فلمبند کرنے کے لیے اسی گارڈن میں سیٹ لگایا جاتا ہے. تاج میں بے پناہ رش کی وجہ سے فلموں کی شوٹنگ کی پرمیشن نہیں دی جاتی.

حوالے کے لئے مندرجہ ذیل کتاب دیکھئے۔
‏“BLACK TAJ MAHAL: The Emperor’s Missing Tomb
by Iftakhar Nadime Khan (Arshi) (Author)
 روس نے گرم پانی تک پہنچنے کے لئے 80 بلین ڈالر خرچ کئے
جبکہ چائنہ نے 51 بلین ڈالر
لیکن روس نے Destruction کا راستہ چنا اور چائنا نے Construction کا
روس افغانستان کی سڑکیں اور انفراسٹرکچر تباہ کرتا ہوا پاراچنار کی چوٹیوں تک آیا اور نامراد لوٹا۔
جبکہ چائنا شمالی علاقہ جات اور بلوچستان کی سڑکیں تعمیر کرتا ہوا گوادر پہنچا۔۔
روس نے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں سرخ انقلاب، سوشلسٹ تبدیلی اور کمیونسٹ نظریہ کے لئے طلبہ کو اکسائے رکھا اور یہ بیچارے چی گویرا بننے کی کوشش میں تعلیم سے بھی گئے اور سماج میں بھی کسی کام کے نارہے، دو چار خام مال بن کر نکلے تو وہ "Smoking Corner" میں بیٹھے کالم لکھتے رہے۔
جبکہ چائنا نے 5 ہزار پاکستانی طلبہ و طالبات کو اسکالر شپ پر چائنا بلوایا، اس کے علاوہ چائنا کی پرائیوٹ یونیورسٹیوں میں ہزاروں طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔
آج پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں سینکڑوں پروفیسر چائنا سے اعلیٰ تعیلم یافتہ ہیں۔
90 ہزار افغان، عرب اور پاکستانی مجاھدین سویت افغان جنگ میں شہید ہوئے
جبکہ سی پیک سے ایک لاکھ پاکستانیوں کو روزگار کے نئے مواقع میسر آئے
پندرہ ہزار روسی فوجی ہلاک ہوئے
جبکہ آج تیرہ ہزار پاکستانی فوجی (ایک نیا سیکیورٹی ڈویژن) سی پیک کی حفاظت پر مامور ہے
روس کے تین سو ہیلی کاپٹر، سو جنگی جہاز اور ڈیڑھ سو ٹینک لوہے کا اسکریپ بن گئے
جبکہ چائنا نے جو راستہ چنا اس کی بدولت
چائنا کے چار سو بحری جہاز ہر سال گوادر سے یورپ، افریقہ، وسطی ایشیاء اور خلیج میں جائنگے
آج چائنا دنیا کی سب بڑی سافٹ پاور ہے جس کی بدولت وہ کوئی ملک طاقت کی بنیاد پر فتح کرنا تو دور کی بات، ایک گولی چلائے بغیر ہی سپر پاور بننے جارہاہے، چائنا کی یہ طے شدہ پالیسی ہے کہ 2025 تک دنیا کے کسی رفڑے، پنگے اور دنگل کا حصہ نہیں بنے گا۔
آج دنیا کے 30 ممالک کے ٹاپ بیوروکریٹ، سفارتکار اور اعلیٰ حکومتی نمائندے چائنا سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، جو عالمی فورمز پر اپنے ملک کے بعد سب سے زیادہ حمایت چائنہ کی کرتے ہیں، اور عالمی سیاست میں چائنہ کی یہ کامیابی اس کی اقتصادی کامیابی سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس سب کی وجہ یہ ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
1988 میں جوزف نائے ( Joseph Nye ) نے کہا تھا کہ
"وہ دن چلے گئے کہ گولی ماری اور پہاڑ پر چڑھ گئے"
جوزف نے عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کو ایک نیا موضوع دیا جس کا نام تھا سافٹ پاور ( Soft Power ).
اس کے مطابق وہ دور ختم ہوگیا کہ جب آپ بارود سے بھرے ٹینک لیکر کسی ملک کی سرحد پر پہنچیں گے، آپ کی فوج صف آراء ہوگی اور دھاڑتی ہوئی یلغار لائن کو عبور کرے گی اور ملک فتح ہوجائے گا۔۔
اب صرف آپ کا گولہ بارود اور طاقتور فوجیں نہیں بلکہ آپ کی مضبوط معیشیت، خارجہ پالیسی، ڈپلومیسی کے طریقے، یونیوسٹیاں، کھیل کے میدان اور ثقافت کے ادارے دوسرے ممالک کو متاثر کریں گے اور ان پر اثر انداز ہونگے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عالمی سیاست کے بدلتے ہوا رجحانات Hard Power سے Soft Power کو منتقل ہوگئے ہیں۔۔۔
اب کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ
جنگی جہاز کی گھن گھرج
ٹینک کا بارود
میگزین میں گولیوں
اور
ہارڈ پاور کے جبری طریقوں سے نہیں
بلکہ سافٹ پاور کے ترغیبی اندازسے ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بے ربط خیالات~
پس تحریر
چائنہ کے بعد ابھرتی ہوئی سافٹ پاور تُرکی، کینیڈا اور بھارت ہیں۔۔ مودی کے بھارت میں آںے سے اس کا گراف نیچے ہوا ہے اور اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے امریکہ کا گراف مزید نیچے آئے گا۔
اسے کہتے ہین 
میں آن لائن ارننگ کیسے کروں؟۔ سب سے پہلا سوال جو کسی نئے انٹرنیٹ ارننگ سے متعارف ہونے والے فرد کے ذہن میں ہوتا ہے وہ یہی ہوتا ہے۔
بنیادی طور پر انٹرنیٹ سے ارننگ کے لئے آپ کو تین چیزیں درکار ہوتی ہیں۔ علم، ہنر اور محنت۔۔۔اگر آپ یہ سوچیں کہ آپ انٹرنیٹ پر کچھ کئے بغیر بیٹھ کرآرام سے پیسے کما سکتے ہیں۔ تو یہ آپ کی نادانی ہے۔ انٹرنیٹ پر کام آپ کیلئے ایک جاب ایک بزنس کی طرح ہے ، آپ اسے آرام سے بیٹھ کر نہیں کرسکتے۔آپ کو اسکے لئے علم حاصل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ کوئی ہنر سیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ اور محنت کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اور آپ کو مسلسل اور لگا تار علم ، ہنر، اور محنت کی ضرورت پڑتی رہے گی۔کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ دور جدید کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق آپ کو، خود کو اپنے علم اور ہنر کے ساتھ اپ ڈیٹ رکھنا ہوگا۔
لیکن ہاں انٹرنیٹ سے ارننگ اللہ تعالی کی طرف سے آپ کے لئے رزق کریم بھی ہے۔ایسا رزق جس میں محنت کم لیکن معاوضہ زیادہ ملتا ہے۔ آپ قلیل وقت میں بہت زیادہ پیسہ کما سکتے ہیں۔ آپ اپنے باس خود ہوتے ہیں، آپ سو بھی رہے ہوں تو آپ کا بنک بیلنس کچھ صورتوں میں بڑھتا بھی رہتا ہے۔ آپ کے لئے کام کرنے کیلئے وقت کی بھی کوئی قید نہیں ہوتی ہے۔ آپ کو الگ سے آفس بھی نہیں کھولنا پڑتا۔ آپ گھر میں ہی آپنے کمپیوٹر، لیپ، ٹاپ اور موبائل پر یہ کام کرسکتے ہیں۔
سب سے پہلے تو میں آپ کو یہ بتاتا ہوں، کہ ایسے کون سے ذرائع ہیں۔ جن سے آپ انٹرنیٹ سے ارننگ کر سکتے ہیں۔
بنیادی طور پر انٹرنیٹ سے ارننگ کے تین ذرائع ہیں۔
 پراڈکٹ کی تخلیق Productivity
 خدمات اور فری لانسنگ
 مارکیٹنگ۔
آئیے اب انکی تھوڑی سے مزید وضاحت ہو جائے۔،
پراڈکٹ کی تخلیق Productivity
پروڈ کٹیوٹی میں آپ کوئی بھی نئی پراڈکٹ مارکیٹ میں لاتے ہیں۔ پراڈ کٹ سے مراد کوئی ٹھوس چیز ہی نیں ہے۔ بلکہ اسمیں کمپیوٹرائز کتابیں ، سوفٹ وئیرز ، ویڈیوز ، ویب سائٹس سب کچھ آجاتی ہیں۔ میری نظر میں پروڈ کٹیوٹی سے مراد ایک ایسی چیز ہے ۔ جو ہم ایک بار بنا لیتے ہیں۔ اور لوگ طویل عرصے تک اسے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اور ہمیں طویل عرصے تک اس سے ارننگ ہوتی رہتی ہیں۔ہم سو رہے ہوں یا جاگ رہے ہوں، ہمیں اس سے فائدہ حاصل ہوتا رہتا ہے۔ پروڈ کٹیوٹی کے لئے آپ کو شروع میں بہت محنت کرنا ہوتی ہے۔ آپ کو ہو سکتا ہے شروع میں کئی عرصے اور مہینے تک اس سے ارننگ نہ ہو۔ لیکن اس کے بعد آپ کو اس سے مستقل ارننگ شروع ہوجاتی ہے۔ یہ آپ کا اپنا بزنس ہوتا ہے۔ اور آپ خود اس بزنس کے مالک ہوتے ہیں۔
پروڈ کٹیوٹی میں آپ جو بھی پروڈ کٹ تیار کرتے ہیں۔ وہ آپ کے لئے طویل عرصہ تک کام کرتا رہتا ہے۔ لیکن آپ کو اسے مسلسل آپ ڈیٹ، رکھنا ہوتا ہے۔ اسکی خامیوں اور نقائص کو مسلسل ختم کرنا ہوتا ہے۔ اور اس میں بہتری اور نئی سے نئی جدت لانی ہوتی ہے۔تاکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق وہ استعمال کرنے والوں کے لئے کوئی مسلئہ پیش نہ کرے۔ کچھ پروڈ کٹس ایسی بھی ہوتی ہیں۔ جن کو صرف ایک بار بنا لیا جاتا ہے۔ اور اسے مزید بتر بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن انہیں بھی وقت کے ساتھ ساتھ مارکیٹنگ اور پروموٹ کرنے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔
ذیل میں کچھ ایسی پروڈ کٹیوٹی کا میں خلاصہ بیان کروں گا۔
 Blogging
 YouTube
 Book Writing
 Software Development
 Android Development
 Theme Designing , Web Apps & Web Site Selling

کمیشن کا اعلان ہوتے ہی دور دراز جیلوں میں قید اکابرین کی لاہور آمد شروع ہو گئ-
سب سے پہلے سینٹر جیل ملتان سے شیخ التفسیر حضرت احمد علی لاہوری کو یہاں لایا گیا- ملتان جیل کی ناقص غذا اور بدترین ماحول کی وجہ سے آپ اسہال اور قے کی تکلیف میں مبتلاء ہو چکے تھے- کمزوری غالب تھی اور چلنا تک دوبھر ہو چکا تھا-
لاہور جیل کی حالت اس سے بھی بری تھی- کڑکتی گرمی اور حبس نے ماحول کو آتش فشاں بنا رکھا تھا- ان حالات میں بھی قیدیوں کو سونے کےلئے فرشی بچھونے مہیّا کئے گئے تھے- لاہور جیل کا اسسٹنٹ سپریڈنٹ حضرت لاہوری رح کا عقیدت مند تھا- آپ کی آمد سے پہلے ہی وارڈ کا سب سے کُھلا اور وسیع کمرہ آپ کےلئے تیار کرایا گیا اور پرتکلّف بستر و چارپائ کا انتظام بھی کر دیا گیا-
آپ کمرہء جیل میں تشریف لائے تو محمّدی بستروں کے بیچ ایک رنگیلی چارپائ دیکھ کر پُوچھا:
"یہ چارپائ کِس کی ہے ...؟؟"
مولانا مجاھدالحسینی بھی موجود تھے ، بول اٹّھے:
"ہم نے بچھائ ہے .... حضرت جی کےلئے !!! "
" واہ !!! .... یعنی جانثارانِ محمد ﷺ تپتے فرش پر سوئیں .... اور احمد علی ان کے بیچ چارپائ پر آرام کرے ؟؟ "
تعمیلِ ارشاد میں آپ کا بستر بھی تپتے فرش پر بچھا دیا گیا- مرید ہمیشہ پِیر صاحب کی پائنتی کی جانب سویا کرتے ہیں تاکہ عزّت و احترام میں فرق نہ آئے- لیکن حضرت لاہوری رح کو یہ بھی گوارا نہ ہوا اور اپنا بچھونا خود اٹھا کر جانثاران محمّد کے قدموں کی طرف ڈال دیا-
وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں
آدمی بے نظیر ہوتے ہیں
تیری محفل میں بیٹھنے والے
کتنے روشن ضمیر ہوتے ہیں
اگلے کچھ ہفتوں میں تحریکِ ختم نبوّت کی مرکزی قیادت یہاں تشریف فرما ہوئ تو جیل کی رونقیں بامِ عروج پر پہنچ گئیں- حضرت ابوالحسنات سیّد احمد قادری ، حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری ، مولانا عبدالحامد بدایونی ، علّامہ مظفر علی شمسی ، مولانا محمد علی جالندھری ، شیخ حسام الدین ، ماسٹر تاج الدین انصاری اور دوسرے اکابرین حیدر آباد اور سکھّر کی دُور دراز جیلوں سے یہاں لائے گئے-
اکابرین ختم نبوّت کو جیل کے "دیوانی گھر" میں رکھّا گیا- دیوانی گھر کا صحن کافی کشادہ تھا اور کسی قدر سایہ بھی میّسر تھا- صحن میں ایک خوبصرت باغیچے کے ساتھ ساتھ باورچی خانے اور خانساماں کی سہولت بھی دستیاب تھی-
جیل کے طویل برامدے میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا ایک نوجوان قیدی ، صبح صبح دیوانی گھر کے دروازے پر آن پہنچا-
عطاء اللہ شاہ بخاری رح کی نظر پڑی تو بے ساختہ "شہیدِ اعظم" کہ کر گلے لگا لیا پھر اس کا ہاتھ تھامے بیری کے اس درخت کے نیچے لے گئے جہاں چارپائ پر ضعیف و نزار ابوالحسنات قران کی تفسیر لکھنے میں مگن تھے-
" حضرت جی ..... مبارک ہو ..... خلیل آیا ہے " شاہ جی کی آواز بھرا گئ-
ابوالحسنات مصحف سمیٹتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے ، فرزند کو گلے لگایا اور کہا:
"ہمیں تو اطلاع ملی تھی .... شہید ہو گئے ہو !!!"
" بس .... شہادت مجھے چھو کر ہی گزر گئ .... پھانسی کی سزا ہوئ تھی ... اب عمر قید میں بدل چکی ہے"
" کاش .... اللہ میرے بیٹے کی قربانی قبول کر لیتا ... !!! "
" آپ بہت کمزور ہو گئے ہیں ... "
"ہاں بیٹا .... ہمیں سکھر میں نہیں .... سقّر میں رکھا گیا تھا .... 126 درجہ حرارت تھا ..... پانی بھی وقت مقررہ پر ملتا تھا .... اکثر پسینہ سے ہی غُسل کیا کرتے تھے .... سر پر لوہے چادر تان کر .... جیل کی تپتی دیواروں میں بیٹھ کر .... تمہارے فراق کا درد سہا ہے میں نے .... جب بھی تمہاری یاد آتی تھی .... قران کی تفسیر لکھنے بیٹھ جاتا تھا .... "
سینٹرل جیل لاہور میں میلے کا سا سماں تھا- بیرکوں سے باہر ہزاروں لوگ جمع تھے- اس دوران حکومت نے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو بھی گھروں سے گرفتار کر کے جیل میں لا بٹھایا- بیرکوں میں جگہ ختم ہو گئ تو باہر وسیع میدان میں خاردار تار لگا کر شمع رسالت کے پروانوں کو حراست میں رکھا گیا- جیل کے اندر عجب چہل پہل اور کیف و سرور کا عالم تھا- کہیں نعت خوانی ہو رہی تھی تو کہیں ختمِ نبوّت پر تقاریر -کہیں ذکرواذکار چل رہا تھا تو کہیں درودوسلام کے غلغلے بلند تھے- فرقہ پرستی کی دیواروں پر "مسلکِ عشق رسول ﷺ " کی کونپل کیا پھوٹی زندانوں میں بھی بہار آ گئ-
اکابرین کی آمد کے ساتھ ہی جیل میں ملاقاتیوں کا تانتا بندھ گیا- دوسری بیرکوں کے قیدی بھی جوق درجوق یہاں آنے لگے- ابولحسنات جیل کے راشن سے خود مہمانوں کےلئے مٹھائ وغیرہ تیّار کر رہے تھے- ایک روز بوقتِ عصر آپ نے حلوے کا ایک بڑا ڈونگا اٹھایا اور اکابرین کے بیچ آن رکھا ....
"یہ کیا ہے حضرت ؟؟ " کسی نے پوچھا-
"حلوہ ہے .... !!! "
"کس خوشی میں ؟؟؟"
"گیارہویں شریف کا ختم ہے !!! "
" گیارہویں شریف ؟ ؟؟ " دو تین اکٹھی صدائیں آئیں-
" آپ حضرات کو اگر اعتراض نہ ہو تو ختم شریف میں شرکت فرما سکتے ہیں .... "
حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری رح ، ماسٹر تاج الدین ، مولانا محمد علی جالندھری ، مولانا مودوی اور کئ دوسرے اکابرین موجود تھے- اس دوران ساتھ والی بیرک سے غلام محمد ترنّم اہلحدیث عالم مولانا محمد اسمعیل کا ہاتھ پکڑے پکڑے دیوانی گھر لائے اور ازراہ مذاق فرمایا:
"آج اس وہابی کو بھی گیاریویں کا تبرّک کھلانا ہے ... "
مولانا اسمعیل ہنستے ہوئے محفل میں آکر بیٹھ گئے- فاتحہ شریف کے بعد سب نے تبرک کھایا ماسوائے مولانا محمد علی جالندھری کے جو بدعت بدعت کہتے ہوئے اٹھ کر چلے گئے-
مولانا محمد اسمعیل ، ابولحسنات سے کچھ دیر فقہی سوالات و جوابات کرتے رہے پھر کہا :
" اگر یہی گیارہویں ہے ..... تو رہائ کے بعد آپ روزانہ میرے گھر تشریف لائیے گا اور گیارہویں شریف کی فاتحہ کیجئے گا ... "
♡------------------♡
ایک روز صبح ہی صبح دیوانی گھر کا سپریڈنٹ دوڑا چلا آیا-
" شاہ صاحب ..... باہر کچھ قیدی آپ کی دید کے طالب ہیں ... "
امیرِ شریعت رح بے ساختہ اُٹّھے اور ننگے پاؤں بے محابہ دوڑتے ہوئے باہر صحن تک پہنچے- جیل کے درودیوار اسیران کی ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی جھنکار سے گونج رہے تھے-
آپ نے عاشقانِ ختمِ نبوّت کو باری باری گلے لگایا ، ان کے آہنی زیورات کو وارفتگی سے چوما ، پھر اشک بار آنکھوں اور غم ناک لہجے میں ارشاد فرمایا:
"آپ لوگ میرا سرمایہء نجات ہیں ----- میں نے آپ کو روٹی ، کپڑا یا کسی اور مفاد کےلئے آواز نہیں دی ----- لوگ تو دنیاوی مفادات کےلئے بھی بڑی بڑی قربانیاں دیتے آئے ہیں ------ میں نے تو آپ کو اپنے نانا کریم حضرت خاتم النبییّن ﷺ کی ناموس رسالت کےلئے پکارا ہے ------ اور یہ قیدوبند کی صعوبتیں ------- یہ دارو رسن ------- اسی عظیم مقصد کےلئے ہیں ------ آپ میں سے کوئ ایسا نہیں جو سیاسی شہرت یا ذاتی وجاہت چاھتا ہو ------- آپ جیل میں بھی غیر معروف ہیں ---- اور باہر بھی آپ کا استقبال کرنے والا کوئ نہیں ہوگا ------- کوئ آپ کے گلے میں پھولوں کے ہار نہیں ڈالے گا ------ نہ ہی کوئ کندھوں پر اُٹھائے گا ------- لیکن اللہ آپ کی نیّت اور اردوں کو دیکھ رہا ہے ------- آپ لوگ تحفظِ ختم نبوّت کی نیّت سے اندر آئے ہو ----- اور اسی نیّت سے باہر جاؤ گے ---- یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ---- اور یہی میرے لئے سب سے بڑا سرمایہء ہے --- "
اسیران کی آنکھیں فرطِ مسرت سے چھلک اٹھیں .... ریاست کے لگائے ہوئے زخموں پر آشنائے راز نے مرہم رکھا تو روح تک تاثیر پہنچ گئ ..... اپنے محبوب رہنماء کو لباسِ اسیری میں دیکھ کر وہ اپنی ہتھکڑیوں پر فاخرونازاں ہونے لگے .... پژمردہ چہروں پر بہار آگئ .... زخم خوردہ دل دھڑک اٹھے ... !!!
زنداں کے درودیوار سے ٹکراتی مولانا نیازی کی پردرد صدا اس کیفیّتِ عشق کا احوال بیان کر رہی تھی .... جو محبوب کی خاطر طوق و سلاسل پہن کر بھی عاشق کو مسرور رکھتی ہے ....
آکھیں سوہنے نوں وائے نی جے تیرا گُزر ہووے
میں مر کے وی نئیں مَردا جے تیری نظر ہووے
دم دم نال ذِکر کراں میں تیریاں شاناں دا
تیرے نام تُوں وار دِیاں جِّنی میری عُمر ہووے
دِیوانیو بیٹھے رہوو ، محفل نُوں سجا کے تے
شاید میرے آقا دا ، ایتھوں وی گُزر ہووے
کیوں فکر کریں یارا ماسہ وی اگیرے دا
اوہنوں ستّے ای خیراں نیں جِہندا سائیں مگر ہووے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers